المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2944
2944 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَلَا يَرِثُ مُسْلِمٌ كَافِرًا، وَلَا كَافِرٌ مُسْلِمًا» ثُمَّ قَرَأَ: {وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ، إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ} [الأنفال: 73] بِالْيَاءِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو (مختلف) ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے اور کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کسی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ۔ " والذین کفرو ا بعضھم اولیا ء بعض الا تفعلو ہ تکن فتنۃ فی الارض وفساد کبیر " ( الانفال : 73 ) " اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں ، ایسا نہ کر و گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہو گا "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس میں آپ نے الا تفعلو ہ مین تاء کی بجائے ) یا ء پڑھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔
النَّبِيِّ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Hadith 2944
