المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3663
3663 - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " مَا أَصْبَحَ بِالْكُوفَةِ أَحَدٌ إِلَّا نَاعِمٌ إِنَّ أَدْنَاهُمْ مَنْزِلَةً يَشْرَبُ مِنْ مَاءِ الْفُرَاتِ وَيَجْلِسُ فِي الظِّلِّ، وَيَأْكُلُ مِنَ الْبُرِّ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ {وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ، وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ} [الشورى: 27] وَذَلِكَ أَنَّهُمْ قَالُوا: لَوْ أَنَّ لَنَا فَتَمَنَّوُا الدُّنْيَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3663 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص بھی کوفہ میں صبح کرتا ہے وہ ذی نعمت ہوتا ہے ، ان میں سب سے کم درجہ والا وہ ہے جو فرات کا پانی پیتا اور سائے میں بیٹھتا ہے اور گندم کی روٹی کھاتا ہے اوریہ آیت اصحاب صفہ کے حق میں نازل ہوئی:۔" ولو بسط اللہ الرزق لیبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر مایشاء (الشوریٰ:27)۔" اور اگراللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور یہ اس لئےکہ انہوں نے دنیا کی تمنا کی تھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3663
