Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم السَّجْدَةِ · حديث 3651

3651 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا {إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَاءَهُمْ، وَإِنَّهُ لِكِتَابٌ عَزِيزٌ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حُمَيْدٍ} [فصلت: 42] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3651 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نےاس آیت کی تلاوت کی: ان الذین کفرو ا بالذکر لما جاءھم وانہ لکتاب عزیز لا یاتہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید (حم السجدۃ:41،42) ۔"بے شک جو ذکر سے منکر ہوئے جب وہ ان کے پاس آیا ان کی خرابی کا کچھ حال نہ پوچھ اور بے شک وہ عزت والی کتاب ہے باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ پیچھے سے۔ اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سرا ہے کا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔پھر فرمایا: قرآن کے علاوہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرو اور وہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پیاری ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَرْطَأَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى

Hadith 3651

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم السَّجْدَةِ · حديث 3652

3652 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَارَ الْخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ فَخَرَجْنَا مَرَّةً مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: «يَا هَنَاهْ، تَقَرَّبْ إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْتَ، فَإِنَّكَ لَنْ تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ كَلَامِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3652 - صحيح

حضرت فروہ بن نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کا پڑوسی ہوا کرتا تھا ، ایک مرتبہ وہ مسجد سے نکلے تو انہوں نے میرا ہاتھ تھام لیا اور فرمایا: سنو : جس قدر ہو سکے اللہ تعالیٰ کا قرب اختیار کراور تو اس کے کلام سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعے اس کا قرب نہیں پا سکتے ہو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كُنْتُ جَارَ الْخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ فَخَرَجْنَا مَرَّةً مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِيَدِي ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3652

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3653

3653 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ} قَالَ: «مِنَ الثِّقَلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3653 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد:۔" تکاد السماوات یتفطرن م فوقھن (الشوریٰ:5) "قریب ہوتا ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے شق ہو جائیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں "وزن کی وجہ سے"۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ ← عِكْرِمَةَ، ← خُصَيْفٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 3653

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3654

3654 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ آدَمَ، وَنُوحٍ عَشَرَةُ قُرُونٍ كُلُّهُمْ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْحَقِّ، فَلَمَّا اخْتَلَفُوا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ فَكَانُوا أُمَّةً وَاحِدَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3654 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی درمیان دس زمانوں کے لوگ ہوئے ہیں، سب کے سب دین حق پر قائم تھے پھر جب ان کے اختلاف شروع ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور مرسلین بھیجے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں تو وہ تمام ایک ہی امت تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← إسحاق أنبا عبد الصمد بن عبد الوارث ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3654

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3655

3655 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ} [البقرة: 102] الْآيَةُ. قَالَ: " إِنَّ النَّاسَ بَعْدَ آدَمَ وَقَعُوا فِي الشِّرْكِ اتَّخَذُوا هَذِهِ الْأَصْنَامَ، وَعَبَدُوا غَيْرَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَتِ الْمَلَائِكَةُ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا خَلَقْتَ عِبَادَكَ فَأَحْسَنْتَ خَلْقَهُمْ، وَرَزَقْتَهُمْ فَأَحْسَنْتَ رِزْقَهُمْ، فَعَصَوْكَ وَعَبَدُوا غَيْرَكَ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ يَدْعُونَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّهُمْ فِي غَيْبٍ فَجَعَلُوا لَا يَعْذُرُونَهُمْ " فَقَالَ: اخْتَارُوا مِنْكُمُ اثْنَيْنِ أُهْبِطُهُمَا إِلَى الْأَرْضِ، فَآمُرُهُمَا وَأَنْهَاهُمَا " فَاخْتَارُوا هَارُوتَ وَمَارُوتَ - قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِيهِمَا - وَقَالَ فِيهِ: فَلَمَّا شَرِبَا الْخَمْرَ وَانْتَشَيَا وَقَعَا بِالْمَرْأَةِ وَقَتَلَا النَّفْسَ، فَكَثُرَ اللَّغَطُ فِيمَا بَيْنَهُمَا وَبَيْنَ الْمَلَائِكَةِ فَنَظَرُوا إِلَيْهِمَا وَمَا يَعْمَلَانِ فَفِي ذَلِكَ أُنْزِلَتْ {وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ، وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ} [الشورى: 5] الْآيَةُ. قَالَ: فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ الْمَلَائِكَةُ يَعْذُرُونَ أَهْلَ الْأَرْضِ وَيَدْعُونَ لَهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3655 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ۔" وما انزل علیٰ الملکین ببابل ھاروت وماروت (البقرۃ:102)۔ کے متعلق فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کے بعد لوگ شرک میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے ان بتوں کو معبود مان لیا اور غیر خدا کی عبادت کرنے لگے ۔ فرشتوں نے ان کے لئے بد دعائیں کرنا شروع کر دیں اور یوں کہنے لگے:اے ہمارے رب! تو نے اپنے بندوں کو پیدا فرمایا اور ان کی اچھی تخلیق فرمائی ، تو نے ان کو اچھا رزق عطا فرمایا، لیکن انہوں نے تیری نا فرمانی کی ہے اور تیرے غیر کی عبادت کی ہے ۔ اے اللہ، اے اللہ ! یوں وہ انسانوں کے خلاف دعا مانگا کرتے تھے۔ تو ان کو اللہ رب العزت نے فرمایا: وہ لوگ غیب میں ہیں لیکن فرشتے ان کی معذرت قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ ے ان سے فرمایا: تم دو فرشتوں کو منتخب کر لو، میں ان کو زمین پر اتارتا ہوں وہ لوگوںمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کا انتخاب کر لیا پھر اس کے بعد ان کا تفصیلی واقعہ بیان فرمایا اور اس کے بعد فرمایا : جب انہوں نے شراب پی لی اور ان کو نشہ ہو گیا تو وہ زنا کے مرتکب ہو گئے اور قتل بھی کر دیا پھر جب ان میں اور ملائکہ میں شوربڑھ گیا تو ملائکہ نے ان کی طرف اور ان کے اعمال کی طرف دیکھا ۔ اس سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ "والملائکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض" (الشوریٰ:5)۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آیت کے آخر تک۔ پھر اس کے بعد فرشتوں نے زمین والوں کا عذر تسلیم کیا اور ان کے لئے دعا مانگنے لے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةُ. ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، أَنْبَأَ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ وَكَانَ ثِقَةً، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3655

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3656

3656 - وَأَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوبِ فَبَكَى، وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ وَالْمِيزَانِ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ} [الشورى: 17] إِلَى {الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ} [هود: 66] فَقَالَ لَهُ عَبْدُهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ وَقَفْتُ مَعَكَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ هَذَا. فَقَالَ: ذَكَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِمَكَانِي هَذَا فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، لَمْ يَبْقَ مِنْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ فِيمَا مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3656 - كثير بن زيد ضعفه النسائي ومشاه غيره

مطلب بن عبد اللہ بن حنطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عرفات کے وقوف میں تھے۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا (اس کی شعاعیں ختم ہو گئیں اور صرف ٹکیہ باقی رہ گئی ) تو انہوں نے سورج کی طرف دیکھا اور رو دئیے اور بہت شدید روئے اور آپ نے درج ذیل آیات "القوی العزیز تک تلاوت کیں: "اللہ الذی النزل الکتاب بالحق والمیزان وما یدریک لعل الساعۃ قریب" (الشوریٰ:17،18،19) " اللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور انصاف کی ترازو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ان سے ان کے غلام نےکہا: اے ابو عبدالرحمان رضی اللہ عنہ ! میں نے کئی مرتبہ آپ کے ساتھ وقوف عرفات کیا لیکن آپ نے کبھی بھی یہ نہیں کیا۔ انہوں نے جواباً کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی یاد آ گئی تھی، آپ ﷺ اسی جگہ کھڑے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! تمہاری دنیا گزر چکی ہے اور باقی صرف اتنی ہی رہ گئی ہے کہ آج کا دن گزر جانے کے بعد اب جتنا دن باقی رہتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 3656

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3657

3657 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ، وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ} [الشورى: 20] ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي امْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3657 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: "من کان یرید حرت الآخرۃ نزد لہ فی حرثہ، ومن کان یرید حرث الدنیا نؤتہ منھا وما لہ فی الاخرۃ من نصیب "(الشوریٰ:20)۔" جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے بندے تو میری عبادت کے لئے فراغت اختیار کر میں تیرا سینہ غنا سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو ختم کر دوں گا اور اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو میں تیرا سینہ مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کو بھی نہیں روکوں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 3657

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3658

3658 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَةِ الدُّنْيَا هَلَكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3658 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اپنی تمام خواہشات کو ایک خواہش میں ڈھال لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسکی دنیا کی تمام خواہشات کو پوری کر دیتا ہے اور جس کی خواہشات بہت زیادہ ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرتا وہ بندہ دنیا کی کون سی وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ

Hadith 3658

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3659

3659 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى أَجْرًا إِلَّا أَنْ تُوَادُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَيْهِ بِطَاعَتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا اتَّفَقَا فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ الزَّرَّادِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ فِي قُرْبَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3659 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: میں نے تمہیں جو معجزات اور ہدایت دی ہے، اس کے عوض میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ہوں مگر یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی اطاعت کر کے اس کا قرب اختیار کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں عبدالملک بن مسیرۃ الزراد کی طاؤس کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ یہ حکم آل محمد کے تمام رشتہ داروں کے متعلق ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ الْبَاهِلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 3659

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3660

3660 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَكْثَرَ النَّاسُ عَلَيْنَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] ، فَكَتَبْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «كَانَ أَوْسَطَ بَيْتٍ فِي قُرَيْشٍ لَيْسَ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِهِمْ إِلَّا قَدْ وَلَدَهُ» فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا} [الأنعام: 90] إِلَى مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ تَوَدُّونِي بِقَرَابَتِي مِنْكُمْ وَتَحْفَظُونِي بِهَا قَالَ هُشَيْمٌ: وَأَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ. «هَذَا حَدِيثٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ، وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا» فَإِنَّ حَدِيثَ عِكْرِمَةَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَحَدِيثُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ "

شعبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اس آیت :" قل لا اسالکم علیہ اجر ا الا المودۃ فی القربیٰ (الشوریٰ:23) " تم فرماؤ! میں اس پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے سلسلے میں لوگوں میں بہت اختلاف واقع ہوا تو ہم نے اس کا مطلب دریافت کرنے کے لئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک مکتوب بھیجا تو انہوں نے جواباً فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: آپ فرما دیں کہ میں تم سے اس چیز پر کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتا جو میں نے (تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی )دعوت پیش کی مگر یہ کہ تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو اور اس کے ساتھ تم میری حفاظت کرو۔ ہیشم کہتے ہیں: حصین نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایسی ہی روایت کی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے اور داؤد بن ابی ہند کی روایت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اضافے کے ساتھ نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ذَلِكَ ← أَكْثَرَ النَّاسُ عَلَيْنَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ فَكَتَبْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ ← الشَّعْبِيِّ، ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ دَاوُدُ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه

Hadith 3660

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3661

3661 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَنْتُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَنْتُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ يَكُونَ عَامَّةُ مَنْ تُصِيبُونَ بِفَارِسَ وَالرُّومِ فِي الْجَنَّةِ، فَإِنَّ أَحَدَهُمْ يَعْمَلُ الْخَيْرَ فَيَقُولُ: أَحْسَنْتَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، أَحْسَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: {وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ} [الشورى: 26] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3661 - صحيح

سلمہ بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا:تم مومن ہو اور تم جنتی ہو، خدا کی قسم میں یہ چاہتا ہوں تم میں سے جتنے لوگ فارس اور روم میں شہید ہوئے سب جنتی ہوں کیونکہ تم میں سے کوئی شخص نیک عمل کرتا ہے لوگ اسے کہتے ہیں : تو نے اچھا عمل کیا ہے ، اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے، تو نے اچھا عمل کیا ہے، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم رکے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ویستجیب الذین اٰمنو وعملو الصالحات ویزیدھم من فضلہ"۔ (الشوریٰ:26) " اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے اور کافروں کے لئے سخت عذاب ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

خَطَبَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ← سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 3661

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3662

3662 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ثنا قَتَادَةُ، وَتَلَا، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءَ} [الشورى: 27] فَقَالَ: ثنا خُلَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ، إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ إِنَّهُمَا لَيُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى وَمَا غَرَبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا وَبِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ اللَّهُمَّ عَجِّلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3662 - صحيح

ہشام بن ابی عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : قتادہ نے یہ آیت پڑھی:" ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر مایشاء (الشوریٰ:27)۔" اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کر دیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازے سے اتارتا ہے جتنا چاہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر انہوں نے کہا: خلید بن عبداللہ العصری رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی دونوں جانب فرشتے ہوتے ہیں جن کی آواز انسان اور جنات کے علاوہ روئے زمین کی تمام مخلوقات سنتی ہیں، وہ کہتے ہیں : اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ کیونکہ (وہ مال جو) کم ہو لیکن اس سے ضرورتیں پوری ہوتی رہیں، وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور اس سے ضرورتیں پوری نہ ہوں اور جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی دو فرشتے ہوتے ہیں جو ندا دیتے ہیں : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو جلد ی بدلہ عطا فرما اور روکنے والے کا مال جلدی ہلاک فرمادے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ، ← قَتَادَةُ، وَتَلَا، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقري

Hadith 3662

chevron_left Previous
1…64656667
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section