Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3627

3627 - أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزُّبَيْرِ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ الزُّبَيْرَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3627 - على شرط مسلم

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآَيَةُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو اللَّيْثِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزُّبَيْرِ،

Hadith 3627

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3628

3628 - حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ مَا لِمُفْتَتَنٍ تَوْبَةٌ، وَمَا اللَّهُ بِقَابِلٍ مِنْهُ شَيْئًا، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أُنْزِلَ فِيهِمْ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] ، وَالْآيَاتِ الَّتِي بَعْدَهَا، قَالَ عُمَرُ: فَكَتَبْتُهَا فَجَلَسْتُ عَلَى بَعِيرِي، ثُمَّ طُفْتُ الْمَدِينَةَ، ثُمَّ «أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ يَنْتَظِرُ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لَهُ فِي الْهِجْرَةِ وَأَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينِ» ، وَقَدْ أَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجَ مَعَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم یہ سمجھتے تھے کہ دین سے پھرنے والے کی نہ ہی توبہ قبول ہے اور نہ اللہ تعالیٰ اس کا کوئی عمل قبول فرمائے گا۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ مدینہ المنورہ تشریف لائے تو ان کے متعلق یہ آیات :۔" یاعبادی الذین اسرفو ا علیٰ انفسہم لا تقنطو ا من رحمۃ اللہ، ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا، انہ ھوا لغفور الرحیم (الزمر:53)" اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بے شک وہی بخشنے ولا مہربان ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ آیت اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے ان آیات کو لکھا اور پھر مدینہ میں گھوما۔ پھر رسول اللہ ﷺ اپنے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت کے انتظار میں مکہ میں ٹھہرے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی اسی انتظار میں وہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہجرت کی اجازت ملے تو وہ آپ کی معیت میں نکلیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري

Hadith 3628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3629

3629 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْجُرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي فَتَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةٌ، وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي فَيَكُونُ لَهُ شُكْرٌ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ} «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3629 - على شرط البخاري ومسلم

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر جہنمی کو اس کا جنت کا مقام دکھایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا : کاش کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا۔ تو اس کو بہت حسرت ہو گی اور ہر جنتی کو اس کا دوزخ کا مقام دکھایا جائے گا ، وہ کہے گا: اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی (تو میرا کیا بنتا) تب وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گا پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی:۔"ان تقول نفس یا حسرتی علیٰ مافرطت فی جنب اللہ "۔ (الزمر:56) " کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں"۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْجُرَشِيُّ، ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي

Hadith 3629

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3630

3630 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ، وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا أَوْدِيَةَ الْقَيْحِ وَالدَّمِ. قُلْتُ لَهُ: أَنْهَارٌ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَوْدِيَةٌ، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ} قُلْتُ: فَأَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3630 - صحيح

حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کس قدر ہے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں ۔ خدا کی قسم ! تم نہیں جانتے کہ جہنمی کی کان کی لو اور اس کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت کی خون اور پیپ کی وادیاں ہوں گی۔ میں نے ان سے کہا: نہریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ وادیاں ہوں گی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تمہیں دوزخ کی وسعت معلوم ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ خدا کی قسم تم نہیں جانتے ہو۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : والارض جمیعا قبضتہ یوم القیامۃ والسموات مطویا بیمینہ (الزمر:67)۔" اور قیامت کے دن سب زمینوں کو لپیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ تو اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دوزخ کےپل پر ہوں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أجَلْ والله ما تدْري، ← لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتَدْرِي مَا سَعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا. ← مُجَاهِدٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، ← الحسن بن حليم المروزي

Hadith 3630

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3631

3631 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ} [الزمر: 68] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3631 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " ونفخ فی الصور (الزمر:68) " اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ} [الزمر: ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ التَّمِيمِيِّ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 3631

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3632

3632 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ لِنِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَسْتَحْيِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ فِي نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءَ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} [الأحزاب: 51] فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَى رَبَّكَ يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3632 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه بهذه السياقة

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، رسول اللہ ﷺ کی (دیگر) ازواج سے کہا کرتی تھیں: عورت اپنے آپ کو ہبہ کرنے سے حیاء نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔" ترجی من تشاء منھن وتووی الیک من تشاء (الاحزاب:51) "پیچھے ہٹاؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ آُ کے رب نے آپ کی خواہش پوری کرنے میں آپ کے ساتھ خوب تعاون فرمایاہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 3632

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3633

3633 - حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ، وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ} [الأحزاب: 52] قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَحَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3633 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد:۔" لایحل لک النساء من بعد ولا ان تبدل بھن (الاحزاب:52) " ان کے بعد اور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتی ہیں: کسی نبی کی وفات نہیں ہو تی حتی ٰ کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے شادی کرنا حلال کر دیتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،

Hadith 3633

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3634

3634 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْحَوَامِيمُ دِيبَاجُ الْقُرْآنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حم سے شروع ہونے والی سورتیں قرآن کا دیباچہ ہیں۔

مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 3634

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3635

3635 - قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ يَبْنِي مَسْجِدًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذَا لِآلِ حَامِيمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حبیب ابن ابی ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، اس وقت وہ مسجد کی تعمیر کر رہے تھے ، اس نے کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : یہ حامیم کی اولاد کے لئے ہے۔

«مَا هَذَا؟» ← رَجُلٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ وَهُوَ يَبْنِي مَسْجِدًا ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ،

Hadith 3635

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3636

3636 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ} [غافر: 11] قَالَ: " هِيَ مِثْلُ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ {كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [البقرة: 28] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3636 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ ن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا امتنا اثنتین واحیتنا اثنتین (المومن:11) " اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) بالکل سور بقرہ کیدرذیل آیت جیسا ہے: "وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون (البقرہ: 28) " تم مردہ تھے ، اس نے تمہیں جلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ جاؤ گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Hadith 3636

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3637

3637 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " يُنَادِي مُنَادٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ، فَيَسْمَعُهَا الْأَحْيَاءُ وَالْأَمْوَاتُ وَيَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُنَادِي: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3637 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن ایک منادی اعلان کرے گا: اے لوگو! تم پر قیامت قائم ہو چکی ہے ۔ اس اعلان کو تمام زندہ اور مردہ لوگ سنیں گے اور اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) نازل ہو گا پھر خود اعلان فرمائے گا : آس کس کی بادشاہی ہے؟ (پھر خود ہی فرمائے گا) صرف اس ایک اللہ کو جو واحد اور قہار ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3637

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم الْمُؤْمِنِ · حديث 3638

3638 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِصَاصِ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ، فَابْتَعْتُ بَعِيرًا، فَشَدَدْتُ رَحْلِي عَلَيْهِ، ثُمَّ سِرْتُ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ مِصْرَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ. فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَامَ يَطَأُ ثَوْبَهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ فِي الْقِصَاصِ، فَخَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ أَوْ تَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ - أَوْ قَالَ: النَّاسَ - عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا " قَالَ: قُلْنَا: مَا بُهْمًا؟ قَالَ: " لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الْمَلِكُ، أَنَا الدَّيَّانُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ، وَعِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ " قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ ذَا، وَإِنَّمَا نَأْتِي اللَّهَ غُرْلًا بُهْمًا؟ قَالَ: «بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ» قَالَ: وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {الْيَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ} [غافر: 17] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3638 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے ایک صحابی رسول ﷺ کے متعلق پتہ چلا کہ اس نے قصاص کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سن رکھی ہے لیکن وہ حدیث میں نے نہیں سنی تھی۔ تو میں نے ایک اونٹ خریدا ، اس پر کجاوہ باندھا پھر پورا ایک مہینہ سفر کیا اور مصر میں پہنچا۔ میں عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے گھر گیا۔ میں دربان سے کہا: عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ دروازے پر جابر ہے۔ اس نے پوچھا: ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ ؟ میں نے کہا:جی ہاں۔ پھر وہ دربان ان کے پاس گیا اور ان کو بتایا وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے کپڑے سمیٹ کر میری طرف باہر نکل آئے، ہم ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے، پھر میں نے ان سے کہا: مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ قصاص کے متعلق آپ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث سن رکھی ہے جبکہ میں نے وہ ابھی تک نہیں سنی۔ مجھے یہ خدشہ ہوا کہ کہیں وہ حدیث سننے سے پہلے میری یا تمہاری موت واقع نہ ہو جائے۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ بولے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ننگے ، غیر ختنہ شدہ "بہما" اٹھائے گا۔ (عبداللہ ) فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: "بھم" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ ) ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی۔ پھر ان کو ایسی آواز میں ندا دی جائے گی جو قریب و بعید سے ایک جیسی سنی جائے گی (کہنے والا کہے گا) میں بادشاہ ہوں، میں فیصلہ کرنے والا ہوں، کوئی جنتی جنت میں اور کوئی دوزخی دوزخ میں نہیں جائے گا، جب تک کہ میں ان کو تھپڑ تک کا قصاص نہ دلوا دوں (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: ہم نے کہا: یہ( قصاص )کیسے ہوگا؟ کیونکہ ہم غیر مختون اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا: نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی:"الیوم تجزی کل نفس لاظلم الیوم (المومن:17) "آج ہر جان اپنے کئے کا بدلہ پائے گی آج کسی پر زیادتی نہیں " ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← يزيد بن هارون أنبأ همام بن يحيى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 3638

chevron_left Previous
1…6364656667
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section