Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3615

3615 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ص وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا آخَرَ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنْ رَأَيْتُكُمْ تَهَيَّأْتُمْ لِلسُّجُودِ» فَنَزَلَ وَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3615 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، آپ نے سورۃ ص پڑھنا شروع کی، جب آپ آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا، تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا۔ پھر ایک دفعہ اس کے بعد بھی آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی ۔ جب آپ آیت سجدہ پر پہنچے تو لوگوں نے سجدہ کرنے کا ارادہ کی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تو نبی علیہ السلام کی توبہ ہے جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سجدہ کے لئے تم تیار ہو گئے ہو پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3615

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3616

3616 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي افْتَتَحْتُ سُورَةَ ص حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى السَّجْدَةِ فَسَجَدَتِ الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ وَمَا حَوْلَهُ، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَسَجَدَ فِيهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3616 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں سورۃ ص کی تلاوت شروع کرتا ہوں اور جب میں مقام سجدہ پر پہنچا تو دوات ، قلم اور اس کے ارد گرد کی اشیاء نے سجدہ کیا۔ میں نے اس بات کی خبر رسول اللہ ﷺ کو دی تو آپ ﷺ نے بھی سورۃ کے اس مقام پر سجدہ کیا۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3616

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3617

3617 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ فَجَاءَتْ قُرَيْشٌ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَ رَأْسِ أَبِي طَالِبٍ مَجْلِسُ رَجُلٍ فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ كَيْ يَمْنَعَهُ ذَاكَ وَشَكَوْهُ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي مَا تُرِيدُ مِنْ قَوْمِكَ؟ قَالَ: «يَا عَمُّ، إِنَّمَا أُرِيدُ مِنْهُمْ كَلِمَةً تَذِلُّ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدَّى إِلَيْهِمْ بِهَا جِزْيَةُ الْعَجَمِ» قَالَ: كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ؟ قَالَ: «كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ» قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» قَالَ: فَقَالُوا: أَجَعَلُوا الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنْ هَذَا لِشَيْءٌ عُجَابٌ؟ قَالَ: وَنَزَلَ فِيهِمْ {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] حَتَّى بَلَغَ {إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ} [ص: 7] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3617 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابو طالب بیمار ہو گئے تو قریش ان کے پاس آئے اور نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لے آئے۔ اس وقت ابو طالب کے سرہانے کی جانب ایک نشست خالی پڑی تھی۔ ابو جہل آگے بڑھاتا کہ حضور ﷺ کو وہاں بیٹھنے سے روک سکے اور ان سب لوگوں نے حضور ﷺ کی ابو طالب سے شکایت کی۔ ابو طالب نے کہا: اے میرے بھتیجےﷺ تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے چچا ! میں ان کو ایسے کلمہ کا اقرار کروانا چاہتا ہوں جس کی بناء پر تمام عرب ان کے زیر نگیں ہو جائے گا اور اس کی وجہ سے اہل عجم بھی ان کو جزیہ ادا کریں گے۔ ابو طالب نے کہا: صرف ایک کلمہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں صرف ایک کلمہ ہے۔ ابو طالب نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے ؟ آپ نے فرمایا:۔ " لا الہ الا اللہ"۔ تو لوگ بولے : کیا سب معبودوں کی بجاے اب ایک معبود کی عبادت کریں؟ یہ تو بڑی تعجب خیز بات ہے۔ (راوی) کہتے ہیں۔ انہیں کے متعلق یہ سورۃ نازل ہوئی۔" ص والقرآن ذی الذکر " (ص:1) یہ آیات "ان ھذا الااختلاق تک نازل ہوئیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Hadith 3617

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3618

3618 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَزَلَ {ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ} [ص: 1] فِيهِمْ وَفِي مَجْلِسِهِمْ ذَلِكَ يَعْنِي مَجْلِسَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي جَهْلٍ وَاجْتِمَاعِ قُرَيْشٍ إِلَيْهِمْ حِينَ نَازَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3618 - على شرط مسلم والعباس ثقة

حضرت عباللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "ص والقرآن ذی الذکر"(ص:1)۔ابو طالب اور ابو جہل اور قریش کے اس وفد کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جھگڑا کیا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ أَنْبَأَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3618

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3619

3619 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الزَّاهِدُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ} [ص: 3] قَالَ: «لَيْسَ بِحِينِ نَزْوٍ وَلَا فِرَارٍ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3619 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:۔" ولات حین مناص"۔" اور چھوٹنے کا وقت نہ تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں (اس کا مطلب ہے) اب یہ قوت کودنے اور بھاگنے کا نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ [ص: ← التميمي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الزَّاهِدُ

Hadith 3619

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3620

3620 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا أَصَابَ دَاوُدَ مَا أَصَابَهُ بَعْدَ الْقَدَرِ إِلَّا مِنْ عُجْبٍ عَجِبَ بِهِ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَبِّ مَا مِنْ سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا وَعَابِدٍ مِنْ آلِ دَاوُدَ يعَبْدُكَ يُصَلِّي لَكَ، أَوْ يُسَبِّحُ، أَوْ يُكَبِّرُ وَذَكَرَ أَشْيَاءَ، فَكَرِهَ اللَّهُ ذَلِكَ فَقَالَ: «يَا دَاوُدُ إِنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا بِي فَلَوْلَا عَوْنِي مَا قَوِيتَ عَلَيْهِ وَجَلَالِي لَأَكِلَنَّكَ إِلَى نَفْسِكَ يَوْمًا» قَالَ: يَا رَبِّ فَأَخْبِرْنِي بِهِ فَأَصَابَتْهُ الْفِتْنَةُ ذَلِكَ الْيَوْمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3620 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ حضرت داؤد علیہ السلام کو خود پسندی کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا ہونا پڑا۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب : دن اور رات میں کوئی ساعت اور لمحہ ایسا نہیں ہوتا جس میں آل داؤد کا کوئی فرد تیری عبادت نہ کر رہا ہو، کوئی تیرے لئے نماز پڑھ رہا ہو گا، کوئی تسبیح کر رہا ہو گا، کوئی تکبیر پڑھ رہا ہو گا، مزید کئی چیزوں کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات نا پسند ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے داؤد علیہ السلام یہ سب میری دی ہوئی قوت کی وجہ سے ہو سکا ہے، اگر میری مدد تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم یہ سب نہ کر سکتے۔ مجھے میرے جلال کی قسم ہے میں ایک دن کے لئے تجھے تیرے سپرد کر دوں گا۔ آپ نے عرض کی : اے میرے رب مجھے (اس دن کی ) خبر دے دینا تو اس دن حضرت داؤد علیہ السلام آزمائش میں مبتلا کر دئیے گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Hadith 3620

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3621

3621 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَبِّ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، رَبِّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهِلِّي، وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ ". وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ وَحَدَّثَ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3621 - بل عبد الله بن يزيد الدمشقي هذا قال أحمد أحاديثه موضوعة

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے رب! میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبین کی محبت اور ایسے عمل کی توفیق کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ یا اللہ ! اپنی محبت کو مجھے، میری جان اور میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب کر دے اور نبی اکرم ﷺ جب کبھی حضرت داؤد علیہ السلام کا تذکرہ کرتے یا ان کے بارے میں کوئی واقعہ سناتے تو فرماتے: داؤد علیہ السلام سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← عبد الله بن يزيد الدمشقي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3622

3622 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «مَاتَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجْأَةً يَوْمَ السَّبْتِ، وَكَانَ يَسْبِتُ فَتَعْكُفُ عَلَيْهِ الطَّيْرُ فَتُظِلُّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3622 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام ہفتہ کے دن اچانک انتقال فرما گئے۔ آپ ہفتہ کے دن منایا کرتے تھے، پرندے آک آپ پر سایہ کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← السُّدِّيِّ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ أَنْبَأَ شَرِيكٌ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Hadith 3622

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3623

3623 - الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا} [ص: 34] قَالَ: " هُوَ الشَّيْطَانُ الَّذِي كَانَ عَلَى كُرْسِيِّهِ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَكَانَ لِسُلَيْمَانَ جَارِيَةٌ يُقَالَ لَهَا: جَرَادَةُ وَكَانَ بَيْنَ بَعْضِ أَهْلِهَا وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ، فَقَضَى بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ إِلَّا أَنَّهُ وَدَّ أَنَّ الْحَقَّ لِأَهْلِهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّهُ سَيُصِيبُكَ بَلَاءٌ، وَكَانَ لَا يَدْرِي يَأْتِيهِ مِنَ السَّمَاءِ أَوْ مِنَ الْأَرْضِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3623 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:۔" والقینا علیٰ کرسیہ جسدا (ص:34) " اور کے تختے پر ایک بے جان بدن ڈال دیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : وہ شیطان تھا جو ان کی کرسی پر براجمان تھا، وہ چالیس دن تک لوگوں کے فیصلے کرتا رہا۔ حجرت سلیمان علیہ السلام کی ایک لونڈی تھی جس کا نام "جرادہ" تھا۔ اس جرادہ کے خاندان اور ان کی قوم میں جھگڑا تھا۔ انہوں نے ان میں برحق فیصلہ کر دیا تاہم وہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ حق "جرادہ" کے خاندان کی طرف ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو وحی کی گئی کہ عنقریب ان کو ایک آزمائش میں ڈالا جائے گا تو ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ آزمائش آسمانی ہو گی یا زمینی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا} [ص: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالُ ← الْاَعْمَشِ

Hadith 3623

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3624

3624 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَائِطٍ بِالطَّائِفِ يُقَالَ لَهُ: الْوَهْطُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ؛ سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ يَخْرُجُ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ أَعْطَاهُ ذَلِكَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3624 - عبد الله هو ابن فيروز ثقة

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، جن میں سے دو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرما دی ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تیسری چیز بھی ان کو عطا فرما دے گا۔ (1) انہوں نے یہ دعا مانگی تھی کہ مجھے ایسا فیصلہ کرنے کی توفیق دے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو۔ (2) انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت مانگی جو ان کے علاوہ اور کسی کو نہ ملی ہو، اللہ تعالیٰ نے وہ بھی عطا کر دی۔ (3) انہوں نے یہ دعا مانگی تھی : جو شخص اس مسجد یعنی بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے تو وہ گناہوں سے اس طرح صاف ہو جائے جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بھی عطا کر دیا ہو گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3624

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3625

3625 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو لُبَابَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ سُورَةَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3625 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم یہ سمجھتے کہ اب آپ روزہ میں ناغہ نہیں کریں گے اور جب روزہ نہ رکھتے تو (بغیر روزہ رکھے اتنے دن گزر جاتے کہ) ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور آپ ہر رات سورہ بنی اسرائیل اور سورہ زمر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

أَبُو لُبَابَةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 3625

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ · حديث 3626

3626 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ، ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 31] قُلْتُ: أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ، قَالَ: «نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ ذَلِكَ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدِّيَ إِلَى كُلِّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ» قَالَ الزُّبَيْرُ: فَوَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3626 - على شرط مسلم

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت :۔" انک میت وانھم میتون ثم انکم یو القیامۃ عند ربکم تختصمون (الزمر:31) "بےشک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تو میں نے پوچھا : کیا خاص گناہوں کے ساتھ ساتھ ہمارے دنیاوی جھگڑے بھی ہم پر دوبارہ کھلے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں یہ تم پر اس وقت تک پیش کئے جاتے رہیں گے جب تک ہر حقدار کو اپنا حق نہ مل جائے۔زیبر نے کہا : خدا کی قسم یہ معاملہ بہت سخت ہے۔

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أبو أسامة وعبدة بن سليمان ← إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3626

chevron_left Previous
1…626364…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section