Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يس · حديث 3603

3603 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ الْحِيرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: «مَنْ وَجَدَ فِي قَلْبِهِ قَسْوَةً فَلْيَكْتُبْ يس وَالْقُرْآنِ فِي جَامٍ بِزَعْفَرَانٍ، ثُمَّ يَشْرَبُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

سورتوں کے فضائل تو میں نے کتاب فضائل القرآن میں ذکر کر دئیے ہیں تاہم اس مقام پر ایک حکایت نقل کر رہا ہوں۔ جو بھی اس پر عمل کرے گا انشاء اللہ فائدہ حاصل کرے گا۔ ابو جعفر محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص اپنے دل میں سختی محسوس کرتا ہو اس کو چاہئے کہ کسی پیالے میں سورۃ یٰسین لکھ کر پی لے۔

أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← محمد بن مروان ← عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ، ← الحسين بن الحكم الحيري ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Hadith 3603

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يس · حديث 3604

3604 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ طريف بن شهابٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَنُو سَلَمَةَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} [يس: 12] فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّهُ يَكْتُبُ آثَارَكُمْ» ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ فَتَرَكُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَجِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ» وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ بَعْضَ هَذَا الْمَعْنَى مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3604 - تفرد به إسحاق الأزرق عنه صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنو سلمہ مدینہ المنورہ کے ایک نواحی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نےمسجد نبوی کے قریب منتقل ہونے کا اراداہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:۔" انا نحن نہیی الموتی ونکتب ماقدمو وآثارھم (یسین:22) " اور بے شک ہم مردوں کو جلائیں (زندہ کریں ) گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو انہوں نے آگے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تب رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلایا اور فرمایا: "انہ یکتب اٰثارکم " (بے شک تمہارے قدموں کے بدلے نیکیاں لکھی جاتی ہیں ) پھر ان کو یہ آیت پڑھ کر سنائی تو بنو سلمہ نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔(اس آیت کے شان نزول کے بارے میں مفسر شہیر حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔ اس آیت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ بنی سلمہ مدینہ طیبہ کے کنارے پر رہتے تھے ، انہوں نے چاہا کہ مسجد شریف کے قریب آبسیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور سید عالم ﷺ نے فرمایا: تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، تم مکان تبدیل نہ کرو یعنی جتنی دور سے آؤ گے اتنے ہی قدم زیادہ پڑیں گے اور اجر و ثواب زیادہ ہو گا۔) یہ حدیث ثوری کی حدیث سے عمدہ اور صحیح ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حمید کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی سے ملتی جلتی حدیث روایت کی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي سُفْيَانَ طريف بن شهابٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← جَدِّي، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 3604

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يس · حديث 3605

3605 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَامِرُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَيَّارِ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا قَالَ صَاحِبُ يَاسِينَ: يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ. قَالَ: خَنَقُوهُ لَيَمُوتَ فَالْتَفَتَ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ: {إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونَ} [يس: 25] أَيْ فَاشْهَدُوا لِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3605 - ابن إسحاق ضعيف

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب صاحب یاسین ( حبیب نجار) نے کہا: اے میری قوم رسولوں کی پیروی کرو۔ تو انہوں نےان پر قاتلانہ حملہ کر دیا تو یہ انبیاء کرام علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر بولے: میں تمہارے رب پر ایمان لایا تو میری (بات) سنو۔ یعنی میرے ایمان کے گواہ بن جاؤ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

خَنَقُوهُ لَيَمُوتَ فَالْتَفَتَ إِلَى الْأَنْبِيَاءِ ← صَاحِبُ يَاسِينَ: يَا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ. ← لَمَّا ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سيار أبي الحكم ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو حَفْصٍ عَامِرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي

Hadith 3605

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يس · حديث 3606

3606 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَظْمِ حَائِلٍ فَفَتَّهُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَيَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا بَعْدَ مَا أَرَمَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، يَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا يُمِيتُكَ، ثُمَّ يُحْيِيكَ، ثُمَّ يُدْخِلُكَ نَارَ جَهَنَّمَ» قَالَ: فَنَزَلَتِ الْآيَاتُ {أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ} [يس: 77] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3606 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : عاص بن وائل رضی اللہ عنہ م، رسول اللہ ﷺ کے اپس ایک بوسیدہ ہڈی لے کر آیا: اس نے وہ ہڈی توڑ کر چورا چورا کر ڈالی اور بولا: کیا میرے اس ہڈی کو چورا چورا کرکے پھینک دینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ اسے زندہ کرے گا، وہ تجھے موت دے گا پھر تجھے زندہ کرے گا پھر تجھے دوزخ میں ڈالے گا۔ تب یہ درج ذیل آیات اختتام سورت تک نازل ہوئی:۔"اولم یر الانسان انا خلقناہ من نطفۃ فاذا ھوا خصیم مبین (یس:77) " کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فَنَزَلَتِ الْآيَاتُ {أَوَلَمْ يَرَ الْإِنْسَانُ ← «نَعَمْ، يَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا يُمِيتُكَ، ثُمَّ يُحْيِيكَ، ثُمَّ يُدْخِلُكَ نَارَ جَهَنَّمَ» ← يَا مُحَمَّدُ أَيَبْعَثُ اللَّهُ هَذَا بَعْدَ مَا أَرَمَ؟ ← جَاءَ الْعَاصِ بْنُ وَائِلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِعَظْمِ حَائِلٍ فَفَتَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ أَبُو بِشْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Hadith 3606

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3607

3607 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالصَّافَّاتِ صَفًّا} [الصافات: 1] قَالَ: الْمَلَائِكَةُ {فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا} [الصافات: 2] قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ» {فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا} [الصافات: 3] قَالَ: «الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3607 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد :۔" والصافات صفا (الصافات:1) "قسم ان کی باقاعدہ صف باندھیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے مراد فرشتے ہیں۔ "فالزاجرات زجرا"۔ (الصافات:2) "پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے بھی فرشتے مراد ہیں۔ "فا لتالیات ذکرا "۔ (الصافات:3) " پھر ان جماعتوں کی قرآن پڑھیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے بھی "فرشتے " ہی مراد ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْمَلَائِكَةُ فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا [الصافات: ← الْمَلَائِكَةُ فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا [الصافات: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالصَّافَّاتِ صَفًّا [الصافات: ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَنْبَأَ سُفْيَانُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Hadith 3607

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3608

3608 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: {بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ} [الصافات: 12] قَالَ شُرَيْحٌ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَعْجَبُ مِنْ شَيْءِ إِنَّمَا يَعْجَبُ مَنْ لَا يَعْلَمُ» قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُعْجِبُهُ رَأْيُهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ أَعْلَمُ مِنْ شُرَيْحٍ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا: {بَلْ عَجِبْتَ} [الصافات: 12] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3608 - على شرط البخاري ومسلم

ابو وائل شقیق بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔"بل عجبت ویسخرون"۔" بلکہ تمہیں اچنبھا آیا اور وہ ہنسی کرتے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) شریح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اللہ تعالیٰ کسی چیز سے حیران نہیں ہوتا صرف جاہل پر حیران ہو تا ہے۔ اعمش رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے کیا تو انہوں نے کہا: شریح رحمۃ اللہ علیہ کو ان کی اپنی یہ رائے بہت پسند تھی حالانکہ عبداللہ، شریح سے زیادہ علم والے ہیں اور عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ پڑھا کرتے تھے " بل عجبت "۔ (یعنی وہ اس کو واحد متکلم کا صیغہ پڑھتے تھے۔) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ ← شُرَيْحٌ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَعْجَبُ مِنْ شَيْءٍ، إِنَّمَا يَعْجَبُ مَنْ لَا يَعْلَمُ. ← قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ {بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ} [الصافات: ← أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3608

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3609

3609 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ} [الصافات: 22] قَالَ: «أَمْثَالَهُمُ الَّذِينَ هُمْ مِثْلُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3609 - على شرط مسلم

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : "احشرو ا الذین ظلمو ا وازواجھم " (الصافات:22) "ہانکو ظالموں اور ان کے جوڑوں کو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: ان کی مثل وہی لوگ ہیں جو (کفر میں) ان کے مشابہہ ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ،فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ [الصافات: ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 3609

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3610

3610 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا رَجُلًا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا مَعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ يُقَادُ مَعَهُ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] «هَكَذَا حَدَّثَ بِهِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ التُّسْتَرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْهُ وَلَوْ جَازَ لَنَا قَبُولُهُ مِنْهُ لَكِنَّا نُصَحِّحُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَكِنَّا نَقُولُ أَنَّ صَوَابَهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کو کسی بھی چیز کی ترغیب دلائے، وہ قیامت کے دن اس کے ہمراہ روک دیا جائے گا، وہ اسی کے ساتھ ساتھ رہے گا اور اس کو اسی کے ہمراہ چلایا جائے گا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: "وقفو ھم انھم مسئولون"۔ (الصافات:24) " اور انہیں ٹھہراؤ انہیں پوچھنا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس حدیث کو حسن بن احمد تستری نے عبید اللہ بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی روایت کیا ہے۔ اگر ہمارے پاس یہ روایت قبول کرنے کی کوئی گنجائش ہوتی تو ہم اس کو شیخین رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار دیتے تاہم اتنا تو ہم پھر بھی کہتے ہیں کہ درج ذیل حدیث کی بنا پر وہ بھی درست ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ التُّسْتَرِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَصْرِيُّ،

Hadith 3610

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3611

3611 - مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ دَعَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ إِلَى شَيْءٍ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا كَانَ مَوْقُوفًا مَعَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ يُقَادُ مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: 24] " قَالَ الْحَاكِمُ: فَقَدْ بَانَ بِرِوَايَةِ إِمَامِ عَصْرِهِ أَبِي يَعْقُوبَ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّ لِلْحَدِيثِ أَصْلًا بِإِسْنَادِ مَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کو کسی چیز کی طرف بلاتا ہے ، اگر کوئی شخص کسی کو کسی چیز کی ترغیب دلائے تو قیامت کے دن اسی کے ہمراہ موقوف ہو گا، اسی کے ساتھ ساتھ ہو گا اور اسی کے ساتھ اس کو چلایا جائے گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی:۔ "وقفوھم انھم مسئولون"۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: اپنے زمانے کے امام ابو یعقوب حنظلی رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس حدیث کی ایک سند کے ہمراہ اصل بہر حال موجود ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بِشْرٌ، ← ليث بن أبي سليم ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← مَا

Hadith 3611

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3612

3612 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لِإِبْرَاهِيمَ} [الصافات: 83] قَالَ: " مِنْ شِيعَةِ نُوحٍ إِبْرَاهِيمُ عَلَى مِنْهَاجِهِ وَسُنَّتِهِ بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ شَبَّ حَتَّى بَلَغَ سَعْيُهُ سَعْيَ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَمَلِ، فَلَمَّا أَسْلَمَا مَا أُمِرَا بِهِ وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَضَعَ وَجْهَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ: لَا تَذْبَحْنِي وَأَنْتَ تَنْظُرُ عَسَى أَنْ تَرْحَمَنِي فَلَا تُجْهِزْ عَلَيَّ ارْبُطْ يَدَيَّ إِلَى رَقَبَتِي، ثُمَّ ضَعْ وَجْهِي عَلَى الْأَرْضِ فَلَمَّا أَدْخَلَ يَدَهُ لِيَذْبَحَهُ فَلَمْ يَحُكَّ الْمُدْيَةَ حَتَّى نُودِيَ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا} [الصافات: 105] فَأَمْسَكَ يَدَهُ وَرَفَعَ قَوْلُهُ {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} [الصافات: 107] بِكَبْشٍ عَظِيمٍ مُتَقَبَّلٍ «وَزَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْمَاعِيلُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3612 - على البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد:" وان من شیعتہ لابراہیم (الصافات:83) " اور بے شک اسی کے گروہ سے حضرت ابراہیم ہیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق فرماتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے طریقہ کار پر ابراہیم علیہ السلام کار بند تھے۔ وہ (اسماعیل علیہ السلام) کام کاج میں ان (ابراہیم علیہ السلام) کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب عمل میں وہ ان کے معاون ہو گئے۔ "فلما اسلما (الصافات:103)"۔" جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ "وتلہ للجبین " (الصافات: 103) " ان کے چہرے کے بل زمین پر لٹایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو ( حضرت اسماعیل علیہ السلام نے )کہا: آپ اپنی نظروں کے سامنے مجھے ذبح نہ کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو مجھ پر ترس آ جائے اور آپ مجھے ذبح کرنے سے رک جائیں۔ اس لئے آپ میرے ہاتھ میری گردن پر باندھ دیں پھر میرا چہرہ زمین پر رکھ دیں ، جب آپ نے ان کو ذبح کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ابھی چھری نہیں چلائی تھی کہ ان کو آواز آئی " اےابراہیم علیہ السلام آپ نے خواب سچ کر دکھایا۔ اب اپنا ہاتھ روک لیں اور ہم نے ای بڑا ذبیحہ ان کے فدیہ میں دے کر ان کو بچا لیا وہ ایک عظیم خوبصورت مینڈھا تھا اور حضرت عبداللہ بند عباس رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہے کہ یہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 3612

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3613

3613 - أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، صَنْعَاءُ الْيَمَنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3613 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انبیاء کرام علیہ السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، صَنْعَاءُ الْيَمَنِ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ الْحِيرِيُّ،

Hadith 3613

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3614

3614 - فَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3614 - يعقوب ضعيف ولم يرو له مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی (صرف) آنکھیں سوتی ہیں جبکہ آپ کا دل بیدار رہتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3614

chevron_left Previous
1…616263…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section