Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3579

3579 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى} [الأحزاب: 69] الْآيَةُ. قَالَ: " لَهُ قَوْمُهُ بِهِ أُدْرَةُ فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ يَغْتَسِلُ، فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ، فَخَرَجَتِ الصَّخْرَةُ تَشْتَدُّ بِثِيَابِهِ فَخَرَجَ مُوسَى يَتْبَعُهَا عُرْيَانًا حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ وَلَيْسَ بَآدَرَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا} [الأحزاب: 69] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3579 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت:۔ " لاتکونوا کالذین اٰذو ا موسیٰ" (الاحزاب:69) "اے ایمان والو ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو ستایا" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں کہا: کہ ان کو "ادرہ" (آماس حصیہ) کی بیماری ہے۔ ایک مرتبہ آپ نہانے کے لئے نکلے ، آپ نے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے، وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کپڑے لینے کے لئے ننگے ہی اس کے پیچھے بھاگ نکلے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کی مجالس تک جا پہنچا۔ انہوں نے آپ کو دیکھ لیا کہ آپ کو "ادرۃ" (آماس خصیہ) کی بیماری نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قو ل کا مطلب ہے: "فبراہ اللہ مما قالوا وکان عنداللہ وجیھا (الاحزاب:69) "تو اللہ نے اسے بر ی فرما دیا اس بات پر سے جو انہوں نے کہی اور موسیٰ اللہ کے یہاں آبرو والا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ لیکن انہوں نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةُ. ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ أبو معاوية ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 3579

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3580

3580 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَزْعُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: {إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا} قَالَ: " قِيلَ لِآدَمَ أَتَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا، فَإِنْ أَطَعْتَ غَفَرْتُ، وَإِنْ عَصَيْتَ حَذَّرْتُكَ؟ قَالَ: قَبِلْتُ. قَالَ: فَمَا كَانَ إِلَّا كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ غَرَبَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَصَابَ الذَّنْبَ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3580 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت : انا عرضنا الامانۃ علی السموات والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا (الاحزاب:72) "بے شک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: آدم علیہ السلام سے کہا گیا: کیا تو اس کو لیتا ہے ان تمام ذمہ داریوں سمیت جوان میں ہیں؟ اگر تو اطاعت کر گا تو میں تیری مغفرت کر دوں گا اور اگر تو نا فرمانی کرے گا تو تجھے بچاؤں گا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: مجھے قبول ہے۔ آپ فرماتے ہیں : ابھی اتنا وقت بھی نہیں گزرا تھا جتنا عصر سے مغرب کے درمیان کہ ان سے خطاء سرزد ہو گئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَبِلْتُ. ← قِيلَ لِآدَمَ أَتَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا، فَإِنْ أَطَعْتَ غَفَرْتُ، وَإِنْ عَصَيْتَ حَذَّرْتُكَ؟ ← عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا} ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَزْعُورٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفَقِيهُ،

Hadith 3580

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3581

3581 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ} قَالَ: «مِنَ الْأَمَانَةِ أَنَّ الْمَرْأَةَ ائْتُمِنَتْ عَلَى فَرْجِهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3581 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ :" انا عرضنا الا مانۃ علیٰ السماوات والارض والجبال" کے متعلق فرماتے ہیں: امانت میں سے یہ بھی ہےکہ عورت کو اس کی شرمگاہ امانت دی گئی۔

عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← مَسْرُوقٍ ← الْاَعْمَشِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 3581

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3582

3582 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عِنْدَ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ} [سبأ: 11] قَالَ أَنَسٌ: " إِنَّ لُقْمَانَ كَانَ عِنْدَ دَاوُدَ وَهُوَ يَسْرُدُ الدِّرْعَ فَجَعَلَ يَفْتِلُهُ هَكَذَا بِيَدِهِ فَجَعَلَ لُقْمَانُ يَتَعَجَّبُ وَيُرِيدُ أَنْ يَسْأَلَهُ وَيَمْنَعُهُ حِكْمَتُهُ أَنْ يَسْأَلَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا صَبَّهَا عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ: نِعْمَ دِرْعُ الْحَرْبِ هَذِهِ، فَقَالَ لُقْمَانُ: الصَّمْتُ مِنَ الْحِكْمَةِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ فَسَكَتُّ حَتَّى كَفَيْتَنِي «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3582 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ:۔"والنا لہ الحدید ان اعمل سابغات (سبا: 10،11) " اورہم نے اس کے لئے لوہا نرم کیا کہ وسیع زر ہیں بنا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت لقان علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس تھے۔ حضرت داؤد علیہ السلام زر ہیں بنایا کرتے تھے۔ جب وہ زرہ بنا کر فارغ ہوتے تو اس کو پہن کر کہتے : جنگ کی یہ زرہ کتنی اچھی ہے۔ تو حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا: خاموشی بھی حکمت ہے اور بہت کم کام ایسے ہیں جس کے کرنے والے سے میں پوچھنا چاہتا ہوں لیکن خاموش رہتا ہوں تو میرا کام خاموشی سے ہی ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← أَنَسٍ عِنْدَ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← حماد بن سلمة أنبأ ثابت ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 3582

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3583

3583 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ} [سبأ: 11] قَالَ: «لَا تَدُقَّ الْمَسَامِيرَ وَتُوَسِّعْ فَتَسْلُسَ، وَلَا تُغْلِظِ الْمَسَامِيرَ وَتُضَيِّقِ الْحِلَقَ فَتَنْفَصِمُ وَاجْعَلْهُ قَدْرًا» هَذَا حَرْفٌ غَرِيبٌ فِي التَّفْسِيرِ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ مِمَّنْ لَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3583 - عبد الوهاب لم يخرجاه لضعفه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ :" وقدر فی السرد (سبا:11) کے متعلق فرماتے ہیں : کڑیاں تنگ نہ ہوں بلکہ کھلی رکھو تاکہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں اور کڑیاں زیادہ موٹی نہ رکھو اور حلقے تنگ نہ رکھو، ورنہ کٹ جائے گی اور اس ایک خاص اندازے سے بناؤ۔تفسیر کے سلسلے میں یہ الفاظ غریب ہیں اور عبدالوہاب کی روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے نقل نہیں کیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ} [سبأ: ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ،

Hadith 3583

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3584

3584 - حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الطَّيَالِسِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَلَمْ تَعْلَمِ الشَّيَاطِينُ بِذَلِكَ حَتَّى أَكَلَتِ الْأَرَضَةُ عَصَاهُ فَخَرَّ، وَكَانَ إِذَا نَبَتَتْ شَجَرَةٌ سَأَلَهَا لِأَيِّ دَاءٍ أَنْتِ؟ قَالَ: فَتُخْبِرُهُ كَمَا أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحُ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ} [سبأ: 12] الْآيَاتُ كُلُّهَا، فَلَمَّا نَبَتَتِ الْخَرْنُوبُ سَأَلَهَا لِأَيِّ شَيْءٍ نَبَتِّ؟ فَقَالَتْ لِخَرَابِ هَذَا الْمَسْجِدِ. فَقَالَ: إِنَّ خَرَابَ هَذَا الْمَسْجِدِ لَا يَكُونُ إِلَّا عِنْدَ مَوْتِي، فَقَامَ يُصَلِّي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3584 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کھڑے کھڑے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوئے اور شیاطین کو آپ کی وفات کا پتہ نہ چلا ۔ یہاں تک کہ مٹی نے اس کے عصا کو کھالیا تو آپ کر پڑے (اصل بات یہ تھی) جب بھی کوئی پودا اگتا تو آپ اس سے پوچھتے : تو کس مرض کی دوا ہے؟ تو وہ پودا آپ کو اپنے تمام فوائد اور نقصانات بتاتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : السلیمان الریح غدوھا شہر ورواحھا شھر واسلنا لہ عین القطر (سبا:12) ۔ " اور سلیمان کے بس میں ہوا کر دی اس کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس کے بعد کی تمام آیات ۔ جب خرنوب اگا ، تو آپ نے اس سے پوچھا: تو کس لئے اگا ہے؟ اس نے کہا: اس مسجد کو برباد کرنے کےلئے ۔ آپ نے فرمایا: اس مسجد کی بربادی میری موت کے وقت ہو گی (تو یقیناً اب میری موت کا وقت قریب ہے) تب وہ کھڑے ہو کر نماز میں مصروف ہو گئے۔ (خرنوب : سیاہ رنگ کا ایک درخت ہوتا ہے جو کہ ملک شام کے پہاڑی علاقوں میں اگتا ہے، عراقی بچے اس کو شامی کھیرا کہتے ہیں۔ شفیق) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ

Hadith 3584

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3585

3585 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ مَا هُوَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ: «هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ سِتَّةً مِنْ وَلَدِهِ بِالْيَمَنِ وَأَرْبَعَةٌ بِالشَّامِ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ، وَكِنْدَةُ، وَالْأَزْدُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَأنْمَارُ، وَحِمْيَرُ خَيْرٌ كُلُّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيُّونَ فَلَخْمٌ، وَجُذَامُ، وَعَامِلَةُ، وَغَسَّانُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3585 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے "سبا" کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ مرد ہے، عورت ہے یا کسی جگہ کا نام ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ایک مرد تھا جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں تھے۔ یمنی بیٹوں کے نام یہ ہیں۔ مذحج ، کندہ، ازد، اشعریون، انمار وار حمیر۔ سب کے سب اچھے ہیں اور شامی بیٹوں کے نام یہ ہیں: لخم، جزام ، عاملہ اور غسان"۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَبَأٍ مَا هُوَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ أَرْضٌ؟ ← إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 3585

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3586

3586 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ الْمَأْرِبِيُّ، حَدَّثَنِي عَمُّ أَبِي ثَابِتِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ، عَنْ أَبِيهِ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَبَأٌ رَجُلٌ أَوْ جَبَلٌ أَمْ وَادٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَتَشَاءَمَ أَرْبَعَةٌ وَتَيَامَنَ سِتَّةٌ فَتَشَاءَمَ لَخْمُ، وَجُذَامُ، وَعَامِلَةُ، وَغَسَّانُ، وَتَيَامَنَ حِمْيَرُ وَمَذْحِجٌ، وَالْأَزْدُ، وَكِنْدَةُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، وَالْأَنْمَارُ الَّتِي مِنْهَا بَجِيلَةُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3586 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت فروہ بن مسیک المرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے " سبا" کے متعلق پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! سبا کسی مرد کا نام ہے یا کوئی پہاڑ وادی وغیرہ ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلکہ وہ مرد ہے ، اس کے دس بیٹے پیدا ہوئے ، جن میں سے چار نے ملک شام میں سکونت اختیار کی اور چھ نے یمن میں ۔ لخم ، جزام ، عاملہ اور غسان نے شام میں اور حمیر ، مذحج، کندہ ، اشعریون نے یمن میں ۔ یہ سب شریف النفس لوگ تھے۔

سَبَأٍ فَقَالَ: ← أَنَّهُ: سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِيهِ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَمُّ أَبِي ثَابِتِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ الْمَأْرِبِيُّ، ← فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Hadith 3586

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3587

3587 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا} [سبأ: 28] فَقَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: طَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فَأَطَالَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ: «أُوتِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي؛ أُرْسِلْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ» ، قَالَ مُجَاهِدٌ: " الْإِنْسِ وَالْجِنِّ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَيُرْعَبُ الْعَدُوُّ، وَهُوَ عَلَى مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ إِنَّمَا أَخْرَجَا أَلْفَاظًا مِنَ الْحَدِيثِ مُتَفَرِّقَةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3587 - على شرط البخاري ومسلم وخرجا منه

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو کھڑے نماز پڑھتے پایا۔ آپ نے اس دن بہت لمبی نماز پڑھی پھر (جب نماز سے فارغ ہوئے تو ) فرمایا: مجھے اس رات پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں کہ مجھ سے پہلے یہ کسی نبی کو نہیں ملیں۔ (1) مجھے سرخ اور سیاہ کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ مجاہد کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے جنات اور انسانوں کی طرف۔ (2) رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے چنانچہ دشمن پر ایک مہینے کی مسافت سے ہی رعب پڑ جاتا ہے۔ (3) میرے لئے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک کر دی گئی ہے۔ (4) میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لئے بھی حلال نہیں کیا گیا۔ (5) اور مجھے کہا گیا : مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا تو میں ے یہ دعا اپنی امت کے لئے سنبھال کر رکھ لی ہے۔ میری اس دعا کا فائدہ ہر اس مسلمان کو ہو گا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے متفرق احادیث میں اس حدیث کے مختلف الفاظ ذکر کیے ہیں۔

«أُوتِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي؛ أُرْسِلْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ» ← طلبت رسول الله ليلة، فوجدته قائما يصلي، فأطال الصلاة، ثم ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا} [سبأ: ← أبا أسامة وسئل ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← محمد بن جرير الفقيه، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،

Hadith 3587

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ سَبَأٍ · حديث 3588

3588 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنَّى لَهُمُ التَّنَاوشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ} [سبأ: 52] قَالَ: «يَسْأَلُونَ الرَّدَّ وَلَيْسَ بِحِينِ رَدٍّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3588 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت :"وانی لھم التناوش من مکان بعید (سبا:52) "اوراب وہ اس کو کیونکر پائیں اتنی دور جگہ سے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : وہ واپس لوٹنا مانگیں جبکہ وہ وقت لوٹنے کا ہو گا ہی نہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← التَّيْمِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Hadith 3588

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَلَائِكَةِ · حديث 3589

3589 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ بِحَدِيثٍ أَتَيْنَاكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ، قَبَضَ عَلَيْهِنَّ مَلَكٌ فَضَمَّهُنَّ تَحْتَ جَنَاحِهِ وَصَعِدَ بِهِنَّ لَا يَمُرُّ بِهِنَّ عَلَى جَمْعٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا اسْتَغْفَرُوا لِقَائِلِهِنَّ حَتَّى يَجِيءَ بِهِنَّ وَجْهَ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ {إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعْهُ} [فاطر: 10] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3589 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم جب بھی تمہیں کوئی حدیث بیان کریں تو اس کی تصدیق کتاب اللہ سے پیش کریں گے۔ بندہ جب کہتا ہے: "سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر وتبارک اللہ "۔ تو ایک فرشتہ اپنے پر پھیلا کر ان کو اپنے پروں میں لپیٹ لیتا ہے اور ان کو اپنے ساتھ لے کر اوپر کی طرف چڑھتا ہے یہ ملائکہ کی جس جماعت کے بھی قریب سے گزرتا ہے، وہ تمام فرشتے اس کے پڑھنے والے کے لئے استغفار کرتے ہیں حتیٰ کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:۔" الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ"۔ "اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیک کام ہے وہ اسے بلند کرتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِذَا حَدَّثْنَاكُمْ بِحَدِيثٍ أَتَيْنَاكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 3589

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَلَائِكَةِ · حديث 3590

3590 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي وَجَلَسْنَا سَاعَةً فَتَحَدَّثْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: «ابْنُكَ هَذَا؟» قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. قَالَ: «حَقًّا» قَالَ: أَشْهَدُ بِهِ. فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا مِنْ ثَبَتِ شَبَهِي بِأَبِي وَمِنْ حَلِفِ أَبِي عَلَى ذَلِكَ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنَّ ابْنَكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ» قَالَ: وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: 38] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: 56] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3590 - صحيح

حضرت ابو رمشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میرے والد ے آپ کو سلام کیا، پھر ہم کچھ دیر آپ کے پاس بیٹھے ، آپ ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے میرے والد سے کہایہ تیرا بیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ، ر ب کعبہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: واقعی؟ اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ میرے والد کی اس گفتگو پر مسکرا دیئے ۔ پھر فرمایا: تیرا یہ بیٹا تجھےکوئی نقصان نہیں دے سکتا اور تو اس کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی:۔" الا تزرو رازرۃ وزر اخری (النجم:38) " کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ ھذانذیر من النذر الاولیٰ (النجم :56) تک ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 3590

chevron_left Previous
1…596061…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section