Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3555

3555 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ} [الأحزاب: 4] مَا عَنَى بِذَلِكَ؟ قَالَ: " قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَانِ قَلْبٌ مَعَهُمْ وَقَلَبٌ مَعَكُمْ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ} [الأحزاب: 4] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3555 - قابوس بن أبي ظبيان ضعيف

حضرت ابو ظبیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے: ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ (الاحزاب : 4) "اللہ نے کسی آدمی کے اند ر دو دل نہ رکھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ نبی اکرم ﷺ قیام میں تھے کہ آپ کو کوئی بات سوجھی تو جو منافقین آپ کے ہمراہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے کہا: کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ اس کے دو دل ہیں؟ ، ایک دل ان کے ساتھ اور ایک دل تمہارے ساتھ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔" ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ (الاحزاب: 4) " اللہ نے کسی آدمی کے اند ر دو دل نہ رکھے (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قابوس بن أبي ظبيان أن أباه ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ وَاقِدٍ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3555

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3556

3556 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ » النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَهُوَ أَبٌ لَهُمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ «» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3556 - بل طلحة ساقط

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: النبی اولیٰ بالمومنین من انفسہم " وھو اب لہم " وازواجہ امہا تہم " ۔ (الاحزاب: 6) " یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور وہ ان کا باپ ہے۔ "وازواجہ امھاتھم " اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں "۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3556

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3557

3557 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: بَيْنَا عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ تَقُولُ لِأُمِّهَا أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيكِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: أَلَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ» قُلْتُ: فَمِنْ يَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا، وَدَخَلَ طَلْحَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ يَا طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3557 - بل إسحاق بن يحيى بن طلحة متروك قاله أحمد

حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ عائشہ بنت طلحہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ ام کلثوم بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہا: میرا باپ تیرے باپ سے زیادہ فضیلت والا ہے۔ اس پر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے درمیان میں فیصلہ کرتی ہوں۔ ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا: اے ابو بکر رضی اللہ عنہ تم "عتیق اللہ من النار" دوزخ سے اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہو۔ میں نے کہا: اسی دن سے ان کا نام "عتیق " ہو گیا۔ (یونہی) حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: اے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تو ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنی محنت وصول کر لی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3557

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3558

3558 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: فِي بَيْتِي نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} [الأحزاب: 33] قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَجْمَعِينَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ؟ قَالَ: «إِنَّكِ أَهْلِي خَيْرٌ وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي اللَّهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3558 - على شرط مسلم

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی:۔ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت" "اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: اے اللہ تعالیٰ یہ میرے گھر والے ہیں۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں گھر والوں میں شامل نہیں ہوں؟ آپ نے فرمایا: تو تو میری اچھی بیوی ہے اور یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے اللہ ! میری بیوی زیادہ مستحق ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3558

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3559

3559 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمْ أَجِدْهُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ فَاجْلِسْ فَجَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ وَزَوْجَهَا، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا شَاهِدٌ فَقَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کےلئے گیا، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے کاشانہ پر نہ تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہوئے ہیں۔ آپ نے ان کو بٹھا لیاہو گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تشریف لے آئے۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور ان کےہمراہ میں بھی اندر چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو اپنے رانوں پر بٹھا لیا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر کو اپنی گود کے قریب کیا پھر ان سب کے اوپر اپنی چادر ڈال کر یہ آیت پڑھی:۔" انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطہر کم تطہیرا "۔ پھر کہا: اے اللہ ! یہ میرے گھر والے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ العباس بن الوليد بن مزيد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3559

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3560

3560 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُذْكَرُ الرِّجَالُ وَلَا يُذْكَرُ النِّسَاءُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [الأحزاب: 35] الْآيَةُ. وَأَنْزَلَ {أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى} [آل عمران: 195] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3560 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ !مردوں کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن عورتوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ان المسلمین والمسلمات ولمومنین والمومنات (الاحزاب : 35) " بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کےلئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور یہ آیت بھی ناز ل فرمادی:۔ "انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی " ۔ (اٰل عمران: 195) میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یاعورت (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قُلْتُ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3560

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3561

3561 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ» لَمْ يُسْنِدْهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِسْنَادِ وَأَسْنَدَهُ عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مرد رات کے وقت اپنی بیوی کو بیدار کرے پھر یہ دونوں دو رکعت نوافل پڑھیں تو ان کا نام اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ابو نعیم اس حدیث کو مسند نہیں کہا اور اس کی اسناد میں نبی اکرم ﷺ کا ذکر کیا ہے تاہم عیسیٰ بن جعفر نے اس کو مسند کہا ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَغَرِّ ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3562

3562 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَانِي الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ فَقَالَا لِي: يَا أُسَامَةُ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْعَبَّاسَ وَعَلِيًّا يَسْتَأْذِنَانِ. قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا حَاجَتُهُمَا؟» قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَدْرِي. قَالَ: «لَكِنِّي أَدْرِي، ائْذَنْ لَهُمَا» فَدَخَلَا عَلَيْهِ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» . فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ نَسْأَلُكَ عَنْ فَاطِمَةَ قَالَ: «فَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3562 - عمر بن أبي سلمة ضعيف

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مسجد میں تھا کہ میرے پاس حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور مجھ سے کہنے لگے : اے اسامہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ سے ہمارے لئے اجازت مانگو، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور ان کے لئے اجازت طلب کی : میں نے عرض کی: عباس رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس کام سے آئے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں خدا کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بہر حال میں جانتا ہوں۔ تم ان کو اندر آنے دو۔ چنانچہ وہ دونوں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کی بارگاہ میں یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ گھر والوں میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہ سے ۔ انہوں نے کہا: ہم آپ سے فاطمہ رضی اللہ عنہ کے متعلق نہیں پوچھ رہے (بلکہ ان کے علاوہ بتائیے) آپ نے فرمایا: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ، جس پر اللہ تعالیٰ نے بھی انعام فرمایا ہے اور میں نے بھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هشام بن علي السدوسي، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3562

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3563

3563 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ أَهْلَكَ» فَنَزَلَتْ {وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ} [الأحزاب: 37] [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3563 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر حاضر ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو تب یہ آیت نازل ہوئی: وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ (الاحزاب :37) "اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔

جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3563

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3564

3564 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بَعَثَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ أَنَسٌ: فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» فَذَهَبْتُ فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا إِلَّا دَعْوَتُهُ، قَالَ: وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ وَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ: «مَا شَاءَ اللَّهُ» قَالَ: فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَبَقِيَتْ طَائِفَةٌ فِي الْبَيْتِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِي مِنْهُمْ وَأَطَالُوا الْحَدِيثَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ} [الأحزاب: 53] يَعْنِي غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ حَتَّى بَلَغَ {ذَلِكُمْ أَطْهُرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ} [الأحزاب: 53] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3564 - صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کی تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مٹی کے ایک برتن میں حیس (کھجور، گھی اور ستو سے تیار کیا ہوا کھانا) بھیجا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم جاؤ اور جو بھی مسلمان تمہیں ملے اس کو دعوت دے آؤ۔ میں چلا گیا اورمجھے جو بھی مسلمان نظر آیا، میں نے اسے دعوت دے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے کھانے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور دعا مانگی اور جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ آپ نے پڑھا۔ آپ فرماتے ہیں: پھر لوگ کھانا کھا کھا کر جاتے رہے بالآخر ایک جماعت گھر میں باقی بچی (یہ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر گھر میں ہی بیٹھے رہے) اور بہت دیر تک بات چیت میں مشغول رہے اور نبی اکرم ﷺ ان سے حیاء کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ خود رسول اللہ ﷺ وہاں سے تشریف لے گئے اور ان لوگوں کو وہیں چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔" یا یھا الذین اٰمنو ا لا تدخلو ابیوت النبی الا ان یؤذن لکم الیٰ طعام غیر ناظرین اناہ (الاحزاب:53) "اے ایمان والو نبی کے گھروں میں نہ حاضر ہو جب تک اذن نہ پاؤ مثلا کھانے کے لئے بلائے جاؤ یوں کہ خود اس کے پکنے کی راہ تکو ہاں جب بلائے جاؤ تو حاضر ہو اور جب کھا چکو تو متفرق ہو جاؤ نہ یہ کہ بیٹھے باتوں میں دل بہلاؤ بیشک اس میں نبی کو ایذا ہوتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ تعالیٰ حق فرمانے میں نہیں شرماتا اور جب تم ان سے برتنے کی کوئی چیز مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو اس میں زیادہ ستھرائی ہے تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ آیت "ذلکم اطہر القلوبکم وقلوبھن" تک نازل ہوئی۔ (پوری آیت کا ترجمہ اوپر دے دیا گیا ہے)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3564

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3565

3565 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنِّي رَأَيْتُ فِيَ مَنَامِي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ كُلَّمَا دَخَلْتَ، وَكُلَّمَا خَرَجْتَ، وَكُلَّمَا قُمْتَ، وَكُلَّمَا جَلَسْتَ. قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " اللَّهُمَّ غُفْرًا دَعُونَا عَنْكُمْ وَأَنْتُمْ لَوْ شِئْتُمْ صَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ قَرَأَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} [الأحزاب: 42] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3565 - على شرط مسلم

سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہےکہ ایک شخص حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابو امامہ رضی اللہ عنہ ! می نے خواب میں دیکھا ہے کہ فرشتے جاتے آتے ، اٹھتے بیٹھتے آپ پر درود بھیجتے ہیں۔ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے، ہم تمہیں بھی اس کی دعوت دیتے ہیں اگر تم چاہو تو تم پر بھی فرشتے درود بھیجیں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:۔ یا ایھا الذین اٰ منو ااذکروا اللہ ذکرا کثیرا وسبحوہ بکرۃ واصیلا ھوالذی یصلی علیکم وملا ئکتہ لیخرجکم من الظلمات الیٰ النور وکان بالمومنین رحیما"۔ (الاحزاب :41،42،43) "اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجلے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3565

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3566

3566 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ، وَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَأَبِي مُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، وَبِشَارَةُ عِيسَى، وَرُؤْيَا أُمِّي آمِنَةَ الَّتِي رَأَتْ» وَكَذَلِكَ أُمَّهَاتُ النَّبِيِّينَ يَرَيْنَ، وَأَنَّ أُمَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْهُ لَهُ نُورًا أَضَاءَتْ لَهَا قُصُورُ الشَّامِ، ثُمَّ تَلَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا} [الأحزاب: 46] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3566 - صحيح

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں عبداللہ ہوں، اور میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب میرا باپ ( حضرت آدم علیہ السلام) ابھی گارے مٹی میں تھے۔ اور میں عنقریب اس کے بارےمیں تمہیں خبر دوں گا۔ میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا اور اسی طرح انبیاء کرام علیہ السلام کی ماؤں نے بھی دیکھے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی والدہ نے آپ کی ولادت کے وقت ایک نور دیکھا جس کی وجہ سے ان کے لئے ملک شام کے محلات روشن ہو گئے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:۔"یا یھا النبی انا ارسلناک شاہد ا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا (الاحزاب : 45،46) " اے نبی ! ہم نے آپکو بھیجا حاضر و ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف سے اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا اعتکاف"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ هِلَالٍ، ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ سَهْلٍ اللَّبَّادُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3566

chevron_left Previous
1…575859…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section