Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ لُقْمَانَ · حديث 3543

3543 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مُوسَى بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ: «يَا بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالتَّقَنُّعَ، فَإِنَّهَا مَخْوَفَةٌ بِاللَّيْلِ مَذَلَّةٌ بِالنَّهَارِ» هَذَا مَتْنٌ شَاهِدُهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3543 - صحيح

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے کہا: اے بیٹے بتکلف قناعت کرنے سے بچو کیونکہ یہ رات میں خوف کا اور دن میں ذلت کا باعث ہوتی ہے۔ یہ ایسا متن ہے جس کے شاہد کی سند صحیح ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← مُوسَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Luqman · Hadith 3543

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ لُقْمَانَ · حديث 3544

3544 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَتَلَا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ {وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ} [لقمان: 19] قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا خَرَجَ مَشَوْا بَيْنَ يَدَيْهِ وَخَلَّوْا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3544 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے لقمان علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے لئے قول: واقصد فی مشیک واغض من صوتک (لقمان:19) "اور میانہ چال چل اور اپنی آواز کچھ پست رکھ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تلاوت کیا اور فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نکلتے تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کے آگے چلتے اور آپ کی پشت کی جانب فرشتوں کے لئے خالی چھوڑ دیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَتَلَا قَوْلَ لُقْمَانَ لِابْنِهِ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ← يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Luqman · Hadith 3544

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3545

3545 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: أَسَمِعْتَ أَنَّ جَابِرًا يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةُ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: حَدَّثَنِيهِ صَفْوَانُ أَوْ أَبُو صَفْوَانَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ لِأَنَّ مَدَارَهُ عَلَى حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3545 - على شرط مسلم

حضرت ابو خیثمہ زہیر ب معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:میں نے ابو الزبیر سےکہا: کیاتم نے سنا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ یہ بات بتایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے الم تنزیل السجدہ وار تبارک الذی بیدہ الملک پڑھا کرتے تھے؟ تو ابو الزبیر نے کہا: (جی ہاں) مجھے صفوان یا (شاید فرمایا) ابو صفوان نے یہ بات بتائی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔کیونکہ اس حدیث کا مدارلیث بن ابی سلیم کی ابو الزبیر سے روایت کردہ حدیث پر ہے۔

قُلْتُ لِأَبِي الزُّبَيْرِ: أَسَمِعْتَ أَنَّ جَابِرًا يَذْكُرُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3545

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3546

3546 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ} [السجدة: 5] قَالَ: «مِنَ الْأَيَّامِ السِّتَّةِ الَّتِي خَلَقَ اللَّهُ فِيهَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3546 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : "یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون "۔ (السجدۃ: 59)۔ "کام کی تدبیر فرماتا ہے آسمان سے زمین تک پھر اسی کی طرف رجوع کرے گا اس دن کہ جس کی مقدار ہزار برس ہے تمہاری گنتی میں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں۔ ان چھ دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا پھر اسی طرف رجوع کرے گا) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3546

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3547

3547 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ بَشَّارٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ: «السَّحَابُ» فَقُلْنَا: السَّحَابُ. فَقَالَ: «وَالْمُزْنُ» فَقُلْنَا: وَالْمُزْنُ. فَقَالَ: «وَالْعَنَانُ» فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ: «بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَمِنْ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ وَكِثَفُ كُلِّ سَمَاءٍ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ وَفَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ وَلَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ شَيْءٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3547 - أن يحيى بن العلاء واه

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بطحاء (وہ بڑا نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے تو آسمان سے بادل گزرا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "سحاب" ہے ۔ ہم نے کہا : "سحاب" کیا ہوتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مزن"۔ ہم نے کہا "مزن" کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "عنان"۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہےاور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ہر آسمان کا اپنا حجم پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان سے اوپر ایک سمندر ہے جس کی تہہ اور سطح بالا کے درمیان اتنی مسافت ہے، جتنی زمین اور آسمان کے درمیان اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) اس سے بھی اوپر ہے ( یعنی اس کو بھی حاوی ہے ) اور اس پر انسان کا کوئی عمل بھی مخفی نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

«أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← «وَالْعَنَانُ» فَسَكَتَ، ثُمَّ ← «وَالْمُزْنُ» فَقُلْنَا: وَالْمُزْنُ. ← «السَّحَابُ» فَقُلْنَا: السَّحَابُ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ بِالْبَطْحَاءِ، فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، ← يحيى بن العلاء ← إسحاق بن إبراهيم أنبا عبد الرزاق ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ بَشَّارٍ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3547

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3548

3548 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضْرٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ أَصَابَ الْحَرُّ فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ حَتَّى نَظَرْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَبُهُمْ مِنِّي قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْبِئْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ» قَالَ: «وَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِأَبْوَابِ الْجَنَّةِ» قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ، وَقِيَامُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ يَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ» قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ} [السجدة: 16] قَالَ: «وَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ» قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «أَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ، وَأَمَّا ذِرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ» فَسَكَتَ فَإِذَا رَاكِبَانِ يُوضِعَانَ قِبَلَنَا، فَخَشِيتُ أَنْ يَشْغَلَاهُ عَنْ حَاجَتِي قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «فَأَهْوَى بِإِصْبَعِهِ إِلَى فِيهِ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَقُولُ بِأَلْسِنَتِنَا؟ قَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ جَبَلٍ هَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ فِي حَدِيثِهِ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3548 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں موجود تھے کہ شدید گرمی پڑی، جس کہ وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منتشر ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ میں سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: میں آپکے اور بھی قریب آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺمجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے اور دوزخ سے د ور کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تونے بہت عظیم سوال کیا ہے؟ اوریہ چیز اس شخص کےلئے تو بہت آسان ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ آسان کردے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرا، فرضی نمازیں ادا کر ، فرضی زکوٰۃ ادا کر، ماہ رمضان کے روزے رکھ۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تجھے جنت کے دروازوں کے بارے میں بتاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ یا رسول اللہ ﷺ ! پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ " تتجافی جنوبہم عن المضاجع یدعون ربہم خوفا وطمعا ومما رزقناھم ینفقون (السجدۃ :16) "ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے سے کچھ خیرات کرتے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر آپ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تجھے اصل بات، اس کی گہرائی اور اس کی بلندی بتاؤں؟ میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے فرمایا: حقیقی امر تو "اسلام" ہے، اسکی گہرائی نماز ہے۔ اور اس کی بلندی "جہاد فی سبیل اللہ " ہے۔ آپ نے فرمایا: اگرتو چاہے تو ان تمام کے سرمایہ کے بارے میں بتاؤں؟ پھر خاموش ہو گئے۔ اچانک دو سوار ہماری طرف آرہے تھے مجھے یہ خدشہ ہوا کہ یہ آپ کو اپنی طرف متوجہ کر لیں گے اور میری بات ادھوری رہ جائے گی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا ہے ؟ آپ نے انگلی سے اپنے منہ کی جانب اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہماری گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہو گی؟ آپ نے فرمایا: اے ابن جبل ! تیری ماں تجھے روئے لوگ لوگ جہنم میں ناک کے بل اوندھے ڈالے جائیں گے وہ سب ان کی زبان ہی کا کیا دھرا ہے۔ نوٹ: یہ الفاظ جریر کی روایت کے ہیں اور ابو اسحاق فزاری نے اپنی حدیث میں حکم بن عتبہ کا ذکر نہیں کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضْرٍ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3548

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3549

3549 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّارِ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَصِفُ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى، ثُمَّ قَالَ: " فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ قَرَأَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} [السجدة: 16] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ أَبُو صَخْرٍ: فَذَكَرْتُهُ لِلْقُرَظِيِّ فَقَالَ: إِنَّهُمْ أَخْفَوْا لِلَّهِ عَمَلًا وَأَخْفَى لَهُمْ ثَوَابًا فَقَدِمُوا عَلَى اللَّهِ فَقَرَّتْ تِلْكَ الْأَعْيُنُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3549 - صحيح

حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ جنت کے اوصاف بیان فرما رہے تھے، جب آپ اوصاف بیان کر چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس میں وہ نعمتیں ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:۔" تتجا فی جنوبھم عن المضاجع ( السجدۃ : 16) آیت کے آخر تک ۔ ابو صخر کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر قرظی سے کیا، تو انہوں نے کہا: انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کو چھپائے رکھا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب چھپائے رکھا۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آئے تو وہ آنکھیں ٹھنڈی ہو ں گی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو صَخْرٍ: فَذَكَرْتُهُ لِلْقُرَظِيِّ ← الْمَضَاجِعِ} [السجدة: إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ← وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ قَرَأَ {تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ ← فيها ما لا عين رأت ولا أذن ← بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ يَصِفُ الْجَنَّةَ حَتَّى انْتَهَى، ثُمَّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ حَيَّانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3549

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3550

3550 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " أَنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ: لَقَدْ أَعَدَّ اللَّهُ لِلَّذِينَ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ مَا لَمْ تَرَ عَيْنٌ وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ وَلَمْ يَخْطِرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، وَلَا يَعْلَمُهُ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَلَا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ " قَالَ: نَحْنُ نَقْرَؤُهَا {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 17] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3550 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو راۃ شریف میں یہ لکھا ہوا ہے "جن لوگوں کے پہلو خوابگاہوں سے جدا رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا ہے، نہ ان کو کوئی نبی یا مرسل جانتا ہے اور نہ کوئی مقرب فرشتہ ۔ فرمایا: ہم بھی اس کو پڑھتے ہیں: "فلا تعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین جزاء بما کانو ا یعملون (السجدۃ: 17) " تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کےلئے چھپا رکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3550

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3551

3551 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ} [السجدة: 21] قَالَ: «يَوْمُ بَدْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3551 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس آیت: ولنذیقنہم من العذاب الادنیٰ دون العذاب الاکبر (السجدۃ :21) "اور ضرور ہم انہیں چکھائیں گے کچھ نزدیک کا عذاب اس بڑے عذاب سے پہلے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ جنگ بدر کے دن کی بات ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ، {وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ} [السجدة: ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3551

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3552

3552 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الْخَرَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا} [السجدة: 24] فَقَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَيْرًا لَهُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. الْحَدِيثُ بِطُولِهِ، وَفِي آخِرِهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةَ الَّتِي عِنْدَ إِسْحَاقَ بْنِ سُلَيْمَانَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3552 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: وجعلنا منہم ائمۃ یہدون بامر نا لا صبروا (السجدۃ : 24) " اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جبکہ انہوں نے صبرکیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان سنایا: انسان کو صبر سے زیادہ بہتر اور اس سے زیادہ وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سند کے ہمراہ اپنی حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ذکر کئے ہیں۔ "کچھ انصاری لوگوں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا جس سند کے ساتھ اسحاق بن سلیمان نے روایت کی ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3552

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ السَّجْدَةِ · حديث 3553

3553 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ} [السجدة: 29] قَالَ: «يَوْمُ بَدْرٍ فُتِحَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْفَعِ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3553 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ویقولون متیٰ ھذا الفتح ان کنتم صادقین (السجدۃ : 28) قل یوم الفتح لاینفع الذین کفرو ا ایمانہم ولا ہم ینظرون (السجدۃ : 29) " اور وہ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو تم فرماؤ فیصلہ کے دن کافروں کو ان کا ایمان نفع نہ دے گا اور نہ انہیں مہلت ملے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن نبی اکرم ﷺ کو فتح ملی اور کافروں کومرنے کے بعد ان کا ایمان کچھ نفع نہ دے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← عِكْرِمَةَ، ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Sajdah · Hadith 3553

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَحْزَابِ · حديث 3554

3554 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَتْ سُورَةُ الْأَحْزَابِ تُوَازِي سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَكَانَ فِيهَا: الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3554 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورہ احزاب ، سورہ بقرہ کے برابر ہوا کرتی تھی اسی میں یہ آیت بھی تھی: ۔"الشیخ ولشیخۃ اذا زنیا فار جموھما البتہ " شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو دونوں کو لازمی "رجم" کردو"۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the Al-Ahzab chapter · Hadith 3554

chevron_left Previous
1…565758…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section