Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3519

3519 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمِّهِ الْحَارِثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعْدُ بْنِ عَدْنَانَ بْنِ آدَدَ بْنِ زَنْدِ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ أَعْرَاقِ الثَّرَى» قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَهْلَكَ عَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَعْرَاقُ الثَّرَى إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزَنْدٌ هَمَيْسَعٌ وَبَرَاءٌ: نَبْتٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3519 - صحيح

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معد بن عدنان بن اٰددبن زند بن البراء بن اعراق الثری " آپ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی: اھلک عادا وثمود واصحاب الرس وقرونا بین ذلک کثیرا (الفرقان: 38) اور عاد اور ثمود اور کوئیں والوں کو اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ان کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: "اعراق الثری" حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام ہیں اور "زند" ھمسیع ہیں اور "براء" نبت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَمِّهِ الْحَارِثُ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3519

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3520

3520 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ أَمْطَرَ مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمُ} [الفرقان: 50] الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3520 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پورا سال بارش برستی رہتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس کا رخ جدھر چاہتا ہے ادھر موڑ دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: " ولقد صرقناہ بینھم" اور بے شک ہم نے ان میں پانی کے پھیرے رکھے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3520

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3521

3521 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مَا أَمْرُهُمَا الَّتِي فِي سُورَةِ الْفُرْقَانِ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ} [الفرقان: 68] ، وَالَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمَ} [النساء: 93] الْآيَةُ. قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: «لَمَّا أَنْزَلَ الَّتِي فِي سُورَةِ الْفُرْقَانِ قَالَ مُشْرِكُوا أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ» قَالَ: فَنَزَلَتْ {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا} [الفرقان: 70] الْآيَةَ. قَالَ: «فَهَؤُلَاءِ لِأُولَئِكَ» قَالَ: " وَأَمَّا الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} [النساء: 93] الْآيَةُ فَهُوَ الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ عَرَفَ الْإِسْلَامَ وَعَمِلَ عَمَلَ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمَ لَا تَوْبَةَ لَهُ. قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: إِلَّا مَنْ نَدِمَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3521 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دو آیتوں کا شان نزول معلوم کرنے کا کہا ۔ ایک تو سورۃ فرقان کی آیت ہے ۔ " والذین لایدعون مع اللہ الھا آخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق " اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبو د کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور دوسری آیت سورہ النساء میں ہے: ۔ " ومن یقتل مومنا متعمدافجزاؤہ جہنم (النساء: 93) " اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے:۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں: میں نے ان دونوں آیتوں کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: جب سورہ فرقان والی آیت نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکوں نے کہا: ہم نے تو ناحق قتل بھی کئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے ہیں اور ہم زنا کا ر بھی ہیں (اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری بخشش کی کوئی گنجائش نہیں ہے) تب یہ آیت نازل ہوئی: الا منتاب واٰمن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیاٰتہم حسنٰت وکان اللہ غفور ا رحیما " (الفرقان: 70) " مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آیت کے آخر تک پڑھا۔ آپ نے فرمایا: یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے اور وہ آیت جو سورہ النساء میں ہے: "ومن یقتل مومناً متعمدا"تو یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام کو پہچانتا ہے اور مسلمانوں والے عمل کرتا ہے پھر کسی مومن کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرتا ہے تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اس کی توبہ قبول نہیں ہے تو میں نے اس بات کا تذکرہ مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا: سوائے اس شخص کے جو نادم ہو گیا (یعنی جو نادم ہو گیا اور پھر توبہ کر لی اس کی توبہ پھر بھی قبول ہے) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3521

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3522

3522 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ آدَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " وَقَدْ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا مَا أَحْسَنَ مَا تَدْعُونَا إِلَيْهِ لَوْ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ} [الفرقان: 68] الْآيَةُ. وَنَزَلَتْ: {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ} [الزمر: 53] «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3522 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مشرک شخص نے کہا: ہم لوگوں نے تو بہت قتل کئے ہیں اور بہت زنا کئے ہیں اور وہ چیز بھی بہت اچھی ہے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں، اگر آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتا دیں جو ہمارے ان اعمال کا کفارہ ہو (تو ہمارے دلوں کو سکون ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: والذین لایدعون مع اللہ الھا اٰخر (الفرقان:68) " اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الہ کی عبادت نہیں کرتے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آخر تک اور یہ آیت بھی نازل ہوئی: قل یا عبادی الذین اسرفو علیٰ انفسہم لاتقنطو ا من رحمۃ اللہ (الزمر: 53) " اے محبوب آپ فرما دیں: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امیدنہ ہوں" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ آدَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3522

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ · حديث 3523

3523 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ} [الشعراء: 52] الْآيَاتُ. فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَاجَتُكَ؟» فَقَالَ: نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَزَ هَذَا أَنْ يَكُونَ كَعَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ مُوسَى حِينَ أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ضَلَّ عَنْهُ الطَّرِيقُ فَقَالَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ مَا هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نُخْرِجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى تُنْقَلَ عِظَامُهُ مَعَنَا. فَقَالَ مُوسَى: أَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ فَقَالَ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَكَانَ قَبْرِهِ إِلَّا عَجُوزٌ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى فَقَالَ: دُلِّينَا عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي. فَقَالَ لَهَا: مَا حُكْمُكِ؟ قَالَتْ: حُكْمِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ. فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَعْطِهَا حُكْمَهَا، فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مُسْتَنْقِعَةٍ مَاءً، فَقَالَتْ لَهُمُ أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا أَنْضَبُوا قَالَتْ لَهُمُ: احْفِرُوا فَحَفَرُوا فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ فَلَمَّا أَنْ أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَلَعَلَّ وَاهِمٌ يُتَوَهَّمُ إِنَّ يُونُسَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ مِنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدِيثَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» كَمَا سَمِعَهُ أَبُوهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3523 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت یونس بن اسحاق نے : واوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون (الشعراء : 52) " ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے نکل بے شک تمہارا پیچھا ہونا ہے :"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے چند آیات پڑھیں پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا:" ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس تشریف لے گئے، اس نے آپ ﷺ کی خوب مہمان نوازی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم ہم سے وعدہ کرو کہ ہمارے پاس آؤ گے۔ پھر ایک دفعہ وہ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا،رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا: ایک اونٹنی کجاوہ سمیت ، جس کا دودھ میرے گھر والے پئیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی بنی اسرائیل کی بڑھیا کی طرح عاجز ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ہمراہ روانگی کا ارادہ فرمایا تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے پوچھا: ایسا کیوں ہوا؟ آپ کو بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے ہم سے خدا کی قسم لے کر عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے نکلیں گے تو ان جسم اطہر بھی اپنے ہمراہ منتقل کر کے لے جائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنی اسرائیل کے علماء نے جواباً کہا: اس چیز کا علم صرف بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کے پاس ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بڑھیاکی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کی نشاندہی کریں ۔ اس نے کہا: پہلے مجھ سے ایک وعدہ کریں پھر بتاؤں گی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: کیا وعدہ لینا چاہتی ہو؟ اس نےکہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ وعدہ کچھ عجیب سا لگا۔ لیکن آپ سے کہا گیا کہ اس سے وعدہ فرما لیجئے تو آپ نے اس سے جنت کاوعدہ کر لیا ، تب وہ ان کے اپنے ہمراہ لے کر پانی کی ایک جھیل پر آئیں ، جس کے پانی کا رنگ بھی بدل چکا تھا۔ اس نے کہا اس جھیل کا پانی خشک کریں۔ انہوں نے پانی خشک کر دیا۔ جب پانی خشک ہو گیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی شروع کردیں، انہوں نے کھودنا شروع کر دیا تو وہاں سے ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا۔ جب انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین سے نکال لیا تو روز روشن کی طرح راستہ ان پر واضح ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ یونس بن ابی اسحاق نے ابو ہریرہ سے " لانکاح الا بولی" والی حدیث سنی ہے جیسا کہ ان کے والد نے سنی ہے۔

لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ← نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَا حَاجَتُكَ؟» ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ ← نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ ← أَبِيهِ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: الْآيَاتُ. ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Shuara · Hadith 3523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ · حديث 3524

3524 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ كَانَ يُقْرِي الضَّيْفَ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3524 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن جدعان مہمان نواز تھا، صلہ رحمی کیا کرتا تھا ، اس کے علاوہ بہت سارے اعمال صالحہ کیا کرتا تھا کیا یہ افعال اس کو نفع دیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :نہیں۔ اس نے ایک دن بھی اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش کی دعا نہیں مانگی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبُو وَاقِدٍ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Shuara · Hadith 3524

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ · حديث 3525

3525 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ الْهُدْهُدُ يَدُلُّ سُلَيْمَانَ عَلَى الْمَاءِ» . فَقُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ وَالْهُدْهُدُ يُنْصَبُ لَهُ الْفَخُّ يُلْقَى عَلَيْهِ التُّرَابُ؟ فَقَالَ: «أَهْنَكَ اللَّهُ بِهَنِّ أَبِيكَ أَوَ لَمْ يَكُنْ إِذَا جَاءَ الْقَضَاءُ ذَهَبَ الْبَصَرُ؟»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہد ہد حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے پانی کی نشاندہی کیا کرتا تھا پھر یہ کیسے ہو گیا کہ اس کو وہ جال نظر نہ آیا جس کے اوپر صرف تھوڑی سی مٹی ڈالی گئی تھی؟آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے، جب موت آتی ہے تو بینائی کچھ کام نہیں کرتی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the ants chapter · Hadith 3525

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ · حديث 3526

3526 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا} [النمل: 21] قَالَ: «أَنْتُفُ رِيشَهُ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يُوضَعُ لَهُ سِتُّ مِائَةِ أَلْفِ كُرْسِيٍّ، ثُمَّ يَجِيءُ أَشْرَافُ الْإِنْسِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِمَّا يَلِيهِ، ثُمَّ يَجِيءُ أَشْرَافُ الْجِنِّ حَتَّى يَجْلِسُوا مِمَّا يَلِي الْإِنْسَ، ثُمَّ يَدْعُو الطَّيْرَ فَيُظِلُّهُمْ، ثُمَّ يَدْعُو الرِّيحَ فَتَحْمِلُهُمْ، فَيَسِيرُ فِي الْغَدَاةِ الْوَاحِدَةِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ فَبَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ فِي فَلَاةٍ إِذِ احْتَاجَ إِلَى الْمَاءِ فَجَاءَ الْهُدْهُدُ فَجَعَلَ يَنْقُرُ الْأَرْضَ فَأَصَابَ مَوْضِعَ الْمَاءَ، فَجَاءَتِ الشَّيَاطِينُ فَسَلَخَتْ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ كَمَا تَسْلُخُ الْإِهَابَ فَأَصَابُوا الْمَاءَ» فَقَالَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ: يَا وَقَّافُ، أَرَأَيْتَ الْهُدْهُدَ كَيْفَ يَجِيءُ فَيَنْقُرُ الْأَرْضَ فَيُصِيبُ مَوْضِعَ الْمَاءَ وَهُوَ يَجِيءُ إِلَى الْفَخِّ وَهُوَ يُبْصِرُهُ حَتَّى يَقَعَ فِي عُنُقِهِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «إِنَّ الْقَدْرَ إِذَا جَاءَ حَالَ دُونَ الْبَصَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3526 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لا عذبنہ عذابا شدیدا (النمل : 21) " میں ضرور اس کو سخت عذاب دوں گا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : (حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا تھا:)میں اس کے پر نوچ لوں گا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے لئے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتیں پھر معزز انسان آکر حضرت سلیمان علیہ السلام کے بالکل قریب بیٹھتے پھر معزز جنات انسانوں کے پیچھے بیٹھتے پھر پرندے آتے وہ ان پر سایہ فگن ہو جاتے۔ پھر ہوا کو بلایا جاتا وہ ان پرندوں کو ہوا میں اٹھائے رکھتی پھر یہ روانہ ہوتے اور ایک دن میں ایک مہینے کا سفر طے کر لیتے۔ یونہی ایک مرتبہ یہ لوگ ایک میدان میں سفر کر رہے تھے کہ ان کو پانی کی ضرورت پڑی ۔ تب ہد ہد آیا اور وہ زمین کو اپنی چونچ سے کریدنے لگا اور پھر اس نے پانی کے موجود ہونے کے بالکل درست مقام کی نشاندہی کر دی اور یہی ہدہد ہے کہ جال کی طرف آتا ہے اس کو دیکھ بھی رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ جال میں پھنس جاتا ہے تو حضرت اب عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب موت آتی ہے تو وہ بینائی کے درمیان حائل ہو جاتی ہے (جس کی وجہ سے اس کو کچھ نظر نہیں آتا) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

«أَنْتُفُ رِيشَهُ» ← ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا أبو معاوية ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the ants chapter · Hadith 3526

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ · حديث 3527

3527 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَقٌّ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ} [النمل: 80] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3527 - على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ عنقریب جان جائیں گے کہ میں ان کو دنیا میں جو کچھ کہا کرتا تھا وہ حق ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی ﷺ سے فرمایا: انک لاتسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعا اذا ولوا مدبرین (النمل:80) " بےشک تمہارے سنائے نہیں سنتے مردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سنیں جب پھیر یں پیٹھ دے کر " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

"إِنَّمَا ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِيُّ، وَأَسَدُ بْنُ مُوسَى ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the ants chapter · Hadith 3527

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّمْلِ · حديث 3528

3528 - أَخْبَرَنَا مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ} [الأنعام: 160] قَالَ: «مَنْ جَاءَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» {وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ} [الأنعام: 160] قَالَ: «بِالشِّرْكِ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3528 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ " منجاء بالحسنۃ " سے مراد " لا الہ الا اللہ" پڑھنا ہے اور " ومن جا ء بالسیئۃ" سے مراد "شرک" ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

مَنْ جَاءَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ [الأنعام: ← عَبْدِ اللَّهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ }الأنعام: ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← الْأَعْمَشِ وَالْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the ants chapter · Hadith 3528

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَصَصِ · حديث 3529

3529 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَسَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا} [القصص: 10] قَالَ: «فَارِغًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرِ ذِكْرِ مُوسَى» {إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ} [القصص: 10] قَالَ: «أَنْ تَقُولَ يَا بُنَيَّاهُ» {وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ} [القصص: 11] ابْتَغِي أَثَرَهُ {وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ} [القصص: 12] قَالَ: «لَا يُؤْتَى بِمُرْضِعٍ فَيَقْبَلُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَحَسَّانُ هُوَ ابْنُ عَبَّادٍ قَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3529 - حسان بن أبي عباد لا يدري من هو

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد :"واصبح فؤاد ام موسیٰ فازغا (القصص : 10) " اور صبح کو موسیٰ کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق مروی ہے کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے باقی ہر شئے سے ان کا دل بے صبر ہو گیا۔ ان کادت لتبدی بہ " (القصص: 10) " ضرور قریب تھا کہ وہ اس کا حال کھو دیتی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور بول اٹھتی :اے میرے پیارے بیٹے۔ " وقالت لاختہ قصیہ (القصص: 11) :" اور اس کی ماں نے اس کے بہن سے کہا: اس کے پیچھے چلی جا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی اس کے نقش پا پر چلتی جا۔ وحرمنا علیہ المراضع من قبل (القصص: 12) " اور ہم نے پہلے ہی سب دائیاں اس پر حرام کر دی تھیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ فرماتے ہیں : آپ کے پاس جو بھی دودھ پلانے والی لائی گئی ، آپ نے ان میں سے کسی کو بھی قبول نہ کیا (اور اس کا دودھ نہ پیا) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔اور حسان ، ابن عباد ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔

لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ} [القصص: ابْتَغِي أَثَرَهُ {وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ} [القصص: ← «أَنْ تَقُولَ يَا بُنَيَّاهُ» ← مُوسَى» {إِنْ كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ} [القصص: ← «فَارِغًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَى فَارِغًا} [القصص: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَسَّانُ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surah al-Qasas · Hadith 3529

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْقَصَصِ · حديث 3530

3530 - حَدّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: {فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ} [القصص: 25] قَالَ: " كَانَتْ تَجِيءُ وَهِيَ خَرَّاجَةٌ وَلَّاجَةٌ وَاضِعَةٌ يَدَهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَقَامَ مَعَهَا مُوسَى وَقَالَ لَهَا: امْشِي خَلْفِي وَانْعَتِي لِيَ الطَّرِيقَ وَأَنَا أَمْشِي أَمَامَكَ، فَإِنَّا لَا نَنْظُرُ فِي أَدْبَارِ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَالَتْ: {يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26] لِمَا رَأَتْهُ مِنْ قُوَّتِهِ وَلِقَوْلِهِ لَهَا مَا قَالَ فَزَادَهُ ذَلِكَ فِيهِ رَغْبَةً فَقَالَ: {إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنْكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ، فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدَكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ} [القصص: 27] أَيْ فِي حُسْنِ الصُّحْبَةِ وَالْوَفَاءِ بِمَا قُلْتُ. قَالَ مُوسَى: {ذَلِكَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَيُّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَيَّ} [القصص: 28] قَالَ: نَعَمْ. قَالَ اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ. فَزَوَّجَهُ وَأَقَامَ مَعَهُ يَكْفِيهِ وَيَعْمَلُ لَهُ فِي رِعَايَةِ غَنَمِهِ وَمَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ مِنْهُ وَزَوَّجَهُ صَفُورَةَ أَوْ أُخْتَهَا شَرْقَاءَ وَهُمَا اللَّتَانِ كَانَتَا تَذُودَانِ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3530 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس آیت : فجاءتہ احداہما ثمشی علیٰ استحیاء (القصص: 25) " تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : وہ آئیں تو ان کے پاؤں میں آبلے پڑ چکے تھے، وہ اپنے چہرے کو اپنی آستین سے ڈھکے ہوئے آئیں۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے ہمراہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ آپ نے اس سے کہا: میرے پیچھے پیچھے چلتی آؤ اور مجھے راستہ بتاتی رہو اور میں تیرے آگے آگے چلوں گا کیونکہ ہم خواتین کو پیچھے سے ( بھی )دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ پھر اس نے کہا: یا ابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین (القصص: 26) " اے میرے باپ ان کو نوکر رکھ لو بے شک بہتر نوکر ہو جو طاقتور امانت دار ہو" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کیونکہ وہ آپ کی قوت کا مشاہدہ کر چکی تھی اور وہ گفتگو جو موسیٰ علیہ السلام نے اس سے کی تھی، اس وجہ سے آپ کے متعلق اس کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ (ان کے والد نے ) کہا: انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علیٰ ان تاجرنی ثمانی حجج فان اتممت عشرا فمن عندک وما ارید ان اشق علیک ستجدنی ان شاء اللہ من الصالحین (القصص: 27) "میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک تمہیں بیاہ دوں اس مہر پر کہ تم آٹھ برس میری ملازمت کرو پھر اگر دس برس کرلو تو تمہاری طرف سے ہے اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا قریب ہے ان شاء اللہ تم مجھے نیکوں میں پاؤ گے۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی تمہارے ساتھ حسن سلوک میں اور وعدہ وفائی میں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ذالک بینی وبینک ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی" (القصص: 28) "" یہ میرے اور آپ کے درمیان اقرار ہو چکا میں ان دونوں میں جو میعاد پوری کر دوں تو مجھ پر کوئی مطالبہ نہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اس نے کہا: ٹھیک ہے ۔آپ ے کہا: اللہ علیٰ مانقول وکیل (القصص: 28) " اور ہمارے اس کہے پر اللہ کا ذمہ ہے " ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کہ حضرت شعیب علیہ السلام ان کا نکاح کر دیں گے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس ٹھہرالیا ۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس رہے اور ان کی بکریاں وغیرہ چرانے اور دیگر ضروریات میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے۔ تب حضرت شعیب علیہ السلام نے ان کا نکاح صفوراء علیہا السلام یا اس کی بہن شرقاء علیہا السلام کے ہمراہ کر دیا اور یہ دونوں آپ کے ساتھ معاونت کیا کرتی تھیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surah al-Qasas · Hadith 3530

chevron_left Previous
1…545556…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section