Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3507

3507 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا هُمْ أَوْتَادُهَا لَهُمْ جُلَسَاءُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَإِنْ غَابُوا سَأَلُوا عَنْهُمْ، وَإِنْ كَانُوا مَرْضَى عَادُوهُمْ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ مَوْقُوفٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3507 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک مساجد کو کچھ چہیتے لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ فرشتوں کی دوستی ہو تی ہے ۔ اگر وہ لوگ غائب ہوں تو فرشتے ان کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ پریشان میں ہوں تو ان کی مدد کرتے ہی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح موقوف ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو حَازِمٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3507

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3508

3508 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُنَّا نَتَنَاوَبُ الرَّعِيَّةَ، فَلَمَّا كَانَتْ نَوْبَتِي سَرَّحْتُ إِبِلِي، ثُمَّ رَجَعْتُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فِي صَلَاتِهِ فَيَعْلَمُ مَا يَقُولُ إِلَّا انْفَتَلَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا لَيْسَ عَلَيْهِ ذَنْبٌ» قَالَ: فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ قُلْتُ: بَخٍ بَخٍ. فَقَالَ عُمَرُ: وَكُنْتُ إِلَى جَنْبِهِ أَتَعْجَبُ مِنْ هَذَا؟ قَدْ قَالَ: قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ مَا هُوَ أَجْوَدُ مِنْهُ. فَقُلْتُ: مَا هُوَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ عِنْدَ فَرَاغِهِ مِنْ وُضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ مِنَ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيُّهَا شَاءَ " ثُمَّ قَالَ: «يُجْمَعُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي فَيُنَادِي مُنَادٍ سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ لِمَنِ الْكَرَمُ الْيَوْمَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " ثُمَّ يَقُولُ: «أَيْنَ الَّذِينَ كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ» ، ثُمَّ يَقُولُ: " أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا {لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ} [النور: 37] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ سَيَعْلَمُ الْجَمْعُ لِمَنِ الْكَرَمُ الْيَوْمَ "، ثُمَّ يَقُولُ: «أَيْنَ الْحَمَّادُونَ الَّذِينَ كَانُوا يَحْمَدُونَ رَبَّهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَهُ طُرُقٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَكَانَ مِنْ حَقِّنَا أَنْ نُخَرِّجَهُ فِي كِتَابِ الْوُضُوءِ فَلَمْ نَقْدِرْ فَلَمَّا وَجَدْتُ الْإِمَامَ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيَّ خَرَّجَ طُرُقَهُ عِنْدَ قَوْلِهِ: {رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ} [النور: 37] اتَّبَعْتُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3508 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کےہمراہ ایک سفر میں تھے ، ہم باری باری قافلہ کی نگرانی کر رہے تھے، جب میری باری آئی تو میں نے اپنا اونٹ چھوڑ دیا پھر میں لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ اس وقت آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کر کے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے ، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا تو اس پر کوئی گناہ نہ تھا۔ (حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: اس وقت میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اونٹ کو بٹھاتا ( اور فورا ً یہ عمل کر لیتا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی ان کے قریب تھا ، میں نے ان سے کہا: تم اس سے متعجب ہو رہے ہو، تیرے آنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے اس بھی عمدہ بات کہی ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور وضو سے فارغ ہو کہ یہ دعا پڑھے۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ " اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، وہ ان میں سےجس سے چاہے داخل ہو جائے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان می جمع کرے گا، ایک پکارنے والا ان سب میں تین دفعہ یہ اعلان کرےگا: عنقریب تمام لوگ جان لیں گے ، آج عزت والا کون ہے؟پھر وہ کہے گا: وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو خوابگاہوں سے دور رہتے تھے؟ پھر کہے گا: وہ لوگ کہاں ہیں جنکو تجارت اور کاروبار اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ کر سکے؟ آیت کے آخر تک پڑھے گا۔ پھر منادی ندا دے گا: عنقریب سب لوگ جان لیں گے کہ آج عزت والا کون ہے، پھر وہ کہے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے رب کی حمد کیا کرتے تھے؟ ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو اسحاق سے اس کی مزید سندیں بھی ہیں اور حق تو یہ تھا کہ اس حدیث کو ہم کتاب الوضوء میں درج کرتے لیکن وہاں نہ کر سکے پھر میں نے دیکھا کہ امام اسحاق حنظلی نے اس کو "لاتلہیہم تجارۃ وولا بیع عن ذکراللہ " کے تحت نقل کیا ہے ۔ تو میں نے بھی ان کی اتباع کی اور اس آیت کے تحت درج کر دیا۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3508

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3509

3509 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ دَعَا بِشَرَابٍ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ: «نَاوِلِ الْقَوْمَ» . فَقَالُوا: نَحْنُ صِيَامٌ فَقَالَ: " لَكِنْ أَنَا لَسْتُ بِصَائِمٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ قَالَ: {يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ} [النور: 37] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3509 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مشروب منگوایا ، ان کو مشروب پیش کیا گیا۔ آپ نے کہا: لوگوں کو پلاؤ ، لوگوں نے جواب دیا: ہمارا روزہ ہے۔ آپ نے کہا: لیکن میرا تو روزہ نہیں ہے۔ پھر آپ نے اس کو پی لیا۔ پھر یہ آیت پڑھی: " یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار (النور: 37) "ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَسْتُ بِصَائِمٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَشَرِبَهُ، ثُمَّ ← لَكِنْ ← نحن صيام ← «نَاوِلِ الْقَوْمَ» ← عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَعَا بِشَرَابٍ، فَأُتِيَ بِهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الرَّزَاقِ، أنبا الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3509

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3510

3510 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " {اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ} فَقَرَأَ الْآيَةَ، ثُمَّ قَالَ: {وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّى إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا، وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [النور: 39] قَالَ: «وَكَذَلِكَ الْكَافِرُ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرًا يَجِدُهُ وَيُدْخِلُهُ اللَّهُ النَّارَ» قَالَ: وَضَرَبَ مَثَلًا آخَرَ لِلْكَافِرِ، فَقَالَ: {أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ، إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ} [النور: 40] ، فَهُوَ يَنْقُلُهُ فِي خَمْسٍ مِنَ الظُّلَمِ فَكَلَامُهُ ظُلْمَةٌ، وَعَمَلُهُ ظُلْمَةٌ، وَمَدْخَلُهُ ظُلْمَةٌ، وَمَخْرَجُهُ ظُلْمَةٌ، وَمَصِيرُهُ إِلَى الظُّلُمَاتِ إِلَى النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3510 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے : "اللہ نور السماوات والارض (النور:35) " اللہ نور ہے آسمانوں اور زمینوں کا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پوری آیت پڑھی ، پھر فرمایا: والذین کفروا اعمالہم کسراب بقیعۃ یحسبہ الظمآن ماء حتیٰ اذا جاءہ لم یجدہ شیئا ووجد اللہ عندہ فوفاہ حسابہ واللہ سر یع الحساب (النور :39) " اور جو کافر ہو ئے ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے دھوپ میں چمکتا ریتا کسی جنگل میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اسے کچھ نہ پایا اور اللہ کو اپنے قریب پایا تو اس نے اس کا حساب پورا بھر دیا اور اللہ جلد حساب کر لیتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر فرمایا: اسی طرح کافر قیامت کے دن آئے گا اور وہ سمجھ رہا ہو گا کہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بہت بھلائی ہے جو اس کو مل جائےگی لیکن اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل فرما دے گا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کافر کےلئے ایک اور مثال بیان کی ہے فرمایا: " اوکظلمات فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب ظلمات بعضہا فوق بعض اذا اخرج یدہ لم یکد یراھا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (النور: 40)" یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے ) دریا میں اس کے ااوپر مج ، موج کے اوپر اور موج ، اس کے اوپر بادل ، اندھیرے ہیں ایک پر ایک ، جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی (دکھائی) دیتا معلوم نہ ہو اور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہاں پر پانچ اندھیرے شمار کئے گئے ہیں۔ (1) اس کی گفتگو اندھیرا۔ (2) اس کا عمل اندھیرا۔ (3) اس کے داخل ہونے کی جگہ اندھیرا۔ (4) اس کے نکلنے کی جگہ اندھیرا۔ (5) اور قیامت کے دن دوزخ کے اندھیروں میں اس کا ٹھکانہ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَقَرَأَ الْآيَةَ، ثُمَّ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3510

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3511

3511 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا عَلَى جَنَازَةٍ فِي بَابِ دِمَشْقَ مَعَنَا أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ وَأَخَذُوا فِي دَفْنِهَا، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ فِي مَنْزِلٍ تَقْتَسِمُونَ فِيهِ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، وَتُوشِكُونَ أَنْ تَظْعَنُوا مِنْهُ إِلَى الْمَنْزِلِ الْآخَرِ وَهُوَ هَذَا يُشِيرُ إِلَى الْقَبْرِ، بَيْتُ الْوَحْدَةِ، وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ، وَبَيْتُ الدُّودِ، وَبَيْتُ الضِّيقِ إِلَّا مَا وَسَّعَ اللَّهُ، ثُمَّ تَنْتَقِلُونَ مِنْهُ إِلَى مَوَاطِنِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَإِنَّكُمْ لَفِي بَعْضِ تِلْكَ الْمَوَاطِنِ حَتَّى يَغْشَى النَّاسَ أَمْرٌ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ فَتَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ، ثُمَّ تَنْتَقِلُونَ مِنْهُ إِلَى مَنْزِلٍ آخَرَ فَيَغْشَى النَّاسَ ظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ يُقْسَمُ النُّورُ فَيُعْطَى الْمُؤْمِنُ نُورًا وَيُتْرَكُ الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُ فَلَا يُعْطَيَانِ شَيْئًا وَهُوَ الْمَثَلُ الَّذِي ضَرَبَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ {أَوْ كَظُلُمَاتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍّ يَغْشَاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ، إِذَا أَخْرَجَ يَدَهُ لَمْ يَكَدْ يَرَاهَا وَمَنْ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ لَهُ نُورًا فَمَا لَهُ مِنْ نُورٍ} [النور: 40] وَلَا يَسْتَضِيءُ الْكَافِرُ، وَالْمُنَافِقُ بِنُورِ الْمُؤْمِنِ كَمَا لَا يَسْتَضِيءُ الْأَعْمَى بِبَصَرِ الْبَصِيرِ يَقُولُ الْمُنَافِقُ لِلَّذِينَ آمَنُوا {انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا} [الحديد: 13] وَهِيَ خُدْعَةُ الَّتِي خَدَعَ بِهَا الْمُنَافِقُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ} [النساء: 142] فَيَرْجِعُونَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي قُسِمَ فِيهِ النُّورُ، فَلَا يَجِدُونَ شَيْئًا فَيَنْصَرِفُونَ إِلَيْهِمْ، وَقَدْ ضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوَرٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ؟ نُصَلِّي بِصَلَاتِكُمْ وَنَغْزُو بِمَغَازِيكُمْ؟ " {قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ} [الحديد: 14] تَلَا إِلَى قَوْلِهِ: {وَبِئْسَ الْمَصِيرُ} [الحديد: 15] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3511 - صحيح

حضرت سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم باب دمشق میں ایک جنازہ میں شریک تھے، ہمارے ہمراہ حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب نماز جنازہ ہو چکی اور لوگوں نے اس کی تدفین شروع کی تو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بولے: اے لوگو ! تم ایک ایسے مقام پر صبح اور شام کرتے ہو جہاں نیکیاں اور گناہ تقسیم ہوتے ہیں، عنقریب تم وہاں سے دوسرے مقام کی طرف کوچ کر جاؤ گے اور قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ وہ مقام ہے ، یہ تنہائی کا گھر ہے، اندھیرے، تنگی اور کیڑوں کا گھر ہے۔ سوائے اس کے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ وسعت کر دے۔ پھر یہاں سے قیامت کے دن اور مقام کی طرف منتقل کر دیئے جاؤ گے، ان مقامات میں ایک مقام میں تم ہو گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر ان سب کو ڈھانپ لے گا پھر کچھ چہرے سفید ہو جائیں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہو جائیں گے، پھر وہاں سے ایک اور مقام کی طرف منتقل کیا جائے گا پھر لوگوں کو شدید اندھیرا ڈھانپ لے گا۔ پھر نو ر تقسیم کیا جائے گا۔ مومن کو نور دیا جائے گا اور کافر اور منافق کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ان کو کچھ نہیں دیا جائے گا۔ اسی کی مثال اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان الفاظ میں بیان کی ہے:" اوکظلمات فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب ظلمات بعضھا فوق بعض اذا اخرج یدہ لم یکد یراھا ومن لم یجعل اللہ لہ نورا فما لہ من نور (النور:40) " یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے (گہرائی والے ) دریا میں اس کے اوپر موج ، موج کے اوپر اور موج، اس کے اوپر بادل، اندھیرے ہیں ایک پر ایک ، جب اپنا ہاتھ نکالے تو سوجھائی (دکھائی) دیتا معلوم نہ ہواور جسے اللہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور کافر اور منافق ، مومن کے نور سے روشنی حاصل نہیں کر سکیں گے جس طرح کہ اندھا انکھیارے کی بینائی سے کچھ روشنی حاصل نہیں کر سکتا۔ منافق، مومن سے کہے گا: ہمیں ایک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا: اپنے پیچھے لوٹو وہاں نور ڈھونڈو۔ یہ ایک دھوکہ ہو گا جو منافق کو (اس کے اعمال کے بدلے کے طور پر )دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یخادعون اللہ وھو خادعھم (النساء : 142) " اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) وہ اس جگہ کی طرف پلٹ کر آئیں گے جہاں نور بٹ رہا تھا لیکن وہاں پر یہ کچھ نہ کر پائیں گے۔ یہ دوبارہ لوٹ کر مومن کے پاس آئیں گے لیکن اس وقت تک ان کے اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا، اس کی اندر کی جانب رحمت ہی رحمت ہو گی اور اس کی باہر کی طرف عذاب ہوگا۔ یہ منافق ان کو آوازیں دیں گے: کیا ہم تمہارے ہمراہ نمازیں نہیں پڑھا کرتے تھے؟ اور تمہارے ہمراہ جہاد نہیں کیا کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے اور جھوٹی طمع نے تمہیں فریب دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آگیا اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا یہ آیت: "وبئس المصیر" تک تلاوت کی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3511

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3512

3512 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَآوَتْهُمُ الْأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ كَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا بِالسِّلَاحِ وَلَا يُصْبِحُونَ إِلَّا فِيهِ، فَقَالُوا: " تَرَوْنَ أَنَّا نَعِيشُ حَتَّى نَبِيتَ آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ؟ فَنَزَلَتْ: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَّنَ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا} [النور: 55] إِلَى {وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ} [النور: 55] يَعْنِي بِالنِّعْمَةِ {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [آل عمران: 82] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3512 - صحيح

حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : جب رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب مدینہ المنورہ تشریف لائے اور انصار نے ان کو اپنے ہاں ٹھکانے دئیے تو پورا عرب متفق ہو کر ان کا دشمن ہو گیا اور یہ لوگ صبح و شام اسلحہ لے لیس رہتے تھے، وہ کہا کرتے تھے : تم دیکھو گے کہ ہم ایسی زندگی گزاریں گے اطمینان کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا ہمیں خوف نہ ہو گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: " وعدہ اللہ الذین اٰمنو امنکم اعملو الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ولیمکنن لہم دینہم الذی ارتضی لہم ولیبد لنہم من بعد خوفہم امن (الی): ومن کفر بعد ذلک ، (یعنی بالنعمۃ) فاولئک ہم الفاسقون (النور:55) " اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور ان کے لئے جما دے گا ان کا وہ دین جوان کے لئے پسند فرمایا ہے اور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا، اور جو اس کے بعد ناشکری کرے (یعنی نعمت کے بعد تک) تو وہی لوگ بے حکم ہیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

تَرَوْنَ ← قَوْسٍ وَاحِدَةٍ كَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا بِالسِّلَاحِ وَلَا يُصْبِحُونَ إِلَّا فِيهِ، ← لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَصْحَابُهُ الْمَدِينَةَ وَآوَتْهُمُ الْأَنْصَارُ رَمَتْهُمُ الْعَرَبُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3512

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3513

3513 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى التَّمِيمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النور: 58] قَالَ: «النِّسَاءُ فَإِنَّ الرِّجَالَ يَسْتَأْذِنُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3513 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم (النور:58) " چاہئے کہ تم سے اذن لیں تمہارے ہاتھ کے مال غلام" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: (اس سے مراد) عورتیں (باندیاں) ہیں کیونکہ مرد تو (پہلے ہی) اجازت لے کر اندر آتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ ،فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [النور: ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى التَّمِيمِيُّ ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3513

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3514

3514 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ} [النور: 61] قَالَ: " هُوَ الْمَسْجِدُ إِذَا دَخَلْتَهُ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3514 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فاذا دخلتم بیوتا فسلمو ا علیٰ انفسکم (النور: 61) " پھر جب کسی گھر میں جاؤ تو اپنوں کو سلام کرو" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں:۔ اس سے مراد مسجد ہے جب تو اس میں داخل ہو تو کہہ: السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3514

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النُّورِ · حديث 3515

3515 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ بِمِصْرَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ بِالْمَدِينَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتَكُمْ فَسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا، وَإِذَا طَعِمْتُمْ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَإِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ حِينَ يَدْخُلُ بَيْتَهُ وَذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى طَعَامِهِ يَقُولُ الشَّيْطَانُ لِأَصْحَابِهِ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا لَمْ يُسَلِّمْ أَحَدُكُمْ وَلَمْ يُسَمِّ يَقُولُ الشَّيْطَانُ لِأَصْحَابِهِ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبُ الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ أَخْشَى أَنَّهُ ابْنُ زَبَالَةَ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3515 - غريب

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو اور جب کھانا کھاؤ تو اللہ تعالیٰ کا نام پڑھو، جب تم گھر میں داخل ہوتے ہوئے سلام کر تے ہو اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہو تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے : نہ تمہارے لئے یہاں کھانا ہے اور نہ یہاں رات گزارنے کی گنجائش ہے اور اگر تم سلام نہیں کرتے اور کھانے پر بسم اللہ نہیں پڑھتے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے تمہیں رات کا کھانا بھی مل گیا اور رات گزارنے کا موقع بھی۔ یہ حدیث اس موضوع پر غریب الاسناد اور غریب المتن ہے اور میرا گمان ہے کہ محمد بن حس المخز ومی " ابن زبالہ" ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاحافظ نے یہ احادیث ماہ رجب 400ھ میں املاء کروائی ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ بِالْمَدِينَةِ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ بِمِصْرَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat An-Nur · Hadith 3515

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3516

3516 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يَنْتَصِفُ النَّهَارُ مِنْ يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَقِيلَ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ} [الصافات: 68] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3516 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن " نصف النھار " (آدھا دن) سے پہلے پہلے جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ قیلولہ کر چکے ہو ں گے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ان مرجعہم لالٰی الجحیم (الصفات :68) " پھر ان کی باز گشت ضرور بھڑکتی آگ کی طرف ہے " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3516

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3517

3517 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يُحْشَرُ أَهْلُ النَّارِ عَلَى وُجُوهَهِمْ؟ قَالَ: «إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ قَادِرٌ أَنْ يُمْشِيَهُمُ عَلَى وُجُوهِهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3517 - صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: جہنمیوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو ذات ان کو قدموں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ سر کے بل بھی چلا سکتی ہے۔

سئل رسول الله كيف يحشر أهل النار على وجوههم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي دَاوُدَ السَّبِيعِيِّ، ← يزيد بن هارون أنبا إسماعيل بن أبي خالد ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3517

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ الْفُرْقَانِ · حديث 3518

3518 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ كَيْفَ يُحْشَرُونَ؟ قَالَ: «إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ أَنْ يَحْشُرَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَ الْإِسْنَادَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : جہنمیوں کے چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ ﷺ نےفرمایا : جو ذات ان کو قدموں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ سر کے بل بھی چلا سکتی ہے۔ اگر دونوں سندوں کو جمع کر لیا جائے تو مذکورہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَجُلٌ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَنْ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From the interpretation of Surat Al-Furqaan · Hadith 3518

chevron_left Previous
1…535455…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section