المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ · حديث 3447
3447 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأَنْ تُثْنُوا عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَأَنْ تَخْلِطُوا الرَّغْبَةَ بِالرَّهْبَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} [الأنبياء: 90] ثُمَّ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّ اللَّهَ قَدِ ارْتَهَنَ بِحَقِّهِ أَنْفُسَكُمْ وَأَخَذَ عَلَى ذَلِكَ مَوَاثِيقَكُمْ، وَاشْتَرَى مِنْكُمُ الْقَلِيلَ الْفَانِي بِالْكَثِيرِ الْبَاقِي، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ فِيكُمْ لَا يُطْفَأُ نُورُهُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ فَاسْتَضِيئُوا بِنُورِهِ، وَانْتَصِحُوا كِتَابَهُ وَاسْتَضِيئُوا مِنْهُ لِيَوْمِ الظُّلْمَةِ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا خَلَقَكُمْ لِعِبَادَتِهِ، وَوَكَّلَ بِكُمْ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ، ثُمَّ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّكُمْ تَغْدُونَ وَتَرُوحُونَ فِي أَجَلٍ قَدْ غُيِّبَ عَنْكُمْ عِلْمُهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْقَضِيَ الْآجَالُ، وَأَنْتُمْ فِي عَمَلِ اللَّهِ فَافْعَلُوا وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ فَسَابِقُوا فِي مُهْلِ آجَالِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ آجَالُكُمْ فَيَرُدَّكُمْ إِلَى سُوءِ أَعْمَالِكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا جَعَلُوا آجَالَهُمْ لِغَيْرِهِمْ وَنَسَوْا أَنْفُسَهُمْ فَأَنْهَاكُمْ أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ فَالْوَحَا الْوَحَا، ثُمَّ النَّجَا النَّجَا، فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ طَالِبًا حَثِيثٌ مَرُّهُ سَرِيعُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف
حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا،اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: میں تمہیں خوف خدا کی تاکید کرتا ہوں اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کرو جس کا وہ اہل ہے اوریہ کہ تم خوف اور امید دونوں کو قائم رکھو کیونکہ (انہی صفات کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے: انہم کانو ا یسارعون فی الخیرات اید عوننا رغبا رواھبا وکانو ا لنا خاشعین (الانبیاء : 90) " بے شک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑ گڑ اتے ہیں"۔(ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو ! جان لو ! اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بدلے تمہاری جانوں کو گروی رکھا ہے اور اس پر تم سے پکا وعدہ لیا ہے اور تم سے باقی رہنے والی زیادہ چیز کے بدلے ،فنا ہونے والی کم چیز خرید لی ہے اور یہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، نہ اس کا نور بجھتا ہے، نہ اس کے عجائبات ختم ہوتے ہیں ، تم اس کے نور سے روشنی حاصل کرو اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو اور اس سے اندھیرے کے دن کے لئے روشنی حاصل کرو کیونکہ اللہ رب العزت نے تمہیں اپنی عبادت کی خاطر پیدا کیا اور تم پر کراماً کاتبین مقرر کئے ہیں ، وہ تمہارے تمام اعمال کو جانتے ہیں۔ پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو! جان لو تم ایک ایسی "اجل " میں صبح و شام کرتے ہو جس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اپنی عمر بتا سکتے ہو تو ایسا لازمی کرنا اور تم یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں کر پاؤ گے چنانچہ تم اپنی زندگی ختم ہونے سے پہلے ہی (نیکیوں کی طرف) رغبت کرو پھر تمہیں تمہارے برے اعمال لوٹا دئیے جائیں گے کیونگی ایک قوم نے اپنی زندگی غیر ضروری کاموں میں صرف کردی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بھلادیا تومیں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں کہیں تم ان کی مثل مت ہو جانا پس جلدی کرو جلدی کرو پھر نجات ہے ،نجات ہے کیونکہ تمہارے پیچھے تمہیں ڈھونڈنے والا بھاگتا آرہا ہے ،جس کی رفتار بہت تیز ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Anbiya ' · Hadith 3447
