Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ · حديث 3447

3447 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ قَالَ: " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَأَنْ تُثْنُوا عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، وَأَنْ تَخْلِطُوا الرَّغْبَةَ بِالرَّهْبَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ أَثْنَى عَلَى زَكَرِيَّا وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَقَالَ {إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ} [الأنبياء: 90] ثُمَّ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّ اللَّهَ قَدِ ارْتَهَنَ بِحَقِّهِ أَنْفُسَكُمْ وَأَخَذَ عَلَى ذَلِكَ مَوَاثِيقَكُمْ، وَاشْتَرَى مِنْكُمُ الْقَلِيلَ الْفَانِي بِالْكَثِيرِ الْبَاقِي، وَهَذَا كِتَابُ اللَّهِ فِيكُمْ لَا يُطْفَأُ نُورُهُ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ فَاسْتَضِيئُوا بِنُورِهِ، وَانْتَصِحُوا كِتَابَهُ وَاسْتَضِيئُوا مِنْهُ لِيَوْمِ الظُّلْمَةِ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا خَلَقَكُمْ لِعِبَادَتِهِ، وَوَكَّلَ بِكُمْ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ، ثُمَّ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّكُمْ تَغْدُونَ وَتَرُوحُونَ فِي أَجَلٍ قَدْ غُيِّبَ عَنْكُمْ عِلْمُهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْقَضِيَ الْآجَالُ، وَأَنْتُمْ فِي عَمَلِ اللَّهِ فَافْعَلُوا وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا ذَلِكَ إِلَّا بِاللَّهِ فَسَابِقُوا فِي مُهْلِ آجَالِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ آجَالُكُمْ فَيَرُدَّكُمْ إِلَى سُوءِ أَعْمَالِكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا جَعَلُوا آجَالَهُمْ لِغَيْرِهِمْ وَنَسَوْا أَنْفُسَهُمْ فَأَنْهَاكُمْ أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ فَالْوَحَا الْوَحَا، ثُمَّ النَّجَا النَّجَا، فَإِنَّ وَرَاءَكُمْ طَالِبًا حَثِيثٌ مَرُّهُ سَرِيعُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3447 - عبد الرحمن بن إسحاق كوفي ضعيف

حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا،اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: میں تمہیں خوف خدا کی تاکید کرتا ہوں اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی وہ تعریف کرو جس کا وہ اہل ہے اوریہ کہ تم خوف اور امید دونوں کو قائم رکھو کیونکہ (انہی صفات کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے: انہم کانو ا یسارعون فی الخیرات اید عوننا رغبا رواھبا وکانو ا لنا خاشعین (الانبیاء : 90) " بے شک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑ گڑ اتے ہیں"۔(ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو ! جان لو ! اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بدلے تمہاری جانوں کو گروی رکھا ہے اور اس پر تم سے پکا وعدہ لیا ہے اور تم سے باقی رہنے والی زیادہ چیز کے بدلے ،فنا ہونے والی کم چیز خرید لی ہے اور یہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ، نہ اس کا نور بجھتا ہے، نہ اس کے عجائبات ختم ہوتے ہیں ، تم اس کے نور سے روشنی حاصل کرو اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو اور اس سے اندھیرے کے دن کے لئے روشنی حاصل کرو کیونکہ اللہ رب العزت نے تمہیں اپنی عبادت کی خاطر پیدا کیا اور تم پر کراماً کاتبین مقرر کئے ہیں ، وہ تمہارے تمام اعمال کو جانتے ہیں۔ پھر اے اللہ تعالیٰ کے بندو! جان لو تم ایک ایسی "اجل " میں صبح و شام کرتے ہو جس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں اپنی عمر بتا سکتے ہو تو ایسا لازمی کرنا اور تم یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں کر پاؤ گے چنانچہ تم اپنی زندگی ختم ہونے سے پہلے ہی (نیکیوں کی طرف) رغبت کرو پھر تمہیں تمہارے برے اعمال لوٹا دئیے جائیں گے کیونگی ایک قوم نے اپنی زندگی غیر ضروری کاموں میں صرف کردی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بھلادیا تومیں تمہیں اس بات سے منع کرتا ہوں کہیں تم ان کی مثل مت ہو جانا پس جلدی کرو جلدی کرو پھر نجات ہے ،نجات ہے کیونکہ تمہارے پیچھے تمہیں ڈھونڈنے والا بھاگتا آرہا ہے ،جس کی رفتار بہت تیز ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Anbiya ' · Hadith 3447

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ · حديث 3448

3448 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ غِفَارَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا أُسْرِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى، وَعِيسَى فَتَذَاكَرُوا السَّاعَةَ فَبَدَءُوا بِإِبْرَاهِيمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، ثُمَّ مُوسَى، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَتَرَاجَعُوا الْحَدِيثَ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ عِيسَى: " عَهِدَ اللَّهُ إِلَيَّ فِيمَا دُونَ وَجْبَتِهَا فَلَا نَعْلَمُهَا، قَالَ: فَذَكَرَ مِنْ خُرُوجِ الدَّجَّالِ، فَأَهْبِطُ فَاقْتُلُهُ، وَيَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ فَيَسْتَقْبِلُهُمْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَلَا يَمُرُّونَ بِمَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْسَدُوهُ فَيَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ فَيُمِيتُهُمْ فَتَجْأَرُ الْأَرْضُ إِلَى اللَّهِ مِنْ رِيحِهِمْ وَيَجْأَرُونَ إِلَيَّ، فَأَدْعُوا اللَّهَ فَيُرْسِلُ السَّمَاءَ بِالْمَاءِ فَيَحْمِلُ أَجْسَامَهُمْ فَيَقْذِفُهَا فِي الْبَحْرِ، ثُمَّ يَنْسِفُ الْجِبَالَ، وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ فَعَهِدَ اللَّهُ إِلَيَّ إِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَإِنَّ السَّاعَةَ مِنَ النَّاسِ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَأُهُمْ بِوِلَادَتِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: فَوَجَدْتُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {حَتَّى إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ} [الأنبياء: 97] الْآيَةُ، قَالَ: وَجَمِيعُ النَّاسِ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ جَاءُوا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَهُوَ حَدَبٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» فَأَمَّا مُؤْثِرِ فَلَيْسَ بِمَجْهُولٍ " قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3448 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : معراج کی رات رسول اکرم ﷺحضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملے اور قیامت کے متعلق ان میں گفتگو ہوئی ۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا لیکن ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی علم نہ تھا۔ پھر حضرت موسٰی علیہ السلام سے پوچھا تو ان کے پاس بھی قیامت کے متعلق معلوما ت نہ تھیں پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو عیسیٰ علیہ السلام بولے وقوع قیامت کے قریب قریب کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے۔اس لئے اس (وقوع قیامت کے معین وقت ) کو ہم نہیں جانتے ۔پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دجال کے خروج کا ذکر کیا( فرمایاکہ ) پھر میں اتروں گا اور اس کو قتل کروں گا اور تمام لوگ اپنے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور یاجوج ماجوج ان کو آگے سے آن ملیں گے اور وہ ہر طرف سے امنڈ تے آرہے ہوں گے ۔وہ جس پانی کے قریب سے گزریں گے ، اس کو پی کر ختم کرتے جائیں گے اور جو چیز ان کے راستے میں آئے گی، اس کو تباہ و برباد کرتے جائیں گے۔ پھر لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑ ا کر دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردے گا پھر ان کی بد بو کی وجہ سے زمین اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرے گی اور تمام لوگ مجھ سے کہیں گے پھر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں گا ،اللہ تعالیٰ پانی کا ایک ریلا بھیجے گا جو ان کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گا، پھر پہاڑوں کو اکھیڑ دیا جائے گا اور زمین ایک دسترخوان کی طرح بچھا دی جائے گی ، پس جب یہ حالات واقع ہو جائیں گے ، (اس سے آگے کے حالات کا ) اللہ تعالیٰ نے مجھ سے عہد لیا ہے کیونکہ اس وقت قیامت اس قدر قریب ہوگی جیسے کسی حاملہ عورت کے دن پورے ہوچکے ہوں ، تو اس کے گھر والوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا نہ جانے کس وقت ولادت ہوجائے؟دن میں ہوگی یارات میں ؟۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس بات کی تصدیق قرآن کریم میں بھی پا لی ( وہ یہ ہے):حتی اذ فتحت یاجوج و ما جوج و ہم من کل حدب ینسلون (الانبیاء : 96) یہاں تک کے کھولے جائیں گے یاجوج و ماجوج اور وہ ہر بلندی سے ڈھلکتے ہوں گے"۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ)واقترب الوعد الحق (الانبیاء:97) "اور قریب آیا سچا وعدہ " (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ جہاں جہاں سے آئیں گے اس جگہ کو"حدب" کہتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اس کے راوی "موثر" مجہول نہیں ہے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی ہے اور تابعین کی ایک جماعت نے ان سے روایات نقل کی ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مؤثر بن غفارة، ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Anbiya ' · Hadith 3448

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ · حديث 3449

3449 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنْتُمْ لَهَا وَارِدُونَ} [الأنبياء: 98] فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: الْمَلَائِكَةُ وَعِيسَى وَعُزَيْرٌ يُعْبَدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُعْبَدُونَ آلِهَةً مَا وَرَدُوهَا، قَالَ: فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ} [الأنبياء: 101] عِيسَى وَعُزَيْرٌ وَالْمَلَائِكَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3449 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم انتم لھا واردون(الانبیاء: 98) " بے شک تم اور جو کچھ تم اللہ کے سوا پکارتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہو تمہیں اس میں جانا ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) تو مشرکین نے کہا: فرشتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور احضرت عزیز علیہ السلام کی بھی تو عبادت کی جاتی رہی ہے اور یہ غیر اللہ ہیں (لہذا یہ بھی جہنم میں جائیں گے) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر یہ جن کی تم عبادت کرتے ہو خدا ہوتے ( جیسا کہ تمہارا گمان ہے) تو جہنم میں نہ جاتے ، تب یہ آیت نازل ہوئی : ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ اولئک عنھا مبعدون (الانبیاء:101) "بے شک وہ جن کے لئے ہمارا وعدہ بھلائی کوہو چکا وہ جہنم سے دور رکھے گئے ہیں " (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت عزیر اور فرشتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا نَزَلَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← محمد بن موسى بن حاتم ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Anbiya ' · Hadith 3449

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3450

3450 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ الصَّغَانِيُّ: وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَدْ فَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرَ فَرَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ " {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَهُ قَوْلٌ يَقُولُهُ، فَلَمَّا تَأَشَّبُوا حَوْلَهُ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " ذَاكَ يَوْمَ يُنَادَى آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٌ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ " قَالُوا: فَأُبْلِسُوا حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ، يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَمَا هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَمِنْ بَنِي إِبْلِيسَ» قَالَ: فَسَرَّى ذَلِكَ عَنِ الْقَوْمِ فَقَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَأَكْثَرُ أَئِمَّةِ الْبَصْرَةِ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ قَدْ سَمِعَ مِنْ عِمْرَانَ غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3450 - قد مر تصحيحه

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ شرکائے قافلہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ گئے۔ تو آپ ﷺ نے یہ دو آیتیں بلند آواز سے پڑھیں: یایھا الناس اتقو ا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم ( الحج : 1) "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا وتری الناس سکاری وما ہم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید (الحج :2) " جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنےد ودھ پیتے کو بھول جائے گی اور گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گیاور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہوں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر یہ ہے کہ اللہ کی مار کڑی ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی آواز میں یہ آیات سنیں تو سواریاں تیز کر لیں اور وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ کے پاس کوئی بات ہے جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ جب تمام لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ (ان آیات میں جس دن کا ذکر ہے) یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آُ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں آدم علیہ السلام دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم: دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ دوزخی کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے 999 لوگ جہنم میں اور ایک جنت میں بھیج دو (یہبات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید پریشان ہو گئے حتیٰ کہ کسی کے چہرے پر کچھ بھی مسکراہٹ نہ رہی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: تم اعمال صالحہ کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں یا جوج اور ماجوج ایسی دو مخلوقوں کی معیت حاصل ہے کہ یہ جن کے ساتھ ہوں، ان کو زیادہ کر دیں گی اور یہ جتنے انسان اور شیاطین ہلاک ہو چکے ہیں (سب سے زیادہ ہیں)(یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوش ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم اعمال صالحہ اپناؤ اور خوش ہو جاؤ ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمام لوگوں میں تمہاری تعداد صرف اتنی ہی ہو گی جتنی کسی جانور کے پہلو میں تل کا نشان ، یا کسی اونٹ کے پہلو میں سفید نشان۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اکثر بصرہ کے آئمہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ حسن نے عمران سے سماع کیا ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← الصَّغَانِيُّ: وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3450

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3451

3451 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ {وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم ﷺ اکثر یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے: اتری الناس سکاری وما ھم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید (الحج:2) "اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہوں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہو گا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← أبو بكر احمد بن اسحاق أنبأ محمد بن غالب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3451

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3452

3452 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ التَّيْمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: {مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ} [الحج: 5] قَالَ: «الْمُخَلَّقَةُ مَا كَانَ حَيًّا وَغَيْرُ الْمُخَلَّقَةِ مَا كَانَ مِنْ سَقْطٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3452 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مخلقۃ اغیر مخلقۃ (الحج: 5) "نقشہ بنی اور بے بنی" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) "مخلقہ " و غیر "مخلقہ" (کے بارے میں ) فرماتے ہیں: مخلقہ سے مراد وہ ہے جو زندہ پیدا ہوا ور "غیر مخلقہ" سے مراد وہ ہے جو کچہ بچہ گر جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

{مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ} [الحج: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ التَّيْمِيُّ، ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3452

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3453

3453 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: " {مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ} [الحج: 15] قَالَ: «أَيْ مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3453 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد: مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ(الحج: 15) "جو یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ اپنے نبی کی مدد فرمائے گا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)کے متعلق فرماتے ہیں: یعنی جو شخص یہ گمان کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی مددنہ فرمائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← التَّيْمِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3453

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3454

3454 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ بِمِصْرَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيُّ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: 19] قَالَ: «نَزَلَتْ فِينَا وَفِي الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ وَالْوَلِيدِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِهِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ "

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس آیت : ھذا ان خصمان اختصمو ا فی ربہم (الحج : 19) " یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ آیت ہمارے اور عتبہ ، شیبہ اور ولید کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ بدر کے دن ہم سے لڑے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حو الے سے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔(وہ حدیث درج ذیل ہے۔)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيُّ، أَظُنُّهُ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3454

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3455

3455 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ يَحْيَى بْنِ دِينَارٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، " يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ: عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ وَعُبَيْدَةُ وَشَيْبَةُ وَعُتْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: 19] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ} [الحج: 25] وَقَدْ تَابَعَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ أَبَا هَاشِمٍ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَ الْأَوَّلِ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت : ھذا ان خصمان اختصمو ا فی ربہم (الحج : 19) " یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے " نذقہ من عذاب الیہم (الحج: 25) " ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک جنگ بدر میں ان چھ افراد کے متعلق نازل ہوئی۔ " حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ ، ربیعہ کے دو بیٹے عتبہ اور شیبہ اور ولید بن عتبہ۔ اس حدیث کو ابو مجلز کے ذریعے قیس کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں سلیمان تیمی نے ابو ہاشم کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3455

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3456

3456 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَزَلَتْ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} [الحج: 19] فِي الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيٌّ، وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ " قَالَ عَلِيٌّ: وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو لِلْخُصُومَةِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ «لَقَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ بِهَذِهِ الرِّوَايَاتِ عَنْ عَلِيٍّ كَمَا صَحَّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ وَإِنْ لَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3456 - صحيح

مذکورہ سند کے ہمراہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ آیت "ھذا ن خصمان اختصمو ا فی ربہم (الحج: 19) " یہ دو فریق ہیں کہ اپنے رب میں جھگڑے" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو جنگ بدر میں لڑے یعنی حضرت حمزہ بن عبدال مطلب رضی اللہ عنہ ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حصومت کے لئے میں اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہوں گا۔ جیسے یہ حدیث تمام روایات کے ہمراہ حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح ہیں اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی صحیح ہیں۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← لاَحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← أبو جعفر الرازي ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3456

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3457

3457 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي حَمْزَةَ وَأَصْحَابِهِ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ} [آل عمران: 169] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3457 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : یہ آیت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے متلعق نازل ہوئی: ولا تحسبن الذین قتلو ا فی سبیل اللہ امواتا بل احیا ء عند ربہم (آل عمران :169) اور اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3457

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3458

3458 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ} [الحج: 19] فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلِتُ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُمَزِّقَ قَدَمَيْهِ وَهُوَ الصَّهْرُ، ثُمَّ يُعَادُ كَمَا كَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3458 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: فالذین کفرو ا قطعت لہم ثیاب من نار (الحج: 19) "تو جو کافر ہوئے ان کے لئے آگ کے کپڑے بیونتے (کاٹے) جائیں گے" (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر بولے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جو اس کی کھوپڑی کو پھاڑ کر اس کے پیٹ میں پہنچے گا اور تمام انتڑیاں گلا دے گا حتیٰ کہ اس کے قدموں تک کو پگھلا کر ریزہ ریزہ کر دے گا پھر اس کو دوبارہ اسی طرح کر دیا جائے گا جیسے وہ پہلے تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← أَبِي حُجَيْرَةَ، ← أبي السمح

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3458

chevron_left Previous
1…484950…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section