Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3423

3423 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: 71] قَالَ: " الصِّرَاطُ عَلَى جَهَنَّمَ مِثْلُ حَدِّ السَّيْفِ فَتَمُرُّ الطَّائِفَةُ الْأُولَى كَالْبَرْقِ، وَالثَّانِيَةُ كَالرِّيحِ، وَالثَّالِثَةُ كَأَجْوَدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعَةُ كَأَجْوَدِ الْإِبِلِ وَالْبَهَائِمِ، ثُمَّ يَمُرُّونَ وَالْمَلَائِكَةُ تَقُولُ: رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3423 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ : " وان منکم الا واردھا (مریم:71) "اور تم میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: پل صراط دوزخ کے اوپر ہے جو کہ تلوار کی طرح تیز ہے، اس پر سے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی مانند گزریں گے ، دوسرے ہوا کی طرح ، تیسرے عمدہ گھوڑے کی طرح، چوتھے عمدہ اونٹ اور دیگر جانوروں کی طرح ۔ پھر وہ لوگ گزر رہے ہوں گے اور ملائکہ یہ دعا مانگ رہے ہوں گے" رب سلم رب سلم" اے اللہ سلامتی فرما ، اے اللہ سلامتی فرما۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا} [مريم: ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3423

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3424

3424 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، قَالُوا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَمْ تَرْضَوْا مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ وَصَوَّرَكُمْ، أَنْ يُوَلِّيَ كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ إِلَى مَنْ كَانَ يَتَوَلَّى فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عُزَيْرًا شَيْطَانُ عُزَيْرٍ حَتَّى يُمَثِّلَ لَهُمُ الشَّجَرَةَ وَالْعَوْدَ وَالْحَجَرَ، وَيَبْقَى أَهْلُ الْإِسْلَامِ جُثُومًا، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطَلِقُونَ كَمَا يَنْطَلِقُ النَّاسُ؟، فَيَقُولُونَ: إِنَّ لَنَا رِبًّا مَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ، قَالَ: فَيُقَالُ: فَبِمَ تَعْرِفُونَ رَبَّكُمْ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ؟ قَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ عَلَامَةٌ، إِنْ رَأَيْنَاهُ عَرَفْنَاهُ، قِيلَ: وَمَا هِيَ؟، قَالُوا: يَكْشِفُ عَنْ سَاقٍ، قَالَ: فَيُكْشَفُ عِنْدَ ذَلِكَ عَنْ سَاقٍ قَالَ: فَيَخِرُّونَ مَنْ كَانَ لِظَهْرِهِ طَبَقًا سَاجِدًا، وَيَبْقَى قَوْمٌ ظُهُورُهُمْ كَصَيَاصِيِّ الْبَقَرِ يُرِيدُونَ السُّجُودَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ، ثُمَّ يُؤْمَرُونَ فَيَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ فَيُعْطَوْنَ نُورَهُمْ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ قَالَ: فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ فَوْقَ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ النَّخْلَةِ بِيَمِينِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى دُونَ ذَلِكَ بِيَمِينِهِ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ ذَلِكَ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ يُضِيءُ مَرَّةً، وَيُطْفِئُ مَرَّةً، فَإِذَا أَضَاءَ قَدَمُهُ، وَإِذَا طُفِئَ قَامَ فَيَمُرُّ وَيَمُرُّونَ عَلَى الصِّرَاطِ وَالصِّرَاطُ كَحَدِّ السَّيْفِ دَحْضُ مَزِلَّةٍ فَيُقَالُ: انْجُوا عَلَى قَدْرِ نُورِكُمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَانْقِضَاضِ الْكَوْكَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالطَّرْفِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الرَّجُلِ، وَيَرْمُلُ رَمَلًا، فَيَمُرُّونَ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ حَتَّى يَمُرَّ الَّذِي نُورُهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ قَالَ: يَجُرُّ يَدًا وَيُعَلِّقُ يَدًا وَيَجُرُّ رِجْلًا وَيُعَلِّقُ رِجْلًا وَتَضْرِبُ جَوَانِبَهُ النَّارُ، قَالَ: فَيَخْلَصُوا فَإِذَا خَلَصُوا قَالُوا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنْكِ بَعْدَ الَّذِي أَرَانَاكِ لَقَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا " قَالَ مَسْرُوقٌ: فَمَا بَلَغَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا ضَحِكَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ حَدَّثْتَ هَذَا الْحَدِيثَ مِرَارًا كُلَّمَا بَلَغْتَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ضَحِكْتَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُهُ مِرَارًا، فَمَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا ضَحِكَ حَتَّى تَبْدُوَ لَهَوَاتُهُ وَيَبْدُو آخِرُ ضِرْسٍ مِنْ أَضْرَاسِهِ لِقَوْلِ الْإِنْسَانِ: أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: لَا، وَلَكِنِّي عَلَى ذَلِكَ قَادِرٌ فَسَلُونِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3424 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور منادی اعلان کرے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے جس نے تمہیں پیدا کی، تمہیں رزق دیااور تمہاری شکلیں بنائیں، اس بات پر راضی نہیں ہو کہ وہ تمہیں اسی کا دوست بنائے جس کے ساتھ تم دنیا میں دوستی رکھتے تھے؟ (راوی) فرماتے ہیں: حضرت عزیر رضی اللہ عنہ کے پجاریوں کے لیے ، ان کے شیطان کی شکل بنائی جائے گی حتیٰ کہ ان کے لئے درخت، لکڑی اور پتھروں کی شکلیں بنائی جائیں گی اور مسلمان وہیں اپنے مقام پر بیٹھے رہ جائیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: تم لوگوں نے وہ کام کیوں نہیں کئے جو تمام لوگو کرتے رہے؟ یہ جواب دیں گے: ہمارا تو ایک رب ہے ، ہم اس کے سوا کسی کو جانتے ہی نہ تھے۔ ان سے کہا جائے گا:اگر تم اس کو دیکھو تو کیسے پہچانوں گے؟ یہ جواب دیں گے: ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان ایک علامت ہے، ہم اگر اس کو دیکھ لیں گے تو پہچان لیں گے۔ ان سے کہا جائے گا: وہ علامت کیا ہے؟ (راوی ) کہتے ہیں : تب اس کی شان کے لائق اس کی پنڈلی ظاہر ہو گی تو جس کی پشت میں طاقت ہو گی وہ اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جائے گا لیکن کچھ لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گائے کے سینگ کی مانند ہوں گے۔ وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ پائیں گے پھر ان (سجدہ گزاروں) کو حکم ہو گا( کہ سراٹھاؤ) تو وہ سر اٹھا لیں گے پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق نور دیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کو پہاڑ کے برابر نور عطا ہو گا اور وہ نور ان کے آگے آگے ہو گا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کا نور اس سےبھی بڑھ کر ہو گا، ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے دائیں جانب کھجور کے درخت کی طرح ان کا نور ہو گا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو اس سے بھی کم نور دیا جائے گا حتیٰ کہ جو سب سے آخری شخص ہو گا اس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے جتنا ہو گا، وہ کبھی چمکے گا اور کبھی بجھ جائے گا۔ جب چمکے گا تو وہ چل پڑے گا اور جب بجھ جائے گا تو وہ رک جائے گا۔ پھر تمام لوگ پل صراط سے گزریں گے، پل صراط تلوار کی دھار کی طرح ہے ، پھسلنے کی جگہ ہے۔ پھر کہا جائے گا: اپنے نور کی مقدار کے مطابق گزر جاؤ، تو ان میں سے کچھ لوگ ستارہ ٹوٹنے کی طرح گزریں گے، کچھ لوگ پلک جھپکنے کی طرح گزریں گے، کچھ لوگ عام آدمی کی طرح تیز دوڑ کر گزریں گے اور کندھوں کو ہلاتے ہوئے دوڑیں گے (الغرض) تمام لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق (رفتار کے ساتھ) گزریں گے حتیٰ کہ جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے جتنا ہو گا وہ یو ں گزرے گا ، ایک ہاتھ گھسیٹے گا اور دوسرا لٹکائے گا، ایک پاؤں گھسیٹے گا اور دوسرا لٹکائے گا اور اس کے دائیں بائیں آگ مسلط کی جائے گی، بعد میں ان کو اس سے خلاصی دے دی جائے گی۔ جب ان کو خلاصی مل جائے گی تو وہ کہیں گے: تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے ایک دفعہ تجھے ہم پر مسلط کرنے کے بعد ہمیں تجھ سے بچایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر وہ کرم کیا ہے جو آج تک کسی اور پر نہیں کیا گیا۔ حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس مقام تک پہنچے تو ہنسے ۔ ایک شخص نے ان سے کہا : اے ابو عبدالرحمٰن آُ نے یہ حدیث متعدد بار ہمیں سنائی ہے اور آپ جب بھی اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ہنستے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث متعدد بار رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ بھی اس مقام پر پہنچتے تو خوب ہنستے حتیٰ کہ آپ کی آخری داڑھ تک نظر آجاتی ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ) وہ انسان کہے گا: کیا تو " رب العالمین" ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں بلکہ میں اس پر قادر بھی ہوں ۔تو مجھ سے سوال کر۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

فينادي مناد: يا أيها الناس ألم ترضوا من ربكم الذي خلقكم ورزقكم وصوركم، ← "يجمع الله الناس يوم القيامة، ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3424

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3425

3425 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيُّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا} [مريم: 85] قَالَ عَلِيٌّ: أَمَا وَاللَّهِ مَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ وَلَا يُسَاقُونَ سَوْقًا، وَلَكِنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ بِنُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحْلُ الذَّهَبِ وَأَزِمَّتُهَا الزَّبَرْجَدُ، فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ «الْحَدِيثُ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3425 - بل عبد الرحمن لم يرو له مسلم ولا لخاله النعمان وضعفوه

حضرت علی رضی اللہ عنہ اس آیت: یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفد (مریم:85) " جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمٰن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: خدا کی قسم! کوئی مہمان محشر میں نہ تو اپنے پاؤں پر چلے گا اور نہ انہیں ہانکا جائے گا بلکہ ان کو ایسی انٹنیوں پر لایا جائے گا کہ مخلوقات نے اس سے پہلے ایسی اونٹنیاں کبھی نہ دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی، وہ ان پر سوار ہو کر جنت کے دروازوں سے داخل ہوں گے (اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا} [مريم: ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عبد الرحمن بن إسحاق القرشي ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3425

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3426

3426 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمُزَكِّي بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَرَأَ {إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا} [مريم: 87] فَقَالَ: اتَّخَذُوا عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ. قَالَ: فَقُلْنَا: فَعَلِّمْنَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّيهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3426 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت: الا من اتخذ عندا الرحمٰن عھدا (مریم:87) مگر وہی جنہوں نے رحمٰن کا پاس قرار رکھا ہے" ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تلاوت کی اور فرمایا: رحمٰن کے ہاں عہد باندھ لو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: جس کا میرے پاس کوئی عہد ہے وہ اٹھ کھڑا ہو (حضرت اسود بن یزید) کہتے ہیں : ہم نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہمیں اس کی تعلیم دیجئے! انہوں نے فرمایا: کہو: اللھم فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انی اعھد الیک فی ھذہ الحیاۃ الدنیا بانی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمد ا عبدک ورسولک فانک ان تکلنی الیٰ نفسی تقربنی من الشر وتبا عدنی من الخیر وانی لا اثق الا برحمتک فاجعلہ لی عندک عہدا توفیتہ الیٰ یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد، " اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، غیب اور شہادت کے عالم، مین اپنی اس دنیوی زندگی میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور تو ہی وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں ۔ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے گا تو مجھے شر کے قریب اور خیر سے دور کر دے گا اور میں تو صرف تیری رحمت پر ہی بھروسہ کرتا ہوں تو میرا یہ عہد اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور قیامت کے دن تک تو مجھے اس پر ثابت قدم رکھ بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فَقُلْنَا: فَعَلِّمْنَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ. ← اتَّخَذُوا عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا، فَإِنَّ اللَّهَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَرَأَ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← عَوْنٌ ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْمُزَكِّي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3426

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3427

3427 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، أَنْبَأَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {طَهْ} [سورة: طه، آية رقم: 1] قَالَ: " هُوَ كَقَوْلِكَ: يَا مُحَمَّدُ، بِلِسَانِ الْحَبَشِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3427 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان "طہ" کے متعلق مروی ہے کہ حبشی زبان میں اس کا مطلب "یامحمد ﷺ" ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {طَهْ} [سورة: طه، آية رقم: ← عِكْرِمَةَ يَذْكُرُ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، أَنْبَأَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3427

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3428

3428 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَطْحَاءِ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ: «السَّحَابُ» فَقُلْنَا: السَّحَابُ. فَقَالَ: «وَالْمُزْنُ» فَقُلْنَا: وَالْمُزْنُ. فَقَالَ: «وَالْعَنَانُ» ثُمَّ سَكَتَ ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ: «بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ، وَبَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، وَكِثَفُ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ، وَفَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ رُكَبِهِمْ وَأَظْلَافِهِمْ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ لَيْسَ يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ أَعْمَالِ بَنِي آدَمَ شَيْءٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3428 - وقد مر وهو صحيح

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بطحاء (کشادہ نالہ جس میں ریت اور کنکریاں ہوں) میں بیٹھے ہوئے تھے (ہمارے اوپر سے) بادل کا ایک ٹکڑا گزرا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صحاب (بادل) ہے، ہم نے پوچھا: سحاب(کا کیا مطلب ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: "مزن"۔ ہم نے کہا: "مزن" (کیا ہوتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: "عنان" ۔ ہم نے کہا: "عنان" (کیا ہوتا ہے؟) پھر آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ زمین اور آسمان کے درمیان مسافت کتنی ہے ؟ ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: ان کے درمیان 500 سال کی مسافت ہے۔ اور ہر آسمان سے اگلے آسمان تک کی مسافت بھی 500 سال ہے اور ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور ساتویں آسمان سے اوپر ایک سمندر ہے، اس کی تہہ سے سطح بالا تک کی مسافت اتنی ہے جتنی زمین اور آسمان کے درمیان ہے۔ پھر اس سے اوپر آٹھ فرشتے ہیں۔ ان کے پاؤں اور سروں کے درمیان کی مسافت بھی اتنی ہے، جتنی زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور اللہ تعالیٰ (کی قدرت) ان سب پر ہے اور انسان کا کوئی عمل بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

«تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← «وَالْعَنَانُ» ثُمَّ سَكَتَ ثُمَّ ← «وَالْمُزْنُ» فَقُلْنَا: وَالْمُزْنُ. ← «السَّحَابُ» فَقُلْنَا: السَّحَابُ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِالْبَطْحَاءِ فَمَرَّتْ سَحَابَةٌ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عَمِّهِ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3428

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3429

3429 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ} [الحاقة: 17] أَمْلَاكٌ عَلَى صُورَةِ الْأَوْعَالِ بَيْنَ أَظْلَافِهِمْ وَرُكَبِهِمْ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً أَوْ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3429 - على شرط مسلم

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذ ثمانیۃ (الحاقۃ:17) " اور اس دن تمہارے رب کا عرش اپنے اوپر آٹھ فرشتے اٹھائیں گے" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: وہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے، ان کے کھروں اور سینگوں کے درمیان 360 سال یا (شایدفرمایا) 560 سال کی مسافت ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أبو نصر أحمد بن محمد بن نصر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الزَّاهِدُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3429

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3430

3430 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى} [طه: 7] قَالَ: " {السِّرُّ} [طه: 7] مَا عَلِمْتَهُ أَنْتَ {وَأَخْفَى} [طه: 7] مَا قَذَفَهُ اللَّهُ فِي قَلْبِكَ مِمَّا لَمْ تَعْلَمْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3430 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یعلم السرو اخفیٰ (طہ:7) " وہ بھید کو جانتا ہے اور اسے جو اس سے بھی زیادہ چھپا ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں:" سر" تو وہ چیز ہے جس کو تو جانتا ہے اور "اخفی" وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ تیرے دل میں ڈال دیتا ہے جس کی خود تجھے بھی خبر نہیں ہوتی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى} [طه: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← محمد بن يعقوب الحافظ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3430

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3431

3431 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي وَخَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى كَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ، وَكِسَاءٌ صُوفٌ، وَسَرَاوِيلُ صُوفٌ، وَكُمُّهُ صُوفٌ، وَنَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ غَيْرِ ذَكِيٍّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3431 - بل ليس على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس دن موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کلام کیا، اس دن انہوں نے اون کا جبہ پہن رکھا تھا، اون کی چادر اوڑھی ہوئی تھی، اون کی شلوار پہنی ہوئی تھی اور اس (جبے) کی آستین بھی اون کی تھی اور آپ نے جوتے گدھے کی کھال کے پہنے ہوئے تھے، جس کو دباغت نہیں دی گئی تھی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي وَخَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3431

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3432

3432 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَقُومُ إِلَّا لَعَظِيمِ صَلَاةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3432 - صحيح

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عموما رات کے وقت بنی اسرائیل کے قصے بیان کرتے تھے اور آپ کا قیام صرف نماز کے لئے ہوتا تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كَانَ النَّبِيُّ «يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي حَسَّانَ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3433

3433 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى، بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ» فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ وَيَقُولُ: «سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ» ثُمَّ قَالَ: «أَمَا هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3433 - لم يتكلم عليه وهو خبر واه لأن علي بن يزيد متروك

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو جب قبر میں اتاردیا گیا تو (مٹی ڈالتے ہوئے) آپ ﷺ نے پڑھا: منہا خلقنا کم وفیھا نعید کم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری (طہ:55) "ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے:۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ ( اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر) جب ان کی لحد بند کر دی گئی تو آپ ان کی جانب دانے پھینکتے ہوئے فرمانے لگے۔ اینٹوں کی درازوں کو بند کر دو پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم اس سے زندوں کو کچھ اطمینان سا ہو جاتا ہے۔

لما وضعت أم كلثوم بنت رسول الله في القبر ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ طَهْ · حديث 3434

3434 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو السَّلُولِيُّ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا تَعَجَّلَ مُوسَى إِلَى رَبِّهِ عَمَدَ السَّامِرِيُّ فَجَمَعَ مَا قَدَرَ عَلَيْهِ مِنَ الْحُلِيِّ، حُلِيِّ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَضَرَبَهُ عِجْلًا، ثُمَّ أَلْقَى الْقَبْضَةَ فِي جَوْفِهِ، فَإِذَا هُوَ عِجْلٌ لَهُ خُوَارٌ فَقَالَ لَهُمُ السَّامِرِيُّ: هَذَا إِلَهُكُمْ وَإِلَهُ مُوسَى فَقَالَ لَهُمْ هَارُونُ: يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدُكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا. فَلَمَّا أَنْ رَجَعَ مُوسَى إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ وَقَدْ أَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ أَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ فَقَالَ لَهُ هَارُونُ مَا قَالَ فَقَالَ مُوسَى لِلسَّامِرِيِّ مَا خَطْبُكَ؟ قَالَ السَّامِرِيُّ: قَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي. قَالَ: فَعَمَدَ مُوسَى إِلَى الْعِجْلِ فَوَضَعَ عَلَيْهِ الْمَبَارِدَ فَبَرَدَهُ بِهَا وَهُوَ عَلَى شِفِّ نَهَرٍ، فَمَا شَرِبَ أَحَدٌ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ مِمَّنْ كَانَ يَعْبُدُ ذَلِكَ الْعِجْلَ إِلَّا اصْفَرَّ وَجْهُهُ مِثْلَ الذَّهَبِ، فَقَالُوا لِمُوسَى: مَا تَوْبَتُنَا؟ قَالَ يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا. فَأَخَذُوا السَّكَاكِينَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقْتُلُ أَبَاهُ وَأَخَاهُ وَلَا يُبَالِي مَنْ قَتَلَ حَتَّى قُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى مُرْهُمْ فَلْيَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لِمَنْ قُتِلَ وَتُبْتُ عَلَى مَنْ بَقِيَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3434 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گئے تو سامری نے ایک پروگرام بنایا اور بنی اسرائیل کے زیورات وغیرہ جس قدر بھی سونا جمع کر سکتا تھا، کیا۔ پھر اس سے ایک بچھڑا تیار کیا پھر اس کے پیٹ میں (مٹی کی) مٹھی ڈال دی تو وہ اچھلنے کودنے اور آوازیں نکالنے لگ گیا۔ سامری نے بنی اسرائیل سے کہا: یہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا معبود ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے کہا: اے میری قوم! کیا تم سے تمہارے رب نے اچھا وعدہ نہ کیا تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف لوٹ کر آئے تو اس وقت تک سامری ان کو گمراہ کر چکا تھا۔ آپ نے اپنے بھائی (حضرت ہارون علیہ السلام) کو سر (کے بالوں) سے پکڑ لیا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنی کی ہوئی تمام کوششیں ان کے سامنے رکھ دیں تو موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے کہا: تیرا کیا حال ہے؟ سامری نے کہا: میں نے فرشتے کے نشان سے ایک مٹھی بھر لی تھی پھر اس کو (اس بچھڑے میں) ڈال دیا اور میرے جی کو یہی بھلا لگا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس بچھڑے کو دریا کے اندر ٹھنڈا کر دیا اور آپ خود اس وقت دریا کے کنارے موجود تھے۔ اس کے بعد بچھڑے کی عبادت کرنے والوں میں سے جس نے بھی اس دریا کا پانی پیا، اس کا چہرہ سونے کی طرح زرد ہو گیا۔ لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا: ہماری توبہ کیسے ہو سکتی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ایک دوسرے کو قتل کرو۔ انہوں نے چھریاں پکڑیں اور یہ پرواہ کئے بغیر کہ کس کو قتل کر رہے ہیں، لوگ اپنے باپ اور بھائیوں کو قتل کرنا شروع ہو گئے حتیٰ کہ ہزار لوگ قتل ہو گئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ ان کو حکم دو کہ یہ اپنے ہاتھوں کو روک لیں، جو قتل ہو چکے ہیں ، میں نے ان کو بخش دیا ہےاور جو باقی بچ گئے ہیں ان کی توبہ کو قبول کر لیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو السَّلُولِيُّ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← محمد بن سليمان بن الحارث ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Taha · Hadith 3434

chevron_left Previous
1…464748…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section