Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3411

3411 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدٍ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ ذَنْبٌ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا» قَالَ: ثُمَّ دَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ عُودًا صَغِيرًا ثُمَّ قَالَ: «وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَا لِلرِّجَالِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْعُودِ لِذَلِكَ سَمَّاهُ اللَّهُ سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3411 - على شرط مسلم

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تمام انسانوں کے ذمہ کوئی نہ کوئی گنا ضرور ہو گا، سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر پھیرا اور ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی اور فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ عموماً جو چیز مردوں کے ساتھ ہوتی ہے یحییٰ میں وہ لکڑی سے بڑھ کر کچھ نہ تھی (یعنی جس طرح اس لکڑی میں شہوت کا شائبہ تک نہیں ہے اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بھی شہوت نہیں آتی تھی) ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا: سیدا وحصورا ونبیا من الصالحین (آل عمران:39) " اور سردار اور ہمیشہ کےلئے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3411

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3412

3412 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رُوحُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ تِلْكَ الْأَرْوَاحِ الَّتِي أُخِذَ عَلَيْهَا الْمِيثَاقُ فِي زَمَنِ آدَمَ فَأَرْسَلَهُ اللَّهُ إِلَى مَرْيَمَ فِي صُورَةِ بَشَرٍ {فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا} [مريم: 17] ، {قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا} [مريم: 20] ، فَحَمَلَ الَّذِي يُخَاطِبُهَا فَدَخَلَ مِنْ فِيهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3412 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی ان روحوں میں شامل تھی ، جن سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں عہد لیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو انسانی شکل و صورت میں حضرت مریم کے پاس بھیجا تو وہ ان کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ وہ بولیں: میرے لڑکا کہاں سے ہو گا؟ مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا اور نہ میں بد کار ہوں۔ تو حضرت مریم اسی سے حاملہ ہو گئیں جس سے وہ گفتگو کر رہی تھیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے منہ کے راستے ان کے اند ر داخل ہو گئے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← محمد بن علي الشيباني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3412

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3413

3413 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا} [مريم: 24] قَالَ: «هُوَ الْجَدْوَلُ النَّهَرُ الصَّغِيرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3413 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " قد جعل ربک تحتک سریا (مریم:24) " بے شک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہادی ہے" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: ( اس سے مراد) چھوٹی نہر ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3413

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3414

3414 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، أَنْبَأَ أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا} [مريم: 52] قَالَ: «سَمِعَ صَرِيفَ الْقَلَمِ حِينَ كَتَبَ فِي اللَّوْحِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3414 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " وقربناہ نجیا (مریم:52) "اور اسے اپنا راز کہنے کو قریب کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متلعق فرماتے ہیں : جب لوح میں تحریر ہوئی تو انہوں نے قلم کے چلنے کی آواز کو سنا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

صَرِيفَ الْقَلَمِ حِينَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا }مريم: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ اللَّبَّادُ أَنْبَأَ أَبُو نُعَيْمٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَفِيدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3414

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3415

3415 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا} [مريم: 41] قَالَ: «كَانَ الْأَنْبِيَاءُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا عَشَرَةٌ نُوحٌ وَصَالِحٌ، وَهُودٌ، وَلُوطٌ، وَشُعَيْبٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَإِسْمَاعِيلُ، وَإِسْحَاقُ، وَيَعْقُوبُ، وَمُحَمَّدٌ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَمْ يَكُنْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مَنْ لَهُ اسْمَانِ إِلَّا إِسْرَائِيلُ وَعِيسَى فَإِسْرَائِيلُ يَعْقُوبُ وَعِيسَى الْمَسِيحُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3415 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: واذکر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا ( مریم :41) " اور کتاب میں ابراہیم علیہ السلام کو یاد کرو بے شک وہ صدیق غیب کی خبریں بتاتا " (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متلعق فرماتے ہیں : تمام انبیاء بنی اسرائیل سے تھے ، سوائے ان دس کے۔ حضرت نو ح علیہ السلام ۔ حضرت صالح علیہ السلام ۔ حضرت ھود علیہ السلام ۔حضرت لوط علیہ السلام۔ حضرت شعیب علیہ السلام ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام۔ حضرت محمد ﷺ ۔ اور ہر نبی کے دو نام تھے، سوائے حضرت اسرائیل علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔ اسرائیل تو یعقوب علیہ السلام ہیںاور عیسیٰ علیہ السلام المسیح ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3415

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3416

3416 - أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ} [الأعراف: 169] فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ خَلْفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ» قَالَ بَشِيرٌ: فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ: مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ؟ فَقَالَ: الْمُنَافِقُ كَافِرٌ، وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رُوَاتُهُ حِجَازِيُّونَ وَشَامِيُّونَ أَثْبَاتٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3416 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: فخلف من بعدھم خلف (مریم:59) " تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمدرضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ساٹھ سالوں کے بعد نا خلف شروع ہو جائیں گے، وہ نمازوں کو ضائع کریں گے اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلیں گے۔ عنقریب وہ دوزخ میں "غی" کا جنگل پائیں گے۔ پھر ان کے بعد مزید ناخلف آئیں گے، یہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور قرآن پاک پڑھنے والے تین طرح کے لوگ ہیں۔ (1) مومن۔ (2) منافق۔ (3) فاجر۔ حضرت بشیر کا کہنا ہے: میں نے حضرت ولید سے پوچھا : وہ تین لوگ کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: (1) منافق، کافر ہے۔ (2) فاجر، ایمان کو کھوکھلا کرتا ہے۔ (3)مومن، اس پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کے تمام راوی حجازی اور شامی ہیں۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَنَّهُ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ،أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3416

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3417

3417 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزِّيَادِيُّ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَهْلِكُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ الْكِتَابِ وَأَهْلُ اللَّبِنِ» قَالَ عُقْبَةُ: مَا أَهْلُ الْكِتَابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَتَعَلَّمُونَ كِتَابَ اللَّهِ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا» قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَهْلُ اللَّبِنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ " قَالَ: «قَوْمٌ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ وَيُضِيعُونَ الصَّلَوَاتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3417 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے اہل کتاب اور دودھ والے ہلاک ہو جائیں گے۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ اہل کتاب سے کون لوگ مراد ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ لوگ جو کتاب اللہ کا علم حاصل کر کے اس کے ذریعے اہل ایمان کے ساتھ بحث مباحثہ کریں گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ دودھ والوں سے کون سے لوگ مراد ہیں؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا: جو لوگ شہوات کی پیروی کرتے ہیں اور نمازیں قضا کرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عُقْبَةُ: مَا أَهْلُ الْكِتَابِ ← «سَيَهْلِكُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ الْكِتَابِ وَأَهْلُ اللَّبِنِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي قَبِيلٍ، ← مالك بن خيرٍ الزيادي، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3417

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3418

3418 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: 59] قَالَ: «نَهَرٌ فِي جَهَنَّمَ بَعِيدُ الْقَعْرِ خَبِيثُ الطَّعْمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3418 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فسوف یلقون غیا (مریم:59) تو عنقریب وہ جہنم میں غی کا جنگل پائیں گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: یہ جہنم میں ایک انتہائی گہری نہر ہے جس کا ذائقہ بہت گندہ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا} [مريم: ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3418

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3419

3419 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: «مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ، فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ الْعَافِيَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا» ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} [مريم: 64] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3419 - صحيح

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب میں جو چیز حلال کر دی، وہ حلال ہے اور جو چیزحرام کردی، وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے میں خاموشی اختیار کی وہ عافیت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عافیت کو قبول کرو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بھولتی نہیں ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: وکان ربک نسیا(مریم:64) " اور حضور ﷺ کا رب بھولنے والا نہیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ رَفَعَ الْحَدِيثَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3419

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3420

3420 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا} [مريم: 65] قَالَ: «لَمْ يُسَمَّ أَحَدٌ الرَّحْمَنَ غَيْرُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3420 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ھل تعلم لہ سمیا (مریم:65) "کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں: اللہ کے سوا کسی دوسرے کا یہ نام نہیں رکھا گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [مريم: ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْبَأَ وَكِيعٌ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3420

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3421

3421 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا} [مريم: 71] فَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَرِدُ النَّاسُ النَّارَ، ثُمَّ يَصْدُرُونَ بِأَعْمَالِهِمْ فَأَوَّلُهُمْ كَلَمْعِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَحُضْرِ الْفَرَسِ، ثُمَّ كَالرَّاكِبِ، ثُمَّ كَشَدِّ الرِّحَالِ، ثُمَّ كَمَشْيِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3421 - على شرط مسلم

حضرت سدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں حضرت مرہ ہمدانی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا (مریم:71) " اور تم میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو دوزخ پر لایا جائے گا، پھر لوگ اپنے اپنے اعمال کی مطابقت سے وہاں سے گزریں گے، سب سے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح گزر جائیں گے، پھر (جوان سے نچلے درجے کے ہوں گے وہ) ہوا کی طرح گزریں گے ( اور جوان سے نچلے درجے کے ہوں گےوہ) تیز رفتار گھوڑے کی طرح گزریں گے۔ پھر (جوان سے نچلے درجے کے ہوں گے وہ) تیزدوڑ والے گھوڑے کی طرح (پھر جو ان سے نچلے درجے کے لوگ ہونے وہ ) بوجھ اٹھانے والے جانوروں کی طرح اور پھر (جوان سے نچلے درجے کے ہوں گے وہ) پیدل لوگوں کی طرح وہاں سے گزریں گے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ← قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← سألت مرة الهمداني ← السُّدِّيِّ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3421

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3422

3422 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شِعَارُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3422 - على شرط مسلم

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن پل صراط پر مسلمانوں کا شعار (یہ ہو گا کہ وہ) رب سلم رب سلم (کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عبد الرحمن بن إسحاق القرشي ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3422

chevron_left Previous
1…454647…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section