المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3411
3411 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدٍ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كُلُّ بَنِي آدَمَ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ ذَنْبٌ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا» قَالَ: ثُمَّ دَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ عُودًا صَغِيرًا ثُمَّ قَالَ: «وَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَا لِلرِّجَالِ إِلَّا مِثْلُ هَذَا الْعُودِ لِذَلِكَ سَمَّاهُ اللَّهُ سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3411 - على شرط مسلم
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تمام انسانوں کے ذمہ کوئی نہ کوئی گنا ضرور ہو گا، سوائے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر پھیرا اور ایک چھوٹی سی لکڑی اٹھائی اور فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ عموماً جو چیز مردوں کے ساتھ ہوتی ہے یحییٰ میں وہ لکڑی سے بڑھ کر کچھ نہ تھی (یعنی جس طرح اس لکڑی میں شہوت کا شائبہ تک نہیں ہے اسی طرح حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بھی شہوت نہیں آتی تھی) ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کہا: سیدا وحصورا ونبیا من الصالحین (آل عمران:39) " اور سردار اور ہمیشہ کےلئے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے " (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3411
