Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3399

3399 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ ذَرَارِيَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3399 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں کی اولاد جنت میں رہیں گے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کریں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری ْ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3399

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3400

3400 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيٍّ {هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا} [الكهف: 104] الْحَرُورِيَّةُ هُمْ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُمْ أَصْحَابُ الصَّوَامِعِ، وَالْحَرُورِيَّةُ قَوْمٌ زَاغُوا فَأَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3400 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ : ھل انبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضل سعیھم فی الحیاۃ الدنیا وھم یحسبون انہم یحسنون صنعاً ( الکہف: 103،104)" تم فرماؤ کیاہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ )( اس آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے کیا) وہ :حروریہ" لوگ ہیں ۔ انہوں نے کہا : نہیں بلکہ وہ تو "اصحاب صوامع" نصاریٰ کے رہبان ہیں جبکہ " حروریہ" وہ قوم ہے جو ٹیڑھی ہو گئی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں کجی ڈال دی۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قُلْتُ لِأُبَيٍّ الْحَرُورِيَّةُ هُمْ؟ ← مُصْعَبَ بْنَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3400

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3401

3401 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أَبِي حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ هَذِهِ الْآيَةَ {قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا} [الكهف: 103] الْآيَةُ، قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَهُمُ الْخَوَارِجُ؟ قَالَ: لَا يَا بُنَيَّ اقْرَأِ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا {أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا} [الكهف: 105] قَالَ: «هُمُ الْمُجْتَهِدُونَ مِنَ النَّصَارَى كَانَ كُفْرُهُمْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ بِمُحَمَّدٍ وَلِقَائِهِ» وَقَالُوا: لَيْسَ فِي الْجَنَّةِ طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ وَلَكِنَّ الْخَوَارِجَ هُمُ الْفَاسِقُونَ الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3401 - صحيح

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت ابی (ابن کعب) کو قرآن پاک سنا رہا تھا، جب میں اس آیت پر پہنچا:"قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا" "تم فرماؤ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑھ کر ناقص اعمال کس کے ہیں؟" ۔ ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)میں نے پوچھا : اے بزرگوار! کیا یہ خوارج ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! نہیں۔ تم اس کے بعد والی آیت پڑھو:"اولئک الذین کفرو بآیات ربہم ولقائہ فحبطت اعمالہم فلا نقم لہم یوم القیامۃ وزنا" " یہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتیں اور اس کا ملنا نہ مانا تو ان کا کیا دھرا سب اکارت ہے تو ہم ان کے لیئے قیامت کے دن کوئی تول قائم نہ کریں گے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آپ نے فرمایا: وہ تو نصاریٰ کے علماء ہیں جو کہ محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی نشانیوں کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: جنت میں کوئی خوردونوش نہیں ہے اور خوارج وہ فاسق لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے پختہ وعدہ کر کے توڑ ڈالا تھا اور اس چیز کو توڑا جس کو ملانے کا حکم دیا تھا اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← خَلَّادٌ الصَّفَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3401

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3402

3402 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا} [الكهف: 107] قَالَ عَمْرٌو: أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلُوا اللَّهَ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهَا سُرَّةُ الْجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ نَجِدْ بُدًّا مِنْ إِخْرَاجِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3402 - جعفر هالك

حضرت عمرو بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: کانت لہم جنات الفردوس نزلا (الکہف : 107) " فردوس کے باغ ان کی مہمانی ہے" ۔ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے "فردوس" مانگا کرو کیونکہ یہ جنت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔یہ حدیث ہم نے صرف اسی سند کے ہمراہ نقل کی ہے اور اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عَمْرٌو: أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3402

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3403

3403 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ مَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا كَانَ لَهُ نُورًا مِنْ أَبْيَنَ إِلَى مَكَّةَ حَشُّهُ الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3403 - أبو قرة فيه جهالة ولم يضعف

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جو شخص اپنے رب کی ملاقات چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ، اس کے لئے (مقام) ابین سے مکہ تک (کی مسافت کے برابر) نو ر ہو گا جہاں فرشتے ہی فرشتے ہوں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3403

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3404

3404 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَتَلَا {فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: 110] فَقَالَ: أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ فَعَادَ الرَّجُلُ فَقَالَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3404 - صحيح

حضرت سعید بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یزید ہارون نے اس آیت کی تلاوت کی : فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا ( الکہف:110) " اسے چاہئے کہ نیک کام کرتے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پھر اسی سند کے ہمراہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی" ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ جو شخص حصول دنیا کےلئے جہاد فی سبیل اللہ کرے ( کیا اس کو اجر و ثواب ملے گا؟) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو کوئی اجر نہیں ملے گا ۔ لوگوں کو یہ حکم بہت سخت محسوس ہوا۔ پھر ایک شخص نے دوبارہ یہی بات دہرائی، آپ نے ( اسے بھی ) فرمایا: ایسے شخص کے لئے کوئی اجر نہیں ہے۔یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أنبا ابن أبي ذئب ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَتَلَا ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3404

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3405

3405 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {كهيعص} [مريم: 1] قَالَ: كَافٌّ مِنْ كَرِيمٍ، وَهَا مِنْ هَادٍ، وَيَا مِنْ حَكِيمٍ، وَعَيْنٌ مِنْ عَلِيمٍ، وَصَادٌ مِنْ صَادِقٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3405 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد: کھیعص کے متعلق فرماتے ہیں : کاف سے مراد کریم،ہا سے مراد ہادی، یا سے مراد حکیم، عین سے مراد علیم اور صاد سے مراد صادق ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {كهيعص} [مريم: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3405

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3406

3406 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {كهيعص} [مريم: 1] قَالَ: «كَافٌّ هَادٍ أَمِينٌ عَزِيزٌ صَادِقٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3406 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہیعص سے مراد کافی ، ہادی ، امین ، عزیز، صادق ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {كهيعص} [مريم: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ أَنْبَأَ شَرِيكٌ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3406

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3407

3407 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا} [مريم: 7] قَالَ: «لَمْ يُسَمَّ يَحْيَى قَبْلَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3407 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: لم نجعل لہ من قبل سمیا (مریم:7) " اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متلعق فرماتے ہیں ۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام سے پہلے یہ نام کبھی بھی کسی نے نہیں رکھا۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3407

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3408

3408 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا} [مريم: 8] مَا الْعِتِيُّ؟ قَالَ: «الْبُؤْسُ مِنَ الْكِبْرِ» قَالَ الشَّاعِرُ: [البحر الخفيف] إِنَّمَا يُعْذَرُ الْوَلِيدُ وَلَا ... يُعْذَرُ مَنْ كَانَ فِي الزَّمَانِ عَتِيًّا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3408 - قال أحمد بن حنبل محمد بن زياد اليشكري الطحان كذاب خبيث يضع الحديث وابن شجاع من ضعفاء المراوزة

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: وقد بلغت من الکمر عنھا (مریم:8) :" اور میں بڑھاپے سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) کے متلعق فرماتے ہیں: (اس سے مراد) بڑھاپے کی محتاجی ہے شاعر نے کہا ہے؎ انما یعزر الولید ولا یعدر من کان فی الزمان عتیا " معذور تو نو مولود ہوتا ہے اور وہ شخص معذور نہیں ہے جو شدت ومحتاجی کے زمانے تک پہنچ چکا ہے"

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ اليَشْكُرِيُّ، ← أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3408

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3409

3409 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا} [مريم: 11] قَالَ: «كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِالصَّلَاةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3409 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فاوحی الیہم ان سمحو ابکرۃ وعشیا (مریم :11) " تو انہیں ! اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : وہ ان کو صبح وشام نماز پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا [مريم: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3409

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ · حديث 3410

3410 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا} [مريم: 13] قَالَ: «التَّعَطُّفُ بِالرَّحْمَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3410 - صحيح

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وحنانا من لدنا (مریم:13) " اور اپنی طرف سے مہربانی " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ ) کے متلعق فرماتے ہیں اس سے مراد " رحمت ربانی " ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اامام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ ،قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا [مريم: ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِيهِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Mary · Hadith 3410

chevron_left Previous
1…444546…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section