المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3387
3387 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنُ شَجَرَةَ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى بِيَ الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي: «اجْلِسْ» فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ الْكَعْبَةِ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ لِي: «انْهَضْ» فَنَهَضْتُ فَلَمَّا رَأَى ضَعْفِي تَحْتَهُ قَالَ لِي: «اجْلِسْ» فَنَزَلْتُ وَجَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عَلِيُّ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبِي» فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ نَهَضَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَهَضَ بِي خُيِّلَ إِلَيَّ لَوْ شِئْتُ نِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ فَصَعِدْتُ فَوْقَ الْكَعْبَةِ وَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «أَلْقِ صَنَمَهُمُ الْأَكْبَرَ صَنَمَ قُرَيْشٍ» وَكَانَ مِنْ نُحَاسٍ مُوَتَّدًا بِأَوْتَادٍ مِنْ حَدِيدٍ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَالِجْهُ» وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي: إِيهٍ إِيهٍ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] " فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَالَ اقْذِفْهُ فَقَذَفْتُهُ فَتَكَسَّرَ وَتَرَدَّيْتُ مِنْ فَوْقِ الْكَعْبَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْعَى وَخَشِينَا أَنْ يَرَانَا أَحَدٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا صُعِدَ بِهِ حَتَّى السَّاعَةِ
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے ہمراہ لے کر چل دیئے اور کعبۃ اللہ میں لے گئے۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے کندھوں پر سوار ہو گئے اور مجھے فرمایا: اٹھو! میں اٹھا، لیکن جب آپ نے میری کمزوری اور ضعف کو دیکھا تو مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، پھر آپ نے مجھ سے کہا: اے علی! تم میری کندھوں پر چڑھو، میں آپ کے کندھوں پر چڑھ گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے اوپر اٹھایا۔ جب آپ ﷺ نے مجھے اوپر اٹھا لیا (تو اس قدر بلند ہو چکا تھا) مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کناروں کو ہاتھ لگا سکتا ہوں، پھر میں کعبہ کے اوپر چڑھ گیا اور رسول اللہ ﷺ نیچے سے ہٹ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ان کے بڑے بت کو گراؤ، وہ قریش کا بت تھا۔ وہ تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین کے ساتھ ٹھونکا ہوا تھا۔ مجھے رسول اللہ ؤ نے فرمایا: اس کا علاج کر دو اور رسول اللہ ﷺ مجھے کہہ رہے تھے اور کرو اور کرو: جاء الحق وزھق الباطل کان زھوقا ( الاسراء : 81) " حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) میں اس کو مسلسل توڑتا رہا حتی ٰ کہ اس کو زمین سے اکھیڑ ڈالا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو پھینک دو، میں نے اس کو پھنک دیا، تو وہ ٹوٹ گیا اور میں نے کعبہ کے اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ پھر میں اور نبی اکرم ﷺ تیز تیز چلتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ قریش اور دوسرے قبیلے کا کوئی آدمی ہمیں نہ دیکھ لے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج تک رسول اللہ ﷺ نے اور کسی کو (اپنے کندھوں پر) نہیں چڑھایا۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عبد الله بن روح المدائني ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف بن شجرة القاضي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3387
