Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3387

3387 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفِ بْنُ شَجَرَةَ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى بِيَ الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي: «اجْلِسْ» فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ الْكَعْبَةِ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ لِي: «انْهَضْ» فَنَهَضْتُ فَلَمَّا رَأَى ضَعْفِي تَحْتَهُ قَالَ لِي: «اجْلِسْ» فَنَزَلْتُ وَجَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عَلِيُّ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبِي» فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ نَهَضَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا نَهَضَ بِي خُيِّلَ إِلَيَّ لَوْ شِئْتُ نِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ فَصَعِدْتُ فَوْقَ الْكَعْبَةِ وَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «أَلْقِ صَنَمَهُمُ الْأَكْبَرَ صَنَمَ قُرَيْشٍ» وَكَانَ مِنْ نُحَاسٍ مُوَتَّدًا بِأَوْتَادٍ مِنْ حَدِيدٍ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَالِجْهُ» وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي: إِيهٍ إِيهٍ {جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا} [الإسراء: 81] " فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ فَقَالَ اقْذِفْهُ فَقَذَفْتُهُ فَتَكَسَّرَ وَتَرَدَّيْتُ مِنْ فَوْقِ الْكَعْبَةِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْعَى وَخَشِينَا أَنْ يَرَانَا أَحَدٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا صُعِدَ بِهِ حَتَّى السَّاعَةِ

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے ہمراہ لے کر چل دیئے اور کعبۃ اللہ میں لے گئے۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں کعبہ کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ میرے کندھوں پر سوار ہو گئے اور مجھے فرمایا: اٹھو! میں اٹھا، لیکن جب آپ نے میری کمزوری اور ضعف کو دیکھا تو مجھے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں بیٹھ گیا، پھر آپ نے مجھ سے کہا: اے علی! تم میری کندھوں پر چڑھو، میں آپ کے کندھوں پر چڑھ گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے اوپر اٹھایا۔ جب آپ ﷺ نے مجھے اوپر اٹھا لیا (تو اس قدر بلند ہو چکا تھا) مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو آسمان کے کناروں کو ہاتھ لگا سکتا ہوں، پھر میں کعبہ کے اوپر چڑھ گیا اور رسول اللہ ﷺ نیچے سے ہٹ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ان کے بڑے بت کو گراؤ، وہ قریش کا بت تھا۔ وہ تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین کے ساتھ ٹھونکا ہوا تھا۔ مجھے رسول اللہ ؤ نے فرمایا: اس کا علاج کر دو اور رسول اللہ ﷺ مجھے کہہ رہے تھے اور کرو اور کرو: جاء الحق وزھق الباطل کان زھوقا ( الاسراء : 81) " حق آیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل کو مٹنا ہی تھا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) میں اس کو مسلسل توڑتا رہا حتی ٰ کہ اس کو زمین سے اکھیڑ ڈالا، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو پھینک دو، میں نے اس کو پھنک دیا، تو وہ ٹوٹ گیا اور میں نے کعبہ کے اوپر سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ پھر میں اور نبی اکرم ﷺ تیز تیز چلتے ہوئے وہاں سے نکل آئے کیونکہ ہمیں خدشہ تھا کہ قریش اور دوسرے قبیلے کا کوئی آدمی ہمیں نہ دیکھ لے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آج تک رسول اللہ ﷺ نے اور کسی کو (اپنے کندھوں پر) نہیں چڑھایا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عبد الله بن روح المدائني ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف بن شجرة القاضي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3387

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3388

3388 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3387 - إسناده نظيف والمتن منكر

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3388

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3389

3389 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا} [الإسراء: 97] فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَفْوَاجٍ طَاعِمِينَ كَاسِينَ رَاكِبِينَ، وَفَوْجٌ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ، وَفَوْجٌ تَسْحَبُهُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى وُجُوهِهِمْ» قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا هَذَيْنِ فَمَا تِلْكَ الَّذِينَ يَمْشُونَ وَيَسْعَوْنَ؟ قَالَ: «يُلْقِي اللَّهُ الْآفَةَ عَلَى الظَّهْرِ حَتَّى لَا تَبْقَى ذَاتُ ظَهْرٍ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطِي الْحَدِيقَةَ الْمُعْجِبَةَ بِالشَّارِدَةِ ذَاتِ الْقَتَبِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3389 - على شرط مسلم ولكنه منكر

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ونحشرھم یوم القیامۃ علیٰ وجوھہم عمیا وبکما وصما (الاسراء:97) " اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے اور گونگے اور بہرے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور فرمایا: مجھے صادق و مصدوق نے بتایا ہے: قیامت کے دن لوگ تین جماعتوں میں جمع کئے جائیں گے۔ (1) آسودہ حال سوار یوں پر خرام ناز کرتے ہوئے۔ (2) ایک جماعت ایسی ہو گی جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے۔ (3) ایک جماعت ایسی ہو گی جن کو فرشتے منہ کے بل زمین پر گھسیٹتے ہوئے لائیں گے۔ ہم نے کہا: ہم ان دونوں جماعتوں کو تو جانتے ہیں لیکن یہ جماعت کون سی ہے جو پیدل چل رہے ہوں گے اور دوڑ رہے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پشت پر آفت ڈالے گا یہاں تک کہ کوئی صاحب پشت نہ رہے گا یہاں تک کہ آدمی زین والے ایک چھوٹے سے جانور کے بدلے ایک خوبصورت باغ پیش کرے گا(لیکن پھر بھی اس کو وہ جانور نہ ملے گا)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو ذَرٍّ ← أبا ذر الغفاري -وتلا هذه الآية ← حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3389

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3390

3390 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ نَزَلَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي عِشْرِينَ سَنَةً وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا} [الفرقان: 33] قَالَ: {وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزِّلْنَاهُ تَنْزِيلًا} [الإسراء: 106] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3390 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پورا قرآن یکبار گی آسمان دنیا پر نازل ہوا پھر اس کے بعد وہاں سے 20 سالوں میں تدریجاً نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ولا یاتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرا ( الفرقان:33) " اور کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ) وقرآنا فرقناہ لتقراہ علی الناس علیٰ مکث ونزلناہ تنزیلا ( الاسراء:106) " اور قرآن ہم نے جدا جدا کر کے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ داود بن أبي هند ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3390

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3391

3391 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3391 - صحيح

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لے گا وہ دجال (کے فتنہ) سے محفوظ رہے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← يزيد بن هارون أنبأ همام بن يحيى ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3391

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3392

3392 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَهُ مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3392 - نعيم ذو مناكير

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھتا ہےاس کے لیے دو جمعوں کے درمیان ایک (خاص) نور روشن کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← هشيم أنبأ أبو هاشم ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3392

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3393

3393 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، أَنْبَأَ السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: 17] قَالَ: «يُقَرَّبُ إِلَيْهِ فَيَتَكَرَّهُهُ فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَهُ قَطَعَ أَمْعَاءَهُ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ» يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: 15] وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: 29] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت ابو اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ویسقی من ماء صدید ، یتجر عہ (ابراہیم:17-16) "اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) فرمایا: اس کو یہ پیش کیا جائے گا تو وہ اس کو ناپسند کرے گا پھر جب وہ اس کو اپنے منہ کے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی، جب وہ اس کو پیئے گا جس سے اس کی انتڑیاں گل سڑ جائیں گی اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وسقو ا ماء حمیما فقطع امعاء ھم (محمدﷺ:15) " اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے کہ آنتوں کہ ٹکڑے ٹکڑے کر دے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) وان یستغیثو ا یغاثو ا بماء کالمھل یشوی الوجوہ بئس الشراب (الکہف:29) " اور اگر پانی کے لئے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دیئے ہوئے (کھوتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، أَنْبَأَ السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3393

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3394

3394 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا لَقِيَ مُوسَى الْخَضِرَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ جَاءَ طَيْرٌ فَأَلْقَى مِنْقَارَهُ فِي الْمَاءِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى تَدَبَّرْ مَا يَقُولُ هَذَا الطَّيْرُ، قَالَ: وَمَا يَقُولُ؟ قَالَ: يَقُولُ: مَا عِلْمُكَ وَعِلْمُ مُوسَى فِي عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَمَا أَخَذَ مِنْقَارِي مِنَ الْمَاءِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3394 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ بیان نقل کیا ہے: جب موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے ملے تو ایک پرندہ آیا اور اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈال دی۔ خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا : غور کیجئے! یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: یہ کیا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: تمہارا علم اور موسیٰ علیہ السلام کا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں اتنی ہی نسبت رکھتا ہے جو حیثیت میری چونچ میں آنے والے پانی کی اس دریا کے مقابلے میں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبِي ← أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3394

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3395

3395 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا} [الكهف: 82] قَالَ: «حِفْظًا لِصَلَاحِ أَبِيهِمَا وَمَا ذَكَرَ عَنْهُمَا صَلَاحًا» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3395 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وکان ابو ہما صالحا (الکہف:82) " اور ان کا باپ نیک آدمی تھا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ ان کے باپ کی نیکی کے صلہ کے طور پر کہا گیا ہے اور ان کی اپنی نیکی کا یہاں پر کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

حِفْظًا لِصَلَاحِ أَبِيهِمَا وَمَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا} [الكهف: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3395

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3396

3396 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: 82] قَالَ: «مَا كَانَ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً كَانَ صُحُفًا عِلْمًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَةُ بِضِدِّهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3396 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ: وکان تحتہ کنز لھما (الکہف:82) " اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: وہ کوئی سونا یا چاندی نہیں تھا بلکہ وہ علم کے صحیفے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔حضرت ابوالدرداء سے مروی درج ذیل صحیح حدیث ثابت ہے جس کا مفہوم مذکورہ حدیث کے بالکل مخالف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3396

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3397

3397 - حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِمْلَاءً، ثنا حُسَامُ بْنُ بِشْرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: 82] قَالَ: «ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3397 - بل يزيد بن يوسف متروك

حضرت ابوالددراء رضی اللہ عنہ نے : وکان تحتہ کنز الہما (الکہف: 82) " اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ سونا اور چاندی تھی"۔

«ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ» [التعليق من تلخيص الذهبي] بل يزيد بن يوسف متروك ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَكَانَ تَحْتَهُ كَنْزٌ لَهُمَا} [الكهف: ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← مَكْحُولٌ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ← يزيد بن يوسف ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ ← حُسَامُ بْنُ بِشْرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَامِرٍ الشَّيْبَانِيُّ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3397

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3398

3398 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الْوِلْدَانِ أَفِي الْجَنَّةِ هُمْ؟ قَالَ: «حَسْبُكِ مَا اخْتَصَمَ فِيهِ مُوسَى وَالْخَضِرُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3398 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت اب ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ جنت میں جائیں گے؟ انہوں نے فرمایا: ( اس سلسلہ میں ) وہی کافی ہے: جس میں موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے درمیان مباحثہ ہو چکا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا د ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الولدان أفي الجنة هم؟ ← سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3398

chevron_left Previous
1…434445…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section