Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3375

3375 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: جَاءَ أَبُو الْعُبَيْدَيْنِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعَرَّفُ لَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ؟ قَالَ: «فَمَا حَاجَتُكَ؟» قَالَ: مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: «الرَّحِيمُ» . قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: «مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ» . قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: «إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ» . قَالَ: فَمَا الْأُمَّةُ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3375 - على شرط البخاري ومسلم

یحییٰ بن الجزر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو العبید ین حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پس آئے، ان کی بینائی کمزور تھی لیکن حضرت عبداللہ ان کو پہنچانتے تھے۔ اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! اگر ہم آپ سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو تیری حاجت کیا ہے؟ اس نے کہا: " الاواۃ" کس کو کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: الرحیم۔ اس نے کہا: " ماعون" کس کو کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ تعاون جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس نے کہا: "تبذیر" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خرچ کرنا۔ اس نے کہا: " الامۃ" کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جو لوگوں کی بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ ے اس نقل نہیں کیا۔

يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3375

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3376

3376 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: 1] أَقْبَلَتِ الْعَوْرَاءُ أُمُّ جَمِيلِ بِنْتُ حَرْبٍ وَلَهَا وَلْوَلَةٌ وَفِي يَدِهَا فِهْرٌ وَهِيَ تَقُولُ: مُذَمَّمًا أَبَيْنَا وَدِينَهُ قَلَيْنَا وَأَمْرَهُ عَصَيْنَا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا رَآهَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَقْبَلَتْ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ تَرَاكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَنْ تَرَانِي» وَقَرَأَ قُرْآنًا فَاعْتَصَمَ بِهِ كَمَا قَالَ: وَقَرَأَ {وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا} [الإسراء: 45] فَوَقَفَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ صَاحِبَكَ هَجَانِي. فَقَالَ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا هَجَاكِ. فَوَلَّتْ وَهِيَ تَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنِّي بِنْتُ سَيِّدِهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3376 - صحيح

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: جب: تبت یدا ابی لہب ( اللہب: 1) " تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ"( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) سورۃ نازل ہوئی تو ایک کانی عورت ام جمیل بنت حرب واویلا کرتے ہوئے آپ کی جانب آئی، اس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھا اوروہ کہہ رہی تھی : ہم مذمم کا انکار کرتے ہیں اور اس کے دین کو نہیں اپناتے اور اس کے حکم کی تعمیل نہیں کرتے اس وقت نبی اکرمﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا تو عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ عورت آ رہی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ یہ آپ کو دیکھ لے گی ( تو نقصان پہنچائے گی) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکے گی اور آپ ﷺ نے قرآن کی تلاوت کی اور اس کے ساتھ اپنی حفاظت کی۔ جیسا کہ قرآن میں ہے: واذا قرات القرآن جعلنا بینک وبین الذین لا یو منون بالاخرۃ حجابا مستورا ( الاسراء: 45) " اور اے محبوب ! تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کر دیا" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ ) چنانچہ اس کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تو پتہ چلا لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کو نہ دیکھ سکی۔ وہ بولی: اے ابو بکر رضی اللہ عنہ ! مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھ نے میری برائی کی ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رب کعبہ کی قسم ہے، انہوں نے تو آپ کی کوئی برائی نہیں کی تو وہ یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی۔ قریش جانتے ہیں کہ میں ان کے سردار کی بیٹی ہوں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3376

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3377

3377 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْنَاهُ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ} [الإسراء: 51] مَا الَّذِي أَرَادَ بِهِ؟ قَالَ: «الْمَوْتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3377 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے آپ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: اوخلقاً مما یکبر فی صدور کم (الاسراء: 51) " یاکوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو" ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) کے بارے میں پوچھا" اس سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: موت۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا الَّذِي أَرَادَ بِهِ؟ ← سَأَلْنَاهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3377

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3378

3378 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ وَتَمَسَّكَ الْإِنْسِيُّونَ بِعِبَادَتِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: 57] «كِلَاهُمَا بِالْيَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3378 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کچھ انسان، جنات کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے پھر جنات کا وہ گروہ مسلمان ہو گیا جبکہ وہ انسان بدستور ان جنات کی عبادت کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں: قل ادعواالذین زعمتم من دونہ فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا ( الاسراء: 56) " تم فرماؤ پکارو انہیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے اور نہ پھیر دینے کا " ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اولٰئک الذین یدعون یبتغون الیٰ ربہم الوسیلۃ ( الاسراء : 57) " وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ آپ ہی اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں"۔ ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) دونوں جگہ پر ( یدعون ور یبتغون) یاء کے ساتھ ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3378

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3379

3379 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمُ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ تُنَحَّى عَنْهُمُ الْجِبَالُ فَيَزْرَعُوا فِيهَا فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ شِئْتَ آتَيْنَاهُمْ مَا سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَسْتَأْنِيَ بِهِمْ لَعَلَّنَا نَسْتَحْيِي مِنْهُمْ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ: {وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً} [الإسراء: 59] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3379 - صحيح

حضرت (عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ ان کے لئے کوہ صفا کو سنا بنا دیا جائے اور یہ کہ پہاڑ وہاں سے ہٹا دیے جائیں تاکہ ہم کھیتی باڑی کر سکیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کر سکتا ہوں لیکن اگر اس کے بعد کسی نے انکار کیا تو تمہیں اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا جیسے سابقہ قومون کو ہلاک کیا گیا اور اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دیتا ہوں۔ شاید کہ ہم اس سے حیا کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز ل فرمائی: وما منعنا ان نرسل بالآیات الا ان کذب بہا الاولون وآتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ (الاسراء : 59) " اور ہم ایسی نشانیاں بھیجنے سے یونہی بازر ہے کہ انہیں اگلوں نے جھٹلایا ور ہم نے ثمود کو ناقہ دیا آنکھیں کھولنے کو تو انہوں نے اس پر ظلم کیا" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3379

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3380

3380 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ: «هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَأَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3380 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وماجعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس ( الاسراء : 60) " اور ہم نے یہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ وہ حقیقی خواب تھا جو معراج کی رات آپ کی (جاگتی) آنکھوں نے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3380

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3381

3381 - وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ} [الإسراء: 60] قَالَ: «هِيَ الزَّقُّومُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قرآن پاک میں جس " الشجرۃ الملعونۃ" کا ذکر ہے وہ " تھوہڑ" کا درخت ہے۔

«هِيَ الزَّقُّومُ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ {وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ} [الإسراء: ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3381

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3382

3382 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ قَالَ: فَنَظَرْنَا يَوْمًا إِلَى ذَلِكَ فَقَالَ: «مَا تَنْظُرُونَ؟» قَالُوا: إِلَى الشَّمْسِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ» ، ثُمَّ قَالَ: " {أَقِمُ الصَّلَاةِ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ} [الإسراء: 78] ، فَهَذَا دُلُوكُ الشَّمْسِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3382 - على شرط البخاري ومسلم

عبدالرحمٰن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ مغرب کی نماز پڑھ رہے ہوتے اور ہم دیکھتے کہ ابھی سورج موجود ہوتا تھا۔ ایک دن ہم لوگو یہی دیکھ رہے تھے تو انہوں نے پوچھا: تم لوگ کیا دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: سورج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے یہ اسی نماز کا وقت ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: اقم الصلاۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل ( الاسراء : 78) " نماز قائم رکھو سورج ڈھلنے سے رات کی اندھیری تک" ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پس " دلوک الشمس" یہی وقت ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ: «هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مِيقَاتُ هَذِهِ الصَّلَاةِ» ثُمَّ ← إلى الشمس ← «مَا تَنْظُرُونَ؟» ← فَنَظَرْنَا يَوْمًا إِلَى ذَلِكَ ← كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إبْرَاهِيمَ وَعُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3382

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3383

3383 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ وَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يُؤْذِنُ لِي فَأَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَقُولَ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3383 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اٹھائے گا تو میں اور میری امت ایک ٹیلے پر ہوں گے اور مجھے سبز رنگ کا جبہ پہنایا جائے ، پھر مجھے اذن دیا جائے گا اور میں کہوں گا جو کچھ اللہ چاہے گا پس یہی " مقام محمود" ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3383

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3384

3384 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] قَالَ: يُجْمَعُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ حُفَاةً عُرَاةً كَمَا خُلِقُوا سُكُوتًا لَا تَتَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، قَالَ: فَيُنَادَى مُحَمَّدٌ فَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ الْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَكَ وَإِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ سُبْحَانَ رَبِّ الْبَيْتِ» فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: 79] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ.» بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ، حَدِيثَ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ لَيَخْرُجَنَّ مِنَ النَّارِ، فَقَطْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3384 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد : عسیٰ ان یبعتک ربک مقاما محمودا ( الاسراء :79) "قریب ہے کہ تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں" ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے سنا ہے: اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ایک مقام پر جمع فرمائے گا۔ ان کو بلانے والا سنائے گا اور آنکھیں ان کو دیکھیں گی اور ننگے پاؤں اور ننگے بدن جس حالت پر ان کی پیدائش ہوئی۔ سب خاموش ہوں گے اور کوئی نفس اس کی اجازت کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا پھر محمد ﷺ کو آواز دی جائے گی۔ آپ ﷺ جوابا کہیں گے: میں حاضر ہوں اور تمام بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور تمام شر تیری ہی طرف ہے۔ ہدایت یافتہ وہی ہے جس کے تو نے ہدایت دی اور تیرابندہ تیرے سامنے حاضر ہے اور تیرے ہی لئے ہے اور تیری ہی طرف ہے اور تیرے علاوہ کوئی ٹھکانہ اور کوئی جائے پناہ نہیں، تو برکت والا ہے، بلند ہے۔ اے کعبہ کے رب تو پاک ہے پس یہی وہ مقام محمود ہو گا جس کا اللہ تعالیٰ قرآن میں ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے: عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محمودا ( الاسراء: 79) " قریب ہے کہ تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں" (ترجمہ کنز الایمان، اما م احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو مالک اشجعی پھر ربعی بن حراش کے واسطے سے حضرت حذیفہ کے حوالے سے صرف "لیخرجن من النار" کے الفاظ نقل کئے ہیں۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3384

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3385

3385 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ وَهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّنَا تَحْفَظُ عَلَى الْبَعْلِ، وَتُكْرِمُ الضَّيْفَ، وَقَدْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَيْنَ أُمُّنَا؟ قَالَ: «أُمُّكُمَا فِي النَّارِ» فَقَامَا وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَا فَقَالَ: «إِنَّ أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا» فَقَالَ مُنَافِقٌ مِنَ النَّاسِ لِي: مَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ إِلَّا مَا يُغْنِي ابْنَا مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّهِمَا وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ أَرْ رَجُلًا كَانَ أَكْثَرَ سُؤَالًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى أَبَوَاكَ فِي النَّارِ فَقَالَ: «مَا سَأَلْتُهُمَا رَبِّي فَيُعْطِينِي فِيهِمَا وَإِنِّي لَقَائِمٌ يَوْمَئِذٍ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ» قَالَ: فَقَالَ الْمُنَافِقُ لِلشَّابِّ الْأَنْصَارِيِّ: سَلْهُ وَمَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: " يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ فِيهِ عَلَى كُرْسِيِّهِ يَئِطُّ بِهِ كَمَا يَئِطُّ الرَّحْلُ مِنْ تَضَايُقِهِ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْسُوا خَلِيلِي رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامًا يَغْبِطُنِي فِيهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ وَيُشَقُّ لِي نَهَرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى حَوْضِي " قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، لَقَلَّ مَا جَرَى نَهَرٌ قَطُّ إِلَّا وَكَانَ فِي فَخَّارَةٍ أَوْ رَضْرَاضٍ فَسَلْهُ فِيمَا يَجْرِي النَّهَرُ؟ قَالَ: «فِي حَالَةٍ مِنَ الْمِسْكِ وَرَضْرَاضٍ» قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، لَقَلَّ مَا جَرَى نَهَرٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبَاتٌ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: «قُضْبَانُ الذَّهَبِ» قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، وَاللَّهِ مَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَسَلْهُ هَلْ لِتِلْكَ الْقُضْبَانِ ثِمَارٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، اللُّؤْلُؤُ وَالْجَوْهَرُ» قَالَ: فَقَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، سَلْهُ عَنْ شَرَابِ الْحَوْضِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا شَرَابُ الْحَوْضِ؟ قَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا وَمَنْ حَرَمَهُ لَمْ يَرْوِ بَعْدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ هُوَ ابْنُ الْيَقْظَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3385 - لا والله فعثمان ضعفه الدراقطني والباقون ثقات

حضرت ابن مسعو د انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ملیکہ کے دو بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں انصاری ہیں۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہماری والدہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہیں اور مہمان نواز ہے۔ لیکن زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا تو ہماری والدہ کس حالت میں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ جہنم میں ہے ۔ وہ دونوں کھڑے ہوئے اور یہ بات ان دونوں پر بہت شاق گزری۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: میری والدہ بھی تمہاری والدہ کے ساتھ ہے تو ایک منافق نے مجھے کہا: یہ (نبی) اپنی والدہ کے بارے میں اتنا ہی اختیاررکھتا ہے جتنا ملیکہ کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے بارے میں۔ یہ بات کرتے ہوئے ہم اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اور میرا خیال ہے اس نوجوان سے زیادہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ سے سوال نہیں کیا کرتا تھا ( اس نے کہا) یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو آپ کے والدین کو جہنمی خیال کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا، اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا اور میں اس دن مقام محمود میں کھڑا ہوں گا۔ اس منافق نے انصاری نوجوان سے کہا: تو ان سے پوچھ کہ مقام محمود کیا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ " مقام محمود" کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ اپنی اس کرسی پر ( اپنی شان کے لائق) جلوہ فرما ہو گااور وہ یوں جوش میں آئے گی جیسے کجا وہ تنگ ہونے کی وجہ سے جوش میں آتا ہے حالانکہ یہ اتنی وسیع ہے جتنی وسعت زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور تمہیں ننگے پاؤں اور ننگے بدن لایا جائے گا اور سب غیر ختنہ شدہ ہوں گے۔ پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے دوست کو جنت کی دو سفید چادریں پہناؤ پھر ان کے بعد اسی طرح مجھے لباس پہنایا جائے گا ۔ پھر میں اللہ عزوجل کی دائیں جانب ایسی جگہ پر کھڑا ہوں گا جہاں پر تمام اولین و آخرین میرے اوپر رشک کریں گے پھر کوثر سے میرے حوض تک ایک نہر بنائی جائے گی۔ منافق نے کہا: میں نے آج تک ایسی بات نہیں سنی ، بہت کم نہریں جاری ہوتی ہیں اور وہ بھی پکی ہوئی مٹی میں یا کنکریوں میں جاری ہوتی ہیں۔ تو ان سے پوچھ: وہ نہر کس میں رواں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مشک حالہ اور کنکریوں میں۔ منافق نے کہا: ایسی بات تو میں نےاس سے پہلے آج تک نہیں سنی اور جہاں بھی نہر جاری ہوتی ہے اس میں پودے وغیرہ اگے ہوتے ہیں :اس نے کہا: جی ہاں ۔اس نے پوچھا: اس نہر کے پودے کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سونے کی ٹہنیاں ہوں گی۔ منافق نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے تو کبھی نہیں سنی۔ خدا کی قسم! کوئی بھی پودا اگتا ہے تو اس کے پھل ہوتے ہیں۔ تو ا ن سے پوچھ : ان ٹہنیوں پہ پھل ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں موتی اور جواہر اس کے پھل ہوں گے۔ اس نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ تو ان سے حوض کے پانی کے متعلق پوچھ؟ اس انصاری نوجوان نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ حوض کا پانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ، اللہ تعالیٰ جس کو اس کا ایک گھونٹ پلا دے گا اس کوپھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور عثمان بن عمیر" ابن یقظان" ہے۔

جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ وَهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3385

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3386

3386 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ لِي صَاحِبٌ لِي وَأَنَا بِالْكُوفَةِ، هَلْ لَكَ فِي رَجُلٍ تَنْظُرُ إِلَيْهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: هَذِهِ مَدْرَجَتُهُ وَإِنَّهُ أُوَيْسٌ الْقَرَنِيُّ وَأَظُنُّهُ أَنَّهُ سَيَمُرُّ الْآنَ، قَالَ: فَجَلَسْنَا لَهُ فَمَرَّ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ سَمَلٌ قَطِيفَةٌ، قَالَ: وَالنَّاسُ يَطَئُونَ عَقِبَهُ، قَالَ: وَهُوَ يُقْبِلُ فَيُغْلِظُ لَهُمْ وَيُكَلِّمُهُمْ فِي ذَلِكَ فَلَا يَنْتَهُونَ عَنْهُ، فَمَضَيْنَا مَعَ النَّاسِ حَتَّى دَخَلَ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ وَدَخَلْنَا مَعَهُ فَتَنَحَّى إِلَى سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لِي وَلَكُمْ تَطَئُونَ عَقِبِي فِي كُلِّ سِكَّةٍ وَأَنَا إِنْسَانٌ ضَعِيفٌ تَكُونُ لِيَ الْحَاجَةُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهَا مَعَكُمْ لَا تَفْعَلُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ مَنْ كَانَتْ لَهُ إِلَيَّ حَاجَةٌ فَلْيَلْقَنِي هَا هُنَا» قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَأَلَ وَفْدًا قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ سَقَطَ إِلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ قَرْنٍ مِنْ أَمْرِهِ كَيْتَ وَكَيْتَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ لِأُوَيْسٍ: ذَكَرَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ كَمَا يُقَالَ: مَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ ذِكْرِهِ مَا أَتَبَلَّغُ إِلَيْكُمْ بِهِ، قَالَ: وَكَانَ أُوَيْسٌ أَخَذَ عَلَى الرَّجُلِ عَهْدًا وَمِيثَاقًا أَنْ لَا يُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَهُ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ أُوَيْسٌ: «إِنَّ هَذَا الْمَجْلِسَ يَغْشَاهُ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مُؤْمِنٌ فَقِيهٌ، وَمُؤْمِنٌ لَمْ يَتَفَقَّهْ، وَمُنَافِقٌ وَذَلِكَ فِي الدُّنْيَا مِثْلُ الْغَيْثِ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَيُصِيبُ الشَّجَرَةَ الْمُورِقَةَ الْمُونِعَةَ الْمُثْمِرَةَ، فَيَزِيدُ وَرَقَهَا حُسْنًا وَيَزِيدُهَا إِينَاعًا، وَكَذَلِكَ يَزِيدُ ثَمَرَهَا طِيبًا وَيُصِيبُ الشَّجَرَةَ الْمُورِقَةَ الْمُونِعَةَ الَّتِي لَيْسَ لَهَا ثَمَرَةٌ فَيَزِيدُهَا إِينَاقًا وَيَزِيدُهَا وَرَقَهَا حُسْنًا وَتَكُونُ لَهَا ثَمَرَةٌ فَتَخْلَقُ بِأُخْتِهَا وَيُصِيبُ الْهَشِيمُ مِنَ الشَّجَرِ فَيَحْطِمُهُ فَيَذْهَبُ بِهِ» قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ الْآيَةَ {وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا} [الإسراء: 82] لَمْ يُجَالِسْ هَذَا الْقُرْآنُ أَحَدًا إِلَّا قَامَ عَنْهُ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَقَضَاءُ اللَّهِ الَّذِي قَضَى شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً تَسْبِقُ كِسْرَتُهَا أذَاهَا وَأَمْنُهَا فَزَعَهَا تُوجِبُ الْحَيَاةَ وَالرِّزْقَ، ثُمَّ سَكَتَ قَالَ أَسِيرٌ: فَقَالَ لِي صَاحِبِي: كَيْفَ رَأَيْتَ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: مَا ازْدَدْتُ فِيهِ إِلَّا رَغْبَةً وَمَا أَنَا بِالَّذِي أُفَارِقُهُ فَلَزِمْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى ضَرَبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ صَاحِبُ الْقَطِيفَةِ أُوَيْسٌ فِيهِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فِيهِ وَكُنَّا نَسِيرُ مَعَهُ وَنَنْزِلُ مَعَهُ حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: فَأَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: فَنَادَى مُنَادِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا خَيْلَ اللَّهِ ارْكَبِي وَأَبْشِرِي. قَالَ: فَصَفَّ الثُّلُثَيْنِ لَهُمْ فَانْتَضَى صَاحِبُ الْقَطِيفَةِ أُوَيْسٌ سَيْفَهُ حَتَّى كُسِرَ جَفْنَهُ فَأَلْقَاهُ، ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ تِمُّوا تِمُّوا لَيُتِمَّنَّ وُجُوهٌ، ثُمَّ لَا تَنْصَرِفُ حَتَّى تَرَى الْجَنَّةَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ تِمُّوا تِمُّوا» . جَعَلَ يَقُولُ ذَلِكَ وَيَمْشِي وَهُوَ يَقُولُ: ذَلِكَ وَيَمْشِي إِذْ جَاءَتْهُ رَمْيَةٌ، فَأَصَابَتْ فُؤَادَهُ، فَبَرُدَ مَكَانَهُ كَأَنَّمَا مَاتَ مُنْذُ دَهْرٍ «قَالَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ فَوَارَيْنَاهُ فِي التُّرَابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ وَأَسِيرُ بْنُ جَابِرٍ مِنَ الْمُخَضْرَمِينَ وُلِدَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مِنْ كِبَارِ أَصْحَابِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3386 - صحيح وعلى شرط مسلم

حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں کوفہ میں تھا۔ مجھے میرے ساتھی نے کہا: ایک آدمی ہے، کیا تم اس کی زیارت کرنا پسند کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: یہ اسی کے گزرنے کی جگہ ہے اور وہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ ہے اور میرا غالب گمان ہے کہ ابھی وہ ادھر سے گزریں گے۔ تو وہ ادھر سے گزرے۔ وہ ایک شخص تھا جس پر ایک کھردری بوسیدہ چادر تھی اور لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلے آرہے تھے۔ وہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں سخت سست بھی کہتا اور اپنے پیچھے آنے سے منع بھی کرتا ، لیکن لوگ اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ہم بھی لوگوں کے ہمراہ ہو لئے۔ وہ کوفہ کی جامع مسجد میں داخل ہوئے، ہم بھی ان کے ساتھ مسجد میں چلے گئے۔ وہ ایک ستون کی طرف الگ جا کر کھڑے ہوئے اور دو رکعت نوافل ادا کئے پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر بولے: اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم گلی گلی میرے پیچھے پیچھے آرہے ہو، میں ایک کمزور انسان ہوں ، مجھے ایک ضروری کام تھا جو آپ لوگوں کے اس رویہ کی وجہ سے مجھے پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے، ایسا مت کرو، اگر کسی کو میرے ساتھ کوئی کام ہے تو وہ یہیں پر مجھ سے ملاقات کر لے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہر وفد سے دریافت کیا کرتے تھے کہ تم میں سے کوئی شخص فلا ں آدمی کا جانتا ہے جس کی یہ یہ علامات ہیں۔ ایک آدمی نے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بتائی کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ آپ کو یاد کیا کرتے ہیں اور ان کے یاد کرنے کی کیفیت کو میں تمہیں من و عن بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: یہ بھی اس کے ذکر میں سے ہے جو آپ تک بات پہنچی ہے۔ حضرت اویس رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے یہ وعدہ لیا کہ وہ یہ بات کسی اور کو نہیں بتائیں گے۔ پھر حضرت اویس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس مجلس میں تین طرح کے لوگ موجود ہیں کچھ تو مومن فقیہ ہیں اور کچھ مومن تو ہیں لیکن فقیہ نہیں ہیں۔ اور کچھ منافق اور یہ دنیا میں اس بارش کی طرح ہیں جو آسمان سے زمین پر نازل ہوتی ہے، یہ بارش پکے ہوئے پھلوں والے گنجان درخت پر پڑتی ہے تو اس سے اس کے پتوں میں اور بھی نکھار آ جاتا ہے اور پھلوں کی مٹھاس بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کے پھل مزید عمدہ ہو جاتے ہیں اور یہی بارش ایسے درخت پر بھی پڑتی ہے جو گنجان اور پھل والا تو ہوتا ہے لیکن اس میں ابھی پھل نہیں آئے ہوتے تو یہ بارش اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے اور اس میں پھل آ جاتے ہیں۔ تو یہ بھی اسی درخت کے ساتھ شامل ہے اور یہی بارش ٹوٹے ہوئے درخت پر بھی پڑتی ہے لیکن اس کو مزید توڑ کر ضائع کر دیتی ہے ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: وننزل من القرآن ماھو شفاء ورحمۃ اللمومنین ولا یزید الظالمین الا خسارا ( الاسراء:82) " اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان بھی بڑھتا ہے" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) یہ قرآن جس کی بھی صحبت میں ہوتا ہے جب وہاں سے اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی کمی یا زیادتی ضرور کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو اس نے کر دیا ہے کہ یہ مومنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان بڑھتا ہے ۔ اے اللہ ! مجھے ایسی شہادت عطا فرما جس کی شکست پر اس کی تکلیف سبقت کرے اور اس کی گھبراہٹ اس کے امن پر سابق ہو، جو زندگی اور رزق کا باعث ہو، پھر آپ خاموش ہوگئے۔ حضرت اسیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر میرے ساتھی نے کہا : تم نے اس شخص کو کیسا دیکھا؟ میں نے کہا: اس کو دیکھ کر میری اس میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے اور اب میں کبھی بھی اس سے جدا نہیں ہوں گا۔ پھر ہم ان کے ہمراہ زیادہ دیر نہیں رہے تھے کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی روانگی کا اعلان ہو گیا تو وہ گڈری والے حضرت اویس اس میں نکل پڑے، ہم بھی ان کے ہمراہ نکل پڑے، ہم ان کے ساتھ ہی سفر کرتے اور ان کے ہمراہ ہی پڑاؤ ڈالتے۔ حتیٰ کہ ہم دشمن کے مد مقابل جاپہنچے۔ حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایک منادی نے اعلان کیا: اے اللہ تعالیٰ کے لشکر! سوار ہو جاؤ اور تمہیں خوشخبری ہو اس لشکر کی 30 صفیں بنیں۔صاحب قطیفہ (گڈری والے) حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار نیام سے نکال کر سونت لی اور انہوں نے اپنا کھانے والا پیالہ توڑ کر پھینک دیا۔ پھر آپ یوں کہنے لگے: اے لوگو! ثابت قدم رہو، ثابت قدم رہو، جب میدان جنگ میں آؤ تو منہ مت پھیرو حتیٰ کہ تم جنت کو دیکھ لو ، اے لوگو! ثابت قدم رہو، ثابت قدم رہو، یہ مسلسل کہہ رہے تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، یہ کہہ رہے تھے اور پیش قدمی کر رہے تھے حتیٰ کہ ایک تیر آکر آپ کے سینے میں لگا، جس سے آپ وہیں پر ٹھنڈے ہو گئے اور یوں لگتا تھا کہ آپ بہت عرصے سےفوت ہوئے پڑے ہیں۔ نوٹ: حماد نے اپنی روایت میں یہ بھی نقل کیا ہے: ہم نے ان کو مٹی میں دفن کر دیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ مخضر مین میں شمار ہوتے ہیں، ان کی پیدائش رسول اللہ ﷺ کی حیاۃ طیبہ میں ہی ہو گئی تھی یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کبار ساتھیوں میں سے ہیں۔

أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3386

chevron_left Previous
1…424344…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section