المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3375
3375 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: جَاءَ أَبُو الْعُبَيْدَيْنِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعَرَّفُ لَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ؟ قَالَ: «فَمَا حَاجَتُكَ؟» قَالَ: مَا الْأَوَّاهُ؟ قَالَ: «الرَّحِيمُ» . قَالَ: فَمَا الْمَاعُونُ؟ قَالَ: «مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ» . قَالَ: فَمَا التَّبْذِيرُ؟ قَالَ: «إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ» . قَالَ: فَمَا الْأُمَّةُ؟ قَالَ: «الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3375 - على شرط البخاري ومسلم
یحییٰ بن الجزر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو العبید ین حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پس آئے، ان کی بینائی کمزور تھی لیکن حضرت عبداللہ ان کو پہنچانتے تھے۔ اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن ! اگر ہم آپ سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو تیری حاجت کیا ہے؟ اس نے کہا: " الاواۃ" کس کو کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: الرحیم۔ اس نے کہا: " ماعون" کس کو کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ تعاون جو لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس نے کہا: "تبذیر" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خرچ کرنا۔ اس نے کہا: " الامۃ" کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ شخص جو لوگوں کی بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ ے اس نقل نہیں کیا۔
يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3375
