Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3363

3363 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَسَدِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ} [النحل: 103] قَالُوا: إِنَّمَا يُعَلِّمُ مُحَمَّدًا عَبْدُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ وَهُوَ صَاحِبُ الْكُتُبِ. فَقَالَ اللَّهُ {لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ} «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ تِلَاوَتَهُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاسْتِشْهَادَهُ بِهَا فِي الْكَذَّابِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3363 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:" یہ تو کوئی آدمی سکھاتا ہے جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی زبان" کے متعلق فرماتے ہیں :ان لوگوں نے یہ کہا کہ محمد ﷺ کو تو ابن الحضر می کا ایک غلام سکھاتا ہے اور وہ صاحب کتاب ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس کی طرف ڈھالتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ روشن عربی، "جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے "۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ ہم نے سفیان بن عینیہ کے حوالے سے اس آیت کی تلاوت اس اس آیت کےساتھ ان کا دو جھوٹوں کے بارے میں استہشاد روایت کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَسَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3363

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3364

3364 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، قَالَ: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى إِذْ قَامَ رَجُلٌ قَاصٌّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ثُمَّ أَخَذَ فِي قَصَصٍ طَوِيلٍ، فَقَامَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَاتَّكَأَ عَلَى عَصَاهُ، فَقَالَ " {إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ} [النحل: 105] " مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ وَلَا أَعْرِفُهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3364 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن الزبیر الحمیدی فرماتے ہیں : ہم منیٰ میں مسجد خیف کے اند ر حضرت سفیان بن عینیہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک قصہ گو شخص کھڑا ہوا اور بولا: یہ سند بیان کرنے کے بعد لمبے چوڑے قصے بیان کرنا شروع کر دیئے ، تو حضرت سفیان بن عینیہ اٹھ کھڑے ہوئے ، اپنے عصا مبارک پر ٹیک لگائی اور بولے: جھوٹ تو ان لوگوں نے باندھا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ میں نے یہ حدیث نہ کبھی بیان کی ہے اور نہ ہی میں اس کو جانتا ہوں۔

كُنَّا قُعُودًا مَعَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← سَأَلْتُهُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3364

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3365

3365 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى سَبِّي فَسُبُّونِي، فَإِنْ عُرِضَتْ عَلَيْكُمُ الْبَرَاءَةُ مِنِّي، فَلَا تَبْرَءُوا مِنِّي، فَإِنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَلْيَمْدُدْ أَحَدُكُمْ عُنُقَهُ، ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، فَإِنَّهُ لَا دُنْيَا لَهُ وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ تَلَا {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: 106] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3365 - صحيح

حضرت ابو صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب تمہیں ، مجھے گالیاں دینے پر مجبور کیا جائے گا ( تو تمہیں اس بات کی اجازت ہے) تم مجھے گالیاں دی لینا لیکن اگر تمہیں مجھ سے برات پر مجبور کیا جائے تو تم مجھ سے برات کا اظہار مت کرنا کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ (ایسے حالات میں ) اپنی گردن بلند رکھنا، اس کی ماں اس پر روئے ( پیار سے یہ جملہ بولا جاتا ہے) اسلام کے بعد اس کے لئے نہ تو دنیا ( کی کوئی اہمیت) ہے اور نہ آخرت(کی) ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: " الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان" سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

أبي صادق ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3365

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3366

3366 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ قُنْفُذَ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ حُجْرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَدَرِيُّ مِنَ الْمُخْتَصِّينَ بِخِدْمَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَوْمًا: يَا حُجْرُ إِنَّكَ «تُقَامُ بَعْدِي فَتُؤْمَرُ بِلَعْنِي فَالْعَنِّي وَلَا تَبْرَأْ مِنِّي» . قَالَ طَاوُسٌ: فَرَأَيْتُ حُجْرَ الْمَدَرِيَّ وَقَدْ أَقَامَهُ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيفَةُ بَنِي أُمَيَّةَ فِي الْجَامِعِ وَوُكِّلَ بِهِ لِيَلْعَنَ عَلِيًّا أَوْ يُقْتَلَ فَقَالَ حُجْرٌ أَمَا إِنَّ الْأَمِيرَ أَحْمَدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَمَرَنِي أَنْ أَلْعَنَ عَلِيًّا فَالْعَنُوهُ لَعَنَهُ اللَّهُ. فَقَالَ طَاوُسٌ: فَلَقَدْ أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ حَتَّى لَمْ يَقِفْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى مَا قَالَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3366 - يحيى الحماني ضعيف

حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حجر بن قیس المددی امیرالمومنین علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خاص خدمت گزاروں میں سے ہیں، ایک دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : میرے بعد تجھے کھڑا کیا جائے گا اور تجھے لعنت کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو تم مجھ پر لعنت کر لینا لیکن مجھ سے برات کا اظہار نہیں کرنا ۔ حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے حجر المدری کو دیکھا کہ بنو امیہ کے خلیفہ احمد بن ابراہیم نے ان کو جامع مسجد میں کھڑاکیا اور آدمی کو ان پر مسلط کر دیا کہ یہ شخص یا تو علی کو گالیاں دے ورنہ اس کی گردن ماردی جائے۔ حجر کھڑے ہوئے اور بولے : امیر احمد بن ابراہیم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروں تو تم"اس " پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کرو۔ حضرت طاؤس کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسا اندھا کر دیا کہ ان میں سے ایک آدمی بھی یہ سمجھ ہی نہ سکا کہ حجران کو کیا کہہ گئے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← أَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ قُنْفُذَ الْبَزَّارُ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3366

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3367

3367 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ {إِنَّ " إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ} [النحل: 120] قَالَ: فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا. قَالَ: فَأَعَادُوا عَلَيْهِ فَأَعَادَ، ثُمَّ قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ؟ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْقَانِتُ الَّذِي يُطِيعُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3367 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس پڑھا: انابراہیم کانا امۃ قانتا للہ ( النحل : 120) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک حضرت معاذ " امۃ قانتا" تھے ( راوی) کہتے ہیں: لوگوں نے دوبارہ آیت کی تلاوت کی تو آپ نے دوبارہ وہی بات دہرائی۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ " امتہ " سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد وہ شخص ہے جولوگوں کو بھلائی سکھائے اور قانت وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

فَأَعَادُوا عَلَيْهِ فَأَعَادَ، ثُمَّ ← ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا. ← عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ} [النحل: ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← إِسْحَاقُ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3367

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3368

3368 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا، وَمِنَ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ، فَمَثَّلُوا بِهِمْ، وَفِيهِمْ حَمْزَةُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: لَئِنْ أَصَبْنَاهُمْ يَوْمًا مِثْلَ هَذَا لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ، وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ} [النحل: 126] فَقَالَ رَجُلٌ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُفُّوا عَنِ الْقَوْمِ غَيْرَ أَرْبَعَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3368 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوہ احد میں 64 انصاری اور 6 مہاجرصحابی شہید ہوئے۔ ان میں سے کچھ صحابہ کے چہروں کی بے حرمتی کی گئی، ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انصاری صحابہ نے کہا: اگر کسی دن یہ ہمارے قابو آ گئے تو ہم ان سے اس سے بھی سخت بدلہ لیں گے۔ تو جب مکہ فتح ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وان عاقبتم فعاقبو ا بمثل ماعو قبتم بہ ولئن صبرتم لہو خیر للصابرین (النحل : 126) " اور اگر تم سزا دو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بے شک صبر والوں کو صبر اچھا ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو ایک آدمی نے کہا : آج کے بعد کوئی قریشی نہیں رہے گا: تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 4 آدمیوں کے سوا باقی قوم سے ہاتھ روک لو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عِيسَی بْنِ عُبَيْدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3368

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3369

3369 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ الْفَاضِلُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ أَرْبَعِ مِائَةٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَقُلْتُ: إِنَّ " رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُسْرِيَ بِهِ دَخَلَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَالَ: فَقَالَ حُذَيْفَةُ: وَكَيْفَ عَلِمْتَ ذَلِكَ يَا أَصْلَعُ، فَإِنِّي أَعْرِفُ وَجْهَكَ وَلَا أَدْرِي مَا اسْمُكَ فَمَا اسْمُكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَيْشٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بِالْقُرْآنِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: فَمَنْ أَخَذَ بِالْقُرْآنِ فَلَحَ. قَالَ: فَقَرَأْتُ: {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ} [الإسراء: 1] فَقَالَ حُذَيْفَةُ: هَلْ تَرَاهُ أَنَّهُ دَخَلَهُ؟ فَقُلْتُ: أَجَلْ. فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا دَخَلَهُ وَلَوْ دَخَلَهُ لَكُتِبَ عَلَيْكُمُ الصَّلَاةُ فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ يُفَارِقْ ظَهْرَ الْبُرَاقِ حَتَّى رَأَى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَوَعَدَهُ الْآخِرَةَ أَجْمَعَ. قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَمَا الْبُرَاقُ قَالَ: دَابَّةٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلَةِ خُطْوَتُهُ مُدَّ بَصَرِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3369 - صحيح

حضرت زربن حبیش رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں ایک مجلس میں تھا جس میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ میں نے کہا: معراج کی رات رسول اللہ ﷺ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے۔ اس پر حضرت حذیفہ نے کہا: اے اصلع ( وہ شخص جس کے سر کے اگلی جانب کے بال جھڑ گئے ہوں) یہ بات تجھے کیسے معلوم ہوئی؟ کیونکہ میں تیرا چہرہ تو پہچانتا ہوں لیکن مجھے تیرا نام معلوم نہیں ہے۔ تو تیرا نام کیا ہے؟ میں نے کہا: میں زر حبیش اسدی ہوں، انہوں نے پھر پوچھا: تجھے یہ کیسے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ مسجد کے اند ر بھی گئے تھے؟ میں نے کہا: قرآن پاک سے حضرت حذیفہ نے فرمایا: جو شخص قرآن کی تعلیمات اپناتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں پھر میں نے یہ آیت پڑھی: سب حان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ ( الاسراء: 1) " پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگردہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں"( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ حضور ﷺ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے تھے؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔انہوں نے فرمایا : خدا کی قسم ! آپ ﷺ اس میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ اگر آپ ﷺ داخل ہوئے ہوتے تو اسی مسجد میں تم پر نماز فرض کر دی جاتی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: او ر آپ ﷺ نے جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کیا اور آخرت کے تمام وعدے براق پر سوار ہونے کی حالت میں ہی کیے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : میں نے کہا: اے ابو عبداللہ ! براق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ایک جانور ہے جو گدھے سے کچھ بڑا اور خچر سے چھوٹا ہے اور اس کا قدم حد نگاہ تک پہنچتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَقُلْتُ: ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3369

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3370

3370 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ جُنَادَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ جِبْرِيلُ بِأُصْبُعِهِ فَخَرَقَ بِهَا الْحَجَرَ وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «وَأَبُو تُمَيْلَةَ وَالزُّبَيْرُ مَرْوَزِيَّانِ ثِقَتَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3370 - صحيح والزبير مروزي ثقة

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب ہم بیت المقدس پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا جس سے پتھر پھٹ گیا اور اس کے اندر براق کو باندھ دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور ابو تمیلہ اور زبیر مروزی دونوں ثقہ راوی ہیں۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الزُّبَیْرُ بْنُ جُنَادَۃَ ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3370

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3371

3371 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: «كَانَ نُوحٌ إِذَا طَعِمَ طَعَامًا أَوْ لَبِسَ ثَوْبًا حَمِدَ اللَّهَ، فَسُمِّيَ عَبْدًا شَكُورًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3371 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت نوح علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ جب کھانا کھاتے یا لباس پہنتے تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ( تو اسی بناء پر) آپ کا نام " عبدالشکورا" یعنی) شکر گزار بندہ رکھ دیا گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3371

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3372

3372 - الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَمَعَنَا رَجُلٌ مِنَ الْقَدَرِيَّةِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ. قَالَ: أَوَفِي الْقَوْمِ أَحَدٌ مِنْهُمْ؟ قُلْتُ: لَوْ كَانَ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: " لَوْ كَانَ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، لَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ قَرَأْتُ عَلَيْهِ آيَةَ كَذَا وَكَذَا {وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ، لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا} [الإسراء: 4] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3372 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا اور ہم میں (فرقہ ) قدریہ کا بھی ایک آدمی موجود تھا۔ میں نے کہا : لوگ کہتے ہیں کوئی "قدر" (یعنی تقدیر) نہیں ہے۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی شخص اس مجلس میں موجود ہے؟ میں نے کہا: اگر موجود ہوا بھی سہی تو تم اس کے ساتھ کیا کرو گے؟ اس نے کہا: اگر ان میں سے کوئی آدمی یہاں موجو د ہوا تو میںاس کے سر کو پکڑ کر یہ آیت پڑھ کر سناؤں گا: وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتاب لتفسدن فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (الاسراء : 4) " بے بنی اسرائیل کو کتاب میں وحی بھیجی کہ ضرور تم زمین میں دوبارفساد مچاؤ گئے اور ضرور بڑا غرور کرو گے" ( ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ)

كنت عند ابن عباس ومعنا رجل من القدرية فقلت ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْاَعْمَشِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3372

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3373

3373 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ كَثِيرًا مَا " يَتْلُوا هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقُومُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ} [الإسراء: 9] خَفِيفٌ، قَالَ عُثْمَانُ: وَهَذِهِ قِرَاءَةُ حَمْزَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اکثر طور پر اس آیت کی تلاوت کیا کرتے تھے: ان ہذا القرآن یہدی اللتی ہی اقوم ویبشر المومنین ( الاسراء : 9) " بےشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو" (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)اس میں یبشر میں شین کو مخفف پڑھتے۔ عثمان کا بیان ہے کہ یہ قرات حمزہ کی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہےلیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ كَثِيرًا مَا يَتْلُوا هَذِهِ الْآيَةَ خَفِيفٌ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3373

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3374

3374 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثنا أَنُّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ذُو مَالٍ كَثِيرٍ، وَذُو أَهْلٍ وَوَلَدٍ، فَكَيْفَ يَجِبُ لِي أَنْ أَصْنَعَ أَوْ أُنْفِقَ قَالَ: «أَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ طُهْرَةً تُطَهِّرُكَ وَآتِ صِلَةَ الرَّحِمِ، وَاعْرِفْ حَقَّ السَّائِلِ وَالْجَارِ وَالْمِسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْلِلْ لِي. قَالَ: «فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ، وَالْمِسْكِينَ، وَابْنَ السَّبِيلِ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ فَقَدْ أَدَّيْتُهَا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِهِ فَقَدْ أَدَّيْتَهَا، وَلَكَ أَجْرُهَا، وَعَلَى مَنْ بَدَّلَهَا إِثْمُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3374 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! میرے پاس کثیر مال و دولت بھی ہے اور میں صاحب اہل و عیال بھی ہوں تو میرے اوپر کیا فرض ہے؟ میں کیا کروں یا کیا خرچ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فرضی زکوۃ ادا کردیا کر یہ تجھے پاک کر دے گی اور صلہ رحمی کر۔ سوالی ، پڑوسی، مسکین اور مسافر کا حق پہچان ، اسے نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے کچھ کمی کیجئے ! آپ ﷺ نے فرمایا: رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو اور فضول خرچی مت کرو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ اگر میں رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو زکوۃ دے دوں تو کیا میں یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب ادائیگی سمجھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ جب تو نے رسول اللہ ﷺ کے سفیر کوزکوٰۃ دے دی تو تیری زکوٰۃ ادا ہو گئی اور تیرے لئے اس کا اجر ہو گا اور جو اس کو بدلے گا اس پر اس کا گناہ ہو گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِنَّ رَجُلًا ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3374

chevron_left Previous
1…414243…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section