Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3339

3339 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} [إبراهيم: 17] قَالَ: " يُقَرَّبُ إِلَيْهِ فَيَتَكَرَّهُهُ، فَإِذَا أُدْنِيَ مِنْهُ شَوَى وَجْهَهُ، وَوَقَعَتْ فَرْوَةُ رَأْسِهِ، فَإِذَا شَرِبَ قَطَّعَ أَمْعَاءَهُ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ دُبُرِهِ، يَقُولُ اللَّهُ {وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ} [محمد: 15] وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ} [الكهف: 29] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3339 - على شرط مسلم

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا بمشکل اس کا تھوڑا تھوڑا گھونٹ لے گا" کے متعلق فرمایا: وہ پانی اس کو پیش کیا جائے گا تو وہ اس سے ناپسند یدگی کا اظہار کرے گا۔ جب وہ اس کو اپنے قریب کرے گا تو اس کا چہرہ بھسم ہو جائے گااور اس کے سر کی کھال بالوں سمیت جھڑ جائے گی اور جب وہ پئے گا تو اس کی انتریاں جھلس جائیں گی اور اس کے پاخانہ کے مقام سے خارج ہو جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " اور انہیں کھولتا پانی پلایا جائے گا کہ آنتوں کے ٹکرے ٹکرے کر دے " اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : " اور اگر پانی کے لیےفریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہو گی اس پانی سے کہ چرخ دینے (کھوتے ہوئے) دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا کیا ہی برا پینا ہے" یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3339

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3340

3340 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " {تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ} [الأحزاب: 44] قَالَ: يَوْمَ يَلْقَوْنَ مَلَكَ الْمَوْتِ لَيْسَ مِنْ مُؤْمِنٍ يُقْبَضُ رُوحُهُ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3340 - عبد الله بن واقد قال ابن عدي مظلم الحديث ومحمد بن مالك قال ابن حبان لا يحتج به

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : " ان کے لیے ملتے وقت کی دعا سلام ہے" کے متعلق فرمایا : ملک الموت جس مومن کی بھی روح قبض کرنے آتے ہیں ، پہلے اس کو سلام کہتے ہیں ( بعد میں روح قبض کرتے ہیں)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3340

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3341

3341 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعَطَّارُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ مِنْ بُسْرٍ، «فَقَرَأَ» مَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ " قَالَ: «هِيَ النَّخْلَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3341 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ تازہ کھجوروں کے باغ میں تشریف لائے اور یہ آیت پڑھی:" پاکیزہ بات کی مثال جیسے پاکیزہ درخت" اور فرمایا" ( اس شجر سے مراد) کھجور کا درخت ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس نقل نہیں کیا۔

أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِقِنَاعٍ مِنْ بُسْرٍ فَقَرَأَ مَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← العلاء بن عبد الجبار العطار ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3341

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3342

3342 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَامَ فَقَالَ سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِيَ، وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي، فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَقَالَ: " مَنِ الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ؟ قَالَ: مُنَافِقُوا قُرَيْشٍ قَالَ: فَمَنِ الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا؟ قَالَ: مِنْهُمْ أَهْلُ حَرُورَاءَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَالٍ» وَبَسَّامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفِيِّينَ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ "

ابو الطفیل عامر بن واثلہ کا بیان ہے : ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اس دن سے پہلے میں تمہیں ڈھونڈے نہ ملوں جو کچھ پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو اور میرے بعد تمہیں میرے جیسا آدمی نہیں مل سکے گا جس سے تم ہر طرح کے سوال کر سکو۔ تو ابن الکواء کھڑا ہوا اور بولا : وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لااتارا؟ آپ نے فرمایا: قریش سے تعلق رکھنے والے منافقین۔ اس نے کہا: تو وہ کون لوگ ہیں جن کی دنیوی زندگی کی کوششیں بے کار ہو گئیں جبکہ وہ گمان یہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے بہت اچھے عمل کئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ حروراء والے ہیں۔یہ حدیث صحیح ہے اور (اس کی سند ) عالی ہے اور صبام بن عبدالرحمٰن الصیر فی ثقہ کوفیوں میں سے ہیں، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے۔

فمن الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا ← منافقوا قريش ← مَنِ الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ؟ ← سَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِيَ، وَلَنْ تَسْأَلُوا بَعْدِي مِثْلِي، فَقَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ ← عَلِيًّا قَامَ ← أَبُو الطُّفَيْلِ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ ← بَسَّامٌ الصَّيْرَفِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3342

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3343

3343 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرٍو ذِي مُرٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ} [إبراهيم: 28] قَالَ: هُمُ الْأَفْجَرَانِ مِنْ قُرَيْشٍ، بَنُو أُمَيَّةَ وَبَنُو الْمُغِيرَةِ، فَأَمَّا بَنُو الْمُغِيرَةِ فَقَدْ قَطَعَ اللَّهُ دَابِرَهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَمَّا بَنُو أُمَيَّةَ فَمُتِّعُوا إِلَى حِينٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3343 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کو ارشاد :" اور انہوں نے اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا" کے متعلق فرمایا۔ یہ قریش کے سب سے بڑے دو فاجر قبیلے تھے۔ (1) بنو امیہ۔(2) بنو المغیرہ۔ بنو المغیرہ کی تو اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن جڑ کاٹ دی تھی تاہم بنو امیہ ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ} [إبراهيم: ← عَمْرِو ذِي مُرٍّ؛ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← محمد بن علي بن ميمون الرقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3343

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3344

3344 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الضَّبِّيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ} قُلْتُ: أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: عَلَى الصِّرَاطِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3344 - صحيح

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی:" جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہو گے ایک اللہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے" میں نے پوچھا : اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: پل صراب پر۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← محبوب بن الحسن ← عقبة بن مكرم الضبي ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3344

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3345

3345 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " مَا يَزَالُ اللَّهُ يَشْفَعُ، وَيُدْخِلُ الْجَنَّةَ، وَيَرْحَمُ وَيُشَفَّعُ حَتَّى يَقُولَ: مَنْ كَانَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ، فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمَيْنَ} [الحجر: 2] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3345 - صحيح

حضرت (عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ مسلسل شفاعت قبول کرتا رہے گا اور بندوں کے جنت میں داخل کرتا رہے گا اور رحم کرتا رہے گا، شفاعت قبول کرتا رہے گا حتیٰ کہ فرمائے گا: جو شخص مسلمان ہے وہ جنت میں چلا جائے۔ یہ وہ وقت ہو گا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:"بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش مسلمان ہوتے" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

مَنْ كَانَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ، فَذَاكَ حِينَ ← «مَا يَزَالُ اللَّهُ يَشْفَعُ، وَيُدْخِلُ الْجَنَّةَ، وَيَرْحَمُ، وَيُشْفَعُ، حَتَّى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3345

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3346

3346 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، وَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ، لِأَنْ لَا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ، قَالَ هَكَذَا، وَنَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ وَجَافَى يَدَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِمْ " {وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ} [الحجر: 24] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ: لَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ فِي نُوحِ بْنِ قَيْسٍ الطَّاهِي بِحُجَّةٍ وَلَهُ أَصْلُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3346 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ایک نہایت حسین و جمیل عورت نماز پڑھا کرتی تھی کچھ لوگ اس خدشہ کی وجہ سے اگلی صف میں نماز پڑھتے تھے کہ کہیں اس پر نگاہ نہ پڑ جائے اور کچھ لوگ پیچھے ہٹ کر بالکل آخری والی صف میں نماز پڑھتے لیکن جب آپ رکوع کرتے تو (اگلی صف میں سے بعض) یو ں کر کے بغلوں کے نیچے سے پیچھے جھانکتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی:"اور بے شک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بے شک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور عمرو بن علی کا بیان ہے : نوح بن قیس الطاحی کے بارے میں کسی نے دلیل کے ساتھ اعتراض نہیں کیا اور اس حدیث کی اصل سفیان ثوری کی روایت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3346

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3347

3347 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «الْمُسْتَقْدِمِينَ الصُّفُوفُ الْمُقَدَّمَةُ وَالْمُسْتَأْخِرِينَ الصُّفُوفُ الْمُؤَخَّرَةُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3347 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " المستقدمین " (سے مراد) اگلی صفیں اور "الستاخرین" ( سے مراد) پچھلی صفیں ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← رَجُلٌ: ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3347

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3348

3348 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ هَارُونَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسٌ، إِذْ جَاءَ ابْنٌ لِطَلْحَةَ فَسَلَّمَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَحَّبَ بِهِ فَقَالَ: تُرَحِّبُ بِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَقَدْ قَتَلْتَ أَبِي، وَأَخَذْتَ مَالِي؟ قَالَ: " أَمَّا مَالُكَ فَهُوَ ذَا مَعْزُولٌ فِي بَيْتِ الْمَالِ، فَاغْدُ إِلَى مَالِكَ فَخُذْهُ، وَأَمَّا قَوْلُكُ قَتَلْتَ أَبِي، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَأَبُوكَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانِ: إِنَّ اللَّهَ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ فَصَاحَ عَلَيْهِ عَلِيٌّ صَيْحَةً تَدَاعَى لَهَا الْقَصْرُ، قَالَ: فَمَنْ إِذًا إِذَا لَمْ نَكُنْ نَحْنُ أُولَئِكَ؟ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3348 - صحيح

حضرت ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس طلحہ کا بیٹا آیا اور اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا، آپ نے بھی اس کر مرحبا کہا، اس نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! آپ مجھے مرحبا (کس منہ سے) کہہ رہے ہیں؟ حالانکہ آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: جہاں تک تیرے مال کا تعلق ہے تو وہ بیت المال میں بالکل الگ رکھا ہوا ہے ، صبح جا کر وہاں سے اپنا مال لے لینا اور جہاں تک آپ کے والد کے قتل کا تعلق ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ تیرا باپ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: " اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کہنے تھے سب کھینچ لئے آپ مین بھائی بھائی تختوں پر روبرو بیٹھے"۔ تو ہمدان کے ایک آدمی نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ عدل کرنے والا ہے ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنی گرج دار آواز میں بولے کہ پورا محلہ گونج اٹھا ( آپ نے فرمایا) جب ان لوگوں میں "ہمارا " شمار نہیں ہے تو پھر کوئ دوسرا کون ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِنِّي لَعِنْدَ عَلِيٍّ جَالِسٌ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← أبان بن عبد الله البجلي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أبو العباس أحمد بن هارون الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3348

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3349

3349 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنَ النَّارِ حُبِسُوا بِقَنْطَرَةٍ بَيْنَ النَّارِ وَالْجَنَّةِ، يَتَقَاصُّونَ مَظَالِمَ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا نُقُّوا وَهُذِّبُوا، أُذِنَ لَهُمْ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَسْكَنِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْ أَحَدِكُمْ لِمَنْزِلِهِ فِي الدُّنْيَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ «لِأَنَّ مَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ رَوَاهُ عَنُ قَتَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَلَيْسَ هَذَا بِعِلَّةٍ فَإِنَّ هِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ قَتَادَةَ مِنْ غَيْرِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3349 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: جب مومنوں کو جہنم سے نکالا جائے گا تو ان کو جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پرروک لیا جائے گا یہاں پر یہ لوگ اپنے دنیا مین ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا قصاص لیں گے حتیٰ کہ جب بالکل صاف ستھرے اور شیشہ ہو جائیں گے تو ان کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی۔ اوراس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اتنا تو تم دنیا میں اپنےگھر سے راستہ نہیں جانتے ، جتنی واقفیت تمہیں اپنے جنت کے مکان کی ہو گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ معمر بن راشد نے اس کو قتادہ کے بعد ایک آدمی کے واسطے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہ کوئی علت نہیں ہے کیونکہ ہشام الد ستوائی دوسروں کی بہ نسبت قتادہ کی روایات زیادہ جانتے تھے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3349

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحِجْرِ · حديث 3350

3350 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً} [الحجر: 77] قَالَ: أَمَا تَرَى الرَّجُلَ يُرْسِلُ بِخَاتَمِهِ إِلَى أَهْلِهِ، فَيَقُولُ: هَاتُوا كَذَا وَكَذَا فَإِذَا رَأَوْهُ عَرَفُوا أَنَّهُ حَقٌّ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3350 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:" بیشک اس میں نشانیاں ہیں" کے متعلق فرماتے ہیں : کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک آدمی اپنی انگوٹھی اپنے گھر والوں کی طرف بھیجتا ہے اور کہتا ہے اس کو فلاں فلاں طریقے سے لانا، جب وہ اس کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہی کہ یہ سچ کہہ رہا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَمَا تَرَى الرَّجُلَ يُرْسِلُ بِخَاتَمِهِ إِلَى أَهْلِهِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ {إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً} [الحجر: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hijr · Hadith 3350

chevron_left Previous
1…394041…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section