المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3327
3327 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّ الْإِسْلَامِ خُنْتَ مَالَ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَدُوَّ اللَّهِ، وَلَا عَدُوَّ الْإِسْلَامِ، وَلَكِنِّي عَدُوُّ مَنْ عَادَاهُمَا، وَلَمْ أَخُنْ مَالَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهَا أَثْمَانُ إِبِلِي، وَسِهَامٌ اجْتَمَعَتْ. قَالَ: فَأَعَادَهَا عَلَيَّ وَأَعَدْتُ عَلَيْهِ هَذَا الْكَلَامَ، قَالَ: فَغَرَّمَنِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ: فَقُمْتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَرَادَنِي عَلَى الْعَمَلِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَلِمَ وَقَدْ سَأَلَ يُوسُفُ الْعَمَلَ وَكَانَ خَيْرًا مِنْكَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ يُوسُفَ نَبِيٌّ، ابْنُ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، وَأَنَا ابْنُ أُمَيْمَةَ وَأَنَا أَخَافُ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ قَالَ: أَوَلَا تَقُولُ خَمْسًا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: «أَخَافُ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَأَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَأَنْ يُضْرَبَ ظَهْرِي، وَأَنْ يُشْتَمَ عِرْضِي، وَأَنْ يُؤْخَذَ مَالِي بِالضَّرْبِ» هَذَا حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3327 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے دشمن، اے اسلام کے دشمن تو نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ میں نے کہا: میں نہ تو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہوں اور نہ ہی اسلام کا دشمن ہوں البتہ میں ان(اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ ) کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ تاہم میرے اونٹوں کے حصے اور دیگر حصے اکٹھے ہیں۔ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہی باتیں میرے ساتھ کیں اور میں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ انہوں نے مجھے 16 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا کہا۔ میں جب نماز فجر کے لئے کھڑا ہوا تو یوں دعا مانگی: اے اللہ! امیر المومنین کی مغفرت فرما۔ اس کے بعد ایک دفعہ انہوں نے مجھے حکومتی ذمہ داری سونپنا چاہی ، تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے وجہ پوچھی (اور ساتھ ہی یہ بھی کہا) یوسف علیہ السلام نے تو حکومتی ذمہ داری خود مانگ کر لی تھی حالانکہ وہ آپ سے بہتر تھے۔ میں نے کہا: یوسف علیہ السلام تو نبی بن نبی بن نبی بن نبی تھے جبکہ میں امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں دو تین باتوں سے خوف کھاتا ہوں، انہوں نے کہا: آپ پانچ باتیں نہیں کہتے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے پوچھا وہ تین باتیں کیا ہیں؟ میں نے کہا: مجھےاس بات کا خدشہ ہے کہ میں کبھی لا علمی کی وجہ سے کوئی بات کہہ دوں اور یہ کہ میں بے علم فتویٰ جاری کر دوں ۔ اور یہ کہ میری پیٹھ ماری جائےاور یہ میری عزت پر گالیاں دی جائیں اور یہ کہ میرا مال ہتھیا لیا جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يزيد بن هارون أنبأ هشام بن حسان ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3327
