Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3327

3327 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّ الْإِسْلَامِ خُنْتَ مَالَ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَدُوَّ اللَّهِ، وَلَا عَدُوَّ الْإِسْلَامِ، وَلَكِنِّي عَدُوُّ مَنْ عَادَاهُمَا، وَلَمْ أَخُنْ مَالَ اللَّهِ، وَلَكِنَّهَا أَثْمَانُ إِبِلِي، وَسِهَامٌ اجْتَمَعَتْ. قَالَ: فَأَعَادَهَا عَلَيَّ وَأَعَدْتُ عَلَيْهِ هَذَا الْكَلَامَ، قَالَ: فَغَرَّمَنِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا، قَالَ: فَقُمْتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَرَادَنِي عَلَى الْعَمَلِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَلِمَ وَقَدْ سَأَلَ يُوسُفُ الْعَمَلَ وَكَانَ خَيْرًا مِنْكَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّ يُوسُفَ نَبِيٌّ، ابْنُ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، ابْنِ نَبِيٍّ، وَأَنَا ابْنُ أُمَيْمَةَ وَأَنَا أَخَافُ ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ قَالَ: أَوَلَا تَقُولُ خَمْسًا؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: فَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: «أَخَافُ أَنْ أَقُولَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَأَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَأَنْ يُضْرَبَ ظَهْرِي، وَأَنْ يُشْتَمَ عِرْضِي، وَأَنْ يُؤْخَذَ مَالِي بِالضَّرْبِ» هَذَا حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3327 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مجھ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے دشمن، اے اسلام کے دشمن تو نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ میں نے کہا: میں نہ تو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہوں اور نہ ہی اسلام کا دشمن ہوں البتہ میں ان(اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ ) کے دشمنوں کا دشمن ہوں اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ کے مال میں خیانت کی ہے۔ تاہم میرے اونٹوں کے حصے اور دیگر حصے اکٹھے ہیں۔ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وہی باتیں میرے ساتھ کیں اور میں نے بھی دوبارہ یہی جواب دیا۔ انہوں نے مجھے 16 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا کہا۔ میں جب نماز فجر کے لئے کھڑا ہوا تو یوں دعا مانگی: اے اللہ! امیر المومنین کی مغفرت فرما۔ اس کے بعد ایک دفعہ انہوں نے مجھے حکومتی ذمہ داری سونپنا چاہی ، تو میں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے وجہ پوچھی (اور ساتھ ہی یہ بھی کہا) یوسف علیہ السلام نے تو حکومتی ذمہ داری خود مانگ کر لی تھی حالانکہ وہ آپ سے بہتر تھے۔ میں نے کہا: یوسف علیہ السلام تو نبی بن نبی بن نبی بن نبی تھے جبکہ میں امیمہ کا بیٹا ہوں اور میں دو تین باتوں سے خوف کھاتا ہوں، انہوں نے کہا: آپ پانچ باتیں نہیں کہتے؟ میں نے کہا: نہیں، انہوں نے پوچھا وہ تین باتیں کیا ہیں؟ میں نے کہا: مجھےاس بات کا خدشہ ہے کہ میں کبھی لا علمی کی وجہ سے کوئی بات کہہ دوں اور یہ کہ میں بے علم فتویٰ جاری کر دوں ۔ اور یہ کہ میری پیٹھ ماری جائےاور یہ میری عزت پر گالیاں دی جائیں اور یہ کہ میرا مال ہتھیا لیا جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← يزيد بن هارون أنبأ هشام بن حسان ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3327

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3328

3328 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا هِشَامُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أبِيْ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لِيَعْقُوبَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَخٌ مُؤَاخِيًا فِي اللَّهِ، فَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: يَا يَعْقُوبُ مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَمَا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرَكَ؟ فَقَالَ: أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ، وَأَمَّا الَّذِي قَوَّسَ ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى ابْنِي بِنْيَامِينَ قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا يَعْقُوبُ، إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ أَمَا تَسْتَحْيِي تَشْكُونِي إِلَى غَيْرِي؟ قَالَ: فَقَالَ يَعْقُوبُ إِنَّمَا أَشْكُوا بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ: أَعْلَمُ مَا تَشْكُوا يَا يَعْقُوبُ قَالَ: ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ: أَيْ رَبِّ أَمَا تَرْحَمُ الشَّيْخَ الْكَبِيرَ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي، وَقَوَّسْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتِي أَشُمُّهُ شَمًّا قَبْلَ الْمَوْتِ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي مَا أَرَدْتَ قَالَ: فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَيَقُولُ لَكَ أَبْشِرْ، وَلْيَفْرَحْ قَلْبُكَ، فَوَعِزَّتِي لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا فَاصْنَعْ طَعَامًا لِلْمَسَاكِينِ، فَإِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، وَالْمَسَاكِينُ، أَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ، وَقَوَّسْتُ ظَهْرَكَ، وَصَنَعَ إِخْوَةُ يُوسُفَ بِهِ مَا صَنَعُوا؟ إِنَّكُمْ ذَبَحْتُمْ شَاةً، فَأَتَاكُمْ مِسْكِينٌ يَتِيمٌ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمْ تُطْعِمُوهُ مِنْهُ شَيْئًا قَالَ: فَكَانَ يَعْقُوبُ بَعْدَهَا إِذَا أَرَادَ الْغَدَاءَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَلَا مَنْ أَرَادَ الْغَدَاءَ مِنَ الْمَسَاكِينِ، فَلْيَتَغَدَّ مَعَ يَعْقُوبَ وَإِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى أَلَا مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنَ الْمَسَاكِينِ فَلْيُفْطِرْ مَعَ يَعْقُوبَ " قَالَ الْحَاكِمُ: هَكَذَا فِي سَمَاعِي بِخَطِّ يَدِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَأَظُنُّ الزُّبَيْرَ وَهْمًا مِنَ الرَّاوِي فَإِنَّهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ، وَقَدْ أَخْرَجَ الْإِمَامُ أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ مُرْسَلًا " [ص:379]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک منہ بولے بھائی تھے ، ایک دن انہوں نے پوچھا: اے یعقوب علیہ السلام ! آپ کی بینائی کیوں زائل ہو گئی ہے؟ اور آپ کی کمر کیوں جھک گئی ہے؟ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میری بینائی زائل ہونے کی وجہ یوسف علیہ السلام کے فراق میں رونا ہے اور میرے بیٹے " یامین" کے غم میں میری کمر خم ہو گئی ہے ( آپ ﷺ نے فرمایا) حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے یعقوب علیہ السلام ! اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے: تمہیں اس بات سے حیاء نہیں آئی، تم میرے غیر کے پاس میرا شکوہ کر رہے ہو ( آپ ﷺ نے ) فرمایا: پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ ہی سے کرتا ہوں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے یعقوب علیہ السلام ! میں جانتا ہوں جو آپ شکایت کر رہے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب کیا تو اس بوڑھے ضعیف پر رحم نہیں کرتا تو نے میری بینائی زائل کر دی ہے اور مجھے کج پشت کر دیا ہے تو میری خوشبو مجھے لوٹا دے، میں مرنے سے پہلے اس کو سونگھ لوں پھر تو جو چاہے میرے ساتھ معاملہ کر لے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہ رہا ہے اور آپ سے فرما رہا ہے : تو خوش ہو جا اور تیرا دل شادمان ہو جائے ،مجھے میری عزت کی قسم ہے اگر وہ (تیرے بیٹے) مر بھی گئے ہوتے تب بھی ہم ان کو زندہ کر کے آپ سے ملا دیتے۔ آپ مسکینوں کے لئے کھانا تیار کریں ( اور ان کو کھلائیں) کیونکہ میرے بندوں میں سے انبیاء کرام اور مساکین مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہاری بینائی کیوں زائل کی اور تمہاری پشت ٹیڑھی کیوں کی؟ اور یوسف علیہ السلام کے سات اس کے بھائیوں نے جو رویہ اختیار کیا تھا وہ کیوں ہوا؟ ( اس کی وجہ یہ تھی کہ ) ایک دفعہ تم نے بکری ذبح کی تھی تمہارے پاس ایک یتیم مسکین آیا تھا اور وہ روزہ دار تھا لیکن تم نے اس کو کچھ بھی نہ کھلایا ( آپ ﷺ نے ) فرمایا: اس کے بعد یعقوب علیہ السلام نے ی عادت بنا لی تھی کہ جب ناشتہ کرنے لگتے تو منادی کو حکم دیتے وہ ندا دیتا کوجو کوئی ناشتہ کرنا چاہتا ہے، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ ناشتہ کر لے اور آپ روزہ رکھتے ( اور افطار کرنے لگتے) تو منادی کو حکم دیتے، وہ یہ اعلان کرتا جو کوئی مسکین روزہ دار ہو، وہ یعقوب علیہ السلام کے ہمراہ روزہ افطار کرے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حفص بن عمر الزبیر کے ہاتھ کی تحریر کے بارے میں میری اطلاع یہی ہے اور میرا خیال ہے کہ "الزبیر"راوی کی غلطی ہے کیونکہ یہ حفص بن عمر بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری ہیں جو کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں اور اگر حقیقت یہی ہے تو یہ حدیث صحیح ہے۔ اور امام ابو یعقوب اسحق بن ابراہیم الحنظلی نے اس حدیث کو تفسیر میں مرسلاً درج کیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← هِشَامُ بْنُ بِشْرٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3328

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3329

3329 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَانَ لِيَعْقُوبَ أَخٌ مُؤَاخِيًا» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک منہ بولا بھائی تھا۔ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث جیسی حدیث بیان کی۔

«كَانَ لِيَعْقُوبَ أَخٌ مُؤَاخِيًا» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← إسحاق أنبا عمرو بن محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3329

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3330

3330 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: قَوْلُهُ تَعَالَى " {حَتَّى إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّسُلُ، وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا} [يوسف: 110] قُلْتُ: لَقَدِ اسْتَيْأَسُوا أَنَّهُمْ كُذِبُوا حَقِيقَةً؟ قَالَتْ: مُعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَكُونَ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِكَ بِرَبِّهَا، إِنَّمَا هُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، لَمَّا اسْتَأْخَرَ عَنْهُمُ النَّصْرُ، وَاشْتَدَّ عَلَيْهِمُ الْبَلَاءُ، ظَنَّتِ الرُّسُلُ أَنَّ أَتْبَاعَهُمُ قَدْ كُذِبُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3330 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عروہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( وہ فرماتے ہیں) میں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد:"حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡ‍َٔسَٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ "(یوسف:110)" یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے غلط کیا تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: واقعی وہ لوگ ناامید ہو گئے تھے کہ ان کو لوگوں نے جھٹلا دیا تھا، ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: معاذ اللہ! انبیاء کرام علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسا نظریہ نہیں رکھ سکتے وہ تو رسولوں کے پیرو کار لوگ تھے، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی مدد میں تاخیر ہوئی اور ان پر آزمائشیں سخت تر ہو گئیں تو رسولوں نے یہ گمان کیا ان کے پیروکاروں کو جھٹلا دیا گیا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3330

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ · حديث 3331

3331 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى يَقُولُ: لَوْ أَنَّ عِبَادِيَ أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمُ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمُ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ، وَلَمْ أُسْمِعْهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3331 - بل صدقة بن موسى واه

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے : اگر میرے بندے میر ی اطاعت بجا لائیں تو میں رات میں ان پر بارش برساؤں اور دن پر سورج طلوع کروں اور ان کو گرج کی آواز تک نہ سناؤں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← صدقة بن موسى ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Thund · Hadith 3331

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ · حديث 3332

3332 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [الرعد: 39] قَالَ: " مِنْ أَحَدِ الْكِتَابَيْنِ هُمَا كِتَابَانِ يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءَ مِنْ أَحَدِهِمَا {وَيُثْبِتُ، وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ} [الرعد: 39] أَيْ جُمْلَةُ الْكِتَابِ «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِحَمَّادٍ وَاحْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعِكْرِمَةَ» وَهُوَ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانِ التَّيْمِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3332 - صحيح غريب

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "یمحو اللہ ما یشاء"(الرعد:39)" اللہ جو چاہے مٹاتا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یہ دو کتابوں میں سے ایک کی بات ہے۔ وہ دو کتابیں ہیں، ان میں سے ایک کتاب میں جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور اس کے پاس " ام الکتاب" ہے یعنی پوری کتاب ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حماد کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث سلیمان التیمی کی سند کے ہمراہ غریب صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [الرعد: ← عِكْرِمَةَ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Thund · Hadith 3332

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ · حديث 3333

3333 - ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا حَنْظَلَةُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «لَا يَنْفَعُ الْحَذَرُ مِنَ الْقَدْرِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمْحُو بِالدُّعَاءِ مَا يَشَاءُ مِنَ الْقَدَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3333 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تقدری سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ دعا کی وجہ سے جتنی چاہے تقدیر بدل دیت ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَنْظَلَةُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Thund · Hadith 3333

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الرَّعْدِ · حديث 3334

3334 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا} [الرعد: 41] قَالَ: مَوْتُ عُلَمَائِهَا وَفُقَهَائِهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3334 - طلحة بن عمرو قال أحمد متروك

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ کے ارشاد: "کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہم ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں" کے متعلق فرماتے ہیں : اسے سے مراد اس قوم کے علماء اور فقہاء کی موت ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أحمد متروك ← مَوْتُ عُلَمَائِهَا وَفُقَهَائِهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» طلحة بن عمرو ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عَطَاءٍ، ← طَلْحَةَ، ← إِسْحَاقُ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Thund · Hadith 3334

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3335

3335 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ، وَفَضَّلَهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ. قَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَبِمَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ} [الأنبياء: 29] وَقَالَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: 2] الْآيَةُ. قَالُوا: فَبِمَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ} [إبراهيم: 4] الْآيَةُ وَقَالَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا} [سبأ: 28] فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجِنِّ وَالْإِنْسِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ» فَإِنَّ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ قَدِ احْتَجَّ بِهِ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الشَّيْخَانِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3335 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کوآسمان والوں پر اور زمین والوں پر فضیلت دی ہے لوگوں نے پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو آسمان والوں پر کیسے فضیلت دی ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:" اور ان میں جو کوئی کہے میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو اسے ہم جہنم کی سزا دیں گے ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ستمگاروں کو" اور اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لیے فرمایا ہے:بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرما دی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوںکے اور تمہارے پچھلوں کے " لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے آُکو زمین والوں پرکیسے فضیلت دی ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:"اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا" اور محمد کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیر نےوالی خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا"چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تمام جنات اور انسانوں کے لیے رسول بناکر بھیجا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا کیونکہ آئمہ اسلام کی ایک جماعت نے حکم بن ابان کی روایات نقل کی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← إسحاق بن إبراهيم، أنبأ يزيد بن أبي حكيم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3335

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3336

3336 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " {فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ} [إبراهيم: 9] قَالَ: عَضُّوا عَلَيْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3336 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے" کے متعلق فرمایا: انہوں نے اپنے ہاتھ چبالئے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3336

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3337

3337 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ} [إبراهيم: 9] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كَذَا وَرَدَّ يَدَهُ فِي فِيهِ وَعَضَّ يَدَهُ. وَقَالَ: عَضُّوا عَلَى أَصَابِعِهِمْ غَيْظًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ بِالزِّيَادَةِ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3337 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " تو وہ اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لے گئے" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھ منہ میں ڈال کر دانتوں سے چباکر فرمایا : یوں ( وہ لوگ اپنے ہاتھ منہ میں لے گئے تھے) پھر فرمایا: انہوں نے غصے میں اپنی انگلیوں کو دانتوں سے چبایا۔ یہ حدیث اس زیادتی کے ہمراہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ: كَذَا وَرَدَّ يَدَهُ فِي فِيهِ وَعَضَّ يَدَهُ. ← عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ} [إبراهيم: ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3337

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 3338

3338 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ، وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} [التحريم: 6] تَلَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، أَوْ قَالَ يَوْمٍ فَخَرَّ فَتًى مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى فُؤَادِهِ، فَإِذَا هُوَ يَتَحَرَّكُ، فَقَالَ: «يَا فَتًى، قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» فَقَالَهَا فَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ بَيْنِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا سَمِعْتُمْ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ} [إبراهيم: 14] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت اتاری: " اے ایمان والو ! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ" تو رسول اللہ ﷺ نے ایک رات یا (شاید فرمایا) ایک دن اپنے صحابہ کو اس کی تلاوت سنائی۔ ایک نوجوان پر غشی طاری ہوئی اور وہ گر پڑا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دھڑک رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے نوجوان ! پڑھو لا الہ الا اللہ" اس نے فوراً کلمہ شریف پڑھ لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو جنت کی بشارت دی، آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ !ہمارے لیے بھی یہی حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سن رکھا (اس نے فرمایا ہے):" یہ اس کے لیے ہے جو میرے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اور میں نے جو عذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Abraham, peace be upon him · Hadith 3338

chevron_left Previous
1…383940…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section