Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3315

3315 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُلْهِمَ إِبْرَاهِيمُ الْخَلِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ هَذَا اللِّسَانَ الْعَرَبِيَّ إِلْهَامًا» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " إِنْ كَانَ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَفِظَهُ مُتَّصِلًا عَنْ أَبِي ثَابِتٍ فَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَمِّي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا نَحْوَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3315 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ علیہ السلام کہ یہ عربی زبان الہام کی گئی۔ یہ حدیث غریب ہے ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے بشرطیکہ فضل بن محمد نے اس کو ابو ثابت سے متصلاً محفوظ کیا ہو کیونکہ ہمیں ابو علی حافظ نے ابو عبدا لرحمٰن النسائی پھر عبداللہ بن سعد زہری رضی اللہ عنہ پھر ان کے چچا پھر ان کے والد پھر سفیان پھر جعفر بن محمد پھر ان کے والد کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ سے مرسلاً اسی طرح روایت کی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، ← جَدِّي، ← أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3315

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3316

3316 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَحْمُودٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عِيسَى بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ} قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «انْتَهِ إِلَى مَا انْتَهَتْ إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ لِلثَّوْرِيِّ لَا أَعْلَمُ أَنَّا كَتَبْنَاهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3316 - صحيح غريب

حضرت عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت (ھود:73)" اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں تم پر اے اس گھر والو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آپ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی آپ کے پا س آیا اور آپ کو سلام کیا، میں نے جواباً کہا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے: اس مقام تک رک جاؤ جہاں پر فرشتے رک جاتے ہیں۔ ثوری کے حوالے سے یہ حدیث غریب ہے، میں نہیں جانتا ہوں میں نے اسکو صرف اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3316

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3317

3317 - أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا جَاءَتْ رُسُلُ اللَّهِ لُوطًا ظَنَّ أَنَّهُمْ ضِيفَانٌ لَقَوْهُ فَأَدْنَاهُمْ حَتَّى أَقْعَدَهُمْ قَرِيبًا، وَجَاءَ بِبَنَاتِهِ وَهُنَّ ثَلَاثٌ، فَأَقْعَدَهُنَّ بَيْنَ ضِيفَانِهِ وَبَيْنَ قَوْمِهِ، فَجَاءَ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: " {هَؤُلَاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهُرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي} [هود: 78] قَالُوا {مَا لَنَا فِي بَنَاتِكِ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ} [هود: 79] {قَالَ لَوْ أَنَّ لِيَ بِكُمُ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ} [هود: 80] فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ {إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ} [هود: 81] قَالَ: فَطَمَسَ أَعْيُنَهُمْ فَرَجَعُوا وَرَاءَهُمْ يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى خَرَجُوا إِلَى الَّذِينَ بِالْبَابِ فَقَالُوا: جِئْنَاكُمْ مِنْ عِنْدِ أَسْحَرِ النَّاسِ، قَدْ طَمَسَ أَبْصَارَنَا، فَانْطَلَقُوا يَرْكَبُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى دَخَلُوا الْقَرْيَةَ فَرُفِعَتْ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، حَتَّى كَانَتْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ أَصْوَاتَ الطَّيْرِ فِي جَوِّ السَّمَاءِ، ثُمَّ قُلِبَتْ فَخَرَجَتِ الْإِفْكَةُ عَلَيْهِمْ، فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ الْإِفْكَةُ، قَتَلَتْهُ وَمَنْ خَرَجَ أَتْبَعَتْهُ، حَيْثُ كَانَ حَجَرًا فَقَتَلَتْهُ، قَالَ: فَارْتَحَلَ بِبَنَاتِهِ وَهُنَّ ثَلَاثٌ حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الشَّامِ، فَمَاتَتِ ابْنَتُهُ الْكُبْرَى، فَخَرَجَتْ عِنْدَهَا عَيْنٌ، يُقَالَ لَهَا الْوَرِيَّةُ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ فَمَاتَتِ الصُّغْرَى، فَخَرَجَتْ عِنْدَهَا عَيْنٌ، يُقَالَ لَهَا الرُّعُونَةَ، فَمَا بَقِيَ مِنْهُنَّ إِلَّا الْوُسْطَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَلَعَلَّ مُتَوَهِّمًا يَتَوَهَّمُ أَنَّ هَذَا وَأَمْثَالَهُ فِي الْمَوْقُوفَاتِ وَلَيْسَ كَذَلِكَ فَإِنَّ الصَّحَابِيَّ إِذَا فَسَّرَ التِّلَاوَةَ فَهُوَ مُسْنَدٌ عِنْدَ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3317 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جب اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے تو وہ سمجھے کہ یہ مہمان ہیں، ان سے ملنے آئے ہیں۔ آپ نے ان کو اپنے قریب کر کے بٹھالیا اور آپ کی تین صاحبزادیاں تھیں،آپ نے ان تینوں کو اپنے مہمانوں اور اپنی قوم کے درمیان بٹھا دیا اور ان کے پاس ان کی قوم دوڑتی ہوئی آئی، جب آپ نے ان کو دیکھاتو بولے: " ھٰؤلاء بناتی ھن اطہر لکم فاتقو اللہ ولا تخزون فی ضیفی(ھود:78) " یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لئے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوانہ کرو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ بولے " مالنا فی بناتک من حق وانک لتعلم مانرید(ھود:79)۔ " تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ "قال لو ان لی بکم قوۃ او اٰوی رکن شدید"(ھود:80)" بولے اے کاش! مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی جانب متوجہ ہو کربولے: " انا رسل ربک لن یصلوا الیک (ھود:81)" ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے" ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ ان کو اندھا کردیا گیا اور وہ ایک دوسرے پر گرتے پڑتے باہر دروازے کی طرف دوڑے وار کہنے لگے: ہم سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئے ہیں، ہمیں اندھا کر دیا گیا ہے۔ پھر وہ ایک دوسرے پر کرتے پڑتے چل پڑے۔ اس بستی میں داخل ہو گئے۔ ایک رات اس بستی کو اوپر اٹھالیا گیا (اتنا اونچا اٹھایا گیا) کہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان پہنچ گئے، وہاں پر ان کو فضاؤں میں پرندوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، پھر اسکو الٹا دیا گیا، تو جو لوگ اس کے نیچے آ گئے ، وہ وہیں ہلاک ہو گئے اور جو اس سے بچے ان پر پتھر برسائے گئے، جن سے وہ ہلاک ہو گئے۔ حضرت لوط علیہ السلام تینون بیٹیوں کے ہمراہ چل نکلے، جب وہ ملک شام کے فلاں مقام پر پہنچے تو ان کی بڑی بیٹی کا انتقال ہو گیا، وہاں پر پانی کاایک چشمہ پھوٹا جس کا نام "الوریۃ" ہے ۔ پھر آپ وہاں سے چلے اور خدا جانے کس مقام پر پہنچے کہ ان کی چھوٹی بیٹی کا انتقال ہو گیا، وہاں پربھی ایک چشمہ جاری ہوا، اس کا نام " الرعونۃ" ہے ان کی صرف ایک درمیان والی بیٹی باقی بچی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا۔اور ہو سکتا ہے کہ کسی کہ یہ وہم ہو کہ یہ اور اس طرح کی دیگر روایات تو موقوفات میں شامل ہیں حالانکہ بات یہ نہیں ہےکیونکہ جب کوئی صحابی تلاوت کے دوران تفسیر بیان کرتا تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ مسند ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا جَاءَتْ رُسُلُ اللَّهِ لُوطًا ظَنَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3317

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3318

3318 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ، فَأَتَوْهَا فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ: «نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ، وَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّاهُ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3318 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:لوگوں نے ایک قبر میں روشنی دیکھی تو اس قبر کے پاس چلے آئے، جب انہوں نے دیکھا تو قبر میں رسول اللہ ﷺ موجودتھے اور فرما رہے تھے اپنا ساتھی مجھے پکڑاؤ (جب اس کی میت آپ کو پکڑائی گئی تو ہمیں پتا چلاکہ) وہ شخص بہت آہ و زاری کرنے والا وار بآواز بلند ذکر کرنے والاتھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3318

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3319

3319 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ} [يوسف: 1] تَلَا إِلَى قَوْلِهِ {نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 3] الْآيَةُ. فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثَتْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا} [الزمر: 23] الْآيَةُ كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُ بِالْقُرْآنِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3319 - صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ”(یوسف:3)" ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ پر قرآن پاک نازل ہوا توآپ ﷺ ایک عرصہ تک لوگوں کو اس کی تلاوت سناتے رہے۔ لوگوں نے عرض کی: یاِ رسول اللہ ﷺ !آپ ہمیں کوئی قصہ سنائیے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِٱلۡمُبِينِ"(یوسف:1)" الر، یہ روسن کتاب کی آیتیں ہیں " (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آپ ﷺ نے " نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ ٱلۡقَصَصِ " والی آیت کے آخر تک تلاوت کی۔ پھر آپ ایک عرصے تک ان کو یہ قصہ سناتے رہے۔ پھر لوگوں نے فرمائش کی۔ آپ ہم سے باتیں کریں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:"اللہ نزل احسن الحدیث کتابا! متشابھا" (الزمر:23)" اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آیت کے آخر تک تلاوت کی آپ کو ہر چیز کا حکم بذریعہ قرآن دیا جاتا تھا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَتَلَا عَلَيْهِمْ زَمَانًا ← سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةُ. ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← خَلَّادُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3319

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3320

3320 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتِّخِذَهُ وَلَدًا، وَالَّتِي قَالَتْ {يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26] وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ تَفَرَّسَ فِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3320 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تین لوگوں نے سب سے زیادہ نگاہ فراست کا ثبوت دیا تھا۔ (1) عزیز (مصر) جب اس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ انہیں (یوسف کو) عزت سے رکھو شاید ان سے ہمیں نفع پہنچے یا ان کو ہم بیٹا بنا لیں۔ وہ خاتون جس نے (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق) کہا تھا : اے میرے باپ ان کو نوکر رکھ لو بے شک بہتر نوکر وہ جو طاقتور امانت دار ہو۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق فراست دکھائی ( کہ اپنے بعد ان کو خلیفہ مقرر فرمایا)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لِامْرَأَتِهِ أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتِّخِذَهُ وَلَدًا، وَالَّتِي ← أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3320

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3321

3321 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، " يَقْرَأُ {وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ} [يوسف: 23] فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: هَكَذَا عُلِّمْنَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3321 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورہ یوسف کی آیت نمبر 23 کویوں پڑھا کرتے تھے: "وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَ " (یوسف:23)" اور بولی آؤ تمہیں سے کہتی ہوں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: ہم نے اسی طرح یہ آیت سیکھی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

هَيْتَ لَكَ} [يوسف: فَقِيلَ لَهُ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقْرَأُ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3321

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3322

3322 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ} [يوسف: 24] قَالَ: مُثِّلَ لَهُ يَعْقُوبُ فَضَرَبَ صَدْرَهُ، فَخَرَجَتْ شَهْوَتُهُ مِنْ أَنَامِلِهِ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3322 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦ "(یوسف:24)" اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق فرماتے ہیں ۔ ان کے سامنے حضرت یعقوب علیہ السلام کی شخصیت لائی گئی ، انہوں نے ان کے سینے پر مارا جس سے ان کی تمام شہوت ان کی انگلیوں کے پوروں کے راستے خارج ہو گئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {لَوْلَا أَنْ رَأَىَ بُرْهَانَ رَبِّهِ} [يوسف: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3322

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3323

3323 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " عَثَرَ يُوسُفُ ثَلَاثَ عَثَرَاتٍ، حِينَ هَمَّ بِهَا فَسُجِنَ وَقَوْلُهُ لِلرَّجُلِ {اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ} [يوسف: 42] فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ فَأَنْسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ، وَقَوْلُهُ لَهُمْ {إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ} [يوسف: 70] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3323 - هو خبر منكر

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت یوسف علیہ السلام تین مرتبہ پھسلے (1) جب انہوں نے زلیخا کا ارادہ کیا تو قید کر دئیے گئے۔ (2) جب آپ نے (رہائی پانے والے قیدی) آدمی سے کہا تھا: اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کرنا، پھر وہ کئی سال جیل میں رہے کیونکہ شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی تھی۔ جب یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے متعلق کہا تھا۔ " انکم لسارقون "(یوسف:70)" بے شک تم چور ہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خُصَيْفٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3323

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3324

3324 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " {قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ} [يوسف: 41] قَالَ: لَمَّا حَكَيَا مَا رَأَيَاهُ، وَعَبَّرَ يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ أَحَدُهُمَا: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا. فَقَالَ: قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت: "قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُٱلَّذِي فِيهِ تَسۡتَفۡتِيَانِ" (یوسف:41) "حکم ہو چکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ (کے بارے میں) فرماتے ہیں : جب حضرت یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کی (بیان کردہ) خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو ان میں سے ایک نے کہا: ہم نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں ( بلکہ ہم نے تو سرا سر جھوٹ بولا تھا) تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگوں نے جو پوچھا تھا اس کے متعلق فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ (خواب تم نے دیکھا تھا یا نہیں) ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَحَدُهُمَا: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا. ← لَمَّا حَكَيَا مَا رَأَيَاهُ، وَعَبَّرَ يُوسُفُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ {قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ} [يوسف: ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ الضَّبِّيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3324

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3325

3325 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، ابْنِ الْكَرِيمِ، يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ، وَلَوْ لَبِثْتُ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِيَ الدَّاعِي لَأَجَبْتُ إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ» فَقَطْ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3325 - وقد اتفقا على حديث سعيد وابن عبيد عن أبي هريرة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک کریم کے کریم بیٹے کے کریم بیٹے کا کریم بیٹا ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے بیٹے یعقوب علیہ السلام کا بیٹا یوسف علیہ السلام ہے۔ یوسف علیہ السلام جس قدر جیل میں رہے ، اگر اتنا عرصہ میں جیل میں رہتا اور پھر میرے پاس رہائی کا پروانہ آتا تو میں قبول کر لیتا ( لیکن کمال حوصلہ ہے یوسف علیہ السلام کا ) کہ جب ان کے پاس قاصد آیا تو آپ نے فرمایا: اپنے رب(بادشاہ) کے پاس پلٹ جا، پھر اس سے پوچھا: ان عورتوں کا کیا حال ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرا رب ان کا فریب جانتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے سعید رضی اللہ عنہ اور عبید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اتنی حدیث نقل کی ہے " اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ یوسف علیہ السلام رہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يزيد بن هارون أنبا محمد بن عمرو ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3325

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3326

3326 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اسْتَأْذِنُوا لِابْنِ الْأَخْيَارِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيذَنُوا لَهُ. فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ لَهُ عُمَرُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانُ، ابْنُ فُلَانِ، ابْنِ فُلَانٍ، قَالَ: فَجَعَلَ يَعُدُّ رِجَالًا مِنْ أَشْرَافِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " أَنْتَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: ذَاكَ ابْنُ الْأَخْيَارِ، وَأَنْتَ ابْنُ الْأَشْرَارِ، إِنَّمَا تَعُدُّ عَلَيَّ رِجَالَ أَهْلِ النَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» . «وَعَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3326 - على شرط مسلم

حضرت علی بن رباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اوریوں کہا: بہترین لوگون کے بیٹے کو اجازت دیجئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو، جب وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : تم کون ہو؟ اس نے جواباً کہا: میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں (راوی) کہتے ہیں: اپنا تعارف کراتے ہوئے ، اس نے زمانہ جاہلیت کے صاحب منصب لوگوں کے نام گنوانا شروع کر دئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: بہترین لوگوں کا بیٹا تو وہ تھا۔ اور تو شریر لوگوں کا بیٹا ہے تو ہمارے سامنے جہنمی لوگوں کا ذکر کر رہا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔اور حضرت علی بن رباح رحمۃ اللہ علیہ کبیر تابعی ہیں۔

لَا۔ ← لَهُ عُمَرُ: أَنْتَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ؟ ← فَجَعَلَ يَعُدُّ رِجَالًا مِنْ أَشْرَافِ الْجَاهِلِيَّةِ ← فُلَانُ، ابْنُ فُلَانِ، ابْنِ فُلَانٍ، ← لَهُ عُمَرُ: مَنْ أَنْتَ؟ ← عُمَرُ إِيذَنُوا لَهُ. فَلَمَّا دَخَلَ ← اسْتَأْذِنُوا لِابْنِ الْأَخْيَارِ، ← اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى عُمَرَ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3326

chevron_left Previous
1…373839…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section