Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3303

3303 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " جَعَلَ جِبْرِيلُ يَدُسُّ الطِّينَ فِي فِي فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» إِلَّا أَنَّ أَكْثَرَ أَصْحَابِ شُعْبَةَ أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3303 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ مٹی ٹھونستے رہے، اس خدشہ کی وجہ سے کہ یہ کہیں " لا الہ الا اللہ " نہ پڑھ لے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔ تا ہم شعبہ کے اکثر شاگردوں نے اس کو ابن عباس تک موقوف رکھا ہے۔

جَعَلَ جِبْرِيلُ يَدُسُّ الطِّينَ فِي فِيِّ فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← النضر بن شميل أنبأ شعبة ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3303

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3304

3304 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ، فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمْ عَنِ الْآيَاتِ، فَهَؤُلَاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ أَنْ يَبْعَثَ لَهُمْ آيَةً، فَبَعَثَ اللَّهُ لَهُمُ النَّاقَةَ، فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَتَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمَ وِرْدِهَا، وَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا، مِثْلَ مَا كَانُوا يَتَرَوُّونَ مِنْ مَائِهِمْ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَوَعَدَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ مَوْعِدًا مِنَ اللَّهِ غَيْرَ مَكْذُوبٍ، ثُمَّ جَاءَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْلَكَ اللَّهُ مَنْ كَانَ تَحْتَ مَشَارِقِ السَّمَاوَاتِ وَمَغَارِبِهَا، مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَمَنَعَهُ حَرَمُ اللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3304 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب سورۃ "حجر" نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: اے لوگو! اپنے نبی سے معجزات کا مطالبہ مت کیا کرو کیونکہ یہ صالح کی قوم ہے ، انہوں نے اپنے بنی سے مطالبہ کیا کہ ان کو کوئی معجزہ دکھایا جائےتو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک اونٹنی بھیجی تو وہ پہاڑ کی پھٹن سے نکلتی ، وہ ان کے حصہ کا پانی پیتی اور وہ لوگ اپنے پانی کی مقدار میں اس کا دودھ پیتے تھے، پھر انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کو قتل کر ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے تین دن کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ پھر ان پر ایک زور دار چیخ کی آواز آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا جو مشارق اور مغارب کے نیچے موجود تھے، سوائے ایک شخص کے جو حرم میں موجود تھا اور اللہ تعالیٰ کے حرم نے اس کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا رکھا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون تھا؟ آپ نے فرمایا: "ابورغال"۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3304

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3305

3305 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " {يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا} [هود: 6] قَالَ: مُسْتَقَرُّهَا فِي الْأَرْحَامِ وَمُسْتَوْدَعُهَا حَيْثُ تَمُوتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3305 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " یعلم مستقرھا ومستودعھا"(ھود:6) " اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہو گا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ)۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس کا ٹھہرنا رحم میں ہے اور اس کا سپرد ہونا اس کی موت ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3305

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3306

3306 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ} [هود: 7] عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كَانَ الْمَاءُ؟ قَالَ: عَلَى مَتْنِ الرِّيحِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3306 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " وکان عرشہ علیٰ الماء(ھود:7) " اور اس کا عرش پانی پر تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق پوچھا گیا: پانی کس چیز پر تھا؟ آپ نے فرمایا: ہوا پر۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: عَلَى أَيْ شَيْءٍ كَانَ الْمَاءُ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3306

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3307

3307 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: دَخَلَ قَوْمٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ يَقُولُونَ: أَعْطِنَا. حَتَّى سَاءَهُ ذَلِكَ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُونَ، فَقَالُوا: جِئْنَا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ، وَنَسْأَلُهُ عَنْ بَدْءِ هَذَا الْأَمْرِ. فَقَالَ: «كَانَ اللَّهُ وَلَا شَيْءَ غَيْرُهُ وَكَانَ الْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ نَاقَتَكَ قَدْ ذَهَبَتْ. قَالَ: فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3307 - صحيح

حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے سوال کرنا شروع کر دئیے اور کہنے لگے: ہمیں عطا کیجئے، ہمیں عطا کیجئے، حتیٰ کہ یہ بات آپ کو بری لگنے لگی۔ پھر کچھ اور لوگ آپ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کو سلام کرنے اور ( آپ سے) دین کے مسائل سمجھنے کے لئے آئے ہیں اور کائنات کی ابتداء کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات تھی اور اس کو سوا کچھ نہیں تھا اور عرش پانی پر تھا اور قرآن کریم میں ہر شئے کا ذکر لکھ دیا گیا ہے پھر ساتوں آسمان پیدا کیے۔ (راوی) کہتے ہیں: پھر ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تیری اونٹنی بھاگ گئی ہے (راوی )کہتے ہیں: میں نے یہ خواہش کی کاش میں نے اس کو چھوڑ ہی دیا ہوتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

بُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ ← أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← محمد بن عبيد الله بن أبي داود المنادي، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3307

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3308

3308 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ} [هود: 8] قَالَ: إِلَى أَجَلٍ مَعْدُودٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3308 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : " ولئن اخرنا عنھم العذاب الیٰ امۃ معدودۃ( ھود:8) " اوراگر ہم ان سے عذاب کچھ گنتی کی مدت تک ہٹا دیں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ (اس آیت میں "الیٰ امۃ معدودۃ" کا مطلب الیٰ اجل معدود ہے۔) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ }هود: ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3308

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3309

3309 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْمَعُ بِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ، وَلَا يُؤْمِنُ بِي إِلَّا دَخَلَ النَّارَ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَيْنَ تَصْدِيقُهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ حَتَّى وَجَدْتُ هَذِهِ الْآيَةَ {وَمَنْ يَكْفُرُ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ، فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ} [هود: 17] قَالَ: الْأَحْزَابُ الْمِلَلُ كُلُّهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3309 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس امت میں سے جو شخص میری نبوت کے بارے میں سن لے وہ خواہ یہودی ہو یا نصرانی اور پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنمی ہے۔ میں کتاب اللہ تعالیٰ میں اس بات کی تصدیق ڈھونڈنے لگ گیا حتیٰ کہ اس آیت میں مجھے آپ کے ارشاد کی تصدیق مل گئی:" ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ(ھود:17)۔" اور جو اس کا منکر ہو سارے گروہوں میں تو آگ اس کا وعدہ ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ آپ نے فرمایا: اس آیت میں الاحزاب سے مراد تمام ملتیں ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي عَمْرٍو الْبَصْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3309

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3310

3310 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ رَحِمَ اللَّهُ أَحَدًا مِنْ قَوْمِ نُوحٍ لَرَحِمَ أُمَّ الصَّبِيِّ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ نُوحٌ مَكَثَ فِي قَوْمِهِ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا، يَدْعُوهُمْ حَتَّى كَانَ آخِرَ زَمَانِهِ غَرَسَ شَجَرَةً، فَعَظُمَتْ، وَذَهَبَتْ كُلَّ مَذْهَبٍ، ثُمَّ قَطَعَهَا، ثُمَّ جَعَلَ يَعْمَلُهَا سَفِينَةً، وَيَمُرُّونَ فَيَسْأَلُونَهُ، فَيَقُولُ: أَعْمَلُهَا سَفِينَةً، فَيَسْخَرُونَ مِنْهُ، وَيَقُولُونَ: تَعْمَلُ سَفِينَةً فِي الْبَرِّ، وَكَيْفَ تَجْرِي؟ قَالَ: سَوْفَ تَعْلَمُونَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا، فَارَ التَّنُّورُ، وَكَثُرَ الْمَاءُ فِي السِّكَكِ، خَشِيَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ تُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَخَرَجَتْ إِلَى الْجَبَلِ حَتَّى بَلَغَتْ ثُلْمَةً فَلَمَّا بَلَغَهَا الْمَاءُ خَرَجَتْ بِهِ حَتَّى اسْتَوَتْ عَلَى الْجَبَلِ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءُ رَقَبَتَهَا رَفَعَتْهُ بِيَدِهَا حَتَّى ذَهَبَ بِهَا الْمَاءُ، فَلَوْ رَحِمَ اللَّهُ مِنْهُمْ أَحَدًا لَرَحِمَ أُمَّ الصَّبِيِّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3310 - إسناده مظلم وموسى ليس بذاك

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں سے کسی پر رحم کرتا تو بچے کی والدہ پر رحم کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو 950 سال تک تبلیغ کرتے رہے، آپ نے اپنے آخری وقت میں ایک درخت کاشت کیا، وہ اگا اور بہت بڑا ہو گیا، جب اس کی نشو نما مکمل ہو گئی تو انہوں نے اس کو کاٹا اور اس سے ایک کشتی تیار کرنا شروع کی۔ لوگ وہاں سے گزرتے اور پوچھتے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ فرماتے : میں کشتی بنا رہا ہوں۔ اس پر لوگ ہنستے اور کہتے تم خشکی پر کشتی تیار کر رہے ہو، یہ چلے گی کہاں پر؟ آپ فرماتے : عنقریب تمہیں سب پتہ چل جائے گا۔ جب آپ کشتی تیار کر کے فارغ ہو گئے تو چشمے ابل پڑے اور گلیوں سرکوں میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا، ایک بچے کی ماں اس پر خوف زدہ ہوئی اور وہ اس سے بہت شدید محبت کرتی تھی، وہ پہاڑ کی طرف نکل آئی یہاں تک کہ وہ شگاف تک پہنچ گئی جب پانی وہاں تک پہنچا تو وہ وہاں سے نکل گئی یہاں تک کہ پانی اس کے ہاتھوں کو بھی بہا لے گیا اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی پر رحم کرتا تو اس بچے کی ماں پر رحم کرتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فَائِدٌ مَوْلَی عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3310

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3311

3311 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ بَيْنَ نُوحٍ وَهَلَاكِ قَوْمِهِ ثَلَاثُ مِائَةِ سَنَةٍ، وَكَانَ قَدْ فَارَ التَّنُّورُ فِي الْهِنْدِ وَطَافَتْ سَفِينَةُ نُوحٍ بِالْكَعْبَةِ أُسْبُوعًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3311 - النضر ضعفوه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کی قوم کی ہلاکت کے درمیان تین سو 300 سال کا وقفہ ہے اور "تنور" ہندوستان میں ابلا تھا اور نوح علیہ السلام کی کشتی پورا ایک ہفتہ کعبۃ اللہ کے گرد گھومتی رہی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ الْخَزَّازُ، ← أَبُو يَحْيَی الْحِمَّانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3311

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3312

3312 - أَخْبَرَنَا مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَرَفَنِي فَأَنَا مَنْ عَرَفْتُمْ، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3312 - مفضل خرج له الترمذي فقط ضعفوه

حضرت حنش کنانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کعبۃ اللہ کے دروازے کو تھام کر کہہ رہے تھے: جو شخص مجھے پہچانتا ہے تو میں وہی ہوں جس کو وہ جانتا ہے اور جو شخص مجھے نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ میں ابو ذر ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کایہ ارشاد سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو ذَرٍّ ← مَنْ عَرَفْتُمْ، وَمَنْ أَنْكَرَنِي ← وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ عَرَفَنِي ← أَبَا ذَرٍّ ← حَنشٍ الْكِنَانِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3312

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3313

3313 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ مُهْبِطًا لَهُ خُوَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّكْبِيرِ» ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الثَّنِيَّةُ؟» قَالُوا: ثَنِيَّةُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ خِطَامُهَا لِيفٌ وَهُوَ يُلَبِّي، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ صُوفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3313 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ وادی ازرق کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کون سا مقام ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا یہ وادی ازرق " ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ میں حضرت موسیٰ بن عمران رضی اللہ عنہ کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواس سے تکبیر پڑھ رہے ہیں۔ پھر آپ ﷺ مقام "ثنیہ " پر تشریف لائے، آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کون سے جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا : فلاں فلاں ثنیہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: گویا کہ حضرت یونس علیہ السلام بن متی کو سرخ رنگ کی گھنگریالے بالوں والی اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، جس کی لگام کھجوری چھال کی ہے اور تلبیہ کہہ رہےہیں اور آپ اونی جبہ زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3313

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ هُودٍ · حديث 3314

3314 - حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَطَرٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَاكَ قَدْ شِبْتَ. قَالَ: «شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالْوَاقِعَةُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3314 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : ( یا رسول اللہ ﷺ ) میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ بوڑھے ہوتے جارہےہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: " مجھے سورہ ھود ، واقعہ، عم یتساءلون اور اذا الشمس کورت" نے بوڑھا کر دیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لِرَسُولِ اللَّهِ أَرَاكَ قَدْ شِبْتَ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَيْبَانَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ، ← سَأَلْتُهُ ← أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مطر

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Hud · Hadith 3314

chevron_left Previous
1…363738…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section