Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3291

3291 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ عَمِّ إِنَّكَ أَعْظَمُهُمْ عَلَيَّ حَقًّا، وَأَحْسَنُهُمْ عِنْدِي يَدًا، وَلَأَنْتَ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَيَّ مِنْ وَالِدِي، فَقُلْ كَلِمَةً تَجِبْ لَكَ عَلَيَّ بِهَا الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» فَقَالَا لَهُ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَسَكَتَ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنَا عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] الْآيَةُ {وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهَ} [التوبة: 114] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ فَإِنَّ يُونُسَ وعَقِيلًا أَرْسَلَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3291 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابو طالب کی وفات قریب آیا تو نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس عبداللہ بن ابی امیہ اور ابو جہل بن ہشام بھی موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے ابو طالب سے کہا: اے چچا! مجھے سب سے زیادہ آپ کی شفقت حاصل رہی ، سب سے زیادہ میرے اوپر آپ کا حق ہے بلکہ میرے اوپر میرے والد سے بھی بڑھ کر آپ کا حق ہے۔ آپ ایک مرتبہ ایک جملہ بول دیں جس کی وجہ سے میں آپ کی قیامت میں شفاعت کر سکوں۔ تم پڑھو" لا الہ الا اللہ" اس پر ابو جہل اور عبداللہ بولے : کیا تم عبدالمطلب کے دین سے منحرف ہو جاؤ گے؟ تو ابو طالب خاموش رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے دوبارہ اس کو دین کی دعوت پیش کی لیکن اس نے کہا: میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تیرے لئے اس وقت تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:" وما کان استغفار ابراہیم لابیہ (التوبۃ:14) الیٰ آخر الآ یۃ "۔" اور ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) پوری آیت۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ یونس اور عقیل نے یہ حدیث زہری کے واسطے سے سعید سے روایت کرنے میں ارسال کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3291

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3292

3292 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فِي الْمَقَابِرِ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ تَخَطَّا الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَنَاجَاهُ طَوِيلًا، ثُمَّ ارْتَفَعَ نَحِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا فَبَكَيْنَا لِبُكَائِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الَّذِي أَبْكَاكَ فَقَدْ أَبْكَانَا، وَأَفْزَعَنَا، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي فِيهِ، قَبْرُ أُمِّي آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ وَإِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَتِهَا، فَأَذِنَ لِي فِيهِ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي الِاسْتِغْفَارِ لَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فِيهِ، وَنَزَلَ عَلَيَّ {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ {وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ} [التوبة: 114] فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدَ لِوَالِدِهِ مِنَ الرِّقَةِ فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخْرِجَاهُ هَكَذَا بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ مُخْتَصَرًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3292 - أيوب بن هانىء ضعفه ابن معين

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ قبرستا ن کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے، آپ ﷺ نے ہمیں بیٹھ جانےکا حکم دیا، ہم بیٹھ گئے، پھر آپ ﷺ چند قبروں سے آگے تشریف لے گئے اور ایک قبر کے قریب جا کر بیٹھ گئے۔ آپ بہت دیر تک وہاں دعا مانگتے رہے پھر آپ ﷺ کے رونے کی آواز بلند ہونے لگی، آپ ﷺ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو پڑے، پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کس وجہ سے روئے؟ اور آپ ﷺ کے رونے نے ہمیں بھی رلا دیا۔ آپ ﷺ ہمارے قریب تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہیں میرے رونے نے رلادیا ہے؟ میں نے عرض کی :جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے مجھے جس قبر پر دعا مانگتے دیکھاہے وہ میری والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اپنے رب سے ان کی (قبر کی) زیارت کی اجازت مانگی تھی ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی پھر میں نے ان کے لئے استغفار کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہ ملی بلکہ میرے اوپر یہ آیت نازل ہو گئی:" ماکان للنبی والذین آمنو ان یستغفرو ا للمشرکین (التوبۃ:13) "نبی اور ایمان والوں کو لائق نہیں کہ مشرکوں کی بخشش چاہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) آیت کے آخر تک اور۔ "وماکان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعددھا ایاہ" (التوبۃ:14) " اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعرے کے سبب جو اس سے کر چکا تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اسے لئے میرے دل پر بھی وہی گزری جو ایک بیٹے کے دل پر اس کے والد کے حوالے سے گزرتی ہے۔ اسی چیز نے مجھے رلایا تھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس طریقے سے انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ تا ہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصر حدیث روایت کی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3292

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3293

3293 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ} [هود: 7] عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كَانَ الْمَاءُ؟ قَالَ: عَلَى مَتْنِ الرِّيحِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3293 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ان سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " وکان عرشہ علیٰ الماء(ھود:7) " اور اس کا عرش پانی پر تھا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق پوچھا گیا: پانی کس چیز پر تھا؟ آپ نے فرمایا: ہوا پر۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: عَلَى أَيْ شَيْءٍ كَانَ الْمَاءُ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ سُئِلَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3293

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3294

3294 - حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ غَزَاةً لَهُ، قَالَ: فَدَعَا جَعْفَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: لَا أَتَخَلَّفُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَدًا. قَالَ: فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَزَمَ عَلَيَّ لَمَا تَخَلَّفْتُ قَبْلَ أَنْ أَتَكَلَّمَ. قَالَ: فَبَكَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُبْكِيكَ يَا عَلِيُّ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُبْكِينِي خِصَالٌ غَيْرُ وَاحِدَةٍ تَقُولُ قُرَيْشٌ غَدًا: مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ، وَخَذَلَهُ، وَيُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ {وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا} إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَكُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِفَضْلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا قَوْلُكَ تَقُولُ قُرَيْشٌ مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ، وَخَذَلَهُ، فَإِنَّ لَكَ بِي أُسْوَةً، قَدْ قَالُوا سَاحِرٌ، وَكَاهِنٌ، وَكَذَّابٌ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي؟ وَأَمَّا قَوْلُكَ أَتَعَرَّضُ لِفَضْلِ اللَّهِ فَهَذِهِ أَبْهَارٌ مِنْ فُلْفُلٍ جَاءَنَا مِنَ الْيَمَنِ فَبِعْهُ وَاسْتَمْتِعْ بِهِ أَنْتَ وَفَاطِمَةُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّ الْمَدِينَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا بِي أَوْ بِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3294 - أنى له الصحبة والوضع لائح عليه

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ پر جانے کا ارادہ کیا تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: تم میرے بعد یہیں مدینہ میں رہنا۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ ! خدا کی قسم میں آپ سے پیچھے ہر گز نہیں رہ سکتا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے اپنی نیابت کی ذمہ داریاں میرے اوپر ڈال دیں (حضرت علی رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں: میں رو پڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی! کیوں رو رہے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کئی باتوں پر رونا آ رہا ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ کل قریشی لوگ باتیں کریں گے کہ اپنے چچا زاد کو ترک جنگ پر آمادہ کر کے چھوڑ کر چلے گئے اور دوسری بات یہ ہے کہ میں یہ ارادہ رکھتا تھا کہ جہاد میں شرکت کروں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: " ﴿ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا ١٢٠﴾(التوبۃ:120)"اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں جس سے کافروں کو غیظ آئے اور جو کچھ دشمن کا بگاڑ تے ہین اس سب کے بدلے ان کے لئے نیک عمل لکھا جاتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو میں اللہ تعالیٰ کا فضل پانے کا بھی ارادہ رکھتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہاں تک تیرا یہ خدشہ ہے کہ قریش باتیں کریں گے ( تو کوئی بات نہیں) تیرا اور میرا خاندان ایک ہی ہے، مجھے لوگوں نے جادوگر، نجومی،کذاب (اور کیاکیا نہیں ) کہا۔ کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ تیری میرے ساتھ وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ کے ساتھ تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کےفضل کا تعلق ہے تو یہ مرچوں کی فصل ہمارے پاس یمن سے آئی ہوئی ہے، جب تک تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں پہنچتا تب تک اس کو بیچ کر تم اور فاطمہ گزارا کرو۔ اصل میں وجہ یہ ہے کہ مدینہ شہر میں ہم دونوں میں سے کسی ایک کا موجود رہنا بہت ضروری ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى عَلِيٍّ، ← حكيم بن جبير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، ← عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3294

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3295

3295 - أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ أَبُو خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَيْتِ فَكَانَ يَأْخُذُ بِيَدِي، فَيُعَلِّمُنِي لَحْنَ الْكَلَامِ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَالِيَةِ، " لَا تَقُلِ انْصَرَفْتُمْ مِنَ الصَّلَاةِ، وَلَكِنْ قُلْ {قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ} [النساء: 103] فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ} [التوبة: 127] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3295 - صحيح

حضرت ابو العالیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس کے ہمراہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہا تھا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور مجھے گفتگو کی غلطیاں بتا رہے تھے،آپ نے فرمایا: اے ابو العالیہ! یہ مت کہا کرو کہ " انصرفتم من الصلاۃ" بلکہ کہاکرو" قضیتم الصلاۃ" کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: " انصرفو ا صرف اللہ قلوبھم" ( التوبۃ: 127) " پھر پلٹ جاتے ہیں اللہ نے ان کے دل پلٹ دئیے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَيْتِ فَكَانَ يَأْخُذُ بِيَدِي، فَيُعَلِّمُنِي لَحْنَ الْكَلَامِ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ أَبُو خَلْدَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3295

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3296

3296 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ {لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} » حَدِيثُ شُعْبَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3296 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قران کریم کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت یہ ہے:۔"﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾(التوبۃ:128)" بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ شعبہ کی یونس بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔

«آخِرُ مَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ حَدِيثُ شُعْبَةَ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يوسف بن مهران ← يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3296

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3297

3297 - أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ} [يونس: 2] قَالَ: سَلَفُ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3297 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ﴾" اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سچ مقام ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : (اس میں صدق) سلف کے معنی میں ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أبي بن كعب في قوله تعالى: ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3297

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3298

3298 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبْغِ وَلَا تَكُنْ بَاغِيًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ} [يونس: 23] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3298 - صحيح

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حد سے تجاوز مت کر اور باغیوں میں سے نہ ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ ﴾(یونس:23) " تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے" ۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْغَطَفَانِيِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3298

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3299

3299 - حَدَّثَنِي أَبُو الطَّيِّبِ طَاهِرُ بْنُ يَحْيَى الْبَيْهَقِيُّ بِهَا مِنْ أَصْلِ كِتَابِ خَالِهِ، ثنا خَالِي الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} [يونس: 25] فَقَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اضْرِبْ لَهُ مِثْلًا. فَقَالَ لَهُ: اسْمَعْ سَمعَهُ أُذُنُكَ، وَاعْقِلْ عَقَلَ قَلْبُكَ، إِنَّمَا مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ، كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا، ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَ، فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ، وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ، وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ، وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ الرَّسُولُ مَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْإِسْلَامَ، وَمَنْ دَخَلَ الْإِسْلَامَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مِنْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3299 - صحيح

حضرت سعید بن ابی ہلال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ابو جعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ٢٥﴾(یونس:25): اور سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر کہا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام میرے سر کی جانب اور حضرت میکائیل علیہ السلام میرے قدموں کی جانب کھڑے ہیں، ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا: ان کے لئے کوئی مثال دیں۔ دوسرے نے کہا: توجہ سے سنو اور دل سے سمجھنے کی کوشش کرو" آپ کی اور آپ کی امت کی مثال ایسے ہے جیسے کسی بادشاہ نے ایک محل بنوایا ہو اور اس میں ایک (خوبصورت وسیع)مکان ہو پھر اس میں دستر خوان لگائے پھر وہ قاصد کو بھیجے جو لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر آئے۔ لوگوں میں سے کچھ تو دعوت کو قبول کر لیں اور کچھ قبول نہ کریں۔ تو اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے اور محل اسلام ہے اور مکان جنت ہے اور اے محمد ﷺ! آپ قاصد ہو جو آپ ﷺ کی دعوت قبول کر لے ، وہ اسلام میں داخل ہو گیا اور جو اسلام میں داخل ہو گیا، وہ جنت میں داخل ہو گیااور جو جنت میں داخل ہو گا وہ اس دستر خوان سے کھائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبَا جَعْفَرٍ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← خَالِي الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ طَاهِرُ بْنُ يَحْيَى الْبَيْهَقِيُّ بِهَا مِنْ أَصْلِ كِتَابِ خَالِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3299

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3300

3300 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ، أَقْبَلُوا نَحْوَهُ قَالَ: وَكَرِهَ أَنْ يَقْدَمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَأَتَوْهُ فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ بِالْمُصْحَفِ، وَافْتَتَحِ السَّابِعَةَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ " {قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ} [يونس: 59] فَقَالُوا لَهُ: قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى آللَّهُ أَذِنَ لَكَ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ قَالَ: فَقَالَ: امْضِهْ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا فَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى قَبْلِي لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ، وَزَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى، لَمَا زَادَ فِي الصَّدَقَةِ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3300 - على شرط مسلم

حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ابو سعد کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع پہنچی کہ اہل مصر کا ایک وفد ان کے پاس آ رہا ہے تو آپ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور جب ان لوگوں کو پتہ چلا ( کہ ہمارے آنے کی اطلاع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی ہے) تو وہ بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ میں آکر ان سے ملیں لیکن بہر حال وہ لوگ آئے اور آپ سے کہنے لگے: قرآن پاک منگوائیے اور " سابعہ" کھولئے، وہ لوگ سورہ یونس کہ "سابعہ" کہا کرتے تھے۔ آپ نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: "﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ٥٩﴾ (یونس:59)" تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لئے رزق اتارا، اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرا لیا، تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو وہ لوگ بولے: رک جائیے! کیا خیا ل ہے؟ آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے تم نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے؟ آپ نے جواباً کہا: اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ آیت تو فلاں فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے اور جہاں تک تعلق ہے چراگاہ کا تو مجھ سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کو اونٹوں کے لئے چراگاہ بنائی تھی جب نظام خلافت میرے سپرد کیا گیا اور صدقہ کے اونٹوں کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے چراگاہ میں بھی توسیع کر دی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← يحيى بن يحيى أنبأ المعتمر بن سليمان التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3300

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3301

3301 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَطَالَ الْحَجَّاجُ الْخُطْبَةَ فَوَضَعَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ بَدَّلَ كِتَابَ اللَّهِ، فَقَعَدَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ: " لَا يَسْتَطِيعُ ذَاكَ أَنْتَ وَلَا ابْنُ الزُّبَيْرِ {لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ} [يونس: 64] فَقَالَ الْحَجَّاجُ: لَقَدْ أُوتِيتَ عِلْمًا إِنْ نَفَعَكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3301 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت نافع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : حجاج نے خطبہ بہت طویل کر دیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، تو حجاج بولا: ابن الزبیر نے کتاب اللہ کو بدل ڈالا ہے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر بیٹھ گئے اور بولے: اس چیز کی طاقت نہ تمہارے اند ر ہے اور نہ ابن الزبیر کے اندر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تو حجاج نے کہا: بے شک تیرے پاس علم ہے اگر یہ تجھے فائدہ دے (تو پھر درست ہے)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا۔

لَا يَسْتَطِيعُ ذَاكَ أَنْتَ وَلَا ابْنُ الزُّبَيْرِ {لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ} [يونس: ← الْحَجَّاجُ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ بَدَّلَ كِتَابَ اللَّهِ، فَقَعَدَ ابْنُ عُمَرَ ← أَطَالَ الْحَجَّاجُ الْخُطْبَةَ فَوَضَعَ ابْنُ عُمَرَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3301

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3302

3302 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الرَّجُلُ، أَوْ تُرَى لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3302 - صحيح

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا وفی الاٰخرۃ" (یونس:64) " ان کے لئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے مراد) اچھے خواب ہیں، جو آدمی دیکھتا ہے یاس اس کو دکھائے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3302

chevron_left Previous
1…353637…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section