Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3267

3267 - حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " {وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ} [الأنفال: 60] أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ لِأَنَّ صَالِحَ بْنَ كَيْسَانَ أَوْقَفَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3267 - على شرط البخاري ومسلم وبعضهم أوقفه

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: " واعدو لھم ما استطعتم من قوۃ (الانفال:60) " اور ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تم سے بن پڑے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: قوت (سے مراد) تیر اندازی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہنے اسے نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس حدیث کو صالح بن کیسان نے موقوف کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3267

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3268

3268 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ الرَّحِمَ لَتُقْطَعُ، وَإِنَّ النِّعْمَةَ لَتُكْفَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا قَارَبَ بَيْنَ الْقُلُوبِ لَمْ يُزَحْزِحْهَا شَيْءٌ، ثُمَّ قَرَأَ {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ} [الأنفال: 63] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3268 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک رشتہ داریاں تو ڑ دی جاتی ہیں اور نعمتوں کی ناشکری کی جاتی ہے اور بے شک جب اللہ تعالیٰ دلوں میں قربت ڈال دیتا ہے تو کوئی چیز ان میں رخنہ نہیں ڈال سکتی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی:۔" لوانفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم (الانفال:63)۔" اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3268

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3269

3269 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا إِسْحَاقَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْرِفُكَ وَأُحِبُّكَ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ} [الأنفال: 63] الْآيَةُ «هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي حَاتِمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3269 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت فضیل بن غزوان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: ابو اسحاق کی بینائی زائل ہو جانے کے بعد (کا واقعہ ہے کہ ) میں نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں تجھے صرف پہچانتا ہی نہیں بلکہ تجھ سے محبت بھی کر تا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے ابو الاحوص نے حضرت عبداللہ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رضائے الہٰی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں (وہ آیت یہ ہے)۔" لو انفقت ما فی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم"۔(الانفال:63) ۔ " اگر تم زمین مین جو کچھ ہے جب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ الفاظ ابو حاتم کی روایت کے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← إِنِّي لَأَعْرِفُكَ وَأُحِبُّكَ، ثُمَّ ← لَقِيتُ أَبَا إِسْحَاقَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَعْرِفُنِي؟ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3269

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3270

3270 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: اسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُسَارَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ: قَوْمُكَ وَعَشِيرَتُكَ فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ. فَاسْتَشَارَ عُمَرُ فَقَالَ: اقْتُلْهُمْ. قَالَ: فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ} [الأنفال: 67] إِلَى قَوْلِهِ {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: 69] قَالَ: فَلَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ قَالَ: كَادَ أَنْ يُصِيبَنَا فِي خِلَافِكَ بَلَاءٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3270 - صحيح على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے (جنگ بدر کے) قیدیوں کے متعلق حضرت ابو بکر سے مشورہ کیا تو انہوں جواباً کہا: یا رسول اللہ ﷺ یہ سب لوگ آپ کے قبیلے اور برادری سے تعلق رکھنے والے ہیں ( میرا تو مشورہ یہ ہے کہ ) ان کو معاف فرما دیں۔ پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے جواباً کہا : (یا رسول اللہ ﷺ ) ان کو قتل کر دیں ( راوی) کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :۔"ماکان لنبی ان یکون الہ اسریٰ حتیٰ یثخن فی الارض " (الانفال:67)۔" کسی نبی کو لائق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں ان کا خون نہ بہائے (تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانوں تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا ) "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ "فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا (الانفال:69)۔" تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک۔ (راوی) کہتے ہیں، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کے مشورے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے قریب تھا کہ ہم کسی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے"۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3270

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3271

3271 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي نَفَرٍ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَهْلًا عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّا أَصَبْنَا دُنْيَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ، لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: 68] فَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ سَبَقَتْ لَنَا. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَوَاللَّهِ إِنَّهُ كَانَ يُبْغِضُكَ وَيُسَمِّيكَ الْأَخْنَسَ. فَضَحِكَ سَعْدٌ حَتَّى اسْتَعْلَاهُ الضَّحِكُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَيْسَ قَدْ يَجِدُ الْمَرْءُ عَلَى أَخِيهِ فِي الْأَمْرِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، ثُمَّ لَا يَبْلُغُ ذَلِكَ أَمَانَتَهُ وَذَكَرَ كَلِمَةً أُخْرَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3271 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت خثیمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ چند لوگوں میں موجود تھے وہاں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے آپ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ بولے: رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو برا بھلا مت کہو کیونکہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ دنیا کی دولت پائی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔"لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم" (الانفال: 68) " اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا تو اے مسلمانو تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا ہے اس میں تم پر بڑا عذاب آتا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہماری طرف سبقت کر گئی ہو گی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: خدا کی قسم وہ تو آپ سے عداوت رکھتے تھے اور تمہیں چپٹے ناک والا اور ابھرے ہوئے سر والا کہا کرتے تھے، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے پھر آپ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان کبھی اپنے بھائی کے خلاف کسی معاملے میں ایسی چیز پاتا ہے جو صرف ان دونوں کے درمیان ہوتی ہے لیکن بعد میں وہ اس کی امانتداری کو قائم نہیں رکھ سکتا، اس کے علاوہ بھی حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کوئی بات کہی تھی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ← سَعْدٌ: مَهْلًا ← كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي نَفَرٍ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، ← خيثمة ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3271

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3272

3272 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى بَرَاءَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ، وَهُوَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَالَ: وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ دَعَا بَعْضَ مَنْ يَكْتُبُ لَهُ، فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا كَذَا وَكَذَا» وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَتْ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3272 - تقدم هذا وأنه صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: سورہ انفال کا تعلق "مثانی" سے ہے اور سورہ براۃ کا تعلق " مئین" سے ہے لیکن آپ نے ان دونوں سورتوں کو ملا دیا اور ان کے درمیان " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" نہیں لکھی اور اس کو آپ نے " سبع طوال" میں ڈال دیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا" رسول اللہ ﷺ پر بیک وقت متعدد سورتیں بھی نازل ہوا کرتی تھیں (ایسے حالات میں) جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ کسی کاتب کو بلا کر یہ یدایت فرما دیا کرتے تھے کہ اس کو فلاں سورۃ میں لکھ دو اور سورۃ الانفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے جبکہ سورۃ براۃ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے اور اس (توبہ) کے مضامین بھی اس سے پچھلی سورۃ (الفال) سے ملتے جلتے تھے تو میں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ سورۃ گزشتہ سورۃ ہی کا تتمہ ہے اور رسول اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہمیں اس بات کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سورۃ کا تعلق کس سے ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں سورتوں کے درمیان " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم"۔ نہیں لکھی۔ (نوٹ: مئین سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی آیات کی تعداد 100 سے زائد ہے اور مثانی سے مراد ابتدائی سات طویل سورتیں ہیں تفسیر بغوی میں ہے : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبع مثانی درج ذیل سات طویل سورتیں ہیں سورہ بقرہ، سورہ آل عمران، سورۃ النساء، سورہ مائدہ، سورہ اعراف، سورہ انفال، سورہ توبہ یا یونس۔ شفیق) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3272

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3273

3273 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُنَيْدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لِمَ لَمْ تُكْتَبْ فِي بَرَاءَةَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؟ قَالَ: لِأَنَّ «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَمَانٌ وَبَرَاءَةٌ نَزَلَتْ بِالسَّيْفِ، لَيْسَ فِيهَا أَمَانٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : سورہ توبہ کے آغاز میں : بسم اللہ الرحمن الرحیم" کیوں نہیں لکھی جاتی؟ آپ نے فرمایا: اس لئے کہ " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" امان ہے جبکہ سورہ برات تو جہاد کے احکام کے ساتھ نازل ہوئی اس میں امان نہیں ہے۔

أَبِي ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْهَاشِمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُنَيْدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3273

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3274

3274 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «مَا تَقْرَءُونَ رُبُعُهَا، يَعْنِي بَرَاءَةَ، وَإِنَّكُمْ تُسَمُّونَهَا سُورَةَ التَّوْبَةِ وَهِيَ سُورَةُ الْعَذَابِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3274 - صحيح

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو تم پڑھتے ہو وہ اس کا چوتھا حصہ ہے یعنی سورۃ براءت ۔ اور تم اس کو سورۃ براءت کہتے اور یہ سورۃ عذاب ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْيَشْكُرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3274

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3275

3275 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْبَعْثِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِبَرَاءَةَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ: فَبِمَ كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَإِنَّ أَجَلَهُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَنَادَيْتُ حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3275 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں بھی اس جماعت میں شامل تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں (اعلان) برات کے لئے بھیجا تھا۔ تو ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے) ان کے صاحبزادے یا کسی دوسرے آدمی نے پوچھا: تو آپ لوگ کیا اعلان کیا کرتے تھے؟ آپ نے جواباً برمایا: ہم یوں کہا کرتے تھے : جنت میں صرف صاحب ایمان ہی داخل ہو گا اور اس سال کسی مشرک کو حج کی اجازت نہیں اور کسی کو ننگے ہو کر طواف کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور جس کسی کا بھی رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ تھا، اس کی مدت صرف 4 ماہ تک ہے۔ میں یہ اعلان کرتا رہا حتیٰ کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَهُ ابْنُهُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ: فَبِمَ كُنْتُمْ تُنَادُونَ؟ ← كُنْتُ فِي الْبَعْثِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ مَعَ عَلِيٍّ بِبَرَاءَةَ إِلَى مَكَّةَ ← أَبِيهِ ← الْمُحْرَّر بْنُ أَبِي هُرَيْرَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← النضر بن شميل أنبأ شعبة ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3275

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3276

3276 - حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: هَذَا يَوْمُ النَّحْرِ قَالَ: «فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ الْحَرَامُ قَالَ: «فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟» قَالُوا: الشَّهْرُ الْحَرَامُ. قَالَ: «هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ، فَدِمَاؤُكُمْ، وَأَمْوَالُكُمْ، وَأَعْرَاضُكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ هَذَا الْبَلَدِ فِي هَذَا الْيَوْمِ» ثُمَّ قَالَ: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ثُمَّ وَدَّعَ النَّاسَ، فَقَالُوا: هَذِهِ حَجَّةُ الْوَدَاعِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» وَأَكْثَرُ هَذَا الْمَتْنِ مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمَ النَّحْرِ سُنَّةٌ» ، فَإِنَّ الْأَقَاوِيلَ فِيهِ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَلَى خِلَافٍ بَيْنَهُمْ فِيهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَوْمُ عَرَفَةَ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: يَوْمُ النَّحْرِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3276 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (جس سال رسول اللہ ﷺ نے حج کیا، اس سال آپ ﷺ) حج کے موقع پر "نحر" کے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواباً کہا: یہ قربانی کا دن ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ لوگوں نے کہا: "بلد الحرام " یعنی حرمت والا شہر ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ؟ لوگوں نے جوابا ً کہا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اور یہ حج اکبر کا دن ہے ۔ تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزت تم پر اس طرح حرام ہے جیسے اس شہر کی آج کے دن حرمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے (اللہ تعالیٰ کے احکام) تم تک پہنچا دیئے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ کہنا شروع کیا: اے اللہ ! تو گواہ ہو جا ، اے اللہ ! تو گواہ ہو جا۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو چھوڑ دیا (اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے) تو لوگوں نے کہا: یہ "حجۃ الوداع" ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم حدیث کا اکثر متن صحیحین میں منقول ہے اور یہ جملہ " ان یوم الحج الاکبر یوم النحر سنۃ"۔ ان میں موجود نہیں ہے کیونکہ اس کے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کے اقوال مختلف ہیں کوئی کہتا ہے کہ وہ عرفہ کا دن تھا اور کوئی کہتا ہے کہ وہ قربانی کا دن تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3276

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3277

3277 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَزَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الْإِخْلَاصِ لِلَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، فَارَقَهَا وَاللَّهُ عَنْهُ رَاضٍ، وَهُوَ دِينُ اللَّهِ الَّذِي جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ، وَبَلَّغُوهُ عَنْ رَبِّهِمْ قَبْلَ مَرْجِ الْأَحَادِيثِ، وَاخْتِلَافِ الْأَهْوَاءِ، وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ، وَآتَوُا الزَّكَاةَ، فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} [التوبة: 5] وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ تَابُوا} [التوبة: 5] يَقُولُ: خَلَعُوا الْأَوْثَانَ وَعِبَادَتَهَا {وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ} [التوبة: 11] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3277 - صدر الخبر مرفوع وسائره مدرج فيما أرى

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ وحدہ لا شریک کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہوئے اور نماز قائم رکھتے ہوئے اور زکوٰۃ دیتے ہوئے ، اس دنیا سے رخصت ہوا ور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کو انبیاء کرام لے کر آئے اور اپنے رب کی طرف سے انہوں نے یہ دین پہنچایا، باتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہونے اور خواہشات کے اختلاف س پہلے اور تصدیق قرآن کریم میں موجود ہے: "فان تابوا واقامو الصلاۃ، وآتو ا الزکاۃ ، فخلو ا سبیلھم (التوبہ:5) " پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد " فان تابو" کا مطلب یہ ہے کہ بتوں کو اور ان کی عبادت کو چھوڑ دیں۔ "واقامو الصلاۃ وآتوا لزکاۃ فا خوانکم فی الدین (التوبہ:11) " اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إسحاق بن أحمد الخزاز ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3277

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ التَّوْبَةِ · حديث 3278

3278 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ} [التوبة: 12] قَالَ: لَا عَهْدَ لَهُمْ. قَالَ حُذَيْفَةُ: مَا قُوتِلُوا بَعْدُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3278 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فقاتلو ا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم " (التوبہ:12) " تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی عہد نہیں ہے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس (سخت حکم) کے بعد ان سے لڑائی نہیں کی گئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

لاَ عَهْدَ لَهُمْ. ← حُذَيْفَةَ ،فِي قَوْلِهِ تَعَالَى فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ [التوبة: ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of the chapter of repentance · Hadith 3278

chevron_left Previous
1…333435…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section