المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3255
3255 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ} [الأعراف: 173] قَالَ: " جَمَعَهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ، وَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ، أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي، يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا، وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ، وَرَفَعَ لَهُمْ أَبُوهُمْ آدَمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ، وَغَيْرَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ لَوْ سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السُّرُجِ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ بِالرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ} [الأحزاب: 7] الْآيَةُ. وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} [الروم: 30] وَذَلِكَ قَوْلُهُ {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: 56] وَقَوْلُهُ {وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ} [الأعراف: 102] وَهُوَ قَوْلُهُ {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ} كَانَ فِي عِلْمِهِ بِمَا أَقَرُّوا بِهِ، مَنْ يُكَذِّبُ بِهِ وَمَنْ يُصَدِّقُ بِهِ، فَكَانَ رُوحُ عِيسَى مِنْ تِلْكَ الْأَرْوَاحِ الَّتِي أُخِذَ عَلَيْهَا الْمِيثَاقُ فِي زَمَنِ آدَمَ فَأَرْسَلَ ذَلِكَ الرُّوحَ إِلَى مَرْيَمَ حِينَ {انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا، فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا} [مريم: 17] إِلَى قَوْلِهِ {مَقْضِيًّا} [مريم: 21] فَحَمَلَتْهُ قَالَ: حَمَلَتِ الَّذِي خَاطَبَهَا وَهُوَ رُوحُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَحَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ مِنْ فِيهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3255 - صحيح
حضرت ابی کعب رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: واذاخذ ربک من بنی آدم من ظہورھم ذریتھم واشہد ھم علیٰ انفسہم (الاعراف:172) "اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ "افتھلکنا بما فعل المبطلون (الاعراف:173) "کیا تو ہمیں اس پر ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کو جمع کر لیا اور ان کو روحیں بنا دیا۔ پھر ان کی شکلیں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی اور وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا اور ان کو خود انہیں پر گواہ بنایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی تاکہ کہیں وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہم اس سے غافل تھے یا یہ کہیں: شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا، ہم تو ان کے بعد بچے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں ان کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کئے تھے؟ ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور تم پر تمہارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہمیں علم نہ تھا یا ہم اس سے غافل تھے ۔ لہذا میرے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ بے شک میں تمہاری طرف اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں میرا وعدہ اور عہد یاد دلاتے رہیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا وہ بولے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی رب نہیں اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ حضر ت آدم علیہ السلام کو ان سب پر بلند کی اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو ان میں مالدار بھی دیکھے اور محتاج بھی، خوبصورت بھی دیکھے اور دوسرے بھی۔ یہ دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام بولے: یا اللہ تعالیٰ تو نے ان سب کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آپ نے ان میں انبیاء کرام کو چراغوںکی طرح (چمکتے) دیکھا اور دوسرا میثاق خاص طور پر صرف نبیوں اور رسولوں سے ہی لیا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے: "واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح (الاحزاب:7) " اور محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے"۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " فاقم وجھک للذین حنیفا فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لاتبدیل لخلق اللہ (الروم:30) " تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لئے ایک اکیلے اس کے ہو کر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حذا نذیر من النذر الاولیٰ (النجم:56) " یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: " وما وجدنا لا کثرھم من عھد وان وجدنا اکثرھم لفاسقین" ( الاعراف:102) " اور ان میں اکثر کو ہم نے قو ل کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لم بعثنا من بعدہ رسلا الیٰ قومھم فجاؤوھم بالبینات فما کانو الیومنو ا بما کذبو بہ من قبل"۔ (یونس:73)" پھر اس کے بعد اور رسول ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ کس بات کا اقرار کریں گے؟ کون اسے جھٹلائے گا؟ اور کون اس کی تصدیق کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی ارواح میں شامل ہیں۔آدم علیہ السلام کے زمانے میں جن سے عہد لیا گیا تھا پھر اس روح کو حضرت مریم علیہ السلام کی طرف بھیجا۔ جب وہ: "انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا فاتخذت من دونہم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لہا بشرا سویا الیٰ قولہ : مقضیا (مریم: 21-16) "جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت میں ظاہر ہوا (بولی: میں تجھ سے رب کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تجھے خدا کا ڈر ہے، بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہو ا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ بولی : میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بد کار ہوں، کہا: یونہی ہے ۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور کام ٹھہر چکا ہے ) ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر وہ حاملہ ہو گئیں اور آپ اس سے حاملہ ہوئی جو آپ سے مخاطب تھا اور وہ عیسیٰ روح اللہ تھے۔ ابو جعفر کہتے ہیں: ربیع بن انس ، ابو العالیہ کے واسطے سے ابی بن کعب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عیسیٰ کی روح حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر عيسى بن عبد الله بن ماهان ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3255
