Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3255

3255 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ} [الأعراف: 173] قَالَ: " جَمَعَهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ، وَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ، أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي، يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا، وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ، وَرَفَعَ لَهُمْ أَبُوهُمْ آدَمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ، وَغَيْرَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ لَوْ سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السُّرُجِ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ بِالرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ} [الأحزاب: 7] الْآيَةُ. وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} [الروم: 30] وَذَلِكَ قَوْلُهُ {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: 56] وَقَوْلُهُ {وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ} [الأعراف: 102] وَهُوَ قَوْلُهُ {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ} كَانَ فِي عِلْمِهِ بِمَا أَقَرُّوا بِهِ، مَنْ يُكَذِّبُ بِهِ وَمَنْ يُصَدِّقُ بِهِ، فَكَانَ رُوحُ عِيسَى مِنْ تِلْكَ الْأَرْوَاحِ الَّتِي أُخِذَ عَلَيْهَا الْمِيثَاقُ فِي زَمَنِ آدَمَ فَأَرْسَلَ ذَلِكَ الرُّوحَ إِلَى مَرْيَمَ حِينَ {انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا، فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا} [مريم: 17] إِلَى قَوْلِهِ {مَقْضِيًّا} [مريم: 21] فَحَمَلَتْهُ قَالَ: حَمَلَتِ الَّذِي خَاطَبَهَا وَهُوَ رُوحُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَحَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ مِنْ فِيهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3255 - صحيح

حضرت ابی کعب رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: واذاخذ ربک من بنی آدم من ظہورھم ذریتھم واشہد ھم علیٰ انفسہم (الاعراف:172) "اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ "افتھلکنا بما فعل المبطلون (الاعراف:173) "کیا تو ہمیں اس پر ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کو جمع کر لیا اور ان کو روحیں بنا دیا۔ پھر ان کی شکلیں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی اور وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا اور ان کو خود انہیں پر گواہ بنایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی تاکہ کہیں وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہم اس سے غافل تھے یا یہ کہیں: شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا، ہم تو ان کے بعد بچے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں ان کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کئے تھے؟ ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور تم پر تمہارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہمیں علم نہ تھا یا ہم اس سے غافل تھے ۔ لہذا میرے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ بے شک میں تمہاری طرف اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں میرا وعدہ اور عہد یاد دلاتے رہیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا وہ بولے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی رب نہیں اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ حضر ت آدم علیہ السلام کو ان سب پر بلند کی اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو ان میں مالدار بھی دیکھے اور محتاج بھی، خوبصورت بھی دیکھے اور دوسرے بھی۔ یہ دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام بولے: یا اللہ تعالیٰ تو نے ان سب کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آپ نے ان میں انبیاء کرام کو چراغوںکی طرح (چمکتے) دیکھا اور دوسرا میثاق خاص طور پر صرف نبیوں اور رسولوں سے ہی لیا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے: "واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح (الاحزاب:7) " اور محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے"۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " فاقم وجھک للذین حنیفا فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لاتبدیل لخلق اللہ (الروم:30) " تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لئے ایک اکیلے اس کے ہو کر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حذا نذیر من النذر الاولیٰ (النجم:56) " یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: " وما وجدنا لا کثرھم من عھد وان وجدنا اکثرھم لفاسقین" ( الاعراف:102) " اور ان میں اکثر کو ہم نے قو ل کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لم بعثنا من بعدہ رسلا الیٰ قومھم فجاؤوھم بالبینات فما کانو الیومنو ا بما کذبو بہ من قبل"۔ (یونس:73)" پھر اس کے بعد اور رسول ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ کس بات کا اقرار کریں گے؟ کون اسے جھٹلائے گا؟ اور کون اس کی تصدیق کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی ارواح میں شامل ہیں۔آدم علیہ السلام کے زمانے میں جن سے عہد لیا گیا تھا پھر اس روح کو حضرت مریم علیہ السلام کی طرف بھیجا۔ جب وہ: "انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا فاتخذت من دونہم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لہا بشرا سویا الیٰ قولہ : مقضیا (مریم: 21-16) "جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت میں ظاہر ہوا (بولی: میں تجھ سے رب کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تجھے خدا کا ڈر ہے، بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہو ا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ بولی : میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بد کار ہوں، کہا: یونہی ہے ۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور کام ٹھہر چکا ہے ) ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر وہ حاملہ ہو گئیں اور آپ اس سے حاملہ ہوئی جو آپ سے مخاطب تھا اور وہ عیسیٰ روح اللہ تھے۔ ابو جعفر کہتے ہیں: ربیع بن انس ، ابو العالیہ کے واسطے سے ابی بن کعب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عیسیٰ کی روح حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر عيسى بن عبد الله بن ماهان ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3255

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3256

3256 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَذْكُرُ وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَخْبَرَهُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ} [الأعراف: 172] فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الرَّجُلَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» الْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3256 - على شرط مسلم

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت : "واذ اخذ ربک من بنی آدم من ظہورھم ذریتھم واشھد ھم علیٰ انفسھم الست بربکم قالو بلیٰ شہدنا ان تقولو ا یوم القیامۃ انا کنا عن ھذا غافلین" (الاعراف:172) " اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا گیا میں تمہارا رب نہیں سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ سے بھی اسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، پھر اپنے ہاتھ کے ساتھ ان کی پشت کو ملا اور ان کی اولاد کو نکال لیا پھر فرمایا: میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے عمل ہی کریں گے، پھر دوبارہ ان کی پشت کو ملا اور ان کی (مزید) اولاد کو نکالا پھر فرمایا: میں نے ان کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ دوزخیوں والے عمل ہی کریں گے۔ ایک شخص بولا: تو پھر عمل کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے تو وہ اس سے جنتیوں والے کام بھی کرو ا لیتا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عبد الله بن مسلمة فيما قرئ على مالك ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ← مالك بن أنس يذكر ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3256

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3257

3257 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَسَقَطَ مِنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَمْثَالَ الذَّرِّ، ثُمَّ جَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيصًا مِنْ نُورٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ آدَمُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَبِّ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتِكَ، فَرَأَى آدَمُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَعْجَبَهُ وَبِيصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ فَقَالَ: يَا رَبِّ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَمِ قَالَ آدَمُ: كَمْ جَعَلْتَ لَهُ مِنَ الْعُمُرِ؟ قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ: يَا رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، حَتَّى يَكُونَ عُمْرُهُ مِائَةَ سَنَةٍ. فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «إِذَنْ يُكْتَبُ وَيُخْتَمُ فَلَا يُبَدَّلْ» . فَلَمَّا انْقَضَى عُمْرُ آدَمَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ لَقَبْضِ رُوحِهِ، قَالَ آدَمُ أَوَ لَمْ يَبْقَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً؟ قَالَ لَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ أَوَ لَمْ تَجْعَلْهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ وَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَخَطِئَ فَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3257 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پشت کو ملا تو ان کی پشت سے وہ تمام انسان جو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا کرنے تھے ، چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی مانند نکل پڑے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان تمام انسانوں کی پیشانی پر نور کی ایک کرن رکھ دی پھر ان کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: یا اللہ !یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیرا بیٹا داؤد ہے اور یہ آخر کی امتوں میں بھیجا جائے گا۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا : تو نے اس کی کتنی عمر لکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 60 سال۔ آدم علیہ السلام نے کہا: میری عمر میں سے 40 سال کم کر کے اس کی عمر پوری 100 سال کر دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے (ان کی دعا کو قبول فرما کر کہا) ایسے ہی لکھ دیا جائے گا، اور اس پر مہر لگا دی جائے گی پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو گا۔ جب آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو حضرت عزرائیل علیہ السلام ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے، حضرت آدم علیہ السلام بولے : کیا میری عمر کے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ ملک الموت علیہ السلام نے کہا، وہ چالیس سال آپ نے اپنے بیٹے داؤد علیہ السلام کو تحفہ نہیں دے دئیے تھے؟ (رسول اللہ ﷺ نے) فرمایا: آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو آگے ان کی اولاد بھی انکار ہی کرتی ہے، وہ بھولے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے اور انہوں نے خطا کی ، ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3257

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3258

3258 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا} [الأعراف: 175] قَالَ: هُوَ بَلْعَمُ بْنُ بَاعُورَاءَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3258 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: واتل علیہم نبا الذی آتیناہ اٰیاتنا فانسلخ منھا (الاعراف: 175) " اور اے محبوب ! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آتییں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد " بلعم بن باعوراء" ہے۔

هُوَ بَلْعَمُ بْنُ بَاعُورَاءَ على شرط البخاري ومسلم ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ ← عَبْدُ الرَّزَاقِ، أنبا الثَّوْرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3258

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3259

3259 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْأَنْفَالِ، قَالَ: فِينَا يَوْمَ بَدْرٍ نَزَلَتْ كَانَ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ مَنَازِلٍ، ثُلُثٌ يُقَاتِلُ الْعَدُوَّ، وَثُلُثٌ يَجْمَعُ الْمَتَاعَ، وَيَأْخُذُ الْأُسَارَى، وَثُلُثٌ عِنْدَ الْخَيْمَةِ، يَحْرُسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَمَعَ الْمَتَاعَ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَقَالَ الَّذِينَ جَمَعُوهُ وَأَخْذُوهُ، قَدْ نَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ امْرِئٍ مِنَّا مَا أَصَابَ فَهُوَ لَنَا دُونَكُمْ. وَقَالَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ وَيَطْلُبُونَهُ: وَاللَّهِ لَوْلَا نَحْنُ مَا أَصَبْتُمُوهُ، فَنَحْنُ شَغَلْنَا الْقَوْمَ، وَقَالَ الْحَرَسُ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا لَقَدْ رَأَيْنَا أَنْ نُقَاتِلَ الْعَدُوَّ حِينَ مَنَحَنَا اللَّهُ أَكْتَافَهُمْ أَنْ نَأْخُذَ الْمَتَاعَ حِينَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَمْنَعُ دُونَهُ وَلَكِنَّا خِفْنَا غِرَّةَ الْعَدُوَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْنَا دُونَهُ قَالَ: فَانْتَزَعَهَا اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا، فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَسَمَهُ عَلَى السَّوَاءِ، لَمْ يَكُنْ فِيهِ يَوْمَئِذٍ خُمُسٌ، فَكَانَ فِيهِ تَقْوَى اللَّهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3259 - على شرط مسلم

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سورۃ الانفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا: یہ ہم لوگوں کے متعلق جنگ بدر کے موقع پر ناز ل ہوئی (اس دن) ہم لوگ تین حصوں میں تقسیم تھے، ایک حصہ دشمن سے لڑ رہا تھا، ایک حصہ مال غنیمت اکٹھا کر رہا تھا اور قیدیوں کو گرفتار کر رہا تھا اور ایک حصہ رسول اللہ ﷺ کے خیمہ کے ارد گرد آ پ ﷺ کی حفاظت کر رہا تھا۔ جب مال غنیمت جمع ہو گیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف ہو گیا۔ جن لوگوں نے مال جمع کیا تھا اور قیدیوں کو پکڑا تھا ان کا موقف یہ تھا رسول اللہ ﷺ نے خود یہ طریقہ دیا ہے کہ جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی ہے۔ اس لئے یہ تمام مال ہمارا ہے اور کسی کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور جو لوگ دشمن سے لڑ رہے تھے ان کا موقف یہ تھا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تمہیں کچھ بھی نہ ملتا کیونکہ قوم کو مشغول تو ہم نے ہی رکھا تھا اور حفاظت پر متعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کہنا تھا کہ خدا کی قسم! تم لوگ ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو کیونکہ ہم دشمن سے لڑ بھی سکتے تھے اور مال غنیمت جمع کرنے سے ہمیں کوئی رکاوٹ نہ تھی، اس لئے ہم مال بھی جمع کر سکتے تھے لیکن ہمیں سب سے زیادہ فکر یہ تھی کہ دشمن کہیں رسول اللہ ﷺ پر حملہ نہ کر دیں۔ اس لئے ہم نے سب کچھ پس پشت ڈال کر صرف آ پ ﷺ کی حفاظت کا فریضہ ادا کیا (حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے لے کر رسول اللہ ﷺ کو دے دیا تو آپ ﷺ نے یہ مال ہم سب میں برابر تقسیم کر دیا۔ اس دن اس میں خمس کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ، اس لئے اس کی تقسیم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے کی گئ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

الأَنْفَالِ} ← سَأَلْتُهُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مَكْحُولٌ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3259

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3260

3260 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا أَوْ أَتَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا» فَتَسَارَعَ الشُّبَّانُ إِلَى ذَلِكَ، وَثَبَتَ الشُّيُوخُ تَحْتَ الرَّايَاتِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، جَاءَ الشُّبَّانُ يَطْلُبُونَ مَا جُعِلَ لَهُمْ، وَقَالَ الشُّيُوخُ: إِنَّا كُنَّا رِدْأً لَكُمْ وَكُنَّا تَحْتَ الرَّايَاتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: 1] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3260 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص یہ کام کرے گا یا جو شخص فلاں فلاں جگہ پر جائے گا ، اس کو فلاں فلاں انعام ملے گا۔ تو نوجوان جنگ کی طرف چلے گئے اور عمر رسیدہ لوگ علم کے نیچے کھڑے رہے۔ جب (جنگ ختم ہوئی) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا تو نوجوان ان کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے جو حصہ مقرر کیا تھا ، اس کا مطالبہ کیا اور بوڑھے لوگوں نے کہا: تمہاری پشت پناہی تو ہم کر رہے تھے ، ہم علم کے نیچے تھے (جب ان میں یہ نزاع پیدا ہوا تو ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:۔" یسالونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول فاتقو اللہ واصلحو ا ذالک بینکم " (الانفال:1) " اے محبوب یہ لوگ آپ سے غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں: آپ فرما دیں غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہیں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان صلح رکھو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3260

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3261

3261 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَتْلَى قِيلَ لَهُ: عَلَيْكَ الْعِيرُ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ، فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ فِي وَثَاقِهِ، أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ قَالَ: «لِمَ؟» قَالَ: «لِأَنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَنْجَزَ لَكَ مَا وَعَدَكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3261 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ جنگ سے فارغ ہوئے تو آپ سے کہا گیا: آپ کو (ابوالعاص والے) قافلے کا پیچھا ضرور کرنا چاہئے، (اس جنگ میں) حضرت عباس بن عبدالمطلب (جنگی قیدی تھے وہ) اپنی رسیوں میں بندھے ہوئے بولے : اب آپ کو ابوالعاص والے قافلے کا پیچھا نہیں کرنا چاہئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا :وہ کیوں؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ دو قافلوں میں سے ایک کا وعدہ کیا تھا اور وہ اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3261

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3262

3262 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ السَّدُوسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ " {وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ} [الأنفال: 16] قَالَ: نَزَلَتْ فِينَا يَوْمَ بَدْرٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3262 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت:" ومن یولھم یومئذ دبرہ (الانفال:16) " اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) جنگ بدر کے موقع پر ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ [الأنفال: ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ السَّدُوسِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3262

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3263

3263 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَقْبَلَ أُبَيُّ بْنُ خَلَفٍ يَوْمَ أُحُدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُهُ، فَاعْتَرَضَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّوْا سَبِيلَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرْقُوَةَ أُبَيٍّ مِنٍ فُرْجَةٍ بَيْنَ سَابِغَةِ الدِّرْعِ وَالْبَيْضَةِ، فَطَعَنَهُ بِحَرْبَتِهِ فَسَقَطَ أُبَيٌّ عَنْ فَرَسِهِ، وَلَمْ يَخْرُجْ مِنْ طَعْنَتِهِ دَمٌ، فَكَسَرَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ، فَأَتَاهُ أَصْحَابُهُ وَهُوَ يَخُورُ خُوَارَ الثَّوْرِ، فَقَالُوا لَهُ: مَا أَعْجَزَكَ إِنَّمَا هُوَ خَدْشٌ فَذَكَرَ لَهُمْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَنَا أَقْتُلُ أُبَيًّا» ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ هَذَا الَّذِي بِي بِأَهْلِ ذِي الْمَجَازِ لَمَاتُوا أَجْمَعِينَ. فَمَاتَ أُبَيٌّ إِلَى النَّارِ، فَسُحْقًا لِأَصْحَابِ السَّعِيرِ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى} [الأنفال: 17] الْآيَةُ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3263 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: جنگ احد کے دن ابی بن خلف ناپاک ارادہ لے کر رسول اللہ ﷺ کے جانب بڑھا۔ لیکن کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے آڑے آ گئے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ اس کار استہ چھوڑ دیں تو بنی عبدالدار کے بھائی مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ آپ کی جانب رخ کر کے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ نے ابی بن خلف کی زرہ اور خود کے درمیان کچھ خالی جگہ دیکھی آپ نے وہیں پر تیر کا نشانہ لگایا (جو اس کو لگا اور) وہ گھوڑے سے نیچے آ گرا ، لیکن اس کے زخم سے خون کا ایک قطرہ تک نہ نکلا اس نے اس کا یک پرتوڑ دیا پھر وہ اپنے ساتھیوں میں آیا تو وہ بھینسے کی طرح آواز نکال رہا تھا ، لوگوں نے اس سے کہا: تجھے اتنا عاجز کس چیز نے کر دیا ہے؟ یہ ایک ہلکی سی خراش ہی تو آئی ہے پھر اس نے اپنے ساتھیوں کو رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بتایا (کہ آپ نے فرمایا ہے) "ابی کو میں قتل کرو گا " پھر اس نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے جو تکلیف مجھے ہو رہی ہے اگر یہ "ذی المجاز " (علاقے) کے لوگوں کو ہوتی تو سب مر جاتے، پھر ابی بن خلف مکہ آنے سےپہلے واصل جہنم ہو گیا اور بربادی ہے جہنم والوں کے لئے۔ تواللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی:۔" وما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رمیٰ (الانفال:17) "اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3263

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3264

3264 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي صَالِحٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ الْعُذْرِيُّ، قَالَ: كَانَ الْمُسْتَفْتِحَ أَبُو جَهْلٍ فَإِنَّهُ قَالَ حِينَ الْتَقَى الْقَوْمُ: " اللَّهُمَّ أَيُّنَا كَانَ أَقْطَعَ لِلرَّحِمِ، وَآتَانَا بِمَا لَا نَعْرِفُ، فَاحْنِهِ الْغَدَاةَ، فَكَانَ ذَلِكَ اسْتِفْتَاحَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنْ تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ} [الأنفال: 19] إِلَى قَوْلِهِ {وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ} [الأنفال: 19] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3264 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر العذری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فیصلے کا طلبگار "ابوجہل" تھا کیونکہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اسی نے کہا تھا " اے اللہ ! ہم میں جو قاطع رحم ہے اور جو غیر معروف پیغام لایا ہے تو کل اس کو ذلیل فرما، یہی اس کی فیصلے کی طلب تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:۔" انتستفتحو ا فقد جا ء کم الفتح "" اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔"وان اللہ مع المومنین (الانفال:19) " اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

كَانَ الْمُسْتَفْتِحَ أَبُو جَهْلٍ فَإِنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ الْعُذْرِيُّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3264

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3265

3265 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ} [الأنفال: 24] قَالَ: «يَحُولُ بَيْنَ الْكَافِرِ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ، وَيَحُولُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَبَيْنَ الْمَعَاصِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3265 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ (الانفال:24) " اور اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہو جاتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: (اللہ تعالیٰ کا حکم) کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مومن اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ} [الأنفال: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3265

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3266

3266 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» قَالُوا: فِينَا ابْنُ أُخْتِنَا، وَفِينَا حَلِيفُنَا، وَفِينَا مَوْلَانَا " فَقَالَ: «حَلِيفُنَا مِنَّا وَابْنُ أُخْتِنَا مِنَّا وَمَوْلَانَا مِنَّا، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3266 - صحيح

حضرت عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا: تم میں کوئی غیر متعلقہ آدمی تو نہیں ہے؟ ان لوگوں نے جواباً کہا: ہم میں ہمارے بھانجے موجود ہیں، ہمارے حلیف موجود ہیں اور ہمارے غلام موجود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہمارے حلیف بھی ہم میں سے ہیں، ہمارے بھانجے ہم میں سے ہیں اور ہمارے غلام بھی ہم میں سے ہیں۔ بے شک تم میں سے میرے دوست "اہل تقویٰ" ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

فِينَا ابْنُ أُخْتِنَا، وَفِينَا حَلِيفُنَا، وَفِينَا مَوْلَانَا ← هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ ← جَمَعَ رَسُولُ اللهِ قُرَيْشًا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أبو بكر محمد بن إبراهيم الشافعي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3266

chevron_left Previous
1…323334…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section