Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3243

3243 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقَبِّحُوا الْوُجُوهَ» وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3243 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: چہروں کے عیب مت نکالو پھر اس کے بعد باقی حدیث ذکر کی۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

«لَا تُقَبِّحُوا الْوُجُوهَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3243

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3244

3244 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رِيحٍ السَّمَّاكُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدٍ الْكَاتِبِ الْمُكْتِبِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " خَلَقَ اللَّهُ أَرْبَعَةَ أَشْيَاءٍ بِيَدِهِ: الْعَرْشَ، وَجَنَّاتِ عَدْنٍ، وَآدَمَ، وَالْقَلَمَ، وَاحْتَجَبَ مِنَ الْخَلْقِ بِأَرْبَعَةٍ: بِنَارٍ، وَظُلْمَةٍ، وَنُورٍ، وَظُلْمَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3244 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے چار چیزیں اپنے ہاتھ سے پیدا کی ہیں۔ (1) عرش۔ (2)جنات عدن۔ (3)آدم۔ (4)قلم ۔ اور مخلوقات سے چار چیزوں کے ذریعے چھپا ہوا ہے۔ (1)آگ۔ (2) اندھیرا۔ (3)روشنی۔ (4)تاریکی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← عُبَيْدٍ الْكَاتِبِ الْمُكْتِبِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ رِيحٍ السَّمَّاكُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3244

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3245

3245 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ لِبَاسُ آدَمَ وَحَوَّاءَ مِثْلَ الظُّفُرِ، فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ، جَعَلَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا، مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ» . قَالَ: هُوَ وَرَقُ التِّينِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3245 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کا لباس ناخنوں کی طرح ہوتا تھا جب انہوں نے شجر ممنوعہ چکھ لیا تو وہ اپنے بند پر جنت کے (درختوں کے ) پتے چپکانے لگے (راوی ) فرماتے ہیں: وہ زیتون کے درخت کے پتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، ← أحمد بن محمد بن عبد الحميد الجعفي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3245

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3246

3246 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ الْبَطِينَ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، وَعَلَى فَرْجِهَا خِرْقَةٌ، وَهِيَ تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ، فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ} [الأعراف: 32] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3246 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمانہ جاہلیت میں ایک عورت صرف اپنی شرمگاہ پر ایک چھوٹا سا کپڑا لپیٹے، ننگی بیت اللہ کا طواف کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی" آج سارا جسم یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہو گا، پس اس کا جو حصہ ظاہر ہو میں اس کو حلال نہیں سمجھوں گی۔ تو یہ آیت اسی کے متعلق نازل ہوئی: "﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ٣٢﴾" (الاعراف:32)" تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی زینت"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3246

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3247

3247 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ قَوْمٌ تَجَاوَزَتْ بِهِمْ حَسَنَاتُهُمُ النَّارَ، وَقَصُرَتْ بِهِمْ سَيِّئَاتُهُمْ عَنِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ، قَالُوا: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ. فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ. قَالَ: «قُومُوا ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3247 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اصحاب الاعراف وہ لوگ ہیں کہ نیکیوں نے ان کے دوزخ سے تو بچا لیا مگر گناہوں کی وجہ سے وہ جنت میں نہ جا سکے، جب وہ دوزخیوں کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے: اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے ہمراہ نہ کرنا ، وہ اسی حالت میں رہیں گے حتیٰ کہ ان کا رب ان سے فرمائے گا: تم جنت میں چلے جاؤ بے شک میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3247

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3248

3248 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ: «لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ، فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ يَعْنِي النَّاقَةَ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَأَهْمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا، كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ» قِيلَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: «أَبُو رِغَالٍ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3248 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ حجر اسود کے پاس سے گزرے تو فرمایا: نشانیوں کا سوال مت کیا کرو۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے اس کا سوال کیا تھا، وہ ایک اونٹنی تھی جو پہاڑ کے ایک راستے سے داخل ہوتی اور دوسرے سے نکل آتی، انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس انٹنی کو مار ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے (اس نافرمانی کی پاداش میں) آسمان کے نیچے بسنے والے ہر شخص کو ہلاک کر دیا، سوائے ایک آدمی کے جو کہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا، آپ سے پوچھا گیا: وہ کون تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ابورغال۔ جب وہ حرم سے باہر نکلا تو اس کو بھی وہی عذاب آگیا جو اس کی قوم کو آیا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← محمد بن علي الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3248

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3249

3249 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا} [الأعراف: 143] قَالَ حَمَّادٌ: هَكَذَا وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى مَفْصِلِ الْخِنْصَرِ الْأَيْمَنِ، قَالَ: فَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا؟ قَالَ: فَضَرَبَ ثَابِتٌ صَدْرَ حُمَيْدٍ ضَرْبَةً بِيَدِهِ وَقَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ بِهِ وَأَنَا لَا أُحَدِّثُ بِهِ؟» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3249 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا١٤٣﴾" (الاعراف:143)"پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کر دیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ حماد کہتے ہیں : اس طرح اور اپنا انگوٹھا، دائیں چھنگلیا کے جوڑ پر رکھا۔ آپ کہتے ہیں: حمید نے ثابت سے کہا: تو اس طرح حدیث بیان کر رہا ہے؟ تو ثابت نے حمید کے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور کہا: رسول اللہ ﷺ اس کو بیان کریں اور میں بیان نہ کروں؟۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

بِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَرَبَ ثَابِتٌ صَدْرَ حُمَيْدٍ ضَرْبَةً بِيَدِهِ ← حُمَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: تُحَدِّثُ بِمِثْلِ هَذَا؟ ← حَمَّادٌ: هَكَذَا وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى مَفْصِلِ الْخِنْصَرِ الْأَيْمَنِ، ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا} [الأعراف: ← أَنَسٍ، ← حماد بن سلمة أنبأ ثابت ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَكْرٍ الْعَدْلُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3249

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3250

3250 - أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ، إِنَّ اللَّهَ خَبَّرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3250 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خبر مشاہدہ کے برابر نہیں ہو سکتی (پہلے) اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان کو قوم کے ان کرتوتوں کی خبر دی تھی جو انہوں نے بچھڑے کے سلسلے میں کئے تھے تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکی تھیں (لیکن) جب انہوں نے یہ ساری صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھی تو تختیاں پھینک دیں۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكِيمِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3250

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3251

3251 - حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، بِمَكَّةَ فِي دَارِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَى هَارُونُ عَلَى السَّامِرِيِّ وَهُوَ يَصْنَعُ الْعِجْلَ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: مَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعْطِهِ مَا سَأَلَكَ فِي نَفْسِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنْ يَخُورَ فَخَارَ، وَكَانَ إِذَا سَجَدَ خَارَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ خَارَ، وَذَلِكَ بِدَعْوَةِ هَارُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3251 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ہارون علیہ السلام سامری کے پاس تشریف لائے، اس وقت وہ بچھڑا بنا رہا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: تو کیا بنا رہا ہے؟ اس نے کہا : میں ایسی چیز بنا رہا ہوں جو نفع دے گی نہ نقصان۔ آپ نے کہا: اے اللہ! یہ اپنےدل میں جو کچھ تجھ سے مانگے تو اس کا سوال پورا فرما دے۔ جب آپ چلے گئے تو اس نے دعا مانگی: یا اللہ ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ یہ بولنے لگ جائے، تو وہ بولنے لگ گیا۔ وہ جب جھکتا تو بولتا اور جب سر اٹھاتا تب بھی بولتا اور یہ سب حضرت ہارون علیہ السلام کی دعا کی برکت سے ہوا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

اللَّهُمَّ أَعْطِهِ مَا سَأَلَكَ فِي نَفْسِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ ← مَا يَنْفَعُ وَلَا يَضُرُّ ← لَهُ: مَا تَصْنَعُ؟ ← أَتَى هَارُونُ عَلَى السَّامِرِيِّ وَهُوَ يَصْنَعُ الْعِجْلَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، بِمَكَّةَ فِي دَارِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3251

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3252

3252 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّدِّيُّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ " أَصْحَابَ الْعِجْلِ قَالُوا هطا سقماثا أزبه مزبا وَهِيَ بِالْعَرَبِيَّةِ حِنْطَةٌ حَمْرَاءُ قَوِيَّةٌ، فِيهَا شَعْرَةٌ سَوْدَاءُ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ} [البقرة: 59] فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَسْجُدُوا قَالَ: أَمَرَ اللَّهُ الْجَبَلَ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِمْ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ قَدْ غَشِيَهُمْ، فَسَقَطُوا سُجَّدًا عَلَى شِقٍّ، وَنَظَرُوا بِالشِّقِّ الْآخَرِ فَرَحِمَهُمُ اللَّهُ فَكَشَفَهُ عَنْهُمْ، فَقَالُوا: مَا سَجْدَةٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ سَجْدَةٍ كَشَفَ بِهَا الْعَذَابَ عَنْكُمْ، فَهُمْ يَسْجُدُونَ لِذَلِكَ عَلَى شِقٍّ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ} [الأعراف: 171] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3252 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بچھڑے کے پجاریوں نے کہا: "ھطا سقما ثا ازبہ مزبا"۔ اس کا مطلب ہے " گندم کا، سرخ رنگ کا وہ مضبوط دانا جس کے اند ر کالے رنگ کی باریک بالی ہوتی ہے" اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:۔ "فبدل الذین ظلمو اقولا غیر الذی قیل لھم ابو ا ان یسجدوا (البقرۃ:58) "تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ جب ان لوگوں نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو ان پر گرنے کا حکم دیا، جب انہوں نے دیکھا کہ پہاڑ ان پر گراہی چاہتا ہے۔ تو ایک پہلو پر سجدے میں گر گئے اور دوسرے پہلو سے پہاڑ کی طرف دیکھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور ان سے پہاڑ ہٹا دیا، انہوں نے سوچا کہ اس سجدے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ختم فرما دیا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ یہی سجدہ پسند ہے تو وہ ایک پہلو پر ہی سجدہ کرنے لگ گئے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد: واذ نتقنا الجبل فوقھم کانہ ظلۃ (الاعراف:171) "اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا ، گویا وہ سائبان ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

إِنَّ أَصْحَابَ الْعِجْلِ ← عبد الله بن مسعود أنه ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّدِّيُّ، ← أسباط بن نصر الهمداني، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3252

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3253

3253 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَاخْتَارَ مُوسَى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا لِمِيقَاتِنَا} [الأعراف: 155] قَالَ: دَعَا مُوسَى فَبَعَثَ اللَّهُ سَبْعِينَ، فَجَعَلَ دُعَاءَهُ حِينَ دَعَاهُ لِمَنْ آمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّبَعَهُ قَوْلَهُ {فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ} [الأعراف: 155] {فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ} [الأعراف: 156] وَالَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3253 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: "واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقا تنا "(الاعراف:155)۔ "اور موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر مرد ہمارے عودے کے لئے چنے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ نے (ان لوگوں کی زندگی کی) کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ستر کے ستر آدمیوں کو زندہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والوں کو بھی عطا فرمائی اور اس کے بعد کہا: "فاغفر لنا وارحمنا وانت خیر الغافرین"(الاعراف:155)۔ "تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور "فسا کتبھا للذین یتقون ویو تون الزکاۃ (الاعراف:156) " تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور جو لوگ محمد ﷺ کی اتباع کرتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3253

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3254

3254 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ بَصَرُهُ، وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُ أَيْلَةَ؟ قُلْتُ: وَمَا أَيْلَةَ؟ قَالَ: قَرْيَةٌ كَانَ بِهَا نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَحَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانِ يَوْمَ السَّبْتِ، فَكَانَتْ حِيتَانُهُمْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ، شُرَّعًا بَيْضَاءَ سِمَانَ، كَأَمْثَالِ الْمَخَاضِ بَأَفْنِيَاتِهِمْ وَأَبْنِيَاتِِهِمْ، فَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ، لَمْ يَجِدُوهَا، وَلَمْ يُدْرِكُوهَا إِلَّا فِي مَشَقَّةٍ وَمَئُونَةٍ شَدِيدَةٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَوْ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنْهُمْ: لَعَلَّنَا لَوْ أَخَذْنَاهَا يَوْمَ السَّبْتِ، وَأَكَلْنَاهَا فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ. فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْهُمْ، فَأَخَذُوا فَشَوَوْا، فَوَجَدَ جِيرَانُهُمْ رِيحَ الشِّوَاءِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا نََرََى أَصْحَابَ بَنِي فُلَانٍ شَيْءٌ، فَأَخَذُوهَا آخَرُونَ حَتَّى فَشَا ذَلِكَ فِيهِمْ، وَكَثُرَ فَافْتَرَقُوا فِرَقًا ثَلَاثًا، فِرْقَةٌ أَكَلَتْ، وَفِرْقَةٌ نَهَتْ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ: {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ} [الأعراف: 164] عَذَابًا شَدِيدًا. فَقَالَتِ الْفِرْقَةُ الَّتِي نَهَتْ: إِنَّا نُحَذِّرُكُمْ غَضَبَ اللَّهِ وَعِقَابَهُ، أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، وَاللَّهِ لَا نُبَايِتُكُمْ فِي مَكَانٍ وَأَنْتُمْ فِيهِ، وَخَرَجُوا مِنَ السُّورِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَضَرَبُوا بَابَ السُّورِ، فَلَمْ يُجِبْهُمْ أَحَدٌ، فَأَتَوْا بِسُلَّمٍ فَأَسْنَدُوهُ إِلَى السُّورِ، ثُمَّ رَقِيَ مِنْهُمْ رَاقٍ عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: يَا عِبَادَ اللَّهِ قِرَدَةٌ، وَاللَّهِ لَهَا أَذْنَابٌ تَعَاوَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ مِنَ السُّورِ فَفَتَحَ السُّورَ، فَدَخَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقِرَدَةُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْإِنْسِ، وَلَمْ تَعْرِفِ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقِرَدَةِ، قَالَ: فَيَأْتِي الْقَرَدُ إِلَى نَسِيبِهِ وَقَرِيبِهِ مِنَ الْإِنْسِ، فَيَحْتَكُّ بِهِ، وَيَلْصَقُ، وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ: أَنْتَ فُلَانٌ؟ فَيُشِيرُ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ، وَيَبْكِي، وَتَأْتِي الْقِرَدَةُ إِلَى نَسِيبِهَا وَقَرِيبِهَا مِنَ الْإِنْسِ، فَيَقُولُ لَهَا: أَنْتِ فُلَانَةٌ؟ فَتُشِيرُ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، وَتَبْكِي، فَيَقُولُ لَهُمُ الْإِنْسُ: أَمَا إِنَّا حَذَّرْنَاكُمْ غَضَبَ اللَّهِ وَعِقَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاسْمَعِ اللَّهَ يَقُولُ «فَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ» فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلَتِ الْفُرْقَةُ الثَّالِثَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مِنْ مُنْكَرٍ فَلَمْ نَنْهَ عَنْهُ قَالَ عِكْرِمَةُ: فَقُلْتُ: مَا تَرَى جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ إِنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا، وَكَرِهُوا حِينَ قَالُوا لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا؟ فَأَعْجَبَهُ قُولِي ذَلِكَ، وَأَمَرَ لِي بِبُرْدَيْنِ غَلِيظَيْنِ فَكَسَانِيهُمَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3254 - صحيح

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اس وقت وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ یہ ان کی بینائی ختم ہو جانے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ میں نے ان سے کہا: میری جان آپ پر فدا ہو جائے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: کیا تم "ایلہ" کے بارے میں جانتے ہو؟ میں نے پوچھا : ایلہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ ایک بستی ہے ، جس میں یہودی آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار حرام کیا تھا لیکن ہفتہ کے دن سفید رنگ کی موٹی تازی مچھلیاں جو بچھڑے کے برابر ہوتیں ، بہت وافر مقدار میں امنڈ کر آتیں اور جب ہفتہ کا دن گزر جاتا تو ایک آدھ مچھلی وہ بھی بہت محنت اور مشقت کے بعد ہاتھ لگتی۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر ہم ہفتہ کے دن مچھلیاںصرف پکڑ لیں اور یہ دن گزار کر کھا لیا کریں (تو حکم الٰہی کی نافرمانی سے بھی بچ جائیں اور مچھلیاں بھی ہاتھ سے نہ جائیں) چنانچہ ان میں سے ایک گھرانے نے اس پر عمل کر لیا۔ انہوں نے اسی طریقہ سے مچھلیاں پکڑ لیں اور ان کو بھون لیا، جب بھوننے کی خوشبو ان کے پڑوسیوں تک پہنچی تو وہ بولے: خدا کی قسم! فلاں قبیلے کے لوگ تو اس معاملہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پھر دوسروں نے بھی اس عمل کو اپنا لیا اور ( آہستہ آہستہ) ان میں یہ عمل بہت کثرت سے پھیل گیا (اس کے نتیجے میں) ان کے تین گروپ بن گئے۔ ایک جماعت تو مچھلیاں کھاتی تھی اور ایک جماعت اس کی سخت مخالف تھی اور ایک جماعت ایسی تھی جو کہتی تھی: تم اس قوم کو نصیحت کیوں کر رہے ہو جن کو خود اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا یا جن کو سخت عذاب دے گا۔ روکنے والی جماعت نے کہا: ہم تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے ہیں کہ کہیں تم زمین میں دھنسا دئیے جاؤ یا اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب تم تک پہنچے۔ خدا کی قسم ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ تم مکان میں ہو (یہیں تم پر عذاب آئے گا۔ یہ کہہ کر) وہ لوگ دیواروں سے باہر نکل آئے۔ اور اگلے دن صبح سویرے ان کے دروازوں پر دستک دی لیکن ان میں سے کسی نے بھی جواب نہ دیا وہ سیڑھی لگا کر دیوار سے چڑھے اور جھانک کر دیکھا تو بولے: اے اللہ تعالیٰ کے بندو! (یہاں پر تو) بندر ہیں، خدا کی قسم ان کی دمیں ہیں ، وہ تین مرتبہ بھونکے ، پھر وہ لوگ دیوراوں سے نیچے اترے اور دروازہ کھولا اور لوگ مکان کے اندر داخل ہو گئے تو ان بندروں نے انسانوں میں سے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان ان بندروں میں اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے (آپ فرماتے ہیں) بندر اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتا اور اس کے ساتھ لپٹتا، وہ انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں ہے؟ تو وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتا: ہاں، اور وہ رونے لگ جاتا اور بندریا، اپنے انسان رشتہ دار کے پاس آتی ، انسان اس سے پوچھتا: تو فلاں عورت ہے؟ وہ اپنے سر کے اشارے سے کہتی: ہاں، اور وہ رو پڑتی، تو انسان اس کو کہتا : کیا ہم تمہیں اس بات سے ڈراتے نہیں تھے کہ کہیں تم دھنسا دئیے جاؤ یا تمہاری شکلیں بگاڑ دی جائیں یا کوئی اور عذاب تم پر آ جائے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے سنایا کہ وہ یہ کہے: "فانجینا الذین ینھون عن السوء واخذنا الذین ظلمو ا بعذاب یئس بما کانو ا یفسقون"۔ (الاعراف:165)۔ " ہم نے بچا لئے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نا فرمانی کا"۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور تیسری جماعت کے ساتھ کیا ہوا؟ مجھے یہ معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم کتنے ہی لوگوں کو گناہوں میں مبتلا دیکھتے ہیں لیکن انہیں منع نہیں کرتے۔ حضرت عکمرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کر دے ، انہوں نے جب نا فرمانوں کو اتنا کہہ دیا" تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہوں اللہ تعالیٰ خود جن کو ہلاک کرنے والاہے " تو گویا کہ انہوں نے ان کو اس گناہ سے روکا ہی ہے اور اس سے نفرت کی ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو میری یہ بات بہت اچھی لگی، آپ نے (اس کے انعام میں) مجھے دو قیمتی جبے پہنائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ ← عِكْرِمَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ الربيع بن سليمان أنبأ الشافعي ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3254

chevron_left Previous
1…313233…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section