Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2896

2896 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَجُلٌ وَأَنَا أُصَلِّي، فَقَالَ: ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، أَلَا أَرَاكَ تُصَلِّي، وَقَدْ أَمَرَ بِكِتَابِ اللَّهِ أَنْ يُمَزَّقَ كُلَّ مُمَزَّقٍ، قَالَ: فَتَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي، وَكُنْتُ أَجْلِسُ، فَدَخَلْتُ الدَّارَ، وَلَمْ أَجْلِسْ، وَرَقِيتُ فَلَمْ أَجْلِسْ، فَإِذَا أَنَا بِالْأَشْعَرِيِّ، وَحُذَيْفَةَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ يَتَقَاوَلَانِ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: ادْفَعْ إِلَيْهِمْ هَذَا الْمُصْحَفَ. قَالَ: «وَاللَّهِ لَا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ، أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً، ثُمَّ أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ، وَاللَّهِ لَا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2896 - صحيح

حضرت ابو میسرہ عمر و بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی میرے پاس آیا ، اس وقت میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ اس نے کہا : تیری ماں تجھے روئے تم کیسے نماز پڑھ رہے ہو ؟ حالانکہ قرآن پاک پڑھنے کے متعلق حکم یہ ہے کہ اس کو خوب عمدگی سے پڑھو ۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے نماز مختصر کر دی اور ( میری عادت تھی کہ) مین نماز کے بعد ( تھوڑی دیر ) بیٹھا کرتا تھا ( لیکن اس دن نہیں بیٹھا بلکہ ) گھر میں گیا اور وہاں بھی نہیں بیٹھا ، پھرسیڑھیاں چڑھا لیکن بیٹھا نہیں ۔ تو میں نے دیکھا کہ ، حضرت حذ یفہ رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ آپس میں گفتگو کر رہےتھے ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا : ان کو یہ مصحف دے دو ، انہوں نے جواباً کہا : خدا کی قسم ! میں مصحف ہر گز نہیں دوں گا ۔ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ستر سے زائد سورتیں پڑھائی ہیں ۔ پھر میں یہ مصحف ان کو دے دوں خدا کی قسم میں یہ مصحف ان کے حوالے ہرگز نہیں کروں گا ۔

أُصَلِّي ← أَتَى عَلَيَّ رَجُلٌ ← أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ: ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← عبد الله بن عوف. ← أَبِي ← الحسن بن المثنى بن معاذ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 2896

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2897

2897 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ذُو ذُؤَابَتَيْنِ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلِهَذِهِ الزِّيَادَةِ شَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2897 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ستر سورتیں سیکھی ہیں ( ان دنوں ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ چھوٹا بچہ ہو تا تھا ، بچوں کے ہمراہ کھیلا کرتا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ عبدا للہ سے مروی ایک حدیث اس حدیث کی زیادتی کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

حَمْزَةُ بْنُ مَالِكٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Hadith 2897

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2898

2898 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: «أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، أَحْكَمْتُهَا، قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2898 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ستر سورتیں سکھائی ہیں ، میں نے وہ تمام زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے پہلے یاد کر لی تھیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْأَسَدِيُّ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو الحسين محمد بن أحمد الحنظلي ببغداد،

Hadith 2898

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2899

2899 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ إِمْلَاءً فِي مَسْجِدِهِ بِبَغْدَادَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَيْثَمٍ الْبَلَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: " لَوْ نَعْلَمُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ، عَمِلْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ} إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَقَالَ لَنَا الْأَوْزَاعِيُّ: «قَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ هَكَذَا» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ: «وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ هَكَذَا» قَالَ إِبْرَاهِيمُ: «وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ هَكَذَا» قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ: «وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ هَكَذَا» قَالَ الْحَاكِمُ: «وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ مِنْ أَوَّلِ السُّورَةِ إِلَى آخِرِهَا هَكَذَا» وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْحَاكِمُ مِنْ أَوَّلِ السُّورَةِ إِلَى آخِرِهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2899 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ کون سا عمل اللہ تعالی کی بار گاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے تو ہم اس کو اپنا لیں ۔ تب اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ " سبح للہ ما فی السموات وما فی الارض وھو العزیز الحکیم یایھا الذین امنو ا لم تقولون ما لا تفعلون کبر مقتا عنداللہ ان تقولو ا ما لا تفعلون ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مر صوص " " اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے ۔ اے ایمان والو کیوں کہتے وہ ہو نہیں کرتے ۔ کتنی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات وہ کہو جو نہ کرو۔ بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا باند ھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سورۃ کے آخر تک اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ آیات سنائیں ۔ محمد بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے ، اوزاعی کہتے ہیں : یحیی بن کثیر نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی ۔ ابراہیم نے کہا : ہمارے سامنے محمد بن کثیر نے سورۃ کے آخر تک تلاوت کی ۔ ابو عمرو بن سماک نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی ۔ ( راوی کتاب کہتے ہیں) امام حاکم نے یہ سورۃ آخر تک اسی طرح ہمارے سامنے تلاوت کی ۔ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح ہے تاہم ان دونوں حضرات نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَيْثَمٍ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ إِمْلَاءً فِي مَسْجِدِهِ

Hadith 2899

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2900

2900 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، وَالْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ، إِذْ قَالَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» فَقِيلَ لَهُ: وَلِمَ؟ قَالَ: «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِمْ» رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2900 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس قرآن جمع کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ آپ نے فرمایا : شام کے لئے خوشخبری ہو ، آپ سے دریافت کیا گیا کس بناء پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس لئے کہ رحمت کے فرشتے ان پر اپنے پر پھیلاتے ہیں ۔ اس حدیث کو جریر بن حازم نے یحیی بن ایوب سے روایت کیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ على شرط البخاري ومسلم ← «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِمْ» رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← «طُوبَى لِلشَّامِ» فَقِيلَ لَهُ: وَلِمَ؟ ← كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ، إِذْ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ التَّمِيمِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2900

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2901

2901 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» ، فَقُلْنَا: لِأَيِّ شَيْءٍ ذَاكَ؟ فَقَالَ: «لِأَنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ: أَنَّ جَمْعَ الْقُرْآنِ لَمْ يَكُنْ مَرَّةً وَاحِدَةً، فَقَدْ جُمِعَ بَعْضُهُ بِحَضْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جُمِعَ بَعْضُهُ بِحَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَالْجَمْعُ الثَّالِثُ هُوَ فِي تَرْتِيبِ السُّورَةِ كَانَ فِي خِلَافَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ "

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی مین کاغذ یا چمڑے کے ٹکڑوں پر قرآن جمع کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شام کے لئے خوشخبری ہے ، ہم نے پوچھا : کس بناء پر ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ان پر رحمت کے فرشتے اپنے پر پھیلاتے ہیں ۔ یہ حدیث اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث مین یہ واضح بیان موجود ہے کہ قرآن پاک صرف ایک دفعہ ہی جمع نہیں کیا گیا اس کا کچھ حصہ تو خود رسول اللہﷺ کی موجودگی میں جمع کر لیا گیا تھا ، پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جمع کیا گیا اور تیسری دفعہ جب سورتوں کی ترتیب کے ساتھ اس کی تالیف ہو ئی ہے وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا ہے ۔

كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ، إِذْ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2901

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2902

2902 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بنُ أَحْمَدَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ «فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ بَرَاءَةَ» ، فَقُلْتُ لِأُبَيٍّ: مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ قَالَ: فَتَجَهَّمَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي قَالَ: «وَذَكَرَ الْحَدِيثَ هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي وَطَلَبْتُهُ فِي الْمَسَانِيدِ فَلَمْ أَجِدْهُ بِطُولِهِ الْحَدِيثُ بِإِسْنَادِهِ صَحِيحٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2902 - صحيح

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جمعہ کے دن مسجد نبوی میں گیا ، اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے سورۃ براءت پڑھی ۔ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : یہ سورۃ کب نازل ہوئی ؟ انہوں نے میری طرف غصہ سے دیکھا اور کوئی کلام نہیں کیا ۔ اس کے بعد پوری حدیث کا ذکر ہے ۔ میں نے اپنی کتاب میں بھی اس حدیث کو ایسا ہی پایا ہے ۔ میں نے اس کو مسانید میں بھی بہت ڈھونڈا لیکن پوری مفصل حدیث مجھے کہیں سے بھی نہیں مل سکی بہر حال یہ حدیث اپنی اسناد کے ہمراہ صحیح ہے ۔

Hadith 2902

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2903

2903 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَرَوْنَ كَانَ آخِرَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالُوا: قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ: لَا، «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ كُلَّ سَنَةٍ عَلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَلَمَّا كَانَتِ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا عَرَضَهُ عَلَيْهِ عَرْضَتَيْنِ، فَكَانَتْ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ آخِرَهُنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَفَائِدَةُ الْحَدِيثِ ذِكْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2903 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم کون سی قراءت کو آخری قرات سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : زید رضی اللہ عنہ کی قرات کو ، آپ نے فرمایا : نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ ہر سال جبریل علیہ السلام کو قرآن سنایا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کا وصال مبارک ہوا ۔ اس سا ل آپ نے دو مرتبہ جبریل علیہ السلام کو قرآن سنایا اور ان میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات سب سے آخری قراءت تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر موجود ہے ۔

لَا۔ ← قِرَاءَةُ زَيْدٍ ← أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَرَوْنَ كَانَ آخِرَ الْقِرَاءَةِ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2903

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2904

2904 - أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «عُرِضَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَاتٍ» فَيَقُولُونَ: إِنَّ قِرَاءَتِنَا هَذِهِ هِيَ الْعَرْضَةُ الْأَخِيرَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ بَعْضُهُ، وَبَعْضُهُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2904 - صحيح

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ پر کئی مرتبہ قرآن پیش کیا گیا اور ہماری یہ قرات آخری مرتبہ والی ہے ۔اس حدیث کا کچھ حصہ اما بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق اور کچھ حصہ اما مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، بِمَكَّةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ

Hadith 2904

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2905

2905 - سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسْطَنْطِينَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شِبْلٍ، وَأَخْبَرَ شِبْلٌ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى مُجَاهِدٍ، وَأَخْبَرَ مُجَاهِدٌ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَخْبَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «قَرَأَ أُبَيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَرَأْتُ عَلَى إِسْمَاعِيلَ بْنِ قُسْطَنْطِينَ وَكَانَ يَقُولُ: «الْقُرَانُ اسْمٌ وَلَيْسَ بِمَهْمُوزٍ، وَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْ قَرَأْتُ، وَلَوْ أُخِذَ مِنْ قَرَأْتُ كَانَ كُلُّ مَا قُرِئَ قُرْآنًا، وَلَكِنَّهُ اسْمٌ لِلْقُرَانِ، مِثْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ، يُهْمَزُ قَرَأْتُ، وَلَا يُهْمَزُ الْقُرَانُ»

حضرت اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے شبل رحمۃ اللہ علیہ سے قرآن پاک پڑھا ۔ شبل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : انہوں نے عبیدا للہ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ سے قرآن پڑھا ۔ وہ کہتے ہیں : انہوں نے مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھا ۔ مجاہد کہتے ہیں : انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پڑھا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پڑھا اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے پڑھا ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے اسماعیل بن قسطنطین رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھا اور وہ کہا کرتے تھے قرآن " اسم " ہے ، مہموز نہیں ہے ۔ یہ قراءت سے ماخوذ نہیں ہے کیونکہ اگر یہ قراءت سے ماخوذ ہوتا تو جب بھی پڑھا جاتا تو قرآن ہوتا ، اس لئے یہ قرآن کا " اسم " ہے جیسا کہ توراۃ اور انجیل قرات مہموز ہے لیکن قرآن مہموز نہیں ہے ۔

عَلَى شِبْلٍ، وَأَخْبَرَ شِبْلٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسْطَنْطِينَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن عبد الحكم بن أعين المصري ← أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2905

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2906

2906 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ابْنُ الْإِمَامِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ الْكِسَائِيُّ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيءَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللَّهِ، وَلَكِنِّي نَبِيُّ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ مُفَسِّرٌ بِإِسْنَادٍ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2906 - بل منكر لم يصح

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور بولا : "یا نبیئ اللہ" ( آخر میں ہمزہ بولا) رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا : میں نبیئ اللہ نہیں ہوں بلکہ "نبی اللہ" ہوں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی مفسر شاہد ہے لیکن اس کی سند ہماری اس کتاب کے معیار کے مطابق نہیں ہے ۔

يَا نَبِيءَ اللَّهِ. ← جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← علي بن حمزة الكسائي ← خلف بن هشام المقري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ابْنُ الْإِمَامِ الْمُقْرِئُ،

Hadith 2906

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2907

2907 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِئُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَيْلِيُّ، ثنا مِهْرَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ مِهْرَانَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ الطَّائِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «مَا هَمَزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ وَلَا الْخُلَفَاءُ، وَإِنَّمَا الْهَمْزُ بِدْعَةٌ، ابْتَدَعُوهَا مِنْ بَعْدِهِمْ» سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيَّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: «لَا أَكْتُبُ حَدِيثَ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيِّ، وَلَا حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ الْأَفْرِيقِيِّ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نہ تو رسول اللہ ﷺ نے ( قرآن کو ) ہمزہ کے ساتھ پڑھا اور نہ آپ کے بعد آپ کے خلفا ء حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا ہے ۔ ہمزہ پڑھنا تو بدعت ہے جو لوگوں نے خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد ایجاد کی ہے ۔ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں موسی بن عبیدہ الربذی رحمۃ اللہ علیہ اور عبدالرحمن بن زیادہ الافریقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت نقل نہیں کرتا

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← موسى بن عبيدة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ الطَّائِيُّ ← مِهْرَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ مِهْرَانَ الْمُقْرِئُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَيْلِيُّ ← أَبُو الْقَاسِمِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ الْمُقْرِئُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ الْمُقْرِئُ

Hadith 2907

chevron_left Previous
1234…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section