Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3207

3207 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} [النساء: 159] قَالَ: خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3207 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس ارشاد : وَإِن مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤۡمِنَنَّ بِهِۦ قَبۡلَ مَوۡتِهِۦۖ (النساء:159)" کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : یہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ظاہر ہونے کی بات ہے ۔ صلوت اللہ علیھم ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ {وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ} [النساء: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3207

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3208

3208 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْطَلِقَ إِلَى أَرْضِ النَّجَاشِيِّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا فَبَعَثُوا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ وَجَمَعُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَا فَقَدِمْنَا، وَقَدِمُوا عَلَى النَّجَاشِيِّ فَأَتَوْهُ بِهَدِيَّةٍ فَقَبِلَهَا، وَسَجَدُوا لَهُ، ثُمَّ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ قَوْمًا مِنَّا رَغِبُوا عَنْ دِينِنَا وَهُمْ فِي أَرْضِكَ. فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ: فِي أَرْضِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ: لَا يَتَكَلَّمْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِهِ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَارَةُ عَنْ يَسَارِهِ، وَالْقِسِّيسُونَ مِنَ الرُّهْبَانِ جُلُوسٌ سِمَاطَيْنِ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو وَعُمَارَةُ: إِنَّهُمْ لَا يَسْجُدُونَ لَكَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ زَبَرَنَا مَنْ عِنْدَهُ مِنَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ اسْجُدُوا لِلْمَلِكِ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ فَقَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ " اللَّهَ بَعَثَ فِينَا رَسُولَهُ، وَهُوَ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِ اسْمُهُ أَحْمَدُ فَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَنُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَنُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ: فَأَعْجَبَ النَّاسَ قَوْلُهُ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمْرٌو قَالَ لَهُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْمَلِكَ، إِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فَقَالَ النَّجَاشِيُّ لِجَعْفَرٍ: مَا يَقُولُ صَاحِبُكَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ؟ قَالَ: يَقُولُ فِيهِ قَوْلَ اللَّهِ: هُوَ رُوحُ اللَّهِ، وَكَلِمَتُهُ، أَخْرَجَهُ مِنَ الْبَتُولِ الْعَذْرَاءِ، لَمْ يَقْرَبْهَا بَشَرٌ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِيُّ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَفَعَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ، مَا يَزِيدُ هَؤُلَاءِ عَلَى مَا تَقُولُونَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ مَا يَزِنُ هَذِهِ، مَرْحَبًا بِكُمْ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ، لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ، امْكُثُوا فِي أَرْضِي مَا شِئْتُمْ، وَأَمَرَ لَهُمْ بِطَعَامٍ وَكِسْوَةٍ، وَقَالَ: رُدُّوا عَلَى هَذَيْنِ هَدِيَّتَهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَإِنَّمَا خَرَّجْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ اقْتِدَاءً بِشَيْخِنَا أَبِي يَحْيَى الْخَفَّافِ فَإِنَّهُ خَرَّجَهُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ} [النساء: 172] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3208 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم دیا ، یہ بات قریش تک پہنچ گئی ، انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو نجاشی کی طرف بھیجا اور نجاشی کے لئے بہت سارے تحائف جمع کئے ہم نجاشی کے پاس چلے گئے، بعد میں یہ لوگ وہاں پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس کو تحائف وغیرہ پیش کئے اور اسکو سجدہ بھی کیا ، عمرو بن العاص بولا : ہماری قوم کے کچھ لوگ ہمارے دین سے منحرف ہو گئے ہیں اور وہ اس وقت آپ کے علاقے میں موجود ہیں ۔ نجاشی نے کہا : میرے علاقےمیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ۔ نجاشی نے ہمیں بلویا ( نجاشی کے دربار میں حاضر ہونے سے پہلے ) حضرت جعفر رضی اللہ عنہ ہمیں سمجھا دیا کہ آج تمہاری طرف سے میں گفتگو کروں گا ، تم لوگ بلاکل خاموش رہنا ، ہم نجاشی کے دربار میں گئے ، اس وقت نجاشی بادشاہ اپنے تخت پر موجود تھا اور عمرو بن العاص اک کی دائیں جانب اور عمارہ اس کی بائیں جانب تھا اورپادری اور رہبان بیٹھے ہوئے تھے ، عمرو اور عمارہ نے نجاشی سے کہا : ان لوگوں نے آپ کو سجدہ نہیں کیا ۔ جب ہم اس کے قریب پہنچے تو ان راہبوں نے ہمیں ڈانٹ کر کہا : بادشاہ سلامت کو سجدہ کرو ۔ تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بولے : ہم اللہ تعالی کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے ۔ نجاشی نے وجہ پوچھی تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالی نے ہمارے اندر اپنا رسول بھیج دیا ہے اور وہی رسول ہے جن کے متعلق حضرت عیسی علیہ السلام نے خوشخبری دی تھی کہ " وہ رسول میرے بعد آئیں گے اور نا کا نام احمد ہو گا " اسی رسول نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مصرف اللہ تعالی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم زکوۃ ادا کریں اور نماز قائم کریں ، بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں۔ (حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ) کہتے ہین : تمام حاضرین کو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بہت اچھی لگی ، جب عمرو ( بن العاص ) نے یہ صورت حال دیکھی تو بولا : اللہ تعالی بادشاہ سلامت کے احوال کی اصلاح فرمائے ، یہ لوگ عیسی ابن مریم کے حوالے سے آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ نجاشی نےحضرت جعفر رضی اللہ عنہ سئ کہا : تمہارے ساتھی (محمد ﷺ ) کے ابن مریم کے بارے میں کیا نظریات ہیں ؟ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابن مریم کے بارے ان کا نظریہ وہی ہے جو اللہ تعالی نے فرمایا ہے : یعنی وہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سمجھتے ہیں ، جن کو اللہ تعالی نے کنواری مریم رضی اللہ عنہا کے پیٹ سے پیدا کیا کہ کوئی انسان ان کے قریب نہیں آیا ۔ (راوی ) کہتے ہیں نجاشی نے زمین سے ایک لکڑی اٹھائی اور اس کو بلند کیا اور بولا : اے پادریو! اور راہبو! ابن مریم کے متعلق اس نے تمہارے موقف کے عین مطابق بات کی ہے ( پھر مسلمان سے مخاطب ہو کر کہا ) تمہین خوش آمدید اور جس کی طرف سے آئے ہو اس کو خوش آمدید ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کے متعلق حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام نے خوشخبری سی تھی اور اگر میرے ذمہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں نہ ہوتیں تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور ان کے جوتے اٹھاتا ، تم میری سلطنت میں جب تک چاہو ( بے خوف وخطر) رہو ۔ ان کےلئے لباس و طعام ( رہائش وغیرہ سہولیات ) کا حکم دیا اور ( اپنے وزراء سے ) کہا ان دونوں کو ان کے تحائف واپس کر دو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔میں اپنے شیخ ابو یحیی الخفاف کی اقتداء میں یہ حدیث اسی مقام پر درج کی ہے کیونکہ انہوں نے یہ حدیث اللہ تعالی کے اس قول " لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ " کے ضمن میں درج کی ہے ۔

أمرنا رسول الله ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أحمد بن مهران بن خالد الأصبهاني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3208

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3209

3209 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَفَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: جَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رَجُلٌ فَقَالَ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَةً وَأُخْتًا لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ. فَقَالَ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلَيْسَ لِلْأُخْتِ شَيْءٌ مَا بَقِيَ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ قَضَى بِغَيْرِ ذَلِكَ جَعَلَ لِلِابْنَةِ النِّصْفَ، وَلِلْأُخْتِ النِّصْفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ؟ قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ أَدْرِ مَا وَجْهُ ذَلِكَ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ طَاوُسٍ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ} [النساء: 176] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُمْ أَنْتُمْ لَهَا النِّصْفُ وَإِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3209 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی حضرت ( عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : ایک آدمی فوت ہو گیا ہے ، اس نے ایک بیٹی اور ایک حقیقی بہن وارث چھوڑی ہیں ( ان میں وراثت کس طرح تقسیم کی جائے ) آپ نے فرمایا : بیٹی کے لئے نصف مال ہے اور بہن کو کچھ نہیں ملے گا بلکہ جو کچھ باقی بچے وہ اس کے عصبات کو دیا جائے گا ۔ اس آدمی نے آپ سے کہا : حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے بیٹی کے لئے آدھا مال بہن کے لئے آدھا مال قرار دیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم زیادہ جانتے ہو یا للہ تعالی ؟( اس حدیث کے راوی ) معمر کہتے ہیں : مجھے اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکی ، حتی کہ میری ملاقات ابن طاؤس سے ہوئی تو میں نے ان سے زہری کی حدیث کا کر کیا تو انہؤں نے نتایا کہ مجھے میرے والد نے یہ بیام کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی تو فرماتا ہے : إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ (النساء:176)" اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس بہن کا آدھا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور تم اس کو اولاد کی موجودگی میں بھی نصف دینے پر مصر ہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← إسحاق بن إبراهيم وفياض بن زهير ← الحسن بن شقيق ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْوَلِيدِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3209

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3210

3210 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ: حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا جُبَيْرُ تَقْرَأُ الْمَائِدَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: «أَمَا إِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ، فَاسْتَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3210 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جبیر بن نضیر فرماتے ہیں : میں حج کیا اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھی حاضر ہوا ، انہوں نے مجھ سے کہا : اے جبیر ! تم سورہ المائدہ پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ انہوں نے کہا : سب سے آخر میں نازل ہونے والی یہی سورت ہے ۔ جو چیز اس میں حلال پاؤ ، اس کو حلال سمجھو اور جو چیز اس میں حرام پاؤ ، اس کو حرام سمجھو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

لِي: يَا جُبَيْرُ تَقْرَأُ الْمَائِدَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، ← حَجَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3210

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3211

3211 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، حَدَّثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ «آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتِ سُورَةٍ الْمَائِدَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3211 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ، سورہۃ المائدہ ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، حَدَّثَ ← قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ حُيَىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِىُّ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3211

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3212

3212 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ فَقَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُحِلَّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ " {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ، وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: 4] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3212 - صحيح

حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتوں کو مارنے کا حکم دیا تو کچھ لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ جانوروں کی جس نوع کے قتل کا آپ نے ہمیں حکم دیا ہے ، ان میں سے ہمارے لئے حلال کیا ہے ؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :يَسۡ‍َٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمۡۖ قُلۡ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ وَمَا عَلَّمۡتُم مِّنَ ٱلۡجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ" اے محبوب تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہوا تم فرما دو کہ حلال کی گئیں تمہارے لئے پاک چیزیں اور شکاری جانور تم نے سدھا لئے" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أمرنا رسول الله بقتل الكلاب فقال الناس ← أَبِي رَافِعٍ ← سلمى ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3212

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3213

3213 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّمَا «أُحِلَّتْ ذَبَائِحُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3213 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، یہود اور نصاری کے ذبیحے تم پر اس کئے حلال ہیں کہ وہ لوگ تو راۃ اور انجیل پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3213

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3214

3214 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ} [المائدة: 20] قَالَ: جَعَلَ مِنْكُمْ أَنْبِيَاءَ {وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا} [المائدة: 20] قَالَ: الْمَرْأَةُ وَالْخَادِمُ {وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ} [المائدة: 20] قَالَ: الَّذِينَ هُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ يَوْمَئِذٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3214 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : جَعَلَ فِيكُمۡ أَنۢبِيَآءَ(المائدہ:20) " تم میں سے پیغمبر کئے" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں " جعل منکم انبیاء " ( یعنی یہاں پر " فی " بمعنی " من " ہے )اور وَجَعَلَكُم مُّلُوكٗا (المائدہ:20)" اور تمہیں بادشاہ کیا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : ( اس سے مراد ) عورت اور خادم ہے اور وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمۡ يُؤۡتِ أَحَدٗا مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ(المائدہ:20) " اور تمہیں وہ دیا جو آج سارے جہاں میں کسی کو نہ دیا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )سے مراد وہ لوگ ہیں جو آج تمہارے اندر موجود ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

الْمَرْأَةُ وَالْخَادِمُ {وَآتَاكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ} [المائدة: ← جَعَلَ مِنْكُمْ أَنْبِيَاءَ {وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا} [المائدة: ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاءَ} [المائدة: ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3214

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3215

3215 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ أَقْدَامِنَا} قَالَ: إِبْلِيسُ وَابْنُ آدَمَ الَّذِي قَتَلَ أَخَاهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3215 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : رَبَّنَآ أَرِنَا ٱلَّذَيۡنِ أَضَلَّانَا مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ نَجۡعَلۡهُمَا تَحۡتَ أَقۡدَامِنَا(فصلت:29)" اے ہمارے رب ہمیں دکھا وہ دونوں جن اور آدمی جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا کہ ہم انہیں پاؤں تلے ڈالیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : وہ ابلیس اور آدم علیہ السلام کا وہ بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا ( یعنی قابیل ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ← أَبِيهِ ← مَالِكَ بْنِ حُصَيْنٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← علي بن محمد القرشي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3215

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3216

3216 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ قَارِئًا يَقْرَأُ " {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ، وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ} [المائدة: 35] قَالَ: الْقُرْبَةَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3216 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : انہوں نے ایک قاری کو یہ پڑھتے سنا : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَيۡهِ ٱلۡوَسِيلَةَ(المائدہ:35)" اے ایمان والو اللہ سے ڈرواس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور فرمایا : ( اس سے مراد) "قربت" ہے ۔ پھر فرمایا : محمد ؤ کے اصحاب میں سے جو محفوظ ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ" ابن ام معبد " وسیلہ کے اعتبار سے اللہ تعالی کے سب سے زیادہ قریب تھے ۔

الْقُرْبَةَ، ثُمَّ ← قَارِئًا يَقْرَأُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ، وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ} [المائدة: ← حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3216

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3217

3217 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " آيَتَانِ مَنْسُوخَتَانِ مِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أعْرِضْ عَنْهُمْ} [المائدة: 42] فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ} [المائدة: 49] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3217 - صحيح

حضرت (عبداللہ)بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورۃ مائدہ کی دوآیتیں منسوخ ہیں ۔(1) فَٱحۡكُم بَيۡنَهُمۡ أَوۡ أَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡۖ (المائدہ:42)" تو ان میں فیصلہ فرماؤ یا ان سے منہ پھیر لو" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اوروَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ (المائدہ:49)"اور یہ کہ اے مسلمان اللہ کے اتارے پر حکم کر اور ان کی خواہشوں پر نہ چل " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3217

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3218

3218 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرُوا {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «نِعْمَ الْإِخْوَةُ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِنْ كَانَ لَكُمُ الْحُلْوُ وَلَهُمُ الْمُرُّ، كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَحْذُوا السُّنَّةَ بِالسُّنَّةِ حَذْوَ الْقُذَّةَ بِالْقُذَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3218 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ہما م فرماتے ہیں : ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے تو لوگوں سے اس آیت کا ذکر کیا : وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ(المائدہ:44)" اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )تو ایک شخص نے کہا : یہ حکم تو بنی اسرائیل کے متعلق ہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ۔ بھائی تو بنی اسرائیل ہی ہیں ۔ اگر تمہارے لئے میٹھا اور ان کے لئے کڑوا ہو ، ہر گز نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے(تم ان کے برابر ہو گے ) حتی کہ بالکل انہیں کے طریقوں پر عمل کرو گے اور قدم بقدم ، ہوبہوبالکل انہی جیسےہو جاؤ گے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ← كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرُوا ← هَمَّامٌ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3218

chevron_left Previous
1…282930…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section