المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3195
3195 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَا نُقَاتِلُ فَنُسْتَشْهَدُ وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [النساء: 32] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ إِنْ كَانَ سَمِعَ مُجَاهِدٌ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3195 - على شرط البخاري ومسلم
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیا بات ہوئی کہ مرد جہاد کتیں جبکہ ہم نہ جہاد کرتی ہیں نہ غزوہ میں شریک ہوتی ہیں کہ ہمیں مقام شہادت ملے ۔ ادھر وراثت میں کے سلسلے میں بھی ہمیں مردوں کے مقابلے میں نصف کا استحقاق دیا گیا ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ "اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ اگر مجاہد کا ام سلمہ سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے ۔
أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الوهاب أنبأ قبيصة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3195
