Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3195

3195 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَنْبَأَ قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَا نُقَاتِلُ فَنُسْتَشْهَدُ وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ} [النساء: 32] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ إِنْ كَانَ سَمِعَ مُجَاهِدٌ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3195 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کیا بات ہوئی کہ مرد جہاد کتیں جبکہ ہم نہ جہاد کرتی ہیں نہ غزوہ میں شریک ہوتی ہیں کہ ہمیں مقام شہادت ملے ۔ ادھر وراثت میں کے سلسلے میں بھی ہمیں مردوں کے مقابلے میں نصف کا استحقاق دیا گیا ہے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :وَلَا تَتَمَنَّوۡاْ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعۡضَكُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۚ "اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ اگر مجاہد کا ام سلمہ سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الوهاب أنبأ قبيصة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3195

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3196

3196 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي إِدْرِيسُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: 33] قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يُوَرِّثُونَ الْأَنْصَارَ، دُونَ ذَوِي الْقُرْبَى، رَحْمَةً لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ} [النساء: 33] قَالَ: فَنَسَخَتْهَا ثُمَّ قَالَ {وَالَّذِينَ عَقَدْتُ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: 33] مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3196 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : وَٱلَّذِينَ عَقَدَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَ‍َٔاتُوهُمۡ نَصِيبَهُمۡۚ ( النساء :33)" اور جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ المنورہ آئے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو جن انصاریوں کا بھائی بنایا تھا وہ انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اپنے ان بھائیوں پر رحمت اور شفقت کے جذبات میں اپنے سگے رشتہ داروں کو چھوڑ کر ان کو وراثت دیا کرتے تھے ۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی :وَلِكُلّٖ جَعَلۡنَا مَوَٰلِيَ مِمَّا تَرَكَ ٱلۡوَٰلِدَانِ وَٱلۡأَقۡرَبُونَۚ " اور ہم نے سب کے لئے مال کی مستحق بنا دئیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو اس آیت نے " وَٱلَّذِينَ عَقَدَتۡ " والے حکم کو منسوخ کر دیا پھر فرمایا " وَٱلَّذِينَ عَقَدَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡ فَ‍َٔاتُوهُمۡ نَصِيبَهُمۡۚ " یعنی جن سے تمہارا عقد ( مواخاۃ) بند چکا ہے ، ان کو امداد اور نصیحت وغیرہ دے دیا کرو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← إدريس بن يزيد ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3196

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3197

3197 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ثنا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى اللَّهُ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَقَالَ لَهُ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ " {وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا} [النساء: 42] قَالَ: مَا عَمِلْتُ مِنْ شَيْءٍ يَا رَبِّ إِلَّا أَنَّكَ آتَيْتَنِي مَالًا، فَكُنْتُ أُبَايعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي أَنْ أُيَسِّرَ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأُنْظِرَ الْمُعْسِرَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْكَ تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ: هَكَذَا سَمِعْنَا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3197 - على شرط مسلم

حضڑت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی کی بارگا میں ایک ایسا آدمی لایا جائے گا جس کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے نوازا ہو گا ۔ اللہ تعالی اس سے فرمائے گا : تو نے دنیا میں کیا کیا نیک عمل کئے ہیں ؟( اللہ تعالی ) فرماتا ہے : وَلَا يَكۡتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثٗا( النساء :42) " اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) وہ کہے گا : یا اللہ میں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ۔ سوائے اس کے کہ تو نے مجھے دولت دی تھی ، میں خریدو فروخت کیا کرتا تھا اور میری عادت تھی کہ خوشحال سے بھی خوش اسلوبی کے ساتھ وصولی کیا کرتا تھا جبکہ تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا ۔ اللہ تعالی فرمائے گا : اس چیز کا تجھ سے زیادہ میرا حق بنتا ہے ( پھر اللہ تعالی فرشتوں سے فرمائے گا ) میرے بندے کو معاف کر دو ۔ حضرت عقبہ عامر الجھنی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم نے جناب رسول اللہ ﷺ کی زبان حق ترجمان سے بھی بالکل ایسے ہی سنا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3197

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3198

3198 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: 23] وَقَالَ فِي آيَةٍ أُخْرَى {وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا} [النساء: 42] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَمَّا قَوْلُهُ {وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ} [الأنعام: 23] فَإِنَّهُمْ لَمَّا رَأَوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا أَهْلُ الْإِسْلَامِ، قَالُوا: تَعَالَوْا فَلْنَجْحَدْ، فَخَتَمَ اللَّهُ عَلَى أَفْوَاهِهِمْ، فَتَكَلَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ {وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا} [النساء: 42] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3198 - صحيح

حضڑت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : ایک آدمی نے آپ سے اس آیت کے متعلق پوچھا وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ(الانعام:23):" ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور دوسری آیت میں ہے : وَلَا يَكۡتُمُونَ ٱللَّهَ حَدِيثٗا( النساء:42)" اور کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ابن عباس نے کہا : " وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ "کا مطلب یہ ہے کہ جب مشرکین قیامت کے دن دیکھ لیں گے کہ جنت میں تو صرف مسلمان ہی جا رہے ہیں تو وہ ( ایک دوسرے سے) کہیں گے : آؤ ہم اپنے شرک کا انکار کر دیں ۔ تو اللہ تعالی ان کے منہ سیل کر دے گا ۔ پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دےدیں گے "تو وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں پائیں گے " یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

فِي آيَةٍ أُخْرَى ← هَذِهِ الْآيَةِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلا سَأَلَہُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مُطَرِّفٍ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ← أبو بكر بن أبي نصر المروزي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3198

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3199

3199 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَعَانَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ، فَحَضَرَتْ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ " فَقَرَأَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ} [النساء: 43] الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ فَائِدَةٌ كَثِيرَةٌ وَهِيَ أَنَّ الْخَوَارِجَ تَنْسِبُ هَذَا السُّكْرَ، وَهَذِهِ الْقِرَاءَةَ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ دُونَ غَيْرِهِ وَقَدْ بَرَّأَهُ اللَّهُ مِنْهَا فَإِنَّهُ رَاوِي هَذَا الْحَدِيثِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3199 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شراب کی حرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل ایک انصاری صحابی نے ہماری دعوت کی ، جب نماز مغرب کا وقت ہوا تو ایک آدمی نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی ۔ اس نے " قل یا ایھا الکافرون " سورۃ پڑھی ، تو وہ اس سورت کے الفاظ خلط ملظ کر گیا ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا" نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسےسمجھو" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور حدیث میں بہت فوائد ہیں وہ یہ کہ خوارج اس شراب نوشی اور اس قرات کو حضرت علی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دیگر صحابہ کی طرف یہ نسبت نہیں کرتے جبکہ خود اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس سے بری فرمایا کیونکہ اس حدیث کے راوی خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ وَقَبِيصَةُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3199

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3200

3200 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَصْحَابًا لَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً. قَالَ: «إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا فَكُفُّوا» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ، وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَآتُوا الزَّكَاةَ، فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ، إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ} [النساء: 77] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3200 - على شرط البخاري

حضرت ( عبداللہ )بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکۃ المکرمہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم جب تک مشرک تھے تو بہت عزت دار تھے لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں ، تب سے ذلیل ہو کر رہ گئے ہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا : مجھے عفو درگزر کا حکم دیا گیا ہے ، اس لئے جنگ مت کرو ۔ چنانچہ وہ لوگ رک گئے ، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ قِيلَ لَهُمۡ كُفُّوٓاْ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ إِذَا فَرِيقٞ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ ٱلنَّاسَ(النساء:77) "کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا : اپنے ہاتھ روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں سے بعضے لوگوں سے ایسے ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَصْحَابًا لَهُ، أَتَوُا النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← إبراهيم بن هلال ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3200

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3201

3201 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسْلِمُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيَكُونُ فِيهِمْ مُشْرِكُونَ، فَيُصِيبُهُ الْمُسْلِمُونَ خَطَأً فِي سَرِيَّةٍ أَوْ غَزَاةٍ، فَيُعْتِقُ الرَّجُلُ رَقَبَةً {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ، فِدْيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ، وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: 92] قَالَ: يَكُونُ الرَّجُلُ مُعَاهَدًا، وَقَوْمُهُ أَهْلُ عَهْدٍ، فَيُسْلِمْ إِلَيْهِمْ دِيَتَهُ، وَيَعْتِقُ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3201 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : فَإِن كَانَ مِن قَوۡمٍ عَدُوّٖ لَّكُمۡ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ ( النساء:92)" پھر اگر وہ اس قوم سے جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : کوئی آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر اسلام قبول کر کے واپس اپنی قوم میں جاکر رہنے لگ جاتا اور مسلمان کسی سریہ یا غزہ میں ان مشرکوں پر حملہ کر تے تو غلطی سے اس کا بھی قتل ہو جاتا تو وہ قتل کرنے والا ایک غلام آزاد کرتا اور اس آیت : وَإِن كَانَ مِن قَوۡمِۢ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَهُم مِّيثَٰقٞ فَدِيَةٞ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِۦ وَتَحۡرِيرُ رَقَبَةٖ مُّؤۡمِنَةٖۖ (النساء:92)" اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خون بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : وہ آدمی معاہدہوا اور اس کی قوم بھی عہد والی ہو تو ان کی طرف وہ دیت ادا کرے اور جس کے ہاتھ سے وہ قتل ہوا ہے ، وہ غلام آزاد کرے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← أَبِي يَحْيَى، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3201

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3202

3202 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى} [النساء: 102] قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ كَانَ جَرِيحًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3202 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد :إِن كَانَ بِكُمۡ أَذٗى مِّن مَّطَرٍ أَوۡ كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ(النساء:102) " اگر تمہیں مینہ ( بارش ) کے سبب تکلیف ہو یا بیمار ہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : یہ آیت حضرت عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی جو کہ زخمی تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ: (إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى) [النساء: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَی بْنِ مُسْلِمٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن الفرج ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3202

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3203

3203 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، قَالَ: رَحَلْتُ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي هَذِهِ الْآيَةِ " {لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: 123] قَالَتْ: هُوَ مَا يُصِيبُكُمْ فِي الدُّنْيَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3203 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو المہلب کہتے ہیں : میں اس آیت کی وضاحت دریافت کرنے کے لئے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا :لَّيۡسَ بِأَمَانِيِّكُمۡ وَلَآ أَمَانِيِّ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِۗ مَن يَعۡمَلۡ سُوٓءٗا يُجۡزَ بِهِ( النساء:123)" کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس سے مراد وہ تکالیف ہیں جو دنیا میں تمہیں پہنچتی ہیں ۔

هُوَ مَا يُصِيبُكُمْ فِي الدُّنْيَا على شرط البخاري ومسلم ← رَحَلْتُ إِلَى عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3203

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3204

3204 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ} [النساء: 127] فِي أَوَّلِ السُّورَةِ مِنَ الْمَوَارِيثِ، كَانُوا لَا يُوَرِّثُونَ صَبِيًّا حَتَّى يَحْتَلِمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3204 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عبسا رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد :وَمَا يُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ فِي يَتَٰمَى ٱلنِّسَآءِ" اور وہ جو تم پر قرآن میں پڑھا جاتا ہے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرمایا : سورہ کے آغاز میں یہ وراثت کا حکم ہے کیونکہ لوگ نابالغ بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3204

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3205

3205 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ خَلَا مِنْ سِنِّهَا، فَتَزَوَّجَ عَلَيْهَا شَابَّةً، فَآثَرَ الْبِكْرَ عَلَيْهَا، فَأَبَتِ امْرَأَتُهُ الْأُولَى أَنْ تَقَر‍َّ عَلَى ذَلِكَ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً حَتَّى إِذَا بَقِيَ مِنْ أَجَلِهَا يَسِيرٌ، قَالَ: إِنْ شِئْتِ رَاجَعْتُكِ، وَصَبَرْتِ عَلَى الْأَثَرَةِ، وَإِنْ شِئْتِ تَرَكْتُكِ حَتَّى يَخْلُوَ أَجَلُكِ. قَالَتْ: بَلْ رَاجِعْنِي أَصْبِرْ عَلَى الْأَثَرَةِ، فَرَاجَعَهَا ثُمَّ آثَرَ عَلَيْهَا، فَلَمْ تَصْبِرْ عَلَى الْأَثَرَةِ، فَطَلَّقَهَا الْأُخْرَى، وَآثَرَ عَلَيْهَا الشَّابَّةَ، قَالَ: فَذَلِكَ الصُّلْحُ الَّذِي بَلَغَنَا أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فِيهِ " {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا} [النساء: 128] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3205 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :حضرت رافع بن خدیج کے نکاح میں ایک خاتون تھی ۔ جب وہ بوڑھی ہو گیہ تو انہوں نے ایک نوجوان لڑکی سے شادی کر لی اور اس کنواری لڑکی کو اس بوڑھی پر بہت ترجیح دینے لگے جبکہ اس کی پہلی بیوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری ، اس نے کہا : اگر تو نے اسی عادت پر قائم رہنا ہے تو مجھے طلاق دے دو ۔ انہوں نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت گزرنے کے چند دن باقی رہ گئے تو اس نے اپنی بیوی سے کہا : اگر تو چاہے تو میں رجوع کر لوں اور تو میرے اس روئیے کو برداشت کر لے اور اگر تو چاہے تو میں تجھے چھوڑ دیتا ہوں یہاں تک کہ تیری عدت گزر جائے ۔ اس نے کہا : تو رجوع کر لے ، میں تیرے اس طرف داری کے راوئیے کو برداشت کر لوں گی ۔ انہوں نے رجوع کر لیا لیکن وہ پھر اس بیوی کو ترجیح دینا برداشت نہ کر پائی ، انہوں نے دوبارہ اس کو طلاق دے دی اور نوجوان بیوی کو اس پر ترجیح دی ۔ آپ فرماتے ہیں : یہ ہے وہ " صلح " جس کے متعلق اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے :وَإِنِ ٱمۡرَأَةٌ خَافَتۡ مِنۢ بَعۡلِهَا نُشُوزًا أَوۡ إِعۡرَاضٗا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يُصۡلِحَا بَيۡنَهُمَا صُلۡحٗاۚ (النساء:128)" اور اگر عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے تو ان پر گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کریں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3205

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3206

3206 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سُبَيْعٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: {فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا} [النساء: 141] وَهُمْ يُقَاتِلُونَهُمْ فَيَظْهَرُونَ وَيَقْتُلُونَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ: " ادْنُهْ ادْنُهْ، ثُمَّ قَالَ: {فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا} [النساء: 141] " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3206 - صحيح

حضرت سبیع الکندی کہتے ہیں : میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک آدمی نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! آپ کا اللہ تعالی کے ارشاد : فَٱللَّهُ يَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَلَن يَجۡعَلَ ٱللَّهُ لِلۡكَٰفِرِينَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ سَبِيلًا (النساء:141)" تو اللہ تم سب میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور اللہ کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )حالانکہ وہ ان سے جہاد کرتے ہیں ، ان پر غالب آتے ہیں ، ان کو قتل کرتے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا : میرے قریب آؤ ، میرے قریب آؤ ۔ بے شک اللہ تعالی ان سب میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور کافروں کو مسلمانوں پر کوئی راہ نہ دے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

على أدنه أدنه ثم ← رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: وَهُمْ يُقَاتِلُونَهُمْ فَيَظْهَرُونَ وَيَقْتُلُونَ؟ ← كُنْتُ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← سُبَيْعٍ الْكِنْدِيِّ، ← ذَرٍّ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3206

chevron_left Previous
1…272829…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section