Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3183

3183 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} قَالَ: يُرْضَخُ لَهُمْ فَإِنْ كَانَ فِي الْمَالِ تَقْصِيرٌ اعْتُذِرَ إِلَيْهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3183 - صحيح

حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس ارشاد :وَإِذَا حَضَرَ ٱلۡقِسۡمَةَ أُوْلُواْ ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينُ فَٱرۡزُقُوهُم مِّنۡهُ وَقُولُواْ لَهُمۡ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا"پھر بانٹتے وقت اگر رشتہ دار اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو اس میں سے انہیں بھی کچھ دو اور ان سے چھی بات کہو" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں ۔ ان ( یتیموں ، مسکینوں وغیرہ ) کو مال میں سے تھوڑا سا دے دو اور اگر مال میں گنجائش نہ ہو تو ان سے معذرت کر لی جائے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3183

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3184

3184 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ " {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] ، {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا، وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا} [النساء: 10] ، قَالَ: انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ، فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، فَجَعَلَ يَفْضُلُ الشَّيْءُ مِنْ طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ، فَيُحْبَسُ حَتَّى يَأْكُلَهُ أَوْ يَفْسَدَ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ " {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى، قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ، وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ} [البقرة: 220] فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ، وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب آیت نازل ہوئی : وَلَا تَقۡرَبُواْ مَالَ ٱلۡيَتِيمِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ ( الانعام :152)" اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور :إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ أَمۡوَٰلَ ٱلۡيَتَٰمَىٰ ظُلۡمًا إِنَّمَا يَأۡكُلُونَ فِي بُطُونِهِمۡ نَارٗاۖ وَسَيَصۡلَوۡنَ سَعِيرٗا"وہ جو یتیموں کا ناحق مال کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیہٹ میں نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دام جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے میں جائیں گے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو جس جس کی پرورش میں کوئی یتیم تھا ، وہ اپنے گھر گیا اور اپنے کھانے سے یتیم کا کھانا الگ کر دیا ، اپنے مشروبات سے ان کے مشروبات الگ کر دئیے ، پھر یوں ہونے لگا کہ ان کا کھانا پینا بچ جاتا ، وہ اس کو رکھے رکھتے حتی کہ وہ خود ہپی اس کو کھاتا یا خراب ہو جاتا ۔ یہ ات ان کو ناگوار گزری ، انہوں نے اس بات کا تذکرہ جناب رسول اللہ ﷺ کی بار گاہ میں کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : "اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا نا کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )چنانچہ انہوں نے دوبارہ ان کا کھانا ، پینا اپنے کھانے پینے میں شامل کر لیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3184

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3185

3185 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا حَامِدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ حَرْبٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْسِمُ مَالِي بَيْنَ وَلَدِي؟ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا فَنَزَلَتْ {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ} [النساء: 11] «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ فِي هَذَا الْبَابِ بِأَلْفَاظٍ غَيْرِ هَذِهِ» وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3185 - قد أخرجا أصله

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی سلمہ میں بیمار ہو گیا اور جناب رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لئے تشریف لایا کرتے تھے ، میں ( ایک دن ) عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنی اولاد میں اپنا مال کیسے تقسیم کروں ؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ یہ آیت نازل ہو گئی :يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ (النساء :11)"اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس موضوع پر شعیب کی محمد بن المنکدر سے روایت نقل کی ہیں تاہم ان کے الفاظ ذرا مختلف ہیں اور یہ سند صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ حَرْبٍ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3185

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3186

3186 - هَكَذَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ طَلْحَةَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ «ثَلَاثٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ مَنِ الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، وَعَنْ قَوْمٍ قَالُوا أَنُقِرُّ بِالزَّكَاةِ فِي أَمْوَالِنَا وَلَا نُؤَدِّيهَا إِلَيْكَ، أَيَحِلُّ قِتَالُهُمْ؟ وَعَنِ الْكَلَالَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3186 - بل ما خرجا لمحمد شيئا ولا أدرك عمر

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( درج ذیل ) تین اشیاء کے متعلق رسول اکرم ﷺ سے سوال کرنا میرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔(1) آپ ﷺ کے بعد خلیفہ کون ہو گا ۔ (2 )جو لوگ کہتے ہیں : ہم زکوۃ اپنے مالوں میں ہی باقی رکھیں گے تمہیں ادا نہیں کریں گے ۔ کیا ان کے ساتھ جہاد کرنا جائز ہے ۔ (3) کلالہ ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَنُقِرُّ بِالزَّكَاةِ فِي أَمْوَالِنَا وَلَا نُؤَدِّيهَا إِلَيْكَ، أَيَحِلُّ قِتَالُهُمْ؟ ← قَوْمٍ، ← «ثَلَاثٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ مَنِ الْخَلِيفَةُ بَعْدَهُ، ← لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ← هَکَذَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3186

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3187

3187 - وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلَ، يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْقَوْلُ مَا قُلْتُ. قُلْتُ: وَمَا قُلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: «الْكَلَالَةُ مَنْ لَا وَلَدَ لَهُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3187 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آخری عمر تک سنگت کا شرف سب سے زیادہ مجھے حاصل رہا ہے ، میں ان کو یہ فرماتے سنا : میں نے ( کلالہ کے بارے میں ) جو کہنا تھا کہہ دیا ہے اب اس سلسلے میں تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : میرا مؤقف یہ ہے کہ کلالہ اس کو کہتے ہیں کس کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

الْقَوْلُ مَا قُلْتُ. قُلْتُ: وَمَا قُلْتَ؟ ← كُنْتُ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِعُمَرَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3187

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3188

3188 - وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَهُمْ لَنَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا: الْخِلَافَةُ، وَالْكَلَالَةُ وَالرِّبَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3188 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( درج ذیل ) اشیاء کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنا یرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ (1) آپ ﷺ کے بعد خلیفہ کون ہو گا ۔ (2) کلالہ ۔(3) ربا

عُمَرَ، ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3188

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3189

3189 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ} [النساء: 23] هَذَا مِنَ النَّسَبِ {وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ مِنْ رِوَايَةِ عِكْرِمَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3189 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام کئے گئے ہیں اور نکاح کی وجہ سے بھی سات رشتے حرام کئے گئے ہیں ۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ " حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ رشتہ داریاں تو نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور ( درج ذیل آیت میں بھی محرمات کی مزید بیان ہے ) وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُم مِّنَ ٱلرَّضَٰعَةِ وَأُمَّهَٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَٰٓئِبُكُمُ ٱلَّٰتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ ٱلَّٰتِي دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمۡ تَكُونُواْ دَخَلۡتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَٰٓئِلُ أَبۡنَآئِكُمُ ٱلَّذِينَ مِنۡ أَصۡلَٰبِكُمۡ وَأَن تَجۡمَعُواْ بَيۡنَ ٱلۡأُخۡتَيۡنِ إِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَۗ ( النساء : 23) " اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں اب بیبیوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو تو پھر اگر ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بہٹیوں سے کوئی حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیاں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور :وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَآؤُكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ ( النساء : 22)"باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیچ کی شاہد ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُمَيْرٍ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3189

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3190

3190 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «حَرُمَ سَبْعٌ مِنَ النَّسَبِ وَسَبْعٌ مِنَ الصِّهْرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3190 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ( عبداللہ ) بن عباسرضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے " نسب میں سے 7 اور سسرالی رشتہ داروں میں 7 کے ساتھ نکاح حرام کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3190

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3191

3191 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: هَذِهِ الْآيَةُ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: 24] قَالَ: «كُلُّ ذَاتِ زَوْجٍ إِتْيَانُهَا زِنًا إِلَّا مَا سُبِيَتْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3191 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد :۞وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۖ (النساء:24)" اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آ جائیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : کسی بھی شادی شدہ شوہر والی کے ساتھ نکاح کرنا ، زنا ہے سوائے لونڈیوں کے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

هَذِهِ الْآيَةُ {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3191

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3192

3192 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ثنا أَبُو مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ، يَقُولُ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً} [النساء: 24] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى» قَالَ أَبُو نَضْرَةَ: فَقُلْتُ: مَا نَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَاللَّهِ لَأَنْزَلَهَا اللَّهُ كَذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3192 - على شرط مسلم

حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں : میں نے یہ آیت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کیں :۞ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ فَ‍َٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةٗۚ ( النساء : 24)"تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہران کو دو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡهُنَّ ( کےساتھ یہ الفاظ بھی پڑھو ) "الی اجل مسمی" تو حضرت ابو نضرہ بولے : ہم تو یہ آیت اس طرح نہیں پڑھتے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! یہ آیت اللہ تعالی نے ایسے ہی نازل فرمائی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبُو نَضْرَةَ: فَقُلْتُ: مَا نَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ. ← ابْنُ عَبَّاسٍ: «فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى» ← عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً} [النساء: ← أَبَا نَضْرَةَ ← أَبُو مَسْلَمَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3192

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3193

3193 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، نا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ نا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: سُئِلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ قَالَ: وَقَرَأَتْ هَذِهِ الْآيَةَ {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ، فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ} [المؤمنون: 5] مَا زَوَّجَهُ اللَّهُ أَوْ مَلَّكَهُ فَقَدْ عَدَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3193 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا : ہمارے پاس قرآن موجود ہے ( پڑھ کر دیکھئے آپ کو متعہ کا حکم معلوم ہو جائے گا ) پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : " اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، مگر اپنی بیبیوں اور شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )یعنی جن کے ساتھ نکاح ہوا ہے اور جو اس کی ملکیت میں ہیں ، ان کے علاوہ اگر کسی نے راستہ ڈھونڈا اس نے حد سے تجاوز کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ← متعة النساء ← سئلت عائشة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3193

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3194

3194 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ مَعْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِنَّ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ لِخَمْسَ آيَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا {إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا} [النساء: 40] {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا} [النساء: 31] {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] {وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا} {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: 110] " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ إِنْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَمِعَ مِنَ أَبِيهِ فَقَدِ اخْتُلِفَ فِي ذَلِكَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3194 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورۃ النساء میں پانچ آیتیں ایسی ہیں اگر ان کے بدلے مجھے دنیا بھر کا خزانہ ملے تب بھی راضہ نہیں ہو سکتا ( وہ پانچ آیات یہ ہیں ) (1)إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٖۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةٗ يُضَٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمٗا( النساء : 40) " اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا ہے ار اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )(2) إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّ‍َٔاتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُم مُّدۡخَلٗا كَرِيمٗا(النساء:31)" اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اورگناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) (3) إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ ( النساء : 48)"بے شک اللہ اسے نہیں بخشا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) (4) وَلَوۡ أَنَّهُمۡ إِذ ظَّلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ جَآءُوكَ فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِيمٗا" اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )(5) وَمَن يَعۡمَلۡ سُوٓءًا أَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهُۥ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ ٱللَّهَ يَجِدِ ٱللَّهَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا" اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ با ت بھی خوش نہیں کر سکتی کہ ان آیات کے بدلے میرے لئے دنیا و مافیھا ہو۔ اگر عبدالرحمن نے واقعی اپنے والد سے حدیث کا سماع کیا ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے عبدالرحمن کے اپنے والد سے سماع میں محدثین کرام کا اختلاف ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← مَعْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← أبو عبد الله محمد بن بشر العبدي ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3194

chevron_left Previous
1…262728…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section