Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3171

3171 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى ابنِ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا إِنْ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَحُمِدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ، عُذِّبَ لَنُعَذَّبَنَّ جَمِيعًا. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، أَتَاهُ الْيَهُودُ «فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ، ثُمَّ أَتَوْهُ، فَسَأَلَهُمْ فَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِ ذَلِكَ، فَخَرَجُوا، وَرَأَوْا أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ، وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مِمَّا سَأَلَهُمْ عَنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3171 - صحيح

حضرت حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مروان حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر اس قانون پر عمل کیا جائے کہ " ہر شخص کو سزا دی جائے گی جو اس چیز پر خوش ہو جو اسے دی گئی اور ایسے کاموں پر اپنی تعریف سے خوش ہو جو کام اس نے کیا ہی نہیں " تو یہاں پر کوئی شخص سزا سے بچ نہیں سکتا ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ آیت تو اہل کتان کے متعلق نازل ہوئی تھی کیونکہ حضور ﷺ کے پاس یہودی آئے تھے اور نبی اکرم ﷺ نے ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کو چھپا لیا تھا ۔ پھر اس کے بعد وہ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور آپ نے ان سے پھر وہی سوال کیا تو ا کی بار ان کا جواب کچھ اور تھا وہ وہاں سے چلے گئے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے آپ ﷺ کے سوال کا جواب دے ( کر آپ کو مطمئن کر دیا ) ہے ، اس پر ان کی خواہش تھی کہ ان کی تعریف و ستائش کی اجئے اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا ، انہوں نے وہ سب چھپا لیا ہے ۔ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَنَّ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى ابنِ عَبَّاسٍ: ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3171

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3172

3172 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّكَنِيُّ الْبُخَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ طَهْمَانَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ} [آل عمران: 191] فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْمُكْتِبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ بِهِ الْبَوَاسِيرُ «فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3172 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن المبارک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے حضرت ابراھیم بن طہمان رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی :ٱلَّذِينَ يَذۡكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمٗا وَقُعُودٗا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمۡ (آل عمران : 191)" جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پھر فرمایا : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو " بواسیر " تھی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو پہلو کے بل نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْمُكْتِبُ ← إِبْرَاهِيمَ بْنَ طَهْمَانَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ← أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ السَّكَنِيُّ الْبُخَارِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3172

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3173

3173 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ بَحْرٍ السَّقَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " {يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ، وَمَا هُمْ بَخَارِجِينَ مِنْهَا} [المائدة: 37] قَالَ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمُ الْكُفَّارُ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: فَقَوْلُهُ {إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ} [آل عمران: 192] قَالَ: اللَّهُ قَدْ أَخْزَاهُ حِينَ أَحْرَقَهُ بِالنَّارِ أَوْ دُونَ ذَلِكَ الْخِزْيِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3173 - بحر السقاء هالك

حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : مجھے اللہ تعالی کے ارشاد : يُرِيدُونَ أَن يَخۡرُجُواْ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنۡهَاۖ ( المائدہ :37)" دوزخ سے نکلنا چاہیں گے اور وہ اس سے نہ نکلیں گے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق کچھ بتائیے ۔ انہوں نے کہا : مجھے جناب رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے ( کہ اس سے مراد ) کفار ہیں ۔( حضرت عمرو رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں ، میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہا : إِنَّكَ مَن تُدۡخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدۡ أَخۡزَيۡتَهُ( آل عمران :192)" بیشک جسے تو دوزخ میں لے جائے اسے ضرور تو نے رسوائی دی " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( کا کیا مطلب ہے ؟) انہوں نے فرمایا : اللہ تعالی اس کو ذلیل کرے گا ، جب اس کو آگ میں جلایا جائے گا ، یا اس سے کم درجہ کی ذلت ہو گی ۔

قُلْتُ لِجَابِرٍ: فَقَوْلُهُ ← قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← قُلْتُ لَهُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← بَحْرٌ السَّقَّاءُ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِىُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3173

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3174

3174 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ عَلَى الصَّفَا، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أنها قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَسْمَعُ اللَّهَ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " {فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ} [آل عمران: 195] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» سَمِعْتُ أَبَا أَحْمَدَ الْحَافِظُ وَذَاكَرَنِي بِحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ الْبُخَارِيِّ: يَعْقُوبَ عَنْ سُفْيَانَ، وَيَعْقُوبَ عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ فَقَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هُوَ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ فَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3174 - على شرط البخاري

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ہجرت کے سلسلہمیں قرآن کریم میں کہیں بھی عورتوں کا ذکر نہیں ہے تو اللہ تبارک وتعالی نے یہ آیت نازل فرما دی : فَٱسۡتَجَابَ لَهُمۡ رَبُّهُمۡ أَنِّي لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَٰمِلٖ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰۖ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٖۖ "تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام کرنے والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔ابو احمد الحافظ نے یہ بات ذکر کی ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کی کتاب میں دو مقامات پر یعقوب علیہ السلام کی سفیان رضی اللہ عنہ سے اور یعقوب علیہ السلام کی دراوردی سے روایت کا ذکر موجود ہے ، ابو احمد رحمۃاللہ علیہ نے کہا : یہ یعقوب بن حمید ہیں ۔( واللہ اعلم )

أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ عَلَى الصَّفَا،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3174

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3175

3175 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَزَلَ بِالنَّجَاشِيِّ عَدُوٌّ مِنْ أَرْضِهِمْ فَجَاءَهُ الْمُهَاجِرُونَ فَقَالُوا: إِنَّا نُحِبُّ أَنْ نَخْرُجَ إِلَيْهِمْ حَتَّى نُقَاتِلَ مَعَكَ، وَتَرَى جَرْأَتَنَا وَنَجْزِيكَ بِمَا صَنَعْتَ مَعَنَا. فَقَالَ: " لَا دَوَاءَ بِنُصْرَةِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ دَوَاءٍ بِنُصْرَةِ النَّاسِ. قَالَ: وَفِيهِ نَزَلَتْ {وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ} [آل عمران: 199] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3175 - صحيح

حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نجاشی کے علاقے سے اس کے کچھ دشمنوں نے نجاشی پر حملہ کیا تو ( مکۃ المکرمہ سے ہجرت کر کے حبشہ جانے والے ) مہاجرین نجاشی کے پاس گئے اور کہنے لگے : ہم آپ کے ہمراہ جنگ میں شرکت کرنا چا ہتے ہیں اور ہماری جرات و بہادری سے آپ واقف ہی ہیں ، آپ نے ہمارے ساتھ جو حسن سلوک کیا ہے ہم اس کا شکر یہ ادا کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن نجاشی نے یہ کہتے ہوئے ان کو انکار کر دیا کہ اللہ تعالی کی مدد پر بھروسہ کرنا لوگوں کی مدد پر بھروسہ کرنے سے بہتر ہے ۔( عبداللہ ) کہتے ہیں : انہی کے متعلق قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی : وان من اھل الکتاب لمن یومن باللہ وما انزل الیکم وما انزل الیھم خاشعین للہ "اور بے شک کچھ کتابی ایسے ہیں کہ اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف اترا اور جوان کی طرفر اترا ان کے دل اللہ کے حضور جھکے ہوئے "۔۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3175

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3176

3176 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ حُصِرَ بِالشَّامِ وَقَدْ تَأَلَّبَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ: " سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ مَا يَنْزِلُ بِعَبْدٍ مُؤْمِنٍ مِنْ مَنْزِلَةِ شِدَّةٍ إِلَّا يَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ بَعْدَهَا فَرَجًا وَلَنْ يَغْلِبَ عُسْرٌ يُسْرَيْنِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} [آل عمران: 200] " قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو عُبَيْدَةَ: " سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ} [الحديد: 20] إِلَى آخِرِهَا قَالَ: فَخَرَجَ عُمَرُ بِكِتَابِهِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأَ عَلَى أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، إِنَّمَا يُعَرِّضُ بِكُمْ أَبُو عُبَيْدَةَ أَنِ ارْغَبُوا فِي الْجِهَادِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3176 - على شرط مسلم

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کو یہ اطلاع ملی کہ شام میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا محصرہ کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف بہت سارے لوگ جمع ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک مکتوب لکھا " سلام علیک ! اما بعد : بندہ مومن پر جب بھی کوئی سختی آتی ہے ، اللہ تعالی اس کے بعد آسانی عطا کرتا ہے اور کبھی بھی ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آتی اوريَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ ( آل عمران :200)" اے ایمان والو صبر کرواور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ کامیاب رہو " ۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ) حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ نے جوابی مکتوب میں لکھا : سلام علیک ،اما بعد ! بے شک اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ "جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کو د اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اورمال اور اولاد میں ح ایک دوسرے پر بڑائی چاہنا "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ) ( حضرت اسلم رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مکتوب لیا اور منبر پر بیٹھ گئے اور تمام اہل مدینہ کو یہ مکتوب پڑھ کر سنایا پھر فرمایا : اے مدینہ والو ! حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تمہیں جہاد میں دلچسپی لینے پر ابھار رہے تھے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3176

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3177

3177 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَا ابْنَ أَخِي هَلْ تَدْرِي فِي أَيِّ شَيْءٍ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا} [آل عمران: 200] قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «لَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوٌ يُرَابَطُ فِيهِ وَلَكِنِ انْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3177 - صحيح

حضرت داؤد بن صالح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا : اے میرے بھتیجے کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس سلسلے میں نازل ہوئی ؟ ٱصۡبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ ( آل عمران :200) " صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے "" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( حضرت داؤد بن صالح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( یہ آیت اس حوالے سے نازل نہیں ہوئی کہ ) نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں مکچھ لوگ غزوات میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے تھے ۔ البتہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار ضرور ہوتا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3177

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3178

3178 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: «سَلُونِي عَنْ سُورَةِ النِّسَاءِ، فَإِنَّى قَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَأَنَا صَغِيرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3178 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : مجھ سے سورۃ النساء کے بارے میں پوچھ لیا کرو کیونکہ میں نے بچپن میں ہی قرآن پاک پڑھ لیا تھا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

الْقُرْآنُ. ← سُورَةِ النِّسَاءِ فَإِنَّى ← «سَلُونِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3178

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3179

3179 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ} [النساء: 1] قَالَ: إِنَّ الرَّحِمَ لَتُقْطَعُ، وَإِنَّ النِّعْمَةَ لَتُكْفَرُ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا قَارَبَ بَيْنَ الْقُلُوبِ لَمْ يُزَحْزِحْهَا شَيْءٌ أَبَدًا ثُمَّ قَرَأَ {لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ} [الأنفال: 63] قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَتَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلْقٍ ذَلْقٍ فَمَنْ أَشَارَتْ إِلَيْهِ بِوَصْلٍ، وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَشَارَتْ إِلَيْهِ بِقَطْعٍ قَطَعَهُ اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3179 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ ( اللہ تعالی کے ارشاد ) ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ ٱلَّذِي تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلۡأَرۡحَامَۚ ( النساء :1) " اور اللہ سے ڈرو ، جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو۔" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرمایا : بے شک رحم ( رشتہ داریوں ) کو توڑا جاتا ہے اور نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے اور جب اللہ تعالی دلوں میں قربت ڈال دیتا ہے تو کوئی چیز کبھی بھی ان کو دور نہیں کر سکتی پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : لَوۡ أَنفَقۡتَ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا مَّآ أَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوبِهِمۡ " اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر دیتے ان کے دل نہ ملا سکتے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )پھر آپ نے کہا : جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " رحم " رحمن کی شاخ ہے اور یہ قیامت کے دن فصیح و بلیغ زبان میں باتیں کرتا آئے گا ، جس کی طرف اشارہ کر کے کہہ دے گا کہ یہ صلہ رحمی کیا کرتا تھا ، اللہ تعالی اس کو ( جنت سے ) ملا دے گا اور جس کی طرف اشارہ کر کے کہہ دے گا کہ قطع رحمی کرتا تھا ، اللہ تعالی اس کو ( جنت سے ) قطع ( یعنی الگ ) کر دے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3179

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3180

3180 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ وَبَيْنَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَلَامٌ، فَأَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ أَنْ يُطَلِّقَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ سُلَيْمٍ لَحَوْبٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3180 - لا والله علي بن عاصم واه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے درمیان کچھ ناچاقی تھی ، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا ، یہ بات نبی اکرم ﷺ تک پہنچی ےتو آپ ﷺ نے فرمایا : ام سلیم کو طلاق دینا " حوب " ( گناہ ) ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

بَيْنَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَلَامٌ، فَأَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ ← كَانَ بَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3180

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3181

3181 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ يَدْعُونَ اللَّهَ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ: رَجُلٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ سَيِّئَةَ الْخُلُقِ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا، وَرَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ يُشْهِدْ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ آتَى سَفِيهًا مَالَهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ} [النساء: 5] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» لِتَوْقِيفِ أَصْحَابِ شُعْبَةَ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَإِنَّمَا أَجْمَعُوا عَلَى سَنَدَ حَدِيثِ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: «ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ» وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3181 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین آدمی ایسے ہیں جو اللہ تعالی سے دعا مانگتے ہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی ۔ (1) ایسا شخص جس کے نکاحمیں بری عورت ہو لیکن وہ اس کو طلاق نہ دیتا ہو ۔ (2) ایسا شخص کس ک پاس مال ہو لیکن وہ اس پر کسی کو گواہ نہ بنائے ۔(3) ایسا شخص جو اپنا مال کسی بے وقوف کے سپرد کر دے ۔ اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :" اور نے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔کیونکہ شعبہ کے شاگردوں نے اس کو حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے جبکہ تمام محدثین کا اسی اسناد کے ہمراہ شعبہ کی حدیث " تین آدمی ایسے ہیں جن کو دوگنا اجر ملتا ہے " پر اجماع ہے اور امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3181

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النِّسَاءِ · حديث 3182

3182 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى " {وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ} [النساء: 6] فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى مَالِ الْيَتِيمِ {وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ} [النساء: 6] يَأْكُلُ مِنْ مَالِهِ مِثْلَ أَنْ يَقُوتَ حَتَّى لَا يَحْتَاجَ إِلَى مَالِ الْيَتِيمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3182 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس ارشاد : وَمَن كَانَ غَنِيّٗا فَلۡيَسۡتَعۡفِفۡۖ ( النساء :6)" اور جسے حاجت نہ وہ وہ بچتا رہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں ۔ لہذا یتیم کے مال کی ضرورت نہیں ہے اور : وَمَن كَانَ فَقِيرٗا فَلۡيَأۡكُلۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ ( النساء :6 ) "اور جو حاجت مند ہو وہ بقدر مناسب کھائے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : وہ اس کے مال میں سے صرف اس قدر لے سکتا ہے جس سے اس کی دو وقت کی روٹی پوری ہونے لگ جائے حتی کہ اس کو یتیم کےمال کی ضرورت نہ رہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nisa · Hadith 3182

chevron_left Previous
1…252627…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section