Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3160

3160 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: 110] قَالَ: هُمُ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3160 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ ( آل عمران :110)" تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں ( یہ فضیلت ان لوگوں کی ہے ) جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ المنورہ کی طرف ہجرت کی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3160

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3161

3161 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا أَبو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَىَ بْنَ عُقْبَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبُّكُمْ} [آل عمران: 133] فَقَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ الْقُرَشِيُّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُشْرِفَ لَهُ الْبُنْيَانُ، وَتُرْفَعَ لَهُ الدَّرَجَاتُ، فَلْيَعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَهُ، وَلْيُعْطِ مَنْ حَرَّمَهُ وَيَصِلْ مَنْ قَطَعَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3161 - أبو أمية ضعفه الدارقطني وإسحاق لم يدرك عبادة

حضرت ابو امیہ بن یعلی الثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت :۞وَسَارِعُوٓاْ إِلَىٰ مَغۡفِرَةٖ مِّن رَّبِّكُمۡ ( آل عمران :133)" اور دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )تلاوت کی اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سنایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے لئے اونچا محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں ، اس کو چاہئے کہ اس شخص کو معاف کر دے جو اس پر ظلم کرے ، اس کو عطاء کرے جو اس کو محروم رکھے اور اس کے ساتھ ملتا رہے جو اس سے قطع تعلقی کرے " یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ الْقُرَشِيُّ ← مُوسَىَ بْنَ عُقْبَةَ، وَتَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى الثَّقَفِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3161

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3162

3162 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَأَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبْرَةٍ، وَكَانَ مُسَجًّى بِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ لَيُقَبِّلَ وَجْهَهُ، وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ بَعْدَ مَوْتِكَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا. ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: اجْلِسْ يَا عُمَرُ، فَأَبَى فَكَلَّمَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَأَبَى، فَقَامَ فَتَشَهَّدَ فَلَمَّا قَضَى تَشَهُّدَهُ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ " فَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، ثُمَّ تَلَا {وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ} [الأنبياء: 34] {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ} [آل عمران: 144] وَتَلَا إِلَى {الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144] فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَلَاهَا فَأَيْقَنَ النَّاسُ بِمَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ قَائِلٌ: لَمْ يَعْلَمِ النَّاسُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: لَمَّا تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ: عُقِرْتُ حَتَّى خَرَرْتُ إِلَى الْأَرْضِ وَأَيْقَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3162 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد ( نبوی ) میں آئے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں سے ( حضور کی وفات کے متعلق ) گفتگو کر رہے تھے ، آپ اس مکان میں آئے جہاں جناب رسول اللہ ﷺ نھے وفات پائی تھی ۔ حضور ﷺ کا چہرہ اطہر کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا ۔ آُ نے حضور ﷺ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا ، آپ ﷺ کی زیارت کی اور چہرے کا بوسہ لینے کےلئے جھکے اور بولے : خدا کی قسم ! اللہ تعالی آپ ﷺ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا ، اس موت کے بعد آپ کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔ پھر آپ مسجد میں آ گئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ ابھی تک لوگوں سے محو کلام تھے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمر ! بیٹھ جاؤ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ دو تین مرتبہ بیٹھنے کو کہا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل انکار کرتے رہے ۔ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ خود کھڑے ہوئے ، اللہ تعالی کی حمد و ثنا ء کی پھر فرمایا : اما بعد ! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کیا کرتا تھا تو بے شک محمد ﷺ فوت ہو چکے ہیں اور جو اللہ تعالی کی عبادت کرتا تھا تو بے شک اللہ تعالی زندہ ہے جس کو موت نہیں ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی :وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَ( الانبیا : 34)" اور ہم نے پہلے کسی آدمی کے لئے دنیا میں ہمیشگی نہ بنائی "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ۔وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٞ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهِ ٱلرُّسُلُ " اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )للشاکرین " تک تلاوت کی ۔ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ آیات پڑھیں تو لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی وفات کا یقین ہو گیا یہاں تک کہ لوگوں کو اس آیت کے نزول کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اس دن کی تلاوت سے پتہ چلا ۔امام زہری کہتے ہیں : مجھے سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بتایا کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان آیات کی تلاوت کی تو میرے جسم میں لرزہ طاری ہو گیا اور میں زمین پر گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ بے شک جناب رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

کَانَ ابْنُ عَبَّاسِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3162

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3163

3163 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَا نُصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْطِنٍ كَمَا نُصِرَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيْنِي وَبَيْنَ مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي يَوْمِ أُحُدٍ {وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ} [آل عمران: 152] يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالْحِسُّ الْقَتْلُ {حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ، وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا، وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ، ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ، وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [آل عمران: 152] وَإِنَّمَا عَنَى بِهَذَا الرُّمَاةَ وَذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُمْ فِي مَوْضِعٍ ثُمَّ قَالَ: «احْمُوا ظُهُورَنَا فَإِنْ رَأَيْتُمُونَا نُقْتَلُ، فَلَا تَنْصُرُونَا، وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا قَدْ غَنِمْنَا، فَلَا تَشْرَكُونَا» فَلَمَّا غَنَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَاحُوا عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ، انْكَشَفَ الرُّمَاةُ جَمِيعًا، فَدَخَلُوا فِي الْعَسْكَرِ يَنْتَهِبُونَ، وَقَدِ الْتَقَتْ صُفُوفُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُمْ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَالْتَبَسُوا فَلَمَّا أَخَلَّ الرُّمَاةُ تِلْكَ الْخَلَّةَ، الَّتِي كَانُوا فِيهَا، دَخَلَ الْخَيْلُ مِنْ ذَلِكَ الْمَوْضِعِ عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَالْتَبَسُوا وَقُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ نَاسٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أَوَّلُ النَّهَارِ حَتَّى قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ لِوَاءِ الْمُشْرِكِينَ سَبْعَةٌ أَوْ تِسْعَةٌ، وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ جَوْلَةً نَحْوَ الْجَبَلِ، وَلَمْ يَبْلُغُوا حَيْثُ يَقُولُ النَّاسُ الْغَابَ، إِنَّمَا كَانَ تَحْتَ الْمِهْرَاسِ، وَصَاحَ الشَّيْطَانُ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَلَمْ يَشُكُّوا فِيهِ أَنَّهُ حَقٌّ، فَمَا زِلْنَا كَذَلِكَ مَا نَشُكُّ أَنَّهُ قُتِلَ حَتَّى طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ السَّعْدَيْنِ فَعَرَفْنَاهُ بِتَكَفُّئِهِ إِذَا مَشَى، قَالَ: فَفَرِحْنَا حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يُصِبْنَا مَا أَصَابَنَا، قَالَ: فَرَقِيَ نَحْوَنَا، وَهُوَ يَقُولُ: «أَشْتَدُّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ دَمَّوْا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ» قَالَ: وَيَقُولُ مَرَّةً أُخْرَى: «اللَّهُمَّ إِنَّهُ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَعْلُونَا» حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا قَالَ: فَمَكَثَ سَاعَةً فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ يَصِيحُ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ اعْلُ هُبَلُ، اعْلُ هُبَلُ، يَعْنِي آلِهَتَهُ أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أُجِيبُهُ؟ قَالَ: «بَلَى» فَلَمَّا قَالَ: اعْلُ هُبَلُ قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ يَوْمُ الصَّمْتِ، فَعَادَ فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ أَيْنَ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ أَيْنَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَا أَنَا ذَا عُمَرُ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ الْأَيَّامُ دُوَلٌ، وَالْحَرْبُ سِجَالٌ فَقَالَ عُمَرُ: لَا سَوَاءَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَزْعُمُونَ ذَلِكَ لَقَدْ خِبْنَا إِذًا وَخَسِرْنَا، ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَوْفَ تَجِدُونَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثْلَةً، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَنْ رَأْي سَرَاتِنَا، ثُمَّ أَدْرَكَتْهُ حَمِيَّةُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ لَمْ نَكْرَهْهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3163 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی جس طرح جنگ احد کے موقع پر مدد کی گئی اس طرح کبھی نہیں کی گئی ۔ حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم نے اس بات کا انکار کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ بولے : میرے موقف اور منکرین کے موقف میں قرآن پاک فیصلہ کرے گا ۔ اللہ تعالی نے یوم احد کے متعلق فرمایا :وَلَقَدۡ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعۡدَهُۥٓ إِذۡ تَحُسُّونَهُم بِإِذۡنِهِۦۖ (آل عمران :152)"اور بے شک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :" حس " کامطلب " قتل " ہے ۔حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلۡتُمۡ وَتَنَٰزَعۡتُمۡ فِي ٱلۡأَمۡرِ وَعَصَيۡتُم مِّنۢ بَعۡدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنۡيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلۡأٓخِرَةَۚ ثُمَّ صَرَفَكُمۡ عَنۡهُمۡ لِيَبۡتَلِيَكُمۡۖ وَلَقَدۡ عَفَا عَنكُمۡۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ(آل عمران :152)"یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تعالی تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بے شک اس نے تمہیں معاف کر دیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور اس (جماعت) سے مراد تیر اندازوں کی جماعت ہے ۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک خاص مقام پر تعینات کیا تھا اور یہ تاکید فرمائی تھی کہ " تم لوگ ہماری بیک سائیڈ کی حفاظت کرتے رہنا اگر تم یہ دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تو تم ہماری مدد کے لئے ہر گز نہ آنا اور اگر تم دیکھو کہ ہم مال غنیمت جمع کر رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک مت ہونا " پھر جب جناب رسول اللہ ﷺ کو فتح حاصل ہوئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین مال غنیمت جمع کرنے لگے مشرکین کو شکست ہوئی تو یہ تیر انداز اپنے اس مقام سے نیچے اترے اور جنگ میں مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے ۔( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ کی انگلیا ں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر اشارہ کر کے فرمایا ) پھر مسلمانوں کی صفیں یوں آپس میں خلط ملط ہو گئیں ، جب تیر انداز وں نے وہ درہ خالی کر دیاتو وہیں سے گھڑ سوار وں کی ایک جماعت ( پچھلے راستے سے آکر ) وہاں سے میدان جنگ میں داخل ہوئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر حملہ کر دیا ۔ انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا ، جبکہ جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین شروع دن سے ہی جنگ میں مصروف تھے حتی کہ مشرکین کے علمبردار وں میں سے سات یا نو افرادف کو قتل کر دیا اور مسلمانوں نے شکست کھانے کے بعد پہاڑ کی جانب (جہاں گھڑ سوار داخل ہو چکے تھے) دوبارہ حملہ کیا اور ابھی وہاں پہنچے نمہیں تھے کہ لوگوں نے کہا : لوگوں کی جماعت تو پانی کے اس چشمے کے نیچے ہے ۔ ادھر شیطان نے آواز دی : محمد ﷺ کو قتل کردیا گیا ہے ۔ ہم کو اس خبر کے سچی ہونے میں کوئی شک نہ تھا اور ہم مسلسل اسی یقین میں تھے کہ اب تو محمد ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ جناب رسول اللہ ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن عبادہ کے درمیان سامنے تشریف لے آئے ، میں نے آپ ﷺ کو جھک کر چلنے کی وجہ سے پہچا ن لیا ،آپ ﷺ فرماتے ہیں : ہمیں اس قدر خوشی ہوئی گویا کہ ہمیں کبھی بھی کوئی مصیبت آئی ہی نہیں تھی۔ آپﷺ ہماری طرف چڑھ کر تشریف لے آئے ۔ اس وقت آپ ﷺ کہہ رہے تھے : اللہ تعالی اس قوم پر شدید غضب فرمائے ، جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون آلود کروا دیا ، پھر آپ ﷺ یوں فرماتے : " اے اللہ ! ان کی یہ شان نہیں کہ وہ ہم پر غالب آئیں ، حتی کہ آپ ﷺ ہم تک پہنچ گئے ، آپ ﷺ ہمارے پاس پہنچ کر کچھ دیر ہی ٹھہرے تھے کہ ابو سفیان پہاڑ کے دامن سے چیخ چیخ کر کہنے لگا : ھبل کی شان بلند ہو ، ھبل کی شان بلند ہو ، یعنی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی شان میں باتیں کرنے لگا ( اور کہنے لگا ) ابن ابی کبثہ کہاں ہے ؟ ابن ابی قحافہ کہاں ہے ؟ ابن الخطاب کہاں ہے ؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دینے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی ، چنانچہ جب اس نے کہا : ھبل کی شان بلند ہو ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ تعالی ہی سب سے اعلی اور بزرگ ہے ، ابو سفیان نے کہا : اے ابن الخطاب آج کا دن تمہارے خاموش رہنے کا دن ہے ، اس نے پھر کہا ابن کبثہ کہاں ہے ؟ ابن قحافہ کہاں ہے ؟ ابن خطاب کہاں ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا : یہ ہیں جناب رسول اللہ ﷺ یہ ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور یہ میں عمر ہوں ، ابو سفیان نے کہا : آج کا دن " بدر " کا بدلہ ہے ۔ دن بدلتے رہتے ہیں اور جنگ تو نام ہی مقابلہ کا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : کوئی برابری نہیں ہے ، ہمارے شہید جنتی ہیں جبکہ تمہارے مقتول دوزخی ہیں ۔ اس نے کہا : اگر تمہارا یہ گمان درست ہے تو ہم خائب و خاسر ہیں ۔ پھر ابو سفیان نے کہا : تم اپنے مقتولوں میں بعض کی شکلیں بگڑی پاؤ تو وہ ہمارے بڑوں کی اجازت سے نہیں کیا گیا ، پھر اس پر وہی جاہلیت کی حمیت غالب آ گئی اور اس نے کہا لیکن بہر حال اگر ایسا ہو جائے تو ہم اس کو ناپسند نہیں کرتے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3163

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3164

3164 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " رَفَعْتُ رَأْسِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ، وَمَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا وَهُوَ يَمِيدُ تَحْتَ حَجَفَتِهِ مِنَ النُّعَاسِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ} [آل عمران: 154] الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3164 - صحيح

حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فعرماتے ہیں ، جنگ احد کے دن میں اونگھ کی وجہ سے ہر شخص اپنے سینے سے بھی نیچے ڈھلکا جا رہا تھا اسی کے متعلق اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے : ثُمَّ أَنزَلَ عَلَيۡكُم مِّنۢ بَعۡدِ ٱلۡغَمِّ أَمَنَةٗ نُّعَاسٗا يَغۡشَىٰ طَآئِفَةٗ مِّنكُمۡۖ ( آل عمران :154)"پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیر ے تھی " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3164

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3165

3165 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، وَتَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ، قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْيَاءُ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ لِأَنْ لَا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا فِي الْحَرْبِ؟ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [آل عمران: 169] الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3165 - على شرط مسلم

حضر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب "احد " میںتمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کی روحوں کو پرندوں کے قالب میں ڈال دیا ، جو جنت کہ نہروں پر گھومتے ہیں ، جنت کے پھل کھاتے ہیں ۔ پھر عرش کے ائے میں لٹکتی ہو ئی قندیلوں کے پاس آتے یں ۔ جب ان کو انتہائی عمدہ کھانے ملتے ہیں ، عمدہ مشروبات اور بہترین آرامگاہیں ملتی ہیں تو وہ کہتے ہیں : کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ئی اطلاع دے دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں ، ہمیں یہاں رزق ملتا ہے ( اور ہمارے بھائیوں کو ہماری طرف سے یہ تاکید کر دیں کہ ) جہاد میں سستی اور جنگ میں بزدلی کا مظاہرہ ہر گز نہ کریں تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : وَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱلَّذِينَ قُتِلُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ " (آل عمران :169)"اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3165

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3166

3166 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا ابْنَ أُخْتِي أَمَا وَاللَّهِ " أَنَّ أَبَاكَ وَجَدَّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ لَمِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} [آل عمران: 172] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3166 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں " ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے میرے بھانجے ! خدا کی قسم : تیرا باپ اور دادا یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ٱلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ مِنۢ بَعۡدِ مَآ أَصَابَهُمُ ٱلۡقَرۡحُۚ " وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہوئے بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکا تھا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

اللَّهِ أَنَّ أَبَاكَ وَجَدَّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالزُّبَيْرَ لَمِنَ الَّذِينَ ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يَا ابْنَ أُخْتِي أَمَا ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ← هشام بن القاسم ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3166

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3167

3167 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ حَسْبِي اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، وَقَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهَا {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ، فَزَادَهُمْ إِيمَانًا، وَقَالُوا حَسْبُنَا} [آل عمران: 173] اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3167 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلام یہ تھا " حسبی اللہ ونعم الوکیل " میرے لئے اللہ تعالی ہی کافی ہے اور وہ سب سے بہتر کارساز ہے اور تمہارے نبی ﷺ نے بھی اسی طرح کا کلام کیا ( جیسا کہ قرآن پاک میں موجود ہے ) ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنٗا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ" وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے لئے جتھا جوڑا تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زائد ہوا اور بولے اللہ ہم کو بس ہے اور کیا اچھا کار ساز" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا ← نَبِيُّكُمْ مِثْلَهَا: «الَّذِينَ ← كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ حَسْبِي اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الضُّحَى، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3167

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3168

3168 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ إِلَّا الْمَوْتُ خَيْرٌ لَهَا إِنْ كَانَ مُؤْمِنًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ} [آل عمران: 198] ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا} [آل عمران: 178] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3168 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، زمین پر جو بھی انسان ہے اس کے لئے موت اچھی چیز ہے کیونکہ اگر وہ مومن ہے تو اس کے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے : لَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنَّٰتٞ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ ( آل عمران :198)"لیکن وہ جو اپے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور اگر وہ کافر ہے تو اس کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے : أَنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ خَيۡرٞ لِّأَنفُسِهِمۡۚ إِنَّمَا نُمۡلِي لَهُمۡ لِيَزۡدَادُوٓاْ إِثۡمٗاۖ ( آل عمران : 178)" تواسی لئے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھیں" ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3168

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3169

3169 - أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عُمَرَ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: ثُعْبَانٌ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَنْهَشُهُ فِي قَبْرِهِ، وَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ " سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هِشَامٍ الرِّفَاعِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ وَلَا أَرَى أَبَا إِسْحَاقَ كَذَبَ عَلَى أَبِي وَائِلٍ وَلَا أَرَى أَبَا وَائِلٍ كَذَبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ " رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3169 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ ( بن مسود ) رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ " عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )کے متعلق فرماتے ہیں : ایک بہت بڑا اژدھا ، جس کی دو زبانیں ہوں گی وہ اس کو قبر میں ڈسے گا اور کہےگا : میں ہوں تیرا وہ مال جس میں تو بخل کیا کر تاتھا ۔ ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں : خدا کی قسم ! میں نے ابو اسحاق کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں سمجھتا کہ ابو اسحاق نے ابو وائل پر جھوٹ باندھا ہو اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابو وائل نے عبداللہ پر جھوٹ باندھا ہو گا ۔ اسی حدیث کو ثوری نے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي إِسْحَاقَ على شرط البخاري ومسلم ← ائِلٍ كَذَبَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ← ائِلٍ وَلَا أَرَى أَبَا ← وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ وَلَا أَرَى أَبَا إِسْحَاقَ كَذَبَ عَلَى أَبِي ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ ← أَبَا هِشَامٍ الرِّفَاعِيَّ، ← أبا عمرو المستملي ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ. ← ثُعْبَانٌ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَنْهَشُهُ فِي قَبْرِهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← أَبُو وَائِلٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← أَبُو عُمَرَ الْمُسْتَمْلِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3169

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3169.1

3169 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ " {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عنداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُواْ بِهِۦ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ " عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : " اس کے پاس ایک اژدھا آئے گا وہ اس کے سر میں سوراخ کر دے گا اور اس کے گلے میں لپٹ جائے گا اور کہے گا : میں تیرا وہی مال ہوں جس میں تو بخل کیا کرتا تھا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ: ← أَبِي وَائِلٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3169.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3170

3170 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ " مَوْضِعَ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، اقْرَأُوا إِنَّ شِئْتُمْ {فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} [آل عمران: 185] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3170 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں صرف اتنی جگہ جہاں کو ڑ ڈالا جاتا ہے ، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے ۔ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو : فَمَن زُحۡزِحَ عَنِ ٱلنَّارِ وَأُدۡخِلَ ٱلۡجَنَّةَ فَقَدۡ فَازَۗ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ( آل عمران : 185)" جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3170

chevron_left Previous
1…242526…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section