Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3148

3148 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الشِّرْكُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ الذَّرِّ عَلَى الصَّفَا فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ، وَأَدْنَاهُ أَنْ تُحِبَّ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الْجَوْرِ، وَتُبْغِضَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ الْعَدْلُ وَهُوَ الدِّينُ، إِلَّا الْحَبُّ وَالْبُغْضُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبَعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ} [آل عمران: 31] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3148 - عبد الأعلى قال الدارقطني ليس بثقة

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : شرک کو ہ صفا پر اندھیری رات میں رینگتی ہوئی چیونٹی سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے اور اس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ تو کسی بھی نوعیت کا ظلم کو اچھا سمجھے اور کسی بھی نوعیت کے انصاف کو برا سمجھے ، دین تو نام ہی ( اللہ تعالی کے لئے ) محبت اور ( اسی کے لئے) بغض کا ہے ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ﴾ [آل عمران: 31]" اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرما بردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عبد الأعلى بن أعين، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3148

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3149

3149 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: 28] قَالَ: التُّقَاةُ التَّكَلُّمُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، فَلَا يَبْسُطُ يَدَهُ فَيَقْتُلُ، وَلَا إِلَى إِثْمٍ فَإِنَّهُ لَا عُذْرَ لَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3149 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [آل عمران: 28]" مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتےہیں : تقاۃ کا مطلب یہ ہے " زبان سے کلام کرنا اور دل ایمان پر مطمئن ہو " لہذا ہم قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائیں گے ، اور نہ ہی گناہ کی طرف ، کیونکہ اس کا کوئی عذر نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سفيان بن سعيد يذكر ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3149

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3150

3150 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ " {إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا} [آل عمران: 35] تَلَا إِلَى قَوْلِهِ {وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا} [آل عمران: 37] قَالَ: كَفَلَهَا زَكَرِيَّا فَدَخَلَ عَلَيْهَا الْمِحْرَابَ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا عِنَبًا فِي مِكْتَلٍ فِي غَيْرِ حِينِهِ، قَالَ زَكَرِيَّا: {أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [آل عمران: 37] قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَرْزُقُكِ الْعِنَبَ فِي غَيْرِ حِينِهِ لَقَادِرٌ أَنْ يَرْزُقَنِيَ مِنَ الْعَاقِرِ الْكَبِيرِ الْعَقِيمِ وَلَدًا، {هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ} [آل عمران: 38] فَلَمَّا بُشِّرَ بِيَحْيَى قَالَ: {رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ: آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا} [مريم: 10] ، قَالَ: يُعْتَقَلُ لِسَانُكَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَأَنْتَ سَوِيٌّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3150 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی یہ آیت : ﴿إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا ﴾ [آل عمران: 35]" میں تیرے لئے منت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ﴿ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا﴾ [آل عمران: 37]"اس کے پاس نیا رزق پاتے "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تک پڑھی اور فرمایا ، حضرت زکریا علیہ السلام نے ان کی کفالت کی ، جب آپ حضرت مریم علیھا السلام کے پاس ان کے حضرہ میں گئے تو ان کے ہاں بے موسم کے انگور موجود پائے ۔ آپ نے کہا : تیرے پاس یہ ( انگور ) کہاں سے آئے ۔ حضرت مریم علیھا السلام بولیں : یہ اللہ تعالی کی طرف سے آئے ہیں ۔ ﴿ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ٣٧﴾ [آل عمران: 37]" بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) آپ نے سوچا : جو ذات تجھے بے موسم کے انگور دینے پر قادر ہے ویہمجھ بوڑھے بانجھ شخص کو اولاد بھی دے سکتا ہے ۔﴿هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا ٣٨﴾ [آل عمران: 38]" یہاں پکا راز کریا نے اپنے رب کو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پھر جب ان کو حضرت یحیی علیہ السلام کی خوشخبری دے دی گئی تو آپ نے کہا : ﴿قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ﴾ [آل عمران: 41]" عرض کی اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی کر دے فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین دن لوگوں سے بات نہ کرے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یعنی بغیر کسی بیماری کے ،تندرستی کے عالم میں تیری زبان میں گرہ لگ جائے گی ۔ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ تَلَا إِلَى قَوْلِهِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3150

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3151

3151 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةٌ مِنَ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلِي إِبْرَاهِيمُ» ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ، وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ} [آل عمران: 68] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3151 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نبی کے کچھ انبیا ء دوست ہوا کرتے ہیں اور ان میں سے میرے دوست میرے جد امجد اور میرے خلیل حضرت ابراہیم ہیں ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " بیشک سب لوگوں سے ابراھیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے اوریہ نبی اور ایمان والے اور ایمان والوں کا اللہ والی ہے "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي الضُّحَى، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3151

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3152

3152 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ إِسْرَائِيلَ، أَخَذَهُ عِرْقُ النَّسَا فَكَانَ يَبِيتُ وَلَهُ زُقَاءٌ، قَالَ: فَجَعَلَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ لَحْمًا فِيهِ عُرُوقٌ، قَالَ فَحَرَّمَتْهُ الْيَهُودُ " فَنَزَلَتْ {كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ، قُلْ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} [آل عمران: 93] إِنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ التَّوْرَاةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3152 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے " حضرت یعقوب عرق النساء ( بیماری ) میں مبتلا ہوئے انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالی ان کو اس بیماری سے شفاء دے دے تو وہ کبھی بھی ایسا گوشت نہیں کھائیں گے جس میں رگیں ہوتی ہیں (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں یہودیوں نے بھی اس طرح کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نال فرمائی: ﴿كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ٩٣﴾ [آل عمران: 93]"سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا تو رات اترنے سے پہلے تم فرماؤ تورات لا کر پڑھو اگر سچے ہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ بات نزول تورات سے پہلے کی ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

فَجَعَلَ إِنْ شَفَاهُ اللَّهُ أَنْ لَا يَأْكُلَ لَحْمًا فِيهِ عُرُوقٌ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ إِسْرَائِيلَ، أَخَذَهُ عِرْقُ النَّسَا فَكَانَ يَبِيتُ وَلَهُ زُقَاءٌ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3152

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3153

3153 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي عِرْقِ النَّسَا يَأْخُذُ أَلْيَةَ كَبْشٍ عَرَبِيٍّ لَيْسَتْ بِأَعْظَمِهَا، وَلَا أَصْغَرِهَا، فَيَتَقَطَّعُهَا صِغَارًا، ثُمَّ يُذِيبُهَا، فَيُجِيدُ إِذَابَتَهَا، وَيَجْعَلُهَا ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَيَشْرَبُ كُلَّ يَوْمٍ جُزْءًا عَلَى رِيقِ النَّفْسِ» قَالَ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ: فَلَقَدْ أَمَرْتُ بِذَلِكَ نَاسًا ذَكَرَ عَدَدًا كَثِيرًا كُلُّهُمْ يَبْرَأُ بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3153 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ " عرق النساء " ( بیماری کے علاج ) کے متعلق ارشاد فرمایا : کسی عربی دنبے کی چکی لیں جو نہ بہت زیادہ بڑی اور نہ زیادہ چھوٹی ہو ، اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کریں پھر اس کو خوب پگھلائیں اور اس کے تین حصے کر لیں ہر حصہ روزانہ صبح نہار منہ پئیں ۔ نوٹ : حضرت انس بن سیرین رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ نسخہ بہت لوگوں کو بتایا اللہ تعالی کے فضل سے سب لوگ شفایاب ہوئے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3153

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3154

3154 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ {أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا} [آل عمران: 96] أَهُوَ أَوَّلُ بَيْتٍ بُنِيَ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ " أَوَّلُ بَيْتٍ وُضِعَ فِيهِ الْبَرَكَةُ وَالْهُدَى، وَمَقَامُ إِبْرَاهِيمَ، وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمَنَّا، وَلَإِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ كَيْفَ بَنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى إِبْرَاهِيمَ أَنِ ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ فَضَاقَ بِهِ ذَرْعًا، فَأَرْسَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ السَّكِينَةَ، وَهِيَ رِيحٌ خَجُوجٌ، لَهَا رَأْسٌ، فَاتَّبَعَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ حَتَّى انْتَهَتْ، ثُمَّ تَطَوَّقَتْ إِلَى مَوْضِعِ الْبَيْتِ تَطَوُّقَ الْحَيَّةِ، فَبَنَى إِبْرَاهِيمُ فَكَانَ يَبْنِي هُوَ سَاقًا كُلَّ يَوْمٍ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَكَانَ الْحَجَرِ، قَالَ لِابْنِهِ: أَبْغِنِي حَجَرًا فَالْتَمَسَ ثَمَّةَ حَجَرًا حَتَّى أَتَاهُ بِهِ، فَوَجَدَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ قَدْ رُكِّبَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: جَاءَ بِهِ مَنْ لَمْ يَتَّكِلْ عَلَى بِنَائِكَ جَاءَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ فَأَتَمَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3154 - على شرط مسلم

حضرت خالد بن عرعرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کسی آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ﴿إ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا﴾ [آل عمران: 96]" بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) (اس آیت میں جس گھر کا تذکرہ ہے ۔ کیا اس سے مراد ) وہ گھر ہے جو زمین میں سب سے پہلے تعمیر کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ بلکہ وہ گھر جس میں سب سے زیادہ برکت اور ہدایت رکھی گئی ہے ، اس میں مقام ابراھیم ہے جو اس میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ امن والا ہو جاتا ہے اور اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالی نے اس کو کیسے بنایا ، اللہ تعالی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ وہ زمین میں میرا ایک گھر بنائیں ۔ آپ کو اس کی پیمائش کا پتہ نہیں تھا ( اس پر آپ کچھ پریشان ہو گئے ) تو اللہ تعالی نے ان کی طرف سکینہ بھیجی اور یہ ایک تیز ہوا تھی جس کا ایک سرا تھا ، تو ان میں سے ایک اپنے ساتھ کے پیچھے چلا یہاں تک وہ ہوا رک گئی اور سانپ کی طرح سکڑ کر بیت اللہ کے مقام پر ٹھہر گئی ۔ پھر حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس کو بنانا شروع کیا جب تعمیر حجر اسود کے مقام تک پہنچی تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا : کوئی پتھر ڈھونڈ ھ کر لاؤ ، وہ ایک پتھر ڈھونڈ کر لے آئے جو کہ " حجر اسود " تھا ۔ آپ نے اپنے بیٹے سے پوچھا : تجھے یہ کہاں سے ملا ہے ؟ انہوں نے جواباً کہا: یہ پتھر وہ شخصیت لے کر آئی ہے جو آپ کی تعمیرکی محتاج نہیں ہے ،یہ حضرت جبرائیل لائے ہیں ۔ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے اس ( بیت اللہ ) کی تعمیر کو مکمل کر دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا ← خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ← خَالِدُ بْنُ حَرْبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3154

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3155

3155 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ» فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا، أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةً، فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " هَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3155 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا : اے لوگو! بے شک اللہ تعالی نے تم پر حج فرض کیا ہے ۔ تو حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر بولے : یا رسول اللہ ﷺ : کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر میں ( ہاں ) کہہ دیتا تو ( ہر سال حج ) فرض ہو جاتا اور اگر ( ہر سال ) فرض ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کرتے اور نہ تم میں اس کی استطاعت ہوتی ۔ حج ( تمام عمر میں ) ایک دفعہ فرض ہے جو اس سے زائد ہے وہ نفل ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

عليكم الحج» فقام الاقرع بن حابس فقال: افي كل عام ← خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي سِنَانٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3155

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3156

3156 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً؟ قَالَ: «لَا، بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ» وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالشَّرْحِ وَالْبَيَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سفیان بن حسین زہری کے ذریعے ابو سنان سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا حج ہر سال ادا کرنا ضروری ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ ( زندگی بھرمیں ) صرف ایک مرتبہ ( حج کرنا ضروری ہے ) جو ایک زیادہ کرے گا وہ نفلی حج ہوں گے ۔ اس موضوع پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے شرح وبسط کے ساتھ وضاحت فرمائی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالشَّرْحِ وَالْبَيَانِ، ← «لَا، بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ» وَفِي الْبَابِ ← سَأَلَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي سِنَانٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← سهل بن عمار العتكي ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3156

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3157

3157 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُخَوَّلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّهْدِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامِ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] " قَالَ الْحَاكِمُ: «كَانَ مِنْ حُكْمِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ أَنْ تَكُونَ مُخَرَّجَةً فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، فَلَمْ يُقَدَّرْ ذَلِكَ لِي فَخَرَّجْتُهَا فِي تَفْسِيرِ الْآيَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3157 - مخول رافضي وعبد الأعلى هو ابن عامر ضعفه أحمد

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت :﴿ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [آل عمران: 97]" اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھرکا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے دریافت کیا : کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ خاموش رہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے دوبارہ پوچھا : کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ پھر بھی خاموش رہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے پھر پوچھا : کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ ( اور فرمایا ) اگر میں " ہاں " میں کہہ دیتا تو ( ہر سال حج )فرض ہو جاتا تو اللہ تبارک وتعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ﴾ [المائدة: 101]" اے ایمان والو ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کی جائیں تو تمہیں بری لگیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : مذکورہ تینوں حدیثوں کا حق تو یہ تھا کہ ان کو کتاب المناسک کے آغاز میں درج کرتے لیکن میں ایسا نہ کر سکا اس لئے اب میں ان کو آیت کی تفسیر کے تحت درج کر رہا ہوں ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← مُخَوَّلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّهْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3157

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3158

3158 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ فِي بِحَارِ الْأَرْضِ لَفَسَدَتْ» وَفِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ: «لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعَايِشَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ تَكُونُ طَعَامَهُ؟» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3158 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ١٠٢﴾ [آل عمران: 102]" اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگرمسلمان " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ اگر " زقوم " ( جنت کا ایک درخت ) کا صرف ایک قطرہ زمین کے تمام سمندروں میں ڈال دیا جائے تو ( تمام روئے زمین کا پانی ) ناقابل استعمال ہو جائے ۔ اور حضرت وہب بن حریر رضی اللہ عنہ کی روایت میں یوں ہے : تو دنیا والو ں پر عرصہ حیات تنگ ہو جائے تو ان لوگوں کا کیا حشر ہو گا جن کی خوراک ہی یہ ( زقوم ) ہو گی ( العیاذ اللہ ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3158

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3159

3159 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " {اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} [آل عمران: 102] قَالَ: أَنْ يُطَاعَ فَلَا يُعْصَى وَيُذْكَرَ فَلَا يُنْسَى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3159 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود اللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ( آل عمران :102) " اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں ( اس کا مطلب یہ ہے کہ ) اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے ، اس کو یاد کیا جائے اور اس کو بھولیں نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَنْ يُطَاعَ فَلَا يُعْصَى وَيُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ((فِي قَوْلِ اللَّهِ -عَزَّ وَجَلَّ- ← مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ← زُبَيْدٍ، ← مِسْعَرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى وَأَبُو نُعَيْمٍ ← محمد بن سليمان بن الحارث ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3159

chevron_left Previous
1…232425…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section