المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3124
3124 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّحْلِ - قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الشِّيصَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاءَ بِهَذَا؟» وَكَانَ لَا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلَّا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ، فَنَزَلَتْ: {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ، تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ، إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ} [البقرة: 267] " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ، أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ: الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَاللَّوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ» تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ
حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک آدمی یہ " سحل " لے آیا ، حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "سحل " ردی قسم کی کھجور کو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : یہ کون لایا ہے ؟ ( اور طریقہ یہی تھا کہ ) جو شخص بھی کچھ لاتا ، اس کی لائی ہوئی چیز کو اس لانے والے کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ﴾ [البقرة: 267]" خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے نہ تو لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور رسول اللہ ﷺ نے "جعرور" اور "صبیق " دو رنگوں کی کھجوریں صدقہ میں وصول کرنے سے منع فرمایا ۔ زہری کہتے ہیں یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی خاص( گھٹیا ) قسم کے رنگ ہیں ۔ یہ حدیث زہری سے روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے ۔
أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الضَّبِّيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3124
