Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3100

3100 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَجُّ عَرَفَةُ - أَوْ عَرَفَاتٌ - فَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَأَيَّامُ مِنًى ثَلَاثٌ: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ} [البقرة: 203] عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. . . .» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3100 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبدالرحمن بن یعمر ویلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا " حج عرفہ ( شاید یہ فرمایا ) عرفات ( میں قیام ) کا نام ہے ، اس لئے جسنے عرفہ میں طلوع فجر سے پہلے ( کوئی ساعت ) پالی اس نے حج کو پا لیا اور منی کے دن " تین" ہیں ۔ جو شخص دو دنوں میں جلدی کرے اس پر کوئی حرج نہیں ہے اور جوتا خیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے ۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْمَرَ الدِّيلِيُّ ← عَطَاءٍ، ← بُكَيْرٍ، ← يزيد بن هارون أنبأ شعبة ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3100

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3101

3101 - أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ. . . . . . .، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا» . فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ} [البقرة: 219] الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَيِّنَ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شَافِيًا» ، فَنَزَلَتِ الَّتِي فِي الْمَائِدَةِ، فَدُعِيَ عُمَرُ فَقُرِئَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغَ: {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: 91] قَالَ عُمَرُ: «قَدِ انْتَهَيْنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3101 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی : یا اللہ ! ہمارے لئے شراب کے متعلق کوئی تسلی بخش حکم فرما ، تو سورہ بقرۃ کی یہ آیت نازل ہوئی:﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ﴾ [البقرة: 219]" تم سے شراب اور جوئے کا حکم ہوچھتے ہیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت سنائی گئی ، انہوں نے پھر دعا مانگی : یا اللہ ! شراب کے متعلق ہمارے لئے کوئی تسلی بخش ارشاد فرما ۔ تو پھر سورہ مائدہ کی یہ آیت نازل ہو ئی :﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ [المائدة: 90]"اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت سنائی گئی ، جب اس مقام پر پہنچے :﴿ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ٩١﴾ [المائدة: 91]" تو کیا تم باز آئے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : ہم رک گئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَمَّا نَزَلَتْ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ← عُمَرَ، ← أَبِي مَيْسَرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3101

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3102

3102 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُعَرِّضُ عَلَيَّ فِي الْخَمْرِ تَعْرِيضًا لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ يُنَزِّلُ عَلَيَّ فِيهِ أَمْرًا» ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ، فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ، وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ، فَلَا يَشْرَبْهَا وَلَا يَبِعْهَا» قَالَ: فَسَكَبُوهَا فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3102 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے مدینہ والو ! اللہ تعالی نے شراب کے سلسلہ میں خاص تعریض فرمائی ہے ، لگتا ہے کہ شراب کے متعلق ان کوئی حکم نازل ہونے والا ہے ۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور بولے : اے اہلیان مدینہ ! اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کا حکم نازل فرما دیا ہے ۔ چنانچہ جس شخص کو اس آیت کا علم ہوا اور اس وقت اس کے پاس کچھ شراب ہو تو وہ اس کو نہ خود پئے اور نہ اس کو بیچے ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ( اس حکم کے بعد ) لوگوں نے مدینہ کی گلیوں اور راستوں میں شراب بہا ڈالی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيُّ ← سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3102

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3103

3103 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ، إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] عَزَلُوا أَمْوَالَهُمْ عَنْ أَمْوَالِ الْيَتَامَى، فَجَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسَدُ، وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ} [البقرة: 220] " قَالَ: فَخَالَطُوهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3103 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ﴾ [الأنعام: 152] " اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقے سے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مالوں سے الگ کر دیا ( اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ) طعام خراب ہونے لگ گیا اور گوشت سڑنے لگ گیا ، لوگوں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ ﷺ کی بار گاہ میں کی تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی : ﴿قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ ﴾ [البقرة: 220]" تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : تن لوگوں نے ان کا مال اپنے مالوں کے ساتھ ملا لیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَمَّا نَزَلَتْ: عَزَلُوا أَمْوَالَهُمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3103

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3104

3104 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، فَإِنْ كَانَ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ قَالَ فِيهِ شَيْئًا فَأَنَا أَقُولُ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ، فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] «فَإِنْ شِئْتُمْ فَاعْزِلُوا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَلَا تَفْعَلُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3104 - صحيح

حضرت زائدہ بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : تمہاری تعداد بھی تو کثیر تھی اگر اس سلسلہ میں رسول پاک ﷺ کا کوئی ارشاد کسی نے سن رکھا ہے تو اسی پر عمل کرے اور اگر کسی نے اس سلسلہ میں کوئی ارشاد نہیں سنا تو سنو ! میں کہتا ہوں : ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ﴾ [البقرة: 223]"تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس لئے اگر تم چاہو تو " عزل " کر لو اور نہ کرنا چاہو تو نہ کرو ۔ ( نوٹ : عزل کا مطلب یہ ہے کہ شوہر انزال کےوقت اپنی بیوی سے الگ ہو جائے اور مادہ با ہر خارج کر دے ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

فِيهِ شَيْئًا ← وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ← فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا ← إِنَّكُمْ قَدْ أَكْثَرْتُمْ، فَإِنْ كَانَ ← الْعَزْل ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← زَائِدَةَ بن عُمَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3104

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3105

3105 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، سَمِعَ أَبَانَ بْنَ صَالِحٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: عَرَضَتُ الْقُرْآنَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ، أُوقِفُهُ عَلَى كُلِّ آيَةٍ، أَسْأَلُهُ فِيمَا نَزَلَتْ، وَكَيْفَ كَانَتَ؟ فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْلِهِ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] الْآيَةُ، قَالَ: كَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا، حَيْثُ مَا لَقُوهُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرَادُوهُنَّ عَلَى مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْمُهَاجِرَاتِ، فَأَنْكَرْنَ ذَلِكَ فَشَكَيْنَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] " يَقُولُ: مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ مِنْ دُبُرِهَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ لِلْفَرْجِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَإِنَّمَا كَانَتْ مِنْ قِبَلِ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3105 - على شرط مسلم

حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں تین مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو قرآن سنایا ہے ۔ میں ہر آیت پر رک کر اس کا شان نزول دریافت کرتا جب اس آیت : ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ﴾ [البقرة: 223]"تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : مہاجرین کا یہ قبیلہ جو ہے ان کی عادت تھی کہ اپنی بیویوں کو ناپسندیدہ طریقے سے ننگی کر لیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ آگے سے اور پچھلی جانب سے آگے کے مقام پر جماع کیا کرتے تھے ۔ جب یہ لوگ مدینہ المنورہ آئے اور ان کے نکاح انصاری خواتین کے ساتھ ہوئے تو یہ وہی طریقے استعمال کرنے لگے جو مہاجرین کے ساتھ کیا کرتے تھے تو انصاری عورتوں نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیا اور اس بات کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [البقرة: 223]" تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یعنی آگے سے اور پیچھے سے ۔ جبکہ وطی آگے کے مقام ہی سے کی جائے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ لوگ عورتوں کو کمر کی جانب سے ملتے اور اگلے مقام میں دخول کرتے تھے ۔

مُجَاهِدٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3105

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3106

3106 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ الْمَكِّيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ، إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهَ: وَاللَّهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي، وَلَا آوِيكِ إِلَيَّ. قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: أُطَلِّقُكِ وَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ، ثُمَّ أُطَلِّقُكِ، وَأَفْعَلُ ذَلِكَ، فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى " نَزَلَ الْقُرْآنُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] «. . . . . . . . . .» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ فِي يَعْقُوبَ بْنِ حُمَيْدٍ بِحُجَّةٍ، وَنَاظَرَنِي شَيْخُنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ وَذَكَرَ أَنَّ الْبُخَارِيُّ رَوَى عَنْهُ فِي الصَّحِيحِ، فَقُلْتُ: هَذَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَثَبَتَ هُوَ عَلَى مَا قَالَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3106 - قد ضعفه غير واحد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں (لوگوں کی یہ عادت تھی کہ ) کوئی آدمی اپنی بیوی کو جتنی چاہتا طلاقیں دے دیتا حتی کہ 100 سے بھی زیادہ طلاقیں دے دیتا اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا ، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا : خدا کی قسم ! نہ تو میں تجھے طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے جدا ہو سکے اور نہ ہی میں تجھے اپنی بیوی کے طور پر رکھوں گا ۔ اس نے پوچھا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا : میں تجھے طلاق دوں گا اور جب تیری عدت گزرنے کا وقت قریب ہو گا میں تیرے ساتھ رجوع کر لوں گا ، پھر طلاق دوں اور ایسا ہی کرتا رہوں گا ۔ اس عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں یہ شکایت کی ، ام المومنین نے اس بات کا تذکرہ رسول اکرمﷺ کی بارگاہ میں کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ خاموش رہے ، حتی کہ قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہو گئی : "یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یانکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور کسی محدث نے یعقوب بن حمید کے متعلق دلیل کے ساتھ اعتراض نہیں کیا اور میرے ساتھ میرے شیخ ابو احمد الحافظ کا مناظرہ ہوا اور انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ان کی روایات نقل کی ہیں ۔ میں کہا : وہ تو یعقوب بن محمد الزہری ہیں اور وہ ثبت ہیں اور ان کی روایات کا ہم انکار نہیں کرتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يعلى بن شبيبٍ المكي، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3106

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3107

3107 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أُخْتَهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، " فَمَنَعَهَا مَعْقِلٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ، فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ، فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ، إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 232] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3107 - الفضل بن دلهم ضعفه ابن معين وقواه غيره

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی اور پھر رجوع کا ارادہ کیا تو معقل نے اس کو رجوع سے منع کر دیا تو اللہ تبارک و تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : " اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں کے والیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں جب کہ آپس میں موافق شرح رضا مند ہو جائیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

الْحَسَنِ، ← الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ ← أَبِي، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3107

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3108

3108 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِذَا حَمَلَتْهُ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ، أَرْضَعَتْهُ وَاحِدًا وَعِشْرِينَ شَهْرًا، وَإِنْ حَمَلَتْهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ، أَرْضَعَتْهُ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ شَهْرًا» ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَحَمَلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: 15] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3108 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب عورت 9 مہینے حمل میں گزارے تو وہ بچے کو 21 مہینے دودھ پلائے اور اگر 6 مہینے حمل میں گزارے تو 24 مہینے دودھ پلائے پھر آ پ نے یہ آیت پڑھی :﴿ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ﴾ [الأحقاف: 1-15]" اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس جا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3108

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3109

3109 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] " قَالَ عَطَاءٌ: " إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ فِي أَهْلِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فإن خرجن فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3109 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس آیت نے عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے ۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزارے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :" غیر اخراج " عطاء کہتے ہیں : وہ اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنا چاہے تو اس کی مرضی اور اگر وہاں سے جانا چاہے تو جا سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :﴿ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ ﴾ [البقرة: 240]"پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مواخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3109

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3110

3110 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ هَا هُنَا، فَقَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، وَبَيَّنَ لَهُمْ مِنْهَا، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ} [البقرة: 180] فَقَالَ: «نُسِخَتْ هَذِهِ» ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا} [البقرة: 234] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] فَقَالَ: «وَهَذِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو یہاں پر خطبہ دیا پھر ان کو سورۃ البقرہ سنائی اور اس کے مضامین بیان کئے ، جب آپ کے اس آیت پر پہنچے ﴿ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ﴾ [البقرة: 180]:"اگر کچھ مال چھوڑے تو وصیت کر جائے اپنے ماں باپ اور قریب کے رشتہ دار وں کے لئے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو بولے : یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے پھر پڑھتے رہے جب اس آیت پر پہنچے : ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا ﴾ [البقرة: 240]" اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے لئے وصیت کر جائیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3110

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3111

3111 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ، وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: 234] «لَمْ يَقُلْ يَعْتَدِدْنَ فِي بُيُوتِهِنَّ، الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ» . . . . . . . . . . . [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3111 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی :﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ﴾ [البقرة: 234]" اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )( اور فرمایا ) اللہ تعالی نے یہ نہیں کہا : کہ اس گھر میں عدت گزاریں جس میں ان کے شوہر کا انتقال ہوا ہے بلکہ وہ جہاں چاہے عدت گزارے ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3111

chevron_left Previous
1…192021…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section