Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2884

2884 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ، قَالَا: ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَحَادِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَهَذَا الْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2884 - صحيح ليس له علة

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کریم تین لغتوں میں نازل ہوا ۔امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے حسن کی سمرہ سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے حماد بنسلمہ کی روایت نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔

«أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِرِوَايَةِ الْحَسَنِ، ← النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2884

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2885

2885 - أَخْبرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ حم، وَرُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ عَشِيَّةً، فَجَلَسَ إِلَيَّ رَهْطٌ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنَ الرَّهْطِ: اقْرَأْ عَلَيَّ، فَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ حُرُوفًا لَا أَقْرَؤُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟ قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ فَقُلْتُ لَهُ: اخْتَلَفَا فِي قِرَاءَتِنَا، فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَغَيَّرَ، وَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ، حِينَ ذَكَرْتُ لَهُ الِاخْتِلَافَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ قَبْلَكُمُ الِاخْتِلَافُ» ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيَّ عَلِيٌّ فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا عَلِمَ، فَانْطَلَقْنَا وَكُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَقْرَأُ حُرُوفًا لَا يَقْرَؤُهَا صَاحِبُهُ [ص:244]

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ نے سورہ حم پڑھائی ۔ پھر شام کے وقت مسجد آیا تو کچھ لوگ میرے ساتھ آ بیٹھے ، میں نے ان میں سے ایک آدمی سے کہا : تم مجھے ( سورہ حم ) سناؤ ، جب اس نے سورۃ سنائی تو اس میں کچھ الفاظ ایسے تھے جو میں نے نہیں پڑھے تھے ۔ میں نے اس پوچھا : تمہیں یہ سورۃ کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے کہا : مجھے یہ سورت خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی ہے ۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آ گئے ۔ آپ کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ، میں نے اس کہا کہ ہم دونوں کی قراتوں میں فرق آ رہا ہے ۔ جب میں نے اس کو اختلاف کے متعلق بتایا تو یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا رنگ ( غصہ کی وجہ سے ) متغیر ہونے لگا ۔ پھر آپ نے فرمایا : تم سے پہلی قوموں کو اختلاف نے ہی برباد کر ڈالا تھا ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرے کان میں سر گوشی میں کہا : رسول اللہ ﷺ تمہیں یہ حکم سے رہے ہیں کہ ہر شخص اسی طریقہ سے قرات کرے جیسے میں نے اس کو سکھایا ہے ۔ تو ہم لوگ وہاں سے چل دئیے اور ہم ایک دوسرے سے قرات میں فرق سے تلاوت کیا کرتے تھے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2885

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2886

2886 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ فِيهِ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ قَالَ زِرٌّ: إِنَّهُمْ يُعَيِّنُونَهُ يَعْنِي عَلِيًّا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2885 - صحيح

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے اس میں یہ ہے ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے ہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا ، زر کہتے ہیں : انہوں نے اس آدمی نام ذکر کیا ہے یعنی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

فِيهِ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ ← الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2886

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2887

2887 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «الْقِرَاءَةُ سَبْعَةٌ» قَالَ سُلَيْمَانُ: «يَعْنِي أَنْ لَا يُخَالِفَ النَّاسُ بِرَأْيِكَ فِي الِاتِّبَاعِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2887 - صحيح

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قراتیں 7 ہیں ۔ سلیمان رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی رائے کی بناء پر اتباع کرنے میں لوگوں سے اختلاف مت کر۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

«الْقِرَاءَةُ سَبْعَةٌ» ← أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو جَعْفَرٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2887

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2888

2888 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " قَرَأْنَا الْمُفَصَّلَ بِمَكَّةَ حِجَجًا لَيْسَ فِيهِ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2888 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے حج کے دوران مکہ میں " مفصل " سورتیں پڑھیں ، ان میں ( کہیں بھی ) یا ایھا الذین امنوا : ( کے الفاظ ) نہیں ہے ۔ ( مفصل سورتوں سے مراد قرآن کریم کی آخری سات سورتیں ہیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیات میں" یا ایھا الذین آمنوا " کے الفاظ ہیں وہ مدینہ میں نازل ہوئیں اور جن میں یا ایھا الناس کے الفاظ ہیں وہ مکہ میں نازل ہوئی ہیں ۔ شفیق )یہ حدیث امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2888

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2889

2889 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ» فَقَرَأَ: {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ} [البينة: 1] وَمِنْ نَعْتِهَا لَوْ أَنَّ ابْنَ آدَمَ سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ، فَأَعْطَيْتُهُ، سَأَلَ ثَانِيًا، وَإِنْ أَعْطَيْتُهُ ثَانِيًا، سَأَلَ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ، وَإِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ غَيْرَ الْيَهُودِيَّةِ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةِ، وَمَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2889 - صحيح

حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے قرآن سناؤں پھر آپ نے مجھے : " لم یکن الذین کفرو ا من اھل الکتاب والمشرکین "(البینۃ:1) " کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے ۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ) اور اس کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ اگر انسان پوری ایک وادی مال مانگے اور میں اس کو دے دوں تو وہ دوسری وادی کا بھی سوال کرے گا اور میں اس کو دوسری وادی بھی دے دوں تو وہ تیسری کا سوال کرے گا ۔ ابن آدم کا پیٹ ، مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی ۔ اور اللہ تعالی توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں مقبول دین " حنیفیہ " ہے ۔ یہودیت اور نصرانیت نہیں ہے جو شخص نیک عمل کرے گا اس ( کے ثواب ) کو ہرگز ضائع نہیں کیا جائے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَسَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2889

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2890

2890 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَقْرَأُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يُنَادِينِي مِنْ بَعْدِي، اتَّبِعِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَإِذَا هُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ، فَقُلْتُ: أَتَّبِعُكَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. فَقَالَ: أَهُوَ أَقْرَأَكَهَا كَمَا سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَرْسِلْ مَعِي رَسُولًا، قَالَ: اذْهَبْ مَعَهُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَانْظُرْ أَيُقْرِئُ أُبَيٌّ كَذَلِكَ؟ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُهُ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُبَيُّ، قَرَأْتُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَنَادَانِي مِنْ بَعْدِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: اتَّبِعِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَتَّبِعُكَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَرْسَلَ مَعِي رَسُولَهُ، أَفَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِيهَا كَمَا قَرَأْتَ؟ قَالَ أُبَيٌّ: نَعَمْ، قَالَ: فَرَجَعَ الرَّسُولُ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا إِلَى حَاجَتِي، قَالَ: فَرَاحَ عُمَرُ إِلَى أُبَيٍّ، فَوَجَدْتُ قَدْ فَرَغَ مِنْ غُسْلِ رَأْسِهِ، وَوَلِيدَتُهُ تَدَّرِي لِحْيَتَهُ بِمِدْرَاهَا، فَقَالَ أُبَيٌّ: مَرْحَبًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَزَائِرًا جِئْتَ أَمْ طَالِبَ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ: بَلْ طَالِبُ حَاجَةٍ، قَالَ: فَجَلَسَ وَمَعَهُ مَوْلَيَانِ لَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ لِحْيَتِهِ، وَأَدْرَتْ جَانِبَهُ الْأَيْمَنَ مِنْ لِمَّتِهِ، ثُمَّ وَلَّاهَا جَانِبَهُ الْأَيْسَرَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى عُمَرَ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: مَا حَاجَةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: يَا أُبَيُّ عَلَى مَا تُقَنِّطُ النَّاسَ، فَقَالَ أُبَيٌّ: «يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي تَلَقَّيْتُ الْقُرْآنَ مِنْ تِلْقَاءِ جِبْرِيلَ وَهُوَ رَطْبٌ» ، فَقَالَ عُمَرُ: تَالَلَّهِ مَا أَنْتَ بِمُنْتَهٍ، وَمَا أَنَا بِصَابِرٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَامَ فَانْطَلَقَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2890 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ مدینے کے راستے سے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھتا ہوا گزر رہا تھا تو اچانک پیچھے سے ایک آدمی نے آواز دے کر کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اتباع کرو ۔ ( جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ) وہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ میں نے ان سے کہا : میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا : میں نے آپ کو جیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے کیا انہوں نے تمہیں اسی طرح پڑھایا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ انہوں نے میرے ہمراہ اپنا ایک قاصد بھیجا اور کہا : اس کے ساتھ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس بات کی تحقیق کر کے آؤ کہ کیا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اسی طرح پڑھاتا ہے ۔ چنانچہ میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد دونوں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے ۔ میں نے کہا: اے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ! میں فلاں آیت پڑھتے ہوئے جا رہا تھا کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے آواز دی اور کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اتباع کرو۔ میں نے کہا : میں تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتا ہوں انہوں نے میرے ہمراہ اپنا قاصد بھیجا ہے ( آپ اس کو بتائیے کہ ) میں جیسے قرات کر رہا ہوں کیا آپ نے مجھے وہی قرات سکھائی ہے ؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی یہ تصدیق سن کر ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قاصد واپس چلا گیا اور میں اپنے کام چلا گیا ( راوی کہتے ہیں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کے وقت ( خود ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے ۔ اس وقت ( ابی بن کعبرضی اللہ عنہ) سر دھو کر فارغ ہوئے تھے اور ان کی بچی ان کی داڑھی میں کنگھی کر رہی تھی ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے : امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید ، آپ صرف زیارت کے لئے آئے ہیں یا کوئی کام تھا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں صرف ملاقات کے لئے نہیں ) بلکہ کام سے آیا ہوں ۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے ۔ جب داڑھی سنوار کر فارغ ہوئے تو اپنی زلفوں کو سنوارا ،جب زلفیں سنوار کر فارغ ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب متوجہ ہو کر بولے: امیر المومنین رضی اللہ عنہ کو کیا کام ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : اے ابی رضی اللہ عنہ تم کس بناء پر لوگوں کو مایوس کئے جا رہے ہو ؟ ابی رضی اللہ عنہ بولے : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ میں جوانی اور صحت کے دنوں میں حضرت جبریل علیہ السلام امین کی جانب سے قرآن سیکھا ۔ ( اس لئے میری قراءت غلط نہیں ہو سکتی ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : تو احسان ماننے والا نہیں اور میں صبر کرنے والا نہیں ہوں ۔ یہ بات تین مرتبہ بولی اور وہاقں سے چلے آئے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2890

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2891

2891 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ: {إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ، حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ} [الفتح: 26] وَلَوْ حَمَيْتُمْ، كَمَا حَمُوا، لَفَسَدَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ {فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ} [الفتح: 26] ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَهْنَأُ نَاقَةً لَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَدَعَا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ: مَنْ يَقْرَأُ مِنْكُمْ سُورَةَ الْفَتْحِ؟ فَقَرَأَ زَيْدٌ عَلَى قِرَاءَتِنَا الْيَوْمَ، فَغَلَّظَ لَهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: أَأَتَكَلَّمُ؟ فَقَالَ: تَكَلَّمْ، لَقَدْ عَلِمْتَ «أَنِّي كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُقْرِئُنِي، وَأَنْتُمْ بِالْبَابِ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ أُقْرِئَ النَّاسَ عَلَى مَا أَقْرَأَنِي، أَقْرَأَتْ، وَإِلَّا لَمْ أُقْرِئْ حَرْفًا مَا حَيِيتُ» قَالَ: بَلْ أَقْرِئِ النَّاسَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2891 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ سورۃ فتح کی آیت نمبر 26یوں پڑھا کرتے تھے : " اذجعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ ولو حمیتم کما حمو ا لفسد المسجد الحرام فانزل اللہ سکینۃ علی رسولہ ( الفتح :26) یہ بات حضرت عمر تک پہنچی تو وہ اس بات پر سخت برہم ہوئے ، انہوں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک آدمی بھیجا ، اس وقت وہ اپنے اونٹ پر تار کول مل رہے تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود ان کے پاس چلے آئے اور ان کے کچھ ساتھیوں کو بلایا ، ان میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : تم میں سے کون سورۃفتح پڑھے گا ؟ تو زید رضی اللہ عنہ نے ہمارے طریقے کے مطابق قرات کی ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان پر بھی ناراض ہوئے ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : میں کچھ بولوں ؟ آپ نے کہا : بولو ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے بالکل قریب بیٹھا کرتا تھا اور آپ مجھے قرآن سنایا کرتے تھے جبکہ تم لوگ اس وقت دروازے پر ہوتے تھے ، اب اگر آپ کہتے ہیں کہ میں نے جس طرح رسول اللہ ﷺ سے قرآن سنا ہے اسی طرح لوگوں کو سناتا رہوں تو میں سناتا رہوں گا اور اگر آپ نہیں چاہتے تو میں ساری زندگی ایک حرف بھی زبان سے نہیں نکالوں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : ( نہیں ) بلکہ آپ لوگوں کو قرآن سناتے رہیں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2891

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2892

2892 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: «أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَتَعَلَّمَ الْعِلْمَ، فَلَمَّا دَخَلْتُ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا النَّاسُ فِيهِ حِلَقٌ يَتَحَدَّثُونَ» ، قَالَ: " فَجَعَلْتُ أَمْضِي حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا رَجُلٌ شَاحِبٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ، كَأَنَّمَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، وَلَا آسَى عَلَيْهِمْ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، هَلَكَ أَصْحَابُ الْعِقْدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: " فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَتَحَدَّثَ مَا قُضِيَ لَهُ ثُمَّ قَامَ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا سَيِّدُ النَّاسِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ " قَالَ: " فَتَبِعْتُهُ حَتَّى أَتَى مَنْزِلَهُ، فَإِذَا هُوَ رَثُّ الْمَنْزِلِ، رَثُّ الْكِسْوَةِ، رَثُّ الْهَيْئَةِ، يُشْبِهُ أَمْرُهُ بَعْضُهُ بَعْضًا، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلَنِي مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، قَالَ: أَكْثَرُ شَيْءٍ سُؤَالًا، وَغَضِبَ "، قَالَ: " فَاسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ ثُمَّ جَثَوْتُ عَلَى رُكْبَتِي وَرَفَعْتُ يَدَيَّ هَكَذَا، وَمَدَّ ذِرَاعَيْهِ فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْكُوهُمْ إِلَيْكَ، إِنَّا نُنْفِقُ نَفَقَاتِنَا، وَنُنْصِبُ أَبْدَانَنَا، وَنُرَجِّلُ مَطَايَانَا، ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ، فَإِذَا لَقِينَاهُمْ، تَجَهَّمُوا لَنَا وَقَالُوا لَنَا، قَالَ: فَبَكَى أُبَيٌّ وَجَعَلَ يَتَرَضَّانِي وَيَقُولُ: وَيْحَكَ، إِنِّي لَمْ أَذْهَبْ هُنَاكَ "، ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ: أُعَاهِدُكَ لَإِنْ أَبْقَيْتَنِي إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لَأَتَكَلَّمَنَّ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَخَافُ فِيهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، قَالَ: «ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْهُ وَجَعَلْتُ أَنْتَظِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ، خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي، فَإِذَا الطُّرُقُ مَمْلُوءَةٌ مِنَ النَّاسِ، لَا آخُذُ فِي سِكَّةٍ إِلَّا اسْتَقْبَلَنِي النَّاسُ» ، قَالَ: " فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ " قَالُوا: إِنَّا نَحْسِبُكَ غَرِيبًا، قَالَ: قُلْتُ: «أَجَلْ» ، قَالُوا: مَاتَ سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: «فَلَقِيتُ أَبَا مُوسَى بِالْعِرَاقِ فَحَدَّثْتُهُ» ، فَقَالَ: هَلَّا كَانَ يَبْقَى حَتَّى تُبَلِّغَنَا مَقَالَتَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2892 - على شرط مسلم

حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں حصول علم کی خاطر آیا ، جب مسجد نبوی علیہ الصلوۃ والسلام میں داخل ہو ا تو وہاں پر لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھے تھے باہم گفتگو کر رہے تھے ۔ میں ان میں سے گزرتا ہوا ایک حلقہ میں پہنچا ، اس میں دو کپڑوں میں ملبوس ایک لاغر سا آدمی بیٹھا ہوا تھا ، لگتا تھا وہ ابھی ابھی کسی سفر سے آیا تھا ، میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : رب کعبہ کی قسم " اصحاب عقد " ہلاک ہو گئے اور مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بات تین بار کہی : رب کعبہ کی قسم ! " اصحاب عقد " ہلاک ہو گئے ، رب کعبہ کی قسم ! " اصحاب عقد " ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم ! " اصحاب عقد " ہلاک ہو گئے ۔ میں ان کے قریب بیٹھ گیا وہ اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے پھر وہ اٹھ گئے ۔ میں نے ان سے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کے سردار حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے ( جندب ) کہتے ہیں : میں ان کے پیچھے چل دیا اور چلتا چلتا ان کے گھر تک پہنچ گیا ( میں نے ان کے گھر کی حالت دیکھی ) بہت خستہ حالت تھی ، لباس بھی کوئی خاص نہ تھا اور ان کی اپنی بھی حالت پرا گندہ تھی اور ان کا رہن سہن بالکل عام لوگوں جیسا تھا ۔ میں نے ان کو سلام کیا ، انہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا اور پھر مجھ سے پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے کہا :عراق سے ۔ انہوں نے کہا : یہ لوگ بہت سوالات کرتے ہیں ، اور پھر وہ ناراض ہو گئے ، میں قبلہ رو ہوا اور اپنے گھٹنوں کے بل جھک گیا اور یوں اپنے ہاتھ بلند کئے ( یہ کہتے ہوئے انہوں نے ) اپنے دونوں بازو کھول دئیے ، میں نے کہا : میں تو آپ کے پاس ان کی شکایت لے کر آیا ہوں ، ہم نے حصول علم کی خاطر اپنے مال خرچ کئے ، اپنے جسم پیش کئے اور اپنی سواریوں کو چلایا لیکن جب ہم ان سے ملے تووہ ہم سے ترش روئی کے ساتھ پیش آئے اور ہم سے نامناسب گفتگو کی ( جندب ) کہتے ہیں : ( میری بات سن کر ) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے اور مجھے راضی کرتے ہوئے بولے : افسوس ! کہ میں ابھی وہاں تک نہیں جا سکا ۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: میرا تیرے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر اس جمعہ تک میری زندگی رہی تو میں تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور اس سلسلے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ( جندب ) کہتے ہیں: میں واپس آ گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا ۔ جب جمعرات آئی تو میں اپنے ایک ضروری کام سے باہرنکلا تو تمام گلیوں بازاروں میں نہت رش تھا ۔ میں جس گلی میں بھی گیا وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ملی، میں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ تو لوگوں نے جواب دیا : شاید آپ یہاں کے رہنے والے نہیں ہیں ۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ لوگوں نے بتایا: سید المسلمین حضرت ابی بن کعب وفات پا گئے ہیں ۔ ( جندب ) کہتے ہیں : پھر میں عراق میں ابو موسی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا : کاش وہ زندہ ہوتے اور ان کی وہ بات ہم تک پہنچ جاتی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

جُنْدُبٍ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2892

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2893

2893 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا مَنْ يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ. قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ، وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّجُلِ، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَمَا زَالَ يُطْفِئُ وَيُسَرِّي الْغَضَبَ، حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجْنَا نَمْشِي مَعَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ، فَلَمَّا أَعْيَانَا أَنْ نَعْرِفَ مَنِ الرَّجُلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ، كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ: «سَلْ تُعْطَهْ» فَقَالَ عُمَرُ فَقُلْتُ: «وَاللَّهِ لَأَغْدُوَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ» ، قَالَ: «فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي فَبَشَّرَهُ، فَوَاللَّهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2893 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ میدان عرفات میں تھے اس نے کہا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! میں کوفہ سے آیا ہوں اور وہاں پر ایک ایسا آدمی ہے جو زبانی قرآن کریم کی املاء کرواتا ہے ۔ علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ اس بات پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت شدید ناراض اور غضبناک ہوئے اور پوچھنے لگے : وہ کون ہے ؟ علقمہ رضی اللہ عنہ نے نے جواب دیا : عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( یہ نام سنتے ہی ) ان کا غصہ کافور ہونے لگا حتی کہ وہ نارمل حالت پر واپس آ گئے ، پھر بولے : افسوس ! خدا کی قسم ! اس وقت مسلمانوں میں ( قرآن کی املاء کروانے کے حوالے سے ) ان سے زیادہ بہتر کوئی شخص نہیں ہے ۔ میں اس سلسلہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں : رسول اکرم ﷺ مسلمانوں کے معاملات میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک رات آپ ﷺ نے حجرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا ، اس رات میں بھی ان کے ہمراہ تھا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ چل دئیے ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی مسجد مین نماز پڑھ رہا تھا ، رسول اللہ ﷺ اس کی قرات سننے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ جب ہم اس شخص کو پہچاننے سے عاجز ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص قرآن کی تلاوت اس انداز میں پڑھنا چاہے ، وہ ام معبد رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے قرآن پڑھ لے ۔ پھر وہ شخص بیٹھ کر دعا مانگنے لگا تو رسول اللہ ﷺ اس کے متعلق فرمانے لگے : ( اے دعا مانگنے والے ) تم جو مانگو گے تمہیں ملےگا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے سوچا کہ میں کل صبح سویرے اس آدمی کو آ کر یہ خوشخبری سنا ؤں گا ۔ آپ فرماتے ہیں : میں اگلے دن صبح سویرے اس کو خوشخبری سنانے گیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے اس کے پاس پہنچے ہوئے تھے اور ان کو خوشخبری سنا چکے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : خدا کی قسم ! میں نے جب بھی کسی نیکی میں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے آگے نکلنے کی کوشش کی ہے ( مین اس میں کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہی ہمیشہ جیتے ہیں ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2893

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2894

2894 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ آدَمَ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» حَدِيثُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ، صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَتَوَهَمُهُمَا لَمْ يَصِحَّ عِنْدَهُمَا سَمَاعُ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ مِنْ عُمَرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ " وَلَهُ شَاهِدٌ مُفَسَّرٌ مِنْ حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نت ارشاد فرمایا : جو شخص بالکل اس انداز میں قرآن پڑھنا چاہتا ہے جس طرح نازل ہوا ہے ۔ اس کو چاہئے کہ وہ " ابن ام معبد رضی اللہ عنہ " کی قرات کے مطابق قرآن پاک پڑھے ۔علقمہ رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا اور میرا خیال ہے کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے ۔ واللہ اعلم ۔

مَنْ أَحَبَّ ← عُمَرَ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ آدَمَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2894

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2895

2895 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ صَخْرٍ الْأَيْلِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ حَرْفًا حَرْفًا، فَقَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ قرآن پاک کی حرف حرف کر کے تلاوت کر رہے تھے ( آپ نے ان کی تلاوت سن کر ) فرمایا : جو شخص قرآن پاک کی اسی انداز میں تلاوت کرنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات کے مطابق تلاوت کرے ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَخْرٍ الْأَيْلِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2895

chevron_left Previous
1234…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section