Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3088

3088 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ، قَالَ: كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّامِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَخَرَجَ صَفٌّ عَظِيمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَهُمْ صَفًّا عَظِيمًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا مُقْبِلًا فَصَاحَ فِي النَّاسِ، فَقَالُوا: أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ دِينَهُ وَكَثُرَ نَاصِرِيهِ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ، فَلَوْ أَقَمْنَا فِيهَا فَأَصْلَحْنَا مِنْهَا. فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مَا هَمَمْنَا بِهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ فِي الْإِقَامَةِ عَلَى أَمْوَالِنَا الَّتِي أَرَدْنَا، فَأُمِرْنَا بِالْغَزْوِ «فَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3088 - على شرط البخاري ومسلم

بنی تجیب کے غلام ابو عمران اسلم کہتے ہیں : ہم قسطنطنیہ میں تھے ، ان دنوں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے اور شام پر حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کی حکومت تھے ۔ تو روم سے ایک عظیم لشکر نکلا اور ان کے لئے ہم نے مسلمانوں کا ایک لشکر جرار تیار کر لیا ۔ ایک مسلمان شخص نے رومیوں کی فوج پر حملہ کر دیا اور وہ ان کی صفوں میں جا گھسا پھر وہ ہماری طرف نکلا اور چیخنے لگا ، لوگوں نے کہا : اس نے اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالا ہے تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی بولے : اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو تو ہم انصاریوں کے متعلق نازل ہو ئی تھی کیونکہ جب اللہ تعالی نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کے مددگاروں کی کثرت ہو گئی تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : بے شک ہمارے اموال ضائع ہو چکے ہیں کتنا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے اموال می"ں ٹھہریں ےتو ہم جو ارادہ رکھتے ہیں اللہ تعالی ہمیں وہ لوٹا دے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195]" اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو ہمارا اپنے مالوں میں ٹھہرنا ہلاکت قرار دیا گیا جن کا ہم نے ارادہ کیا ہوا تھا چنانچہ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا ، اس کے بعد وفات ےک حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ مسلسل جہاد فی سبیل اللہ میں رہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ← محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3088

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3089

3089 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ: {وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] أَهُوَ الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فَيُقَاتِلُ حَتَّى يُقْتَلَ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ هُوَ الرَّجُلُ يُذْنِبُ الذَّنْبَ، فَيَقُولُ: لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3089 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ای شخص نے ان سے کہا : اے ابو عمارہ کیا :﴿ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ﴾ [البقرة: 195] " اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) سے مراد وہ شخص ہے جو دشمن کے مقابلے میں آئے ، پھر اس سے لڑ پڑے اور قتل کر دیا جائے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کرے اور سمجھے کہ اللہ تعالی اس کو معاف نہیں کرے گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَا، وَلَكِنْ هُوَ الرَّجُلُ يُذْنِبُ الذَّنْبَ، ← لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ: أَهُوَ الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فَيُقَاتِلُ حَتَّى يُقْتَلَ؟ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3089

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3090

3090 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، سُئِلَ عَلِيٌّ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: 196] قَالَ: «أَنْ تُحْرَمَ مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3090 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں سوال کیا گیا :﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [البقرة: 196]" اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) انہوں نے فرمایا : ( اس کا مطلب یہ ہے کہ ) تم اپنے گھر سے ہی احرام باندھ کر نکلو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، سُئِلَ عَلِيٌّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3090

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3091

3091 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَؤُهَا: «فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3091 - صحيح

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ درج ذیل آیت کو اس طرح پڑھا کرتے تھے : ﴿ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ﴾( متتابعات) [البقرة: 196]" پھر جسے مقدور نہ وہ تو تین روزے ( حج ) کے دنوں میں یہاں رکھے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3091

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3092

3092 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} [البقرة: 197] قَالَ: «شَوَّالٌ، وَذُو الْقَعْدَةِ، وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3092 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں : ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ﴾ [البقرة: 197]" حج کے کئی مہینے ہیں جانے ہوئے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اس سے مراد شوال ، ذی قعد کا مہینہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ، {الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ} {البقرة: ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3093

3093 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِالْإِبِلِ، وَهُوَ يَقُولُ: «وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا» ، قَالَ: قُلْتُ: أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: «إِنَّمَا الرَّفَثُ مَا رُوجِعَ بِهِ النِّسَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3093 - صحيح

ابو العالیہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چل رہا تھا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ احرام کی حالت میں تھے وہ اپنے اونٹ پر حدی خوانی کرتے ہوئے یوں کہہ رہے تھے " اور وہ ہمارے ساتھ آہستہ چال چل رہی ہیں ( ابو العالیہ ) کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ احرام کی حالت میں رفث کر رہے ہو ؟ تو آپ نے فرمایا : رفث تو وہ ہوتی ہے جس کے ذریعے عورتوں کو متوجہ کیا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

قُلْتُ: أَتَرْفُثُ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ← وَهُنَّ يَمْشِينَ بِنَا هَمِيسًا ← كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِالْإِبِلِ وَهُوَ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3093

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3094

3094 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " الرَّفَثُ: الْجِمَاعُ، وَالْفُسُوقُ: مَا أُصِيبَ مِنْ مَعَاصِي اللَّهِ مِنْ صَيْدٍ وَغَيْرِهِ، وَالْجِدَالُ: السِّبَابُ وَالْمُنَازَعَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3094 - على شرط مسلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "رفث " ( سے مراد ) " جماع ہت اور "فسوق " سے مراد شکار وغیرہ کرنے کی احرام کی خلاف ورزی ہے اور "جدال " سے مراد گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3094

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3095

3095 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانُوا فِي أَوَّلِ الْحَجِّ يَتَبَايَعُونَ بِمِنًى كَسُوقِ الْمَجَازِ، وَمَوَاسِمِ الْحَجِّ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ، خَافُوا الْبَيْعَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ} [البقرة: 198] فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3095 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگ اسلام کے اوائل میں ، ایام حج میں " سوق المجاز " کی طرح منی میں بھی خرید فروخت کیا کرتے تھے جب قرآن پاک نازل ہوا تو لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا ، اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : " تم پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← أسمع ← قرئ على يحيى بن جعفر ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3095

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3096

3096 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: {الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ} [البقرة: 198] : «الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3096 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں : المشعر الحرام پورا مزدلفہ ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3096

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3097

3097 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ، كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا، فَهَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِهِمْ، وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ، مِثْلَ عَمَائِمِ الرِّجَالِ عَلَى رُءُوسِهَا فَهَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3097 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مسور بن مخرمہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عرفہ میں خطبہ دیا ، اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : اما بعد ! بت پرست اور مشرکین یہاں سے غروب آفتاب کے وقت یہاں سے کوچ کرتے ہیں ، جب سورج ان پہاڑوں پر اس کیفیت میں ہو جاتا ہے جیسے لوگوں کے سروں پر عمامے ہوتے ہیں جبکہ ہمیں ان کے مخالف راہنمائی کی گئی ہے اور وہ لوگ مشعر الحرام سے طلوع آفتاب کے وقت نکلتے تھے ، جب سورج ان پہاروں پر اس طرح ہوتا ہے جیسے لوگوں کے سروں پر پگڑیاں چنانچہ ہماری ہدایات ان کے طریقہ کار کے مخالف تھیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَفَةَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَيْشِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3097

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3098

3098 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ وَالْحَجَرِ: " {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3098 - صحيح

حضرت عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کے والد حضرت سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو رکن یمانی اور حجر ( اسود ) کے درمیان یہ دعا مانگتے سنا ہے ۔" اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا " یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ السَّائِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ؛ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← محمد بن يعقوب الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3098

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3099

3099 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: إِنِّي أَجَرْتُ نَفْسِي مِنْ قَوْمِي عَلَى أَنْ يَحْمِلُونِي، وَوَضَعْتُ لَهُمْ مِنْ أُجْرَتِي عَلَى أَنْ يَدَعُونِيَ أَحُجَّ مَعَهُمْ أَفَيُجْزِي ذَلِكَ؟ قَالَ: " أَنْتَ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ} [البقرة: 202] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3099 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : میں نے اپنی قوم کے ساتھ اس بات پر اجارہ کر رکھا ہے کہ وہ مجھے اپنا بوجھ اٹھواتے رہیں جبکہ میں نے اپنی اجرت ان کو اس شرط پر معاف کر رکھی ہے کہ وہ مجھے اپنے ہمراہ حج پر لے جائیں گے ۔ کیا یہ میرے لئے جائز ہے ؟ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ) بولے : تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالی نے فرمایا ہے:"ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے ، اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

جَاءَ رَجُلٌ إلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3099

chevron_left Previous
1…181920…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section