المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3088
3088 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ، قَالَ: كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّامِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَخَرَجَ صَفٌّ عَظِيمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَهُمْ صَفًّا عَظِيمًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا مُقْبِلًا فَصَاحَ فِي النَّاسِ، فَقَالُوا: أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ دِينَهُ وَكَثُرَ نَاصِرِيهِ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ، فَلَوْ أَقَمْنَا فِيهَا فَأَصْلَحْنَا مِنْهَا. فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مَا هَمَمْنَا بِهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ فِي الْإِقَامَةِ عَلَى أَمْوَالِنَا الَّتِي أَرَدْنَا، فَأُمِرْنَا بِالْغَزْوِ «فَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3088 - على شرط البخاري ومسلم
بنی تجیب کے غلام ابو عمران اسلم کہتے ہیں : ہم قسطنطنیہ میں تھے ، ان دنوں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مصر کے گورنر تھے اور شام پر حضرت فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ کی حکومت تھے ۔ تو روم سے ایک عظیم لشکر نکلا اور ان کے لئے ہم نے مسلمانوں کا ایک لشکر جرار تیار کر لیا ۔ ایک مسلمان شخص نے رومیوں کی فوج پر حملہ کر دیا اور وہ ان کی صفوں میں جا گھسا پھر وہ ہماری طرف نکلا اور چیخنے لگا ، لوگوں نے کہا : اس نے اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالا ہے تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی بولے : اے لوگو! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو تو ہم انصاریوں کے متعلق نازل ہو ئی تھی کیونکہ جب اللہ تعالی نے اپنے دین کو عزت بخشی اور اس کے مددگاروں کی کثرت ہو گئی تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : بے شک ہمارے اموال ضائع ہو چکے ہیں کتنا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے اموال می"ں ٹھہریں ےتو ہم جو ارادہ رکھتے ہیں اللہ تعالی ہمیں وہ لوٹا دے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [البقرة: 195]" اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو ہمارا اپنے مالوں میں ٹھہرنا ہلاکت قرار دیا گیا جن کا ہم نے ارادہ کیا ہوا تھا چنانچہ ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا ، اس کے بعد وفات ےک حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ مسلسل جہاد فی سبیل اللہ میں رہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔
أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ← محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3088
