Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3064

3064 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زِيَادٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} [البقرة: 144] قَالَ: " شَطْرُهُ: قِبَلُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3064 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اللہ تعالی کے ارشاد ) :﴿ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ﴾ [البقرة: 144]" ابھی اپنا چہرہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )( کے متعلق فرماتے ہیں اس میں شطر سے مراد ) اس کی " جانب " ہے ۔ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَلِيٍّ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ [البقرة: ← عُمَيْرِ بْنِ زِيَادٍ الْكِنْدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3064

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3065

3065 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ قَمْطَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، بِإِزَاءِ الْمِيزَابِ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا} [البقرة: 144] قَالَ: «نَحْوَ مِيزَابِ الْكَعْبَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3065 - صحيح

حضرت یحیی بن قطہ کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو مسجدحرام میں منبر کے سامنے بیٹھے دیکھا ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ﴾ [البقرة: 144]" تو ضرور ہم تہمیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) انہوں نے کہا : کعبہ کے میزاب کی جانب ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

يَحْيَى بْنِ قِمطََةَ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3065

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3066

3066 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبِرِ وَالصَّلَاةِ} [البقرة: 45] قَالَتْ: غُشِيَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ غَشْيَةً، فَظُنُّوا أَنَّهُ فَاضَ نَفْسُهُ فِيهَا، فَخَرَجَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ كُلْثُومٍ إِلَى الْمَسْجِدِ، تَسْتَعِينُ بِمَا أُمِرَتْ بِهِ مِنَ الصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ: «أُغْشِيَ عَلَيَّ آنِفًا؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " صَدَقْتُمْ إِنَّهُ جَاءَنِي مَلَكَانِ فَقَالَا: انْطَلِقْ نُحَاكِمْكَ إِلَى الْعَزِيزِ الْأَمِينِ، فَقَالَ مَلَكٌ آخَرُ: أَرْجِعَاهُ فَإِنَّ هَذَا مِمَّنْ كَتَبْتُمْ لَهُ السَّعَادَةَ، وَهُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَيَسْتَمْتُعُ بِهِ بَنُوهُ مَا شَاءَ اللَّهُ «فَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ شَهْرًا ثُمَّ مَاتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3066 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سب سے پہلے ہجرت کرنے والی خواتین میں شمار ہوتی ہیں آپ اللہ تعالی کے ارشاد : ﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ﴾ [البقرة: 45]" اور صبر اور نماز سے مدد چاہو "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے حوالے سے فرماتی ہیں : ایک دفعہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو غشی آ گئی ، لوگ یہ سمجھے کہ ان کا سانس ڈوب گیا ہے چنانچہ ان کی بیوی ام کلثوم رضی اللہ عنہا مسجد میں حکم الہی کے مطابق صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے گئیں ، جب حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو افاقہ ہوا تو وہ بولے : کیا ابھی مجھ پر غشی طاری ہوئی تھی ؟ لوگوں نے کہا :جی ہاں ۔ تو عبدالرحمن بولے : تم لوگ سچ کہہ رہے ہو ابھی میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ، انہوں نے مجھے کہا : چل ہم تیرا فیصلہ عزیز اور امین ( یعنی اللہ تعالی ) کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں ۔ تو ایک فرشتے نے ان سے کہا : اس کو واپس لے جاؤ کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو ماں کے پیٹ میں ہی نیک بخت لکھ دیا گیا تھا اور اس کی اولاد اس سے فائدہ حاصل کرے گی جس قدر اللہ تعالی چاہے گا ۔ اس کے بعد پورا ایک مہینہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ زندہ رہے پھر ان کا انتقال ہو گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

غُشِيَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ غَشْيَةً، فَظُنُّوا ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3066

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3067

3067 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " جَاءَهُ نَعْيُ بَعْضِ أَهْلِهِ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: فَعَلْنَا مَا أَمَرَ اللَّهُ: {اسْتَعِينُوا بِالصَّبِرِ وَالصَّلَاةِ} [البقرة: 153] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3067 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ دوارن سفر ان کو کسی رشتہ دار کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی پھر بولے : ہم نے وہی کیا ہے جس کا ہمارے اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے' کہ نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو " ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

جَاءَهُ نَعْيُ بَعْضِ أَهْلِهِ، وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن الحسين ← هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ صَفْوَانَ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3067

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3068

3068 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " نِعْمَ الْعِدْلَانِ، وَنِعْمَ الْعِلَاوَةُ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ، قَالُوا: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ، نِعْمَ الْعِدْلَانِ، وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ، نِعْمَ الْعِلَاوَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْلَمُ خِلَافًا بَيْنَ أَئِمَّتِنَا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَدْرَكَ أَيَّامَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا اخْتَلَفُوا فِي سَمَاعِهِ مِنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3068 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دونوں گواہ اچھے ہیں اور علاوۃ ( سر یا گردن کا اوپر کا حصہ ) اچھی ہے ۔﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ١٥٦﴾ [البقرة: 156] "کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ۔﴿أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [البقرة: 157]" یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمتیں " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) دونوں گواہ اچھے ہیں ( تفسیر قرطبی میں ہے کہ عدلان سے یہاں پر مراد صلاۃ اور رحمت ہے ۔ شفیق ) ﴿ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ١٥٧﴾ [البقرة: 157]" اور یہی لوگ راہ پر ہیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )اور یہ العلاوۃ اچھی ہے ۔( تفسیر قرطبی میں کہ یہاں پر اس سے مراد ہدایت حاصل کرنا ہے ۔ شفیق ) ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے ائمہ کے درمیان اس بات میں اختلاف ہو کہ حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور پایا ہے ۔ تاہم حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کے متعلق اختلاف موجود ہے ۔

لِلَّهِ ← نعم العدلان ونعم العلاوة الذين إذا أصابتهم مصيبة ← عُمَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3069

3069 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ كَانُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، إِذَا أَحْرَمُوا لَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] «إِلَى آخِرِ الْآيَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3069 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : یہ آیت:﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ﴾ [البقرة: 158] " بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں سے ہیں ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) انصار کے متعلق نازل ہو ئی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ احرام باندھ لیتے تو وہ صفا و مروہ کی سعی کو ناجائز سمجھتے تھے ۔ جب ہم وہاں آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہ مسئلہ ذکر کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [البقرة: 158]ی :" بیشک صفا اور مروۃ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )آیت کے آخر تک ۔ نوٹ : صدر الا فاضل حضرت علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آباد ی رحمتہ اللہ علیہ نے خزائن العرفان میں اس آیت کا شان نزول اس طرح بیان فرمایا ہے : " زمانہ جاہلیت میں صفا و مروہ پر دو بت رکھے تھے صفا پر جو بت تھا اس کا نام اساف اور جو مروہ پر تھا اس کا نام نائلہ تھا کفار جب صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تو ان بتوں پر تعظیماً ہاتھ پھیرتے ۔ عہد اسلام میں بت تو توڑ دئیے گئے لیکن چونکہ کفار یہاں مشرکانہ فعل کرتے تھے اس لئے مسلمانوں کو صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا گراں ہوا کہ اس میں کفار کے مشرکانہ فعل کے ساتھ کچھ مشابہت ہے اس آیت میں ان کا اطمینان فرما دیا گیا کہ چونکہ تمہاری نیت خالص عبادت الہی کی ہے تمہیں اندیشہ مشابہت نہیں اور جس طرح کعبہ کے اندر زمانہ جاہلیت میں کفار نے بت رکھے تھے اب عہد اسلام میں بت اٹھا دئیے گئے اور کعبہ شریف کا طواف درست رہا اور وہ شعائر دین میں سے رہا اسی طرح کفار کی بت پرستی سے صفا و مروہ کے شعائر دین ہونے میں کچھ فرق نہیں آیا ' شفیق ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3069

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3070

3070 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ: " كَانَتَا مِنْ مَشَاعِرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ} [البقرة: 158] اللَّهِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا الْآيَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3070 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ دونوں جاہلیت کی علامتیں ہوا کرتی تھیں ، جب اسلام آیا تو ہم ان سے رک گئے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی :﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ [البقرة: 158] " بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3070

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3071

3071 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ، أَوْ أَبْدَأُ بِالْمَرْوَةِ قَبْلَ الصَّفَا، وَأُصَلِّي قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ، أَوْ أَطُوفُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، وَأَحْلِقُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، أَوْ أَذْبَحُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «خُذْ ذَاكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُحْفَظَ» ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] «فَالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَةِ» ، وَقَالَ: {لَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} «فَالذَّبْحُ قَبْلَ الْحَلْقِ» وَقَالَ: {طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} [البقرة: 125] : «فَالطَّوَافُ قَبْلَ الصَّلَاةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3071 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کے پاس ایک آدمی آیا اور پوچھنے لگا : میں سعی کا آغاز صفا سے کروں یا مروہ سے ؟ اور پہلے نماز پڑھوں یا نماز سے پہلے طواف کروں ؟ اور پہلے حلق کراؤں یا پہلے قربانی کروں ؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان تمام مسائل کا حل قرآن پاک سے حاصل کرو کیونکہ بہتر یہی ہے کہ اسی کو محفوظ کیا جائے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا :﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ﴾ [البقرة: 158]" بیشک صفااور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں '۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )معلوم ہوا کہ صفا ، مروہ سے پہلے ہے ۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا : ﴿ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [البقرة: 196]" اور اپنے سرنہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) معلوم ہوا کہ ذبح ، حلق سے پہلے ہے ۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ﴿طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ١٢٥﴾ [البقرة: 125]" کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجود والوں کے لئے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) معلوم ہوا کہ طواف ، نماز سے پہلے ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أتاه رجل ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3071

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3072

3072 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ رَآهُمْ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، قَالَ: «هَذَا مِمَّا أَوْرَثَتْكُمْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3072 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ لوگوں کو صفا مروہ کی سعی کرتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے : یہ وہ عمل ہے جو تمہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سے ملا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ رَآهُمْ يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3072

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3073

3073 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ} [البقرة: 158] قَالَ: كَانَتِ الشَّيَاطِينُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَعْزِفُ اللَّيْلَ أَجْمَعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَتْ فِيهَا آلِهَةٌ لَهُمْ أَصْنَامٌ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَ الْمُسْلِمُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا نَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَإِنَّهُ شَيْءٌ كُنَّا نَصْنَعُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. " فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا} [البقرة: 158] " يَقُولُ: لَيْسَ عَلَيْهِ إِثْمٌ وَلَكِنْ لَهُ أَجْرٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3073 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ﴾ [البقرة: 158]" بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں شیاطین صفا اور مروہ کے درمیان رات کے وقت جمع ہو کر گانے گایا کرتے تھے اور ان دونوں ( صفا اور مروہ ) کے درمیان انہوں نے اپنے بت رکھے ہوئے تھے ، جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے کہا: ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کریں گے کیونکہ ( یہاں پر ) ہم زمانہ جاہلیت میں ( نا پسندیدہ ) عمل کیا کرت تھے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا ﴾ [البقرة: 158]" تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے ۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اللہ تعالی تو فرماتا ہے کہ صفا و مروہ کی سعی کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ اس کےلئے تو ثواب ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← أَبِي مَالِکٍ ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3073

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3074

3074 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرِو، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: «لَوْلَا آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَخْبَرْتُ أَحَدًا شَيْئًا» . قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: " آيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ، أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ، وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ، إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا} [البقرة: 160] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3074 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر ایک آیت نہ ہوتی تو میں کسی کو کچھ نہ بتاتا ۔ آپ سے پوچھا گیا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ کون سی آیت ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ آیت ہے :﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ١٥٩ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا ﴾ [البقرة: 159-160]" بیشک وہ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے لئے ہم اسے کتاب میں واضح فرما چکے ان پر اللہ کی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی لعنے مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَحَدًا شَيْئًا» قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ ← «لَوْلَا آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3074

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3075

3075 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ نَفَسِ الرَّحْمَنِ، قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} [البقرة: 164] وَلَكِنْ قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ أُسْنِدَ مِنْ حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ مِنْ غَيْرِ هَذِهِ الرِّوَايَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3075 - على شرط البخاري

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہوا کو گالی مت دیا کرو کیونکہ رحمن کا سانس ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا : ﴿ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ﴾ [البقرة: 164]" اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل کہ آسمان و زمین کے بیچ میں حکم کا باندھا ہے ۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) لیکن جب ہوا چلے تو یہ دعا مانگا کرو " اے اللہ ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی مانگتے ہیں جو اس میں ہے اور اس چیز کی بھلائی مانگتے ہیں جو تو نے اس ہوا کے ساتھ بھیجی ہے اور ہم اس کے شر اور جو کھ اس میں ہے اس کے شر اور جو کچھ تو نے اس کےساتھ بھیجا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔اس حدیث کو اس سند کے علاوہ ایک دوسری حدیث کے ہمراہ مسند کیا گیا ہے جو کہ حبیب ابن ابی ثابت کے طریق سے ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَظُنُّهُ ← ذَرٍّ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3075

chevron_left Previous
1…161718…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section