Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3040

3040 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} [النساء: 154] قَالَ: «بَابًا ضَيِّقًا» . قَالَ: «رُكَّعًا» {وَقُولُوا حِطَّةٌ} [البقرة: 58] قَالَ: " مَغْفِرَةً، فَقَالُوا: حِنْطَةٌ وَدَخَلُوا عَلَى أَسْتَاهِهِمْ " فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ} [البقرة: 59] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3040 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے اس قول : ﴿ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا ﴾ [البقرة: 58]" اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )( کی تفسیر کرتے ہوئے ) فرماتے ہیں : تنگ دروازہ ( تھا ) اور "سجداً " مطلب ہے جھک کر اور ﴿ وَقُولُوا حِطَّةٌ ﴾ [البقرة: 58]"اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں "( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کا مطلب " مغفرت مانگو " جبکہ وہ " حطۃ" کہتے ہوئے ، اپنے چوٹروں کے بل داخل ہوئے ، یہی مطلب ہے اللہ تعالی کے اس درج ذیل ارشاد کا : ﴿فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ ﴾ [البقرة: 59]" ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

مَغْفِرَةً، ← «رُكَّعًا» {وَقُولُوا حِطَّةٌ} [البقرة: ← «بَابًا ضَيِّقًا» ← ابْنِ عَبَّاسٍ {ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} [النساء: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3040

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3041

3041 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَيْفَ تُسْأَلُونَ عَنْ شَيْءٍ وَعِنْدَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللَّهِ، وَقَدْ أَخْبَرَكُمْ أَنَّهُمْ كَتَبُوا كِتَابًا بِأَيْدِيهِمْ، وَبَدَّلُوا وَحَرَّفُوا، وَقَالُوا: هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، وَاشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، فَعِنْدَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ مَحْضٌ لَمْ يُشَبْ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُكُمْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3041 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم کسی چیز کے متعلق کس بنا ءپر سوال کرتے ہو حالانکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جس میں اللہ تعالی کی دی ہوئی تازہ خبریں ہیں اور اس نے تمہیں یہ بھی بتایا ہے کہ یہودیوں نے خود اپنے ہاتھ سے کتابیں لکھی ہیں اور ان میں تغیر و تبدل کر رکھا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ من جانب اللہ ہے اور اس کے بدلے وہ تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں اور تمہارے پاس اللہ تعالی کی خالص کتاب ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں ہے خدا کی قسم ان میں سے کوئی شخص تم سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرے گا جو تم پر نازل ہوئی ہے ۔ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

كَيْفَ تُسْأَلُونَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق أنبا عبد الرزاق أنبا معمر ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3041

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3042

3042 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ بْنُ إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ تُقَاتِلُ غَطَفَانَ، فَكُلَّمَا الْتَقَوْا هُزِمَتْ يَهُودُ خَيْبَرَ فَعَاذَتِ الْيَهُودُ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي وَعَدْتَنَا أَنْ تُخْرِجَهُ لَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ، إِلَّا نَصَرْتَنَا عَلَيْهِمْ. قَالَ: فَكَانُوا إِذَا الْتَقَوْا دَعَوْا بِهَذَا الدُّعَاءِ، فَهَزَمُوا غَطَفَانَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَرُوا بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ} [البقرة: 89] بِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلَى الْكَافِرِينَ «. . . .» أَدَّتِ الضَّرُورَةُ إِلَى إِخْرَاجِهِ فِي التَّفْسِيرِ وَهُوَ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خیبر کے یہودیوں کی قبیلہ غطفان کے ساتھ اکژ جنگ رہتی تھی ، لیکن جب بھی خیبر کے یہودی غطفان سے لڑتے تو شکست سے دو چار ہو تے ۔ پھر یہودیوں نے اس دعا کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی " اے اللہ ! ہم تجھ سے امی نبی محمد ﷺ کے واسطے سے پناہ مانگتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث کرنے کا تو نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے ۔ یا اللہ ! تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما " تو جب بھی وہ جنگ کرتے یہی دعا مانگتے ( اور اس دعا کی برکت سے ) "غطفان " کو شکست ہوئی لیکن جب نبی اکرم ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہی کوگوں نے آپ ﷺ کا انکار کر دیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا (الْكَافِرِين)َ٨٩﴾ [البقرة: 89]" اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے "۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3042

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3043

3043 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيِّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ} [البقرة: 96] قَالَ: «الْيَهُودُ» {وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا} [البقرة: 96] قَالَ: «الْأَعَاجِمُ» «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى سَنَدِ تَفْسِيرِ الصَّحَابِيِّ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3043 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ ﴾ [البقرة: 96]" اور بے شک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں ۔"( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )۔ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں صحابی کی تفسیر سے سند لاتے ہیں اور یہ اسناد شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

الْيَهُودُ: {وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا} [البقرة: ← ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ} [البقرة: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3043

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3044

3044 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ} [البقرة: 96] قَالَ: «هُوَ قَوْلُ الْأَعَاجِمِ إِذَا عَطَسَ أَحَدُهُمْ ده هز أرسال» رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : ﴿ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ [البقرة: 96]" ایک کوتمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ عجمیوں کا قول ہو گا جبکہ ان میں سے کسی کو چھینک آتی ( تو وہ یہی دعا مانگتا کہ کاش اس کی عمر دس ہزار سال ہو جائے ) ( نوٹ : مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں " زہ ہزار سال " یعنی ہزار بر س جیو ۔ مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں ، یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص و زندگانی سب سے زیادہ ہے ۔ ( تفسیر خزائن العرفان ) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ہمراہ چند الفاظ کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے)

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← «هُوَ قَوْلُ الْأَعَاجِمِ إِذَا عَطَسَ أَحَدُهُمْ ده هز أرسال» رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3044

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3045

3045 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ} [البقرة: 96] قَالَ: «هُمْ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْكِتَابِ» {وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ} [البقرة: 96] قَالَ: " هُوَ قَوْلُ أَحَدِهِمْ لِصَاحِبِهِ: هز إرسال سرور مهرجان بخور "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد :﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ ﴾ [البقرة: 96] " اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتے ہیں : ( ان سے مراد یہ ہے کہ ) تمام اہل کتاب اور مشرکین یہ آرزو رکھتے ہیں کہ کسی طوران کو ہزار سال تک کی عمر دے دی جائے حالانکہ ہزار سال عمر کا دیا جانا بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکے گا اور ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو یہی دعائیں دیا کرتا تھا "تم ہزار سال مھرجان " ( پارسیوں کی عید کا نام ہے ) کے مزے لوٹو ۔

«هُمْ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْكِتَابِ» ← ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3045

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3046

3046 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا أَبُو عُقْبَةَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَزِيرَايَ مِنَ السَّمَاءِ: جِبْرِيلُ، وَمِيكَائِيلُ، وَمِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3046 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے آسمان میں دو وزیر حضرت جبریل سے عطیہ عوفی کے حوالے سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مشہور ہے ۔ تاہم وہ سند اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عُقْبَةَ الْحِمْصِيُّ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عبد الله بن روح المدائني ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3046

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3047

3047 - حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ لِي وَزِيرَيْنِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَوَزِيرَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجَبْرَائِيلُ، وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ " رَوَاهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ بِلَفْظٍ آخَرَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے دو وزیر آسمان میں ہیں اور دو وزیر زمین میں ہیں ۔ میرے آسمان کے دو وزیر حضرت جبریل علیہ السلام اور میکائل علیہ السلام ہیں اور زمین میں دو وزیر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس حدیث کو ابو عبید قاسم بن سلام نے ابو معاویہ سے عطیہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3047

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3048

3048 - أَخْبَرَنَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ، فَقَالَ: «جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ» قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: «هُمَا مَهْمُوزَتَانِ فِي الْحَدِيثِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3048 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کا ذکر کیا پھر فرمایا : حضرت جبر ئیل علیہ السلام اس کے دائیں اور حضرت میکائیل علیہ السلام اس کے بائیں جانب ہوں گے ۔ ابو عبید کہتے ہیں : حدیث میں یہ دونوں الفاظ مہموز استعمال ہوئے ہیں ۔

يَسَارِهِ‏.‏ ← يَمِينِهِ ومِيكَائِيلُ ← جِبْرِيلُ ← رَسُولُ اللَّهِ صَاحِبَ الصُّورِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عطية بن سعد ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3048

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3049

3049 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِهِ، وَهُوَ صَاحِبُ الصُّورِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3049 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرئیل علیہ السلام ان کے دائیں ہیں اور میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں ہیں اور وہ ( یعنی حضرت اسرافیل علیہ السلام ) صاحب الصور ( یعنی وہ صور پھونکنے کے ذمہ دار )ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عطية بن سعد ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3049

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3050

3050 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟» قَالَ: مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ: «مِنْ أَيِّهِمْ؟» قَالَ: مِنَ الْكُوفَةِ قَالَ: «فَمَا الْخَبَرُ؟» قَالَ: تَرَكْتُهُمْ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا خَارِجٌ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «مَا تَقُولُ لَا أَبَا لَكَ لَوْ شَعَرْنَا ذَلِكَ مَا أَنْكَحْنَا نِسَاءَهُ، وَلَا قَسَمْنَا مِيرَاثَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ كَانُوا يَسْتَرِقُونَ السَّمْعَ، وَكَانَ أَحَدُهُمْ يَجِيءُ بِكَلِمَةِ حَقٍّ قَدْ سَمِعَهَا النَّاسُ، فَيَكْذِبُ مَعَهَا سَبْعِينَ كِذْبَةً، فَيُشْرِبَهَا قُلُوبَ النَّاسِ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ فَأَخَذَهَا فَدَفَنَهَا تَحْتَ الْكُرْسِيِّ، فَلَمَّا مَاتَ سُلَيْمَانُ قَامَ شَيْطَانٌ بِالطَّرِيقِ، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَنْزِ سُلَيْمَانَ الَّذِي لَا كَنْزَ لِأَحَدٍ مِثْلُ كَنْزِهِ الْمُمْتَنِعِ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَأَخْرَجُوهُ فَإِذَا هُوَ سِحْرٌ فَتَنَاسَخَتْهَا الْأُمَمُ فَبَقَايَاهَا مِمَّا يَتَحَدَّثُ بِهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ سُلَيْمَانَ "، فَقَالَ: {وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا} [البقرة: 102] الْآَيَةُ، هَذَا حَدِيثٌ. . . . . . . . . . . . [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3050 - صحيح

حضرت عمران بن حارث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ ہم حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا ۔ آپ نے پوچھا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ اس نے جواباً کہا : عراق سے ۔ آپ نے پوچھا : عراق کے کس شہر سے ؟ اس نے کہا : کوفہ سے ۔ آپ نے کہا : وہاں کی ( تازہ ) خبر کیا ہے ؟ اس نے کہا : جب میں وہاں سے آیا تو اس وقت وہاں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بغاوت کر دی ہے ، آپ نے فرمایا : تم کیا کہہ رہے ہو ؟ تیراباپ نہ رہے ۔ اگر ایسی بات ہوتی تو ہم اس کی عورتوں سے نکاح نہ کرتے اور اس کی وراثت تقسیم نہ کرتے ۔ پھر آپ نے فرمایا : میں اس کے متعلق تمہیں ایک بات بتاتا ہوں ۔ شیاطین چوری چھپے ملائکہ کی باتیں سنا کرتے تھے پھر ان میں سے کوئی سچی بات بول دیتا جو لوگوں نے سن رکھی ہو تی پھر وہ اس میں ستر جھوٹ شامل کر کے لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالی نے حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کو اس بات کی اطلاع دی ۔ انہوں نے ( یہ تمام منترہ وغیرہ ) پکڑ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کر دئیے ۔ جب سلیمان کا انتقال ہو گیا تو شیطان ایک راستے میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: کیا میں تمہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک خزانے کی راہنمائی نہ کروں کہ اس جیسا کوئی خزانہ نہیں ہے اور اس کو آج تک روک کر رکھا گیا ہے لوگوں نے کہا : ہاں ( تب شیطان کی راہنمائی سے ) لوگوں نے اس کو نکال لیا تو وہ جادو تھا ۔ تو لوگ ایک دوسرے کو وہ دیتے رہے اور اہل عراق ک جو کچھ کہہ رہے ہیں اسی جادو کے اثر کی باقیات ہیں ۔ تو اللہ تعالی نے سلیمان رضی اللہ عنہ کا عذر نازل فرما دیا ۔ ارشاد فرمایا:﴿وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَى مُلْكِ سُلَيْمَانَ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ ﴾ [البقرة: 102]" اور اس کے پیرو ہو ئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفرنہ کیا ہاں شیطان کافر ہو ئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں " ۔( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) ۔

بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ← عمران بن الحارث ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3050

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3051

3051 - مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ النَّخَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُخْبِرُ الْقَوْمَ: " أَنَّ هَذِهِ الزُّهَرَةَ تُسَمِّيهَا الْعَرَبُ الزُّهَرَةَ، وَتُسَمِّيهَا الْعَجَمُ أَنَاهِيدُ، وَكَانَ الْمَلَكَانِ يَحْكُمَانِ بَيْنَ النَّاسِ، فَأَتَتْهُمَا، فَأَرَادَهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ غَيْرِ عِلْمِ صَاحِبِهِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: يَا أَخِي إِنَّ فِي نَفْسِي بَعْضَ الْأَمْرِ، أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَهُ لَكَ. قَالَ: اذْكُرْهُ يَا أَخِي لَعَلَّ الَّذِي فِي نَفْسِي، مِثْلُ الَّذِي فِي نَفْسِكَ، فَاتَّفَقَا عَلَى أَمْرٍ فِي ذَلِكَ، فَقَالَتْ لَهُمَا الْمَرْأَةُ: أَلَا تُخْبِرَانِي بِمَا تَصْعَدَانِ إِلَى السَّمَاءِ، وَبِمَا تَهْبِطَانِ إِلَى الْأَرْضِ. فَقَالَا: بِاسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ بِهِ نَهْبِطُ، وَبِهِ نَصْعَدُ، فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِمُؤَاتِيَتِكُمَا الَّذِي تُرِيدَانِ حَتَّى تُعَلِّمَانِيهِ. فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: عَلِّمْهَا إِيَّاهُ. فَقَالَ: كَيْفَ لَنَا بِشِدَّةِ عَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ الْآخَرُ: إِنَّا نَرْجُو سَعَةَ رَحْمَةِ اللَّهِ، فَعَلَّمَهُ إِيَّاهَا، فَتَكَلَّمَتْ بِهِ، فَطَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ، فَفَزِعَ مَلَكٌ فِي السَّمَاءِ لِصُعُودِهَا، فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ بَعْدُ، وَمَسَخَهَا اللَّهُ فَكَانَتْ كَوْكَبًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3051 - صحيح

حضرت عمیر بن سعید نخعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے ، وہ قوم کو بتا رہے تھے کہ یہ ستارہ جس کو اہل عرب زہرہ اور عجمی لوگ اس کو" اناھید" کہتے ہیں ( اس کا قصہ یہ ہے کہ ) دو فرشتے لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے ۔ ان کے پاس ایک خاتون آئی دونوں نے ایک دوسرے سے پو شیدہ اس کا ارادہ کر لیا ، پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : میرے دل میں ایک بات ہے جو میں آپ کے ساتھ کرنا چاہ رہا ہوں ۔ پھر وہ دونوں ایک معاملے پر متفق ہو گئے ( اور دونوں نے اس عورت کا رادہ کر لیا ) عورت نے ان سے کہا : کیا تم مجھے وہ عمل نہیں بتاؤ گے جس کے ذریعے تم آسمان پر جاتےے ہو اور واپس زمین پر آتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم اللہ تعالی کے اعظم کے ساتھ آسمان پر جاتے ہیں اور اسی کے ساتھ ہم زمین پر آتے ہیں ۔ اس نے کہا : تم دونوں جوارادہ رکھتے ہو میں اس وقت تک اس کو عملی جامہ نہیں پہناؤں گی جب تک تم مجھے وہ ( اسم اعظم ) سکھا نہیں دیتے ۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا :تو اس کو اسم اعظم سکھا دے ۔ اس نے کہا : ہم اللہ تعالی کے عذاب کی شدت برداشت نہیں کر پائیں گے ۔ دوسرے نے کہا : مجھے اللہ تعالی کی وسیع رحمت سے بہت امید ہے ۔ چنانچہ اس نے اس عورت کو اسم اعظم سکھا دیا ۔ اس نے وہ اسم پڑھا اور آسمان کی طرف اڑ گئی ۔ اس کے آسمان کی طرف چڑھنے پر ایک فرشتہ زور سے چلایا اس کا سر جھک گیا ، پھر اس کے بعد وہ بیٹھا نہیں اور عورت کو اللہ تعالی نے مسخ فرما دیا تو وہ ستارہ یہی تھا ۔

عَلِيًّا يُخْبِرُ الْقَوْمَ: ← عُمَيْرِ بْنِ سَعْيدٍ النَّخَعِيِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3051

chevron_left Previous
1…141516…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section