Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2872

2872 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ - وَكُنَّا نَجْلِسُ حِلَقًا حِلَقًا، وَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ بَيْنَ ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَعَنْهُ أَخَذْتُ هَذِهِ السُّورَةَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكِ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] قَالَ: وَكَانَتْ أَوَّلَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2872 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے اس مسجد ( بصرہ کی مسجد ) میں قرآن کی تعلیم حاصل کی ہے ، ہم حلقے بنا کر بیٹھا کرتے تھے اور ان کا دو سفید کپڑوں میں ملبوس ہونا آج بھی میری نظروں میں اسی طرح ہے اور انہی سےمیں نے "اقرا باسم ربک الذی خلق " سورت پڑھی تھی ۔ انہوں نے فرمایا : محمد ﷺ پر نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی سورت ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق "صحیح الاسناد " ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن مهدي بن رستم الأصبهاني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2872

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2873

2873 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " أَوَّلُ سُورَةٍ نَزَلَتْ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2873 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : سب سے پہلے سورۃ " اقرا باسم ربک الذی خلق " نازل ہو ئی ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2873

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2874

2874 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، - قَالَ سُفْيَانُ: حِفِظَهُ لَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ - قَالَتْ: " إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكِ الَّذِي خَلَقَ} [العلق: 1] " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2874 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قرآن کریم کی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورت " اقرا باسم ربک الذی خلق "ہے ۔

سُفْيَانُ: حِفِظَهُ لَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2874

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2875

2875 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، ثنا يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى الْأَنْفَالِ، وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي وَإِلَى الْبَرَاءَةِ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينَ فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ تَكْتُبُوا بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي عَلَيْهِ الزَّمَانُ تَنْزِلُ عَلَيْهِ السُّوَرُ ذَوَاتُ عَدَدٍ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الشَّيْءُ يَدْعُو بَعْضَ مَنْ كَانَ يَكْتُبُهُ، فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا» وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ الْآيَةُ فَيَقُولُ: «ضَعُوا هَذِهِ فِي السُّورَةِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا» فَكَانَتِ الْأَنْفَالُ مِنْ أَوَائِلِ مَا نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ، وَبَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ، فَكَانَتْ قِصَّتُهَا شَبِيهَةً بِقِصَّتِهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَنَا أَنَّهَا مِنْهَا، فَمِنْ ثَمَّ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَكْتُبْ بَيْنَهُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ،میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے سورہ انفال اور براۃ کو ایک دوسری کے ساتھ کیوں ملا دیا ؟ اور ان کے درمیان ایک سطر بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی ، حالانکہ انفال "مثانی" میں سے ہے اور براۃ "مئین" میں سے ہے ( مثانی ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی آیات کی 100سے کم ہیں اور مئین ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن کی آیات کی تعداد 100 سے زیادہ ہے ، شفیق ) اور آپ نے اس کو طوال مفصل میں شامل کیا ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا :رسول اللہ ﷺ پر ایک وقت میں متعدد سورتوں کا نزول بھی ہوا کرتا تھا چنانچہ جب کوئی آیت نازل ہو تی تو آپ ﷺ کاتب بلوا کر بتا دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو ، جس میں فلاں فلاں مفہوم مذکور ہے ۔ کوئی دوسری آیت نازل ہو تی تو آپ اس کے متعلق بھی راہنمائی فرما دیا کرتے تھے کہ اس آیت کو فلاں سورۃ میں درج کر دو جس میں فلاں فلاں ذکر موجود ہے اور سورہ انفال مدینہ المنورہ میں ابتدائی ایام میں بازل ہوئی تھی جبکہ سورۃ براۃ نزول قرآن کے بلاکل اختتام میں نازل ہوئی ہے اور ان دونوں سورتوں کے مفاہیم بھی ایک دوسری سے ملتے جلتے ہیں اور رسول اللہﷺ نے اپنے آخری وقت تک اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ ان میں سے کون سی آیت کس سورۃ سے تعلق رکھتی ہے اس لئے میں ان دونوں کے درمیان" بسم اللہ الرحمن الرحیم" نہیں لکھی اور دونوں کو متصل کر دیا ۔

لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2875

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2876

2876 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا» أَمَّا الْمَشْيَخَةُ فَثَبَتُوا تَحْتَ الرَّايَاتِ، وَأَمَّا الشُّبَّانُ فَتَسَارَعُوا إِلَى الْقَتْلِ وَالْغَنَائِمَ، فَقَالَتِ الْمَشْيَخَةُ لِلشُّبَّانِ: أَشْرِكُونَا مَعَكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا رِدْأً لَكُمْ، وَلَوْ كَانَ فِيكُمْ شَيْءٌ لَجِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَبَوْا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] فَقُسِمَتِ الْغَنَائِمُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2876 - صحيح

حضرت ابن عباس ۔ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے موقع پر فرمایا: جو شخص کسی ( کافر کو ) قتل کرے گا ، اس کے لئے اتنا اتنا مال ہو گا۔ اس دن عمر رسیدہ لوگ جھنڈے کے نیچے تھے جبکہ نوجوان لڑائی اور مال غنیمت ( کے حصول ) میں مصروف تھے ۔ عمر رسیدہ لوگوں نے نوجوانوں سے کہا : تم لوگ ہمیں بھی اپنے ساتھ شریک کرو ، کیونکہ تمہارے پناہ گاہ تو ہم ہی تھے ، اگر تمہیں جنگ میں کوئی نقصان پہنچتا تو تم لوٹ کر ہمارے پاس آتے ، لیکن ان نوجوانوں نے اسو بات کو ماننے سے انکار کر دیا ، یہ لوگ اپنا جھگڑا رسول اللہﷺ کی بار گاہ میں لے گئے تب یہ آیات نازل ہوئیں " یسالونک عن الانفال " چنانچہ ان سب لوگوں میں برابر مال غنیمت تقسیم کر دیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← هُشَيْمٌ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2876

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2877

2877 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَنْزَلَ اللَّهُ الْقُرْآنَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَكَانَ اللَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوحِيَ مِنْهُ شَيْئًا، أَوْحَاهُ، أَوْ أَنْ يُحْدِثَ مِنْهُ فِي الْأَرْضِ شَيْئًا أَحْدَثَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2877 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے شب قدر میں پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل فرما دیا ، پھر اللہ تعالی جب چاہتااس میں سے کچھ حصہ وحی فرما دیتا یا ( شاید یہ فرمایا ) اس میں سے کوئی چیز زمین میں پیدا کرنا چاہتا تو پیدا کر دیتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2877

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2878

2878 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ، ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر: 1] قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَكَانَ بِمَوْقِعِ النُّجُومِ، وَكَانَ اللَّهُ يُنَزِّلُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَهُ فِي أَثَرِ بَعْضٍ، قَالَ: وَقَالُوا: {لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا} [الفرقان: 32] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2878 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالی کے اس ارشاد :" انا انزلنا ہ فی لیلۃالقدر " " بے شک ہم نے اسے سب قدر میں اتارا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : شب قدر میں پورا قرآن یکبارگی آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور وہ ستاروں کے مقامات پر تھا پھر اللہ تعالی اس میں سے یکے بعد دیگرے ( تھوڑا تھوڑا ) رسول اللہﷺ پر نازل کرتا رہا ۔ ( دراصل ) لوگ اسی طرح کی باتیں کر رہے تھے : " لو لا نزل علیہ القران جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فوادک ورثلناہ ترتیلا " " قرآن ان پر ایک ساتھ کویں نہ اتار دیا ہم نے یونہی بتدریج اسے اتارا ہے کہ اس سے تمہارا دل مظبوط کریں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا " ۔(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رضی اللہ عنہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو بَکْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2878

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2879

2879 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، ثُمَّ أُنْزِلَ بَعْدَ ذَلِكَ بِعِشْرِينَ سَنَةً: {وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا} [الفرقان: 33] {وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا} [الإسراء: 106] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2879 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالی نے شب قدر میں یکبارگی پورا قرآن آسمان دنیا پر نازل فرمایا پھر اس کے بعد 20سالوں میں (بتدریج) نازل کیاولا یا تونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرا( الفرقان :33)" اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے ۔"( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ)وقرانا فرقناہ لتقراہ علی الناس علی مکث ونزلنا ہ تنزیلا ( الاسراء: 106)" اور قران ہم نے جدا جدا کر کے اتارا کہ تم اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور ہم نے اسے بتدریج رہ رہ کر اتارا "۔(ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمۃاللہ علیہ)یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2879

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2880

2880 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْبَصْرِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدٌ مِنَّا يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَيْهِ، حَتَّى يَنْقَضِيَ الْوَحْيُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2880 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہﷺ پر وحی نازل ہوا کرتی تھی تو جب تک وحی نازل ہوتی رہتی ، اس وقت تک ہم میں سے کسی میں بھی ہمت نہ ہوتی تھی کہ آپ کے چہرہ اطہر کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ سکیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے ااے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْبَصْرِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2880

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2881

2881 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «فُصِلَ الْقُرْآنُ مِنَ الذِّكْرِ، فَوُضِعَ فِي بَيْتِ الْعِزَّةِ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَجَعَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُنْزِلُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُرَتِّلُهُ تَرْتِيلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2881 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قرآن کی تفصیل ذکر سے کی گئی اور اس کو آسمان دنیا میں عزت کے مقام پر رکھا گیا ۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام وہاں سے نبی اکرم ﷺ پر اتارتے رہتے اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَسَّانَ بْنِ حُرَيْثٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الحسن بن حفص ← محمد بن عبد الله الأصبهاني ← أَبُو طَاهِرٍ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2881

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2882

2882 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِرَاءٍ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ» تَابَعَهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2882 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن پاک میں بحث " کفر " ہے ۔ یہ حدیث ابو سلمہ سے روایت کرنے میں عمر بن ابی سلمہ نے علقمہ کی متابعت کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2882

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2883

2883 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْجِدَالُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ» حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَأَمَّا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَإِنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِهِ "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن میں بلا وجہ بحث مباحثہ کرنا " کفر " ہے ۔ معتمر کی محمد بن عمرو سے روایت کردہ حدیث امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایات شیخین رحمۃاللہ علیہ نے نقل نہیں کیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدٌ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2883

chevron_left Previous
1234…67
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section