Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2859

2859 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُمْ: الْمُكَاتَبُ الَّذِي يُرِيدُ الْأَدَاءَ، وَالْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَعِفَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2859 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین لوگ ایسے ہیں ان کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے ۔ ۔1۔ وہ مکاتب غلام جو اپنا بدل کتاب ادا کرنا چاہتا ہو ۔ 2۔ مجاہد فی سبیل اللہ ۔ پاکدامنی کی طلب میں نکاح کا متمنی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2859

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2860

2860 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ سَهْلًا حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ غَازِيًا، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2860 - بل عمرو رافضي متروك

حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے کسی مجاہد فی سبیل اللہ کی یا کسی مقروض کی تنگی کی حالت میں یا کسی مکاتب کی اس کو آزاد کرانے کے سلسلہ میں مدد کی اللہ تعالیٰ اس کو اس دن اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ سَهْلاً ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عمرو بن ثابت ← أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2860

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2861

2861 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا طَلْحَةُ الْيَامِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ: «لَئِنْ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ، أَعْتِقِ النَّسَمَ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ» قَالَ: أَوَلَيْسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: «فَإِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تُفْرِدَ بِعِتْقِهَا، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا، وَالْمِنْحَةُ الْمَوْكُوفَةُ، وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2861 - صحيح

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیں جو مجھے جنت میں لے جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اپنی گفتگو مختصر کرو تو میں آپ کا سوال پورا کرتا ہوں ۔ " اعتق النسم ( غلام آزاد کرو) اور وفک الرقبہ ( غلام آزاد کر ) اس نے کہا " عتق النسمہ" کا مطلب غلام آزاد کرنا ہے جبکہ فک الرقبہ" کا مطلب یہ کہ اسکی قیمت کی ادائیگی میں معاونت کریں اور ظالم رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک کریں ،اگر تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیا سے کو پانی پلاؤ ، بھلائی کا حکم دو ، برائی سے منع کرو اگر تم اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہو تو بھلائی کے علاوہ ہر چیز سے زبان کو روک لو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2861

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2862

2862 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَ مِائَةِ فُسَيْلَةٍ فَإِذَا عَلَقَتْ، فَأَنَا حُرٌّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «اغْرِسْ، وَاشْتَرِطْ لَهُمْ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْرِسَ فَآذِنِّي» فَجَاءَ فَجَعَلَ يَغْرِسُ إِلَّا وَاحِدَةً غَرَسْتُهَا بِيَدِي، فَعَلَقَتْ جَمِيعًا إِلَّا الْوَاحِدَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2862 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے آقا نے مجھے اس بات پر مکاتب بنایا ہے کہ میں ان کے لیے کھجور کے 500 پودے کا شت کروں جب وہ درخت بن جائیں تو میں آزاد ہوں گا ۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ معاملہ آپ سے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ٹھیک ہے ) پودے کاشت کرو اور ان کے ساتھ یہ شرط طے کر لو اور جب پودے لگانے کا ارادہ کرو تو مجھے بلا لینا ( انہوں نے جب پودے لگانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیا چنانچہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام پودے اپنے ہاتھ سے لگائے صرف ایک پودا میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تو اسی ایک کے سوا باقی تمام پودے درخت بن گئے ۔ عاصم بن سلیمان کی سند کے ہمراہ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

حر، فأتيت النبي فذكرت ذلك له، ← «كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى أَنْ أَغْرِسَ لَهُمْ خَمْسَ مِائَةِ فَسِيلَةٍ فَإِذَا عَلَقَتْ ← سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عاصم بن سليمان وعلي بن زيد، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2862

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2863

2863 - أَخْبَرَنَا مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، ثنا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى أَلْفِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا مُكَاتَبٍ كُوتِبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2863 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کسی کا مکاتب کا بدل کتابت 1000 اوقیہ طے ہوا ہو وہ ان میں سے 990 ادا کر دے تب بھی غلام ہی ہے اور جس مکاتب کا بدل کتابت 100 دینار طے ہوا ہو وہ 90 ادا کر دے تب بھی غلام ہی ہے جب تک کہ ادائیگی مکمل نہ ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2863

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2864

2864 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ النِّجَادُ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يُقْتَلَ بِدِيَةِ الْحُرِّ عَلَى قَدْرِ مَا أُدِّيَ مِنْهُ» قَالَ يَحْيَى: قَالَ عِكْرِمَةُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «يُقَامُ عَلَيْهِ حَدُّ الْمَمْلُوكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2864 - تابعه أبان على شرط البخاري

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس نے جس قدر بھی بدل کتابت کر دیا ہو اس کی ادائیگی کے مطابق اسے آزاد کی دیت میں قتل کیا جائے گا یحیٰ فرماتے ہیں عکرمہ نے ابن عبا س رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ اس پر مملوک کی حد نافذ کی جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ النِّجَادُ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2864

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2865

2865 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ، وَمَا رَقَّ فَبِحِسَابِ الْعَبْدِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکاتب اپنا جس قدر بدل کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کر چکا ہو اس کی مقدار میں آزاد کے حساب سے ( دیت) کی ادائیگی کر ے گا اور جس قدر غلام ہے اس کی مقدار میں غلام کے حساب کے مطابق دیت کی ادائیگی کر گا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2865

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2866

2866 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا، أَوْ وَرِثَ مِيرَاثًا، فَإِنَّهُ يَرِثُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ، وَيُقَامُ عَلَيْهِ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2866 - صحيح

حضرت عبداللہ ابن عباس (رر ) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مکاتب کسی حد شرعی کا مستحق قرار پائے یا کوئی میراث پائے تو اپنی آزادی کی شرح کے مطابق وراثت پائے گا اور اس کی آزادی کی مطابقت سے ہی اس پر حد نافذ کی جائے گی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2866

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2867

2867 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّغَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ، مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِالْأَبْوَاءِ، قَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَنَا نَبْهَانُ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَرَكْتُ بَقِيَّةَ مُكَاتَبَتِكَ لِابْنِ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَعَنْتُهُ بِهِ فِي نِكَاحِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُؤَدِّيهِ إِلَيْهِ أَبَدًا، قَالَتْ: إِنْ كَانَ أَيْمَانُكَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَيَّ أَوْ تَرَانِي فَوَاللَّهِ لَا تَرَانِي أَبَدًا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ الْمُكَاتَبِ مَا يُؤَدِّي، فَاحْتَجِبِي مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2867 - صحيح

ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے مکاتب نبھان فرماتے ہیں کہ میں ان کی سواری ایک بیابان سے لے کر گزر رہا تھا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا یہ کون ہے ؟ میں نے جواباً کہا میں نبھان ہوں انہوں نے کہا میں اپنے بھائی محمد بن عبداللہ بن ابی امیہ کے نکاح کے سلسلہ میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں اس لیے میں تمہار ا بقیہ بدل کتابت اس کے حق میں چھوڑتی ہوں نبھان فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں خدا کی قسم میں اس کو ہر گز ادائیگی نہیں کروں گا۔ انہوں نے فرمایا اگر تم میرے پاس آنا چاہتے ہو اور مجھے دیکھنا چاہتے ہو تو خدا کی قسم تم کبھی بھی مجھے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ " جب مکاتب کے پاس بدل کتابت ہو تو اس سے پردہ کرو" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

نبهان ← مَنْ هَذَا قُلْتُ ← إِنِّي لَأَقُودُ بِهَا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ ← نَبْهَانُ مُكَاتَبُ أُمِّ سَلَمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصغاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2867

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2868

2868 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، قَالَ: «هُوَ أَوْلَى بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَمَمَاتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ مَشْهُورٌ " وَشَاهِدُهُ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، حَدِيثُ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب

حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مشرک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لاتا ہے تو ان کی ولایت کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ( نو مسلم) کی زندگی میں اور بعد ازوفات وہی ( مسلمان کرنے والا ) زیادہ مستحق ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور عبداللہ بن وہب بن زمعہ " مشہور" راوی ہیں ۔ قبیصہ بن ذویب کی روایت کردہ حدیث ثمیم داری کی شاہد حدیث ہے جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2868

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2869

2869 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، فَقَالَ: «هُوَ أَوْلَى بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ»

حضرت قبیصہ بن ذویب روایت کرتے ہیں کہ تمیم دارمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کی ولاء کے متعلق مسئلہ پوچھا جس نے ایک مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبو ل کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہی شخص اس نو مسلم کی زندگی میں بعد از وفات زیادہ مستحق ہے ۔

الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، فَقَالَ: «هُوَ أَوْلَى بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ» ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ الصَّغَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2869

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمُكَاتَبِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2870

2870 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَهِدْتُ غُلَامًا مَعَ عُمُومَتِي حِلْفَ الْمُطَيَّبِينَ، فَمَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِيَ حُمُرَ النَّعَمِ، وَأَنِّي أَنْكُثُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2870 - صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میں نے بچپن میں اپنے چچا کے ہمراہ " حلف المطبیبین " میں شرکت کی تھی تو مجھے یہ بات ہر گز پسند نہ تھی کہ میں وہ وعدہ توڑ کر سرخ اونٹ حاصل کروں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدٌ ← يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Library writers › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2870

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section