Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2853

2853 - حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، نا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: نا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «لَأَنْ أُمَتَّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنْيَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2853 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا زناء کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کی برائی کا نتیجہ ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اللہ کی راہ میں ایک تسمہ خدمت کرنے کو ، حرامی غلام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔حضرت ابو سلمہ کی ابوہریرہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى،

Hadith 2853

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2854

2854 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَلَدَ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Hadith 2854

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2855

2855 - فَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ أُمَتَّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا» ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» ، «وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» . فَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَاءَ سَمْعًا فَأَسَاءَ إِصَابَةً، أَمَّا قَوْلُهُ: «لَأَنْ أُمَتَّعَ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ الزِّنَا» أَنَّهَا لَمَّا نَزَلَتْ: {فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ، وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ} [البلد: 12] قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَنَا مَا نُعْتِقُ إِلَّا أَنَّ أَحَدَنَا لَهُ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ تَخْدُمُهُ، وَتَسْعَى عَلَيْهِ، فَلَوْ أَمَرْنَاهُنَّ فَزَنَيْنَ، فَجِئْنَ بِالْأَوْلَادِ فَأَعْتَقْنَاهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أُمَتَّعْ بِسَوْطٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ آمُرَ بِالزِّنَا، ثُمَّ أُعْتِقَ الْوَلَدَ» وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک زنا کے بچہ کو آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زیادہ بہتر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ تعالیٰ ابو ہریرہ پر رحم کرے انہوں نے یہ حدیث شریف نہ تو صحیح طور پر سنی ہے اور نہ صحیح طو رپر آگے پہنچائی ہے کیونکہ جو یہ بات ہے " زنا کا بچہ آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ دینا زیادہ بہتر ہے " ( اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب یہ آیت " فلا افتحم العقبہ وما ادراک ما العقہ ( البدر 11،12) " پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کود اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے ۔ ( ترجمہ کنزالایما امام احمد رضا) نازل ہوئی تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمار ے اس آزاد کر نے کے لیے کوئی چیز نہیں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ہو جو کہ اس کی خدمت کرتی ہے اور اس کے ساتھ مزید کام کاج میں ہاتھ بٹاتی ہے اگر ہم ان کو حکم دیں اور وہ زنا کرا کے بچہ پیدا کرے تو ہم اس بچہ کو آزاد کردیں ( تو یہ کیسا رہے گا)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زنا کی اولاد آزاد کرنے کی بہ نسبت سرف ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ پہنچانا مجھے زیادہ پسندیدہ ہے ۔" او ر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زنا کے نیتجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کا شر ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس کا مطلب وہ نہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سمجھے ہیں بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ ایک منافق شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے فلاں شخص سے کون بچائے گا؟ عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زنا کا بچہ کا کیا قصور ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تین افراد کا شر ہے اور اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔ ولا تزروازرۃ وزر اخری۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی " اور جہاں تک تعلق اس بات کا کہ " میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے " تو حدیث کا اصل مطلب یہ نہیں ہے بلکہ بات دراصل یہ ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے قریب سے گزرے یہودی مرگیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رورہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں حالانکہ اس کو عذاب ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔ لا یکلف اللہ نفسا الا سعھا ( البقرہ 286) اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا)۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمۃ بن الفضل ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← فَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 2855

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2856

2856 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّعْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، كَاتَبُ اللَّيْثِ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي اتَّهَمَنِي، فَأَقْعَدَنِي عَلَى النَّارِ حَتَّى احْتَرَقَ، فَرْجِي فَقَالَ لَهَا عُمَرُ: هَلْ رَأَى ذَلِكَ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: فَهَلِ اعْتَرَفْتِ لَهُ بِشَيْءٍ؟ قَالَتْ: لَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ الرَّجُلَ، قَالَ: أَتُعَذِّبُ بِعَذَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اتَّهَمْتُهَا فِي نَفْسِي، قَالَ: رَأَيْتَ ذَلِكَ عَلَيْهَا؟ قَالَ الرَّجُلُ: لَا. قَالَ: فَاعْتَرَفَتْ بِهِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَالِدٌ مِنْ وَلَدِهِ» لَأَقَدْتُهَا مِنْكَ فَبَرَّزَهُ، وَضَرَبَهُ مِائَةَ سَوْطٍ، وَقَالَ لِلْجَارِيَةِ: اذْهَبِي فَأَنْتِ حُرَّةٌ لِوَجْهِ اللَّهِ، أَنْتِ مَوْلَاةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَبُو صَالِحٍ: قَالَ اللَّيْثُ: «وَهَذَا الْقَوْلُ مَعْمُولٌ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2856 - بل عمر بن عيسى منكر الحديث

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک لونڈی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے آقا نے مجھ پر تہمت لگائی ہے اور مجھے آگ پر بٹھا دیا ، جس کی وجہ سے میری شرمگاہ جل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کیا اس نے خود اپنی آنکھوں سے تیرا عیب دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تو نے اقرار کیا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ نے فرمایا اس کا معاملہ میرے ذمہ ہے پھر جب اس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سامنا ہوا تو آپ نے پوچھا کیا تم اللہ کے عذاب کی طرح عذا ب دیتے ہو؟ اس نےکہا امیر المومنین مجھے اس پر شک ہے آپ نے پوچھا کیا تو نے وہ عیب اس میں دیکھا ہے اس شخص نے کہا نہیں آپ نے پوچھا کیا اس نے اس بات کا اقرار کیا تھا ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کےقبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نہ سنا ہوتا کہ " مملوک کا مالک سے اور اولاد کا باپ سے بدلہ نہیں لیا جائے گا " تو میں تجھ سے اسکا بدلہ ضرور لیتا۔ آپ نے اس کو میدان میں نکالا اور اسے 100 کوڑے مارے او ر لونڈی سے کہا تو جا تو اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے تیرا آقا اللہ اور اس کا رسول ہے ابو صالح فرماتے ہیں لیث کا کہنا ہے اسی قول پر عمل کیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَاءَتْ جَارِيَةٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَرَ بْنِ عِيسَى الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْأَسَدِيِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أبو صالح المصري عبد الله بن صالح كاتب الليث ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّعْرَانِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2856

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2857

2857 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ، أَنَّ سَبْيًا مِنْ خَوْلَانَ قَدِمَ، وَكَانَ عَلَى عَائِشَةَ رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ، «فَنَهَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَدِمَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ - أَحْسِبُهُ قَالَ: مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ - «فَأَمَرَهَا أَنْ تُعْتِقَ» تَابَعَهُ شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2857 - الحديث صحيح

ابن معقل کا بیان ہے کہ خولان کا ایک قیدی آیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنا تھا تو یمن سے ایک قیدی آیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمادیا پھر مضر کا ایک قیدی آیا ( راوی فرماتے ہیں ) میرا خیال ہے کہ اس کا تعلق بنی العنبر کے ساتھ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ اس کو آزاد کر دے۔ اس حدیث کو عبید بن حسن سے روایت کرنے میں شعبہ نے مسعر کی متابعت کی ہے۔

ابْنِ مَعْقِلٍ، ← عُبَيْدٍ بْنِ الْحَسَنَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبا مِسْعَرٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2857

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِتْقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2858

2858 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، وَحَدَّثَنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ، قَالَ: كَانَ عَلَى عَائِشَةَ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْيٍ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْتِقِي مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ، أَوْ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَلَا تَعْتِقِي مِنْ بَنِي الْخَوْلَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمہ اسماعیل کی اولاد میں سے غلام آزاد کرنا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی العنبر کا ایک قیدی آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی العنبر یا بنی لحیان میں سے غلام آزاد کرلو لیکن بنی خولان میں سے مت کرنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ← عُبَيْدٍ بْنِ الْحَسَنَ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي،

Hadith 2858

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section