Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2828

2828 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَسْلَمَ، وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ ابْنَتِي فَطِيمٌ، وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَافِعٍ: «اقْعُدْ نَاحِيَةً» وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: «اقْعُدِي نَاحِيَةً» فَقَالَ: وَأَقْعَدَ الصِّبْيَةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوَاهَا» فَمَالَتِ الصِّبْيَةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا» فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2828 - صحيح

رافع بن سنان فرماتے ہیں وہ مسلمان ہو گئے لیکن ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی میری بیٹی فطیم ہے اور رافع نےکہا یہ میری بیٹی ہے ۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے رافع سے کہا تم ایک طرف بیٹھ جاؤ اور اس کی بیوی سے کہا : تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ اور اس بچی کو دونوں کے درمیان بٹھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےکہا تم دونوں اس کو اپنی طرف بلاؤ( جب دونوں نے بلایا تو) وہ بچی ماں کی طرف مائل ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی یا اللہ اس کو ہدایت دے ( یہ دعا مانگتے ہی) بچی اپنے باپ کی طرف چل پڑی چنانچہ اس کے باپ نے اس کو لے لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ادْعُوَاهَا فَمَالَتْ الصَّبِيَّةُ إِلَی أُمِّهَا ← وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ← لامرأته:"اقعدي ناحية". ← النبي لرافع: "اقعد ناحية". ← رَافِعٌ ابْنَتِي ← ابْنَتِي فَطِيمٌ، ← رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ، وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Hadith 2828

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2829

2829 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: إِنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ، وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لِلِاثْنَيْنِ مِنْهُمَا: طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَقَالَا: لَا. ثُمَّ قَالَ لِلِاثْنَيْنِ: طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا " فَقَالَا: لَا. ثُمَّ قَالَ لِلِاثْنَيْنِ: طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا، فَقَالَا: لَا. ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَمَنْ قَرَعَ فَلَهُ الْوَلَدُ، وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَجَعَلَهُ لِمَنْ قَرَعَ " فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ - أَوْ قَالَ: نَوَاجِذُهُ - «قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى تَرْكِ الِاحْتِجَاجِ بِالْأَجْلَحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيِّ، وَإِنَّمَا نَقِمَا عَلَيْهِ حَدِيثًا وَاحِدًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثِ ثَلَاثَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ فَهَذَا الْحَدِيثُ إِذًا، صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2829 - هذا الحديث إذا صحيح

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یمنی باشندہ آیا اور بولا تین یمنی آدمیوں کے درمیان ایک بچے کے متعلق جھگڑا پڑ گیا تھا کیونکہ ان تنیوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک ہی طہر میں ہمبستری کی تھی ۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ میرا ہے یہ لوگ اپنا جھگڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے آئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا تم اپنی خوشی سے اس کےحق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ انہوں نے انکارکر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دو سے کہا تم اس کے حق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو ؟ انہوں نے بھی انکار کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دو سے کہا تم اس کے حق میں اس بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ انہوں نے بھی انکار کر دیا آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب ایک دوسرے کے سخت مخالف ہو ۔ میں تمہارے درمیان قرع اندازی کروں گا جس کا نام قرع نکل آیا بچہ اسی کاہو گا اور وہ اپنے دونوں ساتھیوں کو دو دو تہائی دیت ادا کرے گا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرع ڈالا تو جس کے نام قرع نکلا بچہ اس کو دے دیا ( یہ بات سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اجلج بن عبداللہ الکندری کی روایات نقل کرنے سے گریز کیا ہے ۔ انہوں نے عبداللہ بن بریدہ کی ایک روایت کی وجہ سے ان کو یہ سزا دی ہے حالانکہ تین ثقہ رایوں نے ان کی روایت کی اتباع کی ہے چنانچہ ایسی صورت حال میں یہ حدیث صحیح ہو گی لیکن شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا ۔

كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الأَجْلَحِ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 2829

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2830

2830 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ عَنِّي. قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2830 - صحيح

عمر بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن رہا میرے پستان اس کی سیرابی کا باعث رہے اور میری گود اس کے لیے حوض رہی اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اب اس کو مجھ سے چھین رہا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا جب تک نکاح نہیں کرے گی تو ہی اس ( کو رکھنے ) کی زیادہ حقدار ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2830

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2831

2831 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا، فَخَرَجَتْ تَجُذُّ نَخْلًا لَهَا، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُجِي فَجُذِّي، لَعَلَّكِ أَنْ تَصَّدَّقِي مِنْهُ، أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2831 - رواه أحمد في المسند على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری خالہ کو تین طلاقیں دے دی گئیں تو وہ کھجور کے درخت کاٹنے نکلی راستے میں ایک شخص ان سے ملا اور اس نے ان کو اس کام سے روک دیا ۔ انہوں نے یہ بات رسول اللہ کو بتائی تو آپ نے فرمایا ( ٹھیک ہے ) تو لکڑیاں کاٹنے جایا کرو ہو سکتا ہے کہ تو اس سے صدقہ کرے یا تو کوئی (دوسرا ) نیک کام کر لے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس نقل نہیں کیا گیا ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2831

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2832

2832 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا، خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ - قَالَ حَمَّادٌ: وَهُوَ مَوْضِعُ مَاءٍ - قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ مِنْ حَالِي، وَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى إِخْوَتِي، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا جَاوَزْتُ نَادَانِي، فَقَالَ: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

فریعہ بنت مالک روایت کرتی ہیں کہ ان کا شوہر علاج کے سلسلے میں باہر گیا تھا اس کو طرف قدوم میں قتل کر دیا گیا ۔ حماد فرماتے ہیں یہ پانی کی ایک جگہ کا نام ہے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا حال بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائیوں کے ہاں منتقل ہونے کی درخواست کی ۔ آپ فرماتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دے دی ۔ جب وہاں سے نکلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی اور فرمایا عدت ختم ہونے تک اپنے گھر میں ہی ٹھہرو۔

فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعْدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أبو النعمان محمد بن الفضل وسليمان بن حرب ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Hadith 2832

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2833

2833 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَتْ: خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ، فَأَتَانِي نَعْيُهُ، وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّهُ أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي، وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٍ مِنْ دُورِ أَهْلِي، وَلَمْ يَدَعْ لِي نَفَقَةً، وَلَا مَالًا، وَلَيْسَ الْمَسْكَنُ لِي، وَلَوْ تَحَوَّلْتُ إِلَى إِخْوَتِي وَأَهْلِي كَانَ أَرْفَقَ بِي فِي بَعْضِ شَأْنِي. فَقَالَ: «تَحَوَّلِي» فَلَمَّا خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، أَوِ الْحُجْرَةِ دَعَانِي، أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ: «امْكُثِي فِي الْبَيْتِ الَّذِي أَتَاكَ فِيهِ نَعْيُ زَوْجِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ» فَاعْتَدَّتْ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فَحَدَّثْتُهُ فَأَخَذَ بِهِ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِنَ الْوَجْهَيْنِ جَمِيعًا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مَحْفُوظٌ، وَهُمَا اثْنَانِ سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ أَشْهَرْهُمَا وَإِسْحَاقُ بْنُ سَعْدِ بْنِ كَعْبٍ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَدِ ارْتَفَعَتْ عَنْهُمَا جَمِيعًا الْجَهَالَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2833 - صحيح

ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میرے شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے انہوں نے "طرف قدوم " پر ان کو جا لیا لیکن غلاموں نے ان کو مارڈالا ان کے انتقال کی خبر مجھ تک پہنچی میں اس وقت اپنے اہل کے گھروں سے دو ر والے گھر میں تھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ھاضر ہوئی اور عرض کی اس نے نہ تو میرے لیے کوئی نفقہ چھوڑا ہے نہ مال اور میری کوئی رہائش نہیں ہے اگر میں اپنے بھائیوں اور گھر والوں کے ہاں چلی جاؤں تو بہت سارے امور میں میرے لیے آسانی ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منتقل ہونے کی اجازت دے دی ۔ جب میں مسجد یا حجرہ کی طرف نکلی تو آپ نے مجھے آواز دی یا کسی کو حکم دیا اور انہوں نے مجھے بلایا پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں تجھے تیر ے شوہر کے انتقال کی خبر ملی تھی عدت ختم ہونے تک وہیں ٹھہرو ۔ چنانچہ میں نے چار مہینے دس دن تک عدت گزاری ۔ آپ فرماتی ہیں پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کو میرے پاس ( اسی مسئلہ کے سلسلہ میں معلومات لینے کے لیے ) بھیجا میں نے ان کویہ واقعہ تو انہوں نے اسی پر عمل کیا ۔ یہ حدیث دونوں وجہوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو امام مالک نے موطا میں سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے محمد بن یحیٰ ذھلی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح محفوظ ہے اور وہ دونوں سعد بن اسحاق کعب ہیں اور یہ دونوں میں زیادہ مشہور ہیں اس اسحاق بن سعد کعب ہیں اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے ۔ چنانچہ میں نے ان دونوں سے جہالت کو ختم کر دیا ہے ۔

إبراهيم بن عبد الله السعدي أنبأ يزيد بن هارون أنبأ يحيى بن سعيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2833

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2834

2834 - أَخْبَرَنِي أَبُو حَفْصٍ أَحْمَدُ بْنُ أُحَيْدٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: طُلِّقَتِ امْرَأَةٌ فَمَكَثَتْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَوَضَعْتُ حَمْلَهَا، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: «تَزَوَّجِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2834 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ایک عورت کو طلاق دے دی گئی ، وہ 23 راتیں عدت بیٹھی تھی کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس معاملہ کا ذکر کیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم نکاح کر سکتی ہو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← مُصْعَبِ بْنِ عَامِرٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ ← أَبُو حَفْصٍ أَحْمَدُ بْنُ أُحَيْدٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 2834

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2835

2835 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي ذِي الْقَعْدَةِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ بِمِصْرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ شَدِيدًا عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَتْ لِلزُّبَيْرِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، رَوِّحْنِي بِتَطْلِيقَةٍ. قَالَتْ: وَذَلِكَ حِينَ وَجَدَتِ الطَّلْقَ. قَالَ: وَمَا يَنْفَعُكِ أَنْ أُطَلِّقَكِ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ أُرَاجِعَكَ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَجِدُنِي أَسْتَرْوِحُ إِلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا: أَغْلِقِي الْأَبْوَابَ، قَالَ: فَوَضَعَتْ جَارِيَةً، فَقَالَ: فَأَتَى الزُّبَيْرُ فَبُشِّرَ بِهَا، فَقَالَ: مَكَرَتْ بِي ابْنَةُ أَبِي مُعَيْطٍ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، «فَأَبَانَهَا مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ، وَأَبُو الْمَلِيحِ، وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ فَغَيْرُ مُتَّهَمٍ بِالْوَضْعِ، فَإِنَّهُ إِمَامُ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ فِي عَصْرِهِ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ هِيَ ابْنَةُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَهِيَ الَّتِي يَرْوِي عَنْهَا ابْنُهَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ بِالْكَذَّابِ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2835 - صحيح غريب

ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ وہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں وہ ان کو ناپسند کرتی تھیں اور زبیر عورتوں پر بڑے سخت تھے ام کلثوم نے زبیر سے کہا اے ابو عبداللہ تم مجھےایک طلاق دے کر راحت دے دو ( ام کلثوم) کہتی ہیں اس وقت میں دردزہ محسوس کر رہی تھی ۔ زبیر نے کہا اگر میں تجھے ایک طلاق دے دوں تو اس کا تجھے کیا فائدہ ہوگا؟ کیونکہ اس کے بعد میں تجھ سے رجوع کر لوں گا۔ ام کلثوم نے کہا میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے کچھ آرام مل جائے گا۔ زبیر نے اس کو ایک طلاق دی اور گھر سے چلا گیا ام کلثوم نے اپنی لونڈی سے کہا تمام دروازے بند کردو ، کچھ ہی دیر میں اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہو گئی پھر زبیر گھر آئے تو ان کو بچی کی پیدائش کی خبر سنائی گئی تو وہ بولے ابو معیط کی بیٹی نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا آیا اور تمام معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس سے علیحدہ کر دیا ۔ یہ حدیث غریب صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اگرچہ ابو الملیح کی روایات نقل نہیں کی ہیں جبکہ ان پر وضع حدیث کی تہمت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے زمانے میں اہل جزیرہ کے امام ہیں اور ام کلثوم عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ہے ۔یہ وہی خاتون ہیں جن کے حوالے سے ان کےبیٹے حمید بن عبدالرحمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان روایت کرتے ہیں وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے ۔

أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ ← أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ ← تِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً

Hadith 2835

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2836

2836 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْجُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا، عِدَّتُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2836 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " ام ولد " کے حوالے سے ہم پر ہمارے نبی کی سنت کو خلط ملط مت کرو ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ ) جب ام ولد کا آقا فوت ہو جائے تو اس کی عدت 4 ماہ اور دس دن ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← قَبِيصَةَ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مَطَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْجُرَشِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ،

Hadith 2836

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2837

2837 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ التِّنِّيسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ أَتَانِي رَجُلَانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعِي، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا لِي: اصْعَدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيقُ. فَقَالَا: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ، فَصَعِدْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ، إِذَا أَنَا بِأَصْوَاتٍ شَدِيدَةٍ، قُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ قَالُوا: هَذَا هُوَ عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ، مُشَقَّقَةً أَشْدَاقُهُمْ، تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، فَقُلْتُ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ، ثُمَّ انْطَلِقَا بِي، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثَدْيَهُنَّ الْحَيَّاتُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ اللَّوَاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ شَرَفَ لِي شَرَفٌ فَإِذَا أَنَا بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ، ثُمَّ شَرَفَ لِي شَرَفٌ آخَرُ، فَإِذَا أَنَا بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى عَلَيْهِمُ السَّلَامُ يَنْتَظِرُونَكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرَ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَقَدِ احْتَجَّ بِهِ مُسْلِمٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2837 - على شرط مسلم

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نےخواب میں دیکھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے انہون نے مجھے بازوں سے پکڑا اور ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے اور کہنے لگے اس پر چڑھیے میں نے کہا میرے اندر اس پر چڑھنے کی ہمت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اس پر چرھنا ہم آپ کے لیے آسان کر دیں گے پھر میں اس پر چڑھا جب میں پہاڑکے برابر پہنچا تو میں نے بہت شدید آوازیں سنیں میں نےپوچھا یہ آوازیں کیسی ہیں ؟ تو انہوں نے جواباً کہا یہ جہنمیوں کی آوازیں ہیں پھر مجھے مزید آگے لے جایا گیا وہاں پر میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہیں الٹا لٹکایا گیا تھا ان کے جبڑے پھاڑے ہوئے تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا میں نےپوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو غروب آفتاب سے پہلے ہی روزہ افطار کر لیا کرتے تھے پھر وہ مجھے مزید آگے لے گئے تو میں نےکچھ لوگوں کودیکھا کہ ان سے زیادہ کبھی کسی کا جسم نہیں پھولا ہو گا نہ ان سے زیادہ کوئی چیز بد بودار ہو گی اور نہ ہی ان سے بدصورت کوئی ہو گا۔ میں نےپوچھا یہ کون ہیں انہوں نے جواب دیا یہ زنا کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں پھرمجھے مزید آگے لے گئے تو میں نےکچھ عورتوں کو دیکھا جن کے پستانوں کو سانپ ڈس رہے تھے میں نےپوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ وہ عورتیں جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کیا کرتی تھیں پھر وہ مجھے مزید آگے لے گئے تو میں نے کچھ بچے دیکھے جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے ۔ میں نےپوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ مسلمانوں کے چھوٹے بچے ہین ( جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے ) پھر مجھے کچھ اوپر لے جایا گیا تو میں نے تین افراد کو دیکھا جو شراب پی رہے تھے میں نے ایک اور بلندی پر لے گئے وہاں پر میں نے تین افراد کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہیں انہوں نے کہا یہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو کہ آپ کے انتظار کر رہے ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سلیم بن عامر کے سوا اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی بھی روایات نقل کی ہیں ۔

نَائِمٌ ← بَيْنَا ← أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْکَلَاعِيُّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← بشرُ بنُ بكرٍ التنيسيُّ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2837

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2838

2838 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو ثَابِتٍ زَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ أَبَاهُ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ فَارَقَ جَمِيلَةَ بِنْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهِيَ حَامِلَةٌ بِمُحَمَّدٍ، فَلَمَّا وَلَدَتْهُ حَلَفَتْ أَنْ لَا تُلْبِنَهُ مِنْ لَبَنِهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَزَقَ فِي فِيهِ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةِ عَجْوَةٍ، وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا، وَقَالَ: «اخْتَلِفْ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ رَازِقُهُ» فَأَتَيْتُهُ الْيَوْمَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ، فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ تَسْأَلُ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَقُلْتُ: مَا تُرِيدِينَ مِنْهُ؟ أَنَا ثَابِتٌ، فَقَالَتْ: أُرِيتُ فِي مَنَامِي هَذِهِ كَأَنِّي أُرْضِعُ ابْنًا لَهُ، يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ: فَأَنَا ثَابِتٌ، وَهَذَا ابْنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَإِنَّ دِرْعَهَا يَتَعَصَّرُ مِنْ لَبَنِهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2838 - صحيح

محمد بن ثابت بن قیس بن شماس روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد ثابت بن قیس نے عبداللہ بن ابی کی بیٹی جمیلہ کو علیحدگی دے دی اس وقت ان کے پیٹ میں محمد تھے ، جب محمد پیدا ہو گئے تو انہوں نے قسم کھائی کہ میں اس کو اپنا دودھ نہیں پلاؤں گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے پاس منگوایا اس کے منہ میں اپنا لعاب دھن ڈالا عجوہ کھجور کے ساتھ اس کو گھٹی دی اور اس کا نام محمد رکھا اور فرمایا اس کو میرے پاس بار بار لاتے رہنا بے شک اللہ ہی اس کا رزاق ہے ۔ میں تین دن تک اس کو آپ کی خدمت میں لے جاتا رہا ( تیسرے دن ) ایک عربی خاتون ثابت بن قیس کا پوچھتی پھر رہی تھی ، میں نے اس سے کہا تجھے اس سے کیا کام ہے ؟میں ثابت اس نے کہا میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ میں ثابت کے بیٹے کو دودھ پلارہی ہوں جس کا نام محمد ہے انہوں نے کہا میں ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے ( آپ فرماتے ہیں) اس خاتون کے کپڑوں سے اس کا دودھ رس رہا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

Hadith 2838

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2839

2839 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مَسْعُودٌ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: 240] " قَالَ عَطَاءٌ: " إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ} [البقرة: 234] "، قَالَ عَطَاءٌ: «ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى، فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2839 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت نے عورت کا اپنے اہل میں عدت گزار نے کا حکم منسوخ کردیا ہے ۔ اس لیے عورت جہاں چاہے عدت گزارے اور وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے ۔ " غیر اخراج" عطاء فرماتے ہیں اگر وہ اپنے اہل کے ہاں عدت گزارنا چاہے تو وہاں گزار لے اور اپنی وصیت میں سکونت اختیار کرے اور اگر وہاں سے جانا چاہے تو چلی جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " فلا جناح علیکم فیما فعلن" تو تم پر اس بارے میں کوئی حرج نہیں ہے اپنے معاملہ میں وہ جو کچھ بھی کریں " عطا فرماتے ہیں پھر میراث کا حکم آگیا تو رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا ۔ اس لیے اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے ۔ نوٹ۔ ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی پھر ایک سال کی عدت تو " یتر بصن بانفسھن اربعۃ اشہروعشرا " سے منسوخ ہوئی ۔ جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرمائی گئی اور سال بھر کا نان و نفقہ آیت میراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کا حصہ شوہر کے ترکہ سے مقرر کیا گیا لہذا اب اس وصیت کا حکم باقی نہ رہا ۔ (خزائن العرفان ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← مَسْعُودٌ ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 2839

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section