Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2816

2816 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ مِنْهُ، «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2816 - على شرط البخاري ومسلم

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمان بن صحزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے ساتھ ظھار کیا پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 2816

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2817

2817 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي، فَوَقَعَتْ عَلَيْهَا مِنْ قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ. قَالَ: «وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟» قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ. قَالَ: «فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى» شَاهِدُهُ حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، «وَلَمْ يَحْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِإِسْمَاعِيلَ، وَلَا بِالْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ إِلَّا أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ صَدُوقٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2817 - العدني غير ثقة

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں کہ ایک شخص نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا لیکن اس کے ساتھ جماع کر بیٹھا تھا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کیا تھا لیکن کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی میں اس کے ساتھ جما کر بیٹھا ۔ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے تجھے اس بات پر کس نے ابھارا تھا ؟ اس نے کہا چاند کی چاندنی میں میری نظر اس کے باریک کپڑوں پر پڑ گئی تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے اس وقت تک اس کے قریب مت جانا جب تک کفارہ ادا نہ کردے ۔اسماعیل بن مسلم کی عمرو بن دینار سے روایت کردہ ( درج ذیل ) حدیث اس کی شاہد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسماعیل اور حکم بن ابان کی روایات نقل نہیں کیں جبکہ حکم بن ابان " صدق " ہیں ۔

عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Hadith 2817

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2818

2818 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَرَأَى خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، فَأَعْجَبَهُ فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا} [المجادلة: 3] فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ حَتَّى تُكَفِّرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2818 - إسماعيل واه

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظھار کیا، پھر (دوران ظھار ایک دفعہ ) چاند کی چاندنی میں اس کی نظر اس کے باریک کپڑوں پر پڑ گئی جس کی وجہ سے وہ اس کو بہت اچھی لگی اور اس نے اس کے ساتھ ہمبستری کر لی ۔ بعد میں وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس معاملہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا فرمان ہے ۔ من قبل ان یتماسا " قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں "اس نے کہا اب تو ہو چکا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کفارہ ادا ہونے تک اپنے پر کنٹرول رکھو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← علي بن هشام ← عمار بن خالد ومحمد بن معاوية، ← أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان

Hadith 2818

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2819

2819 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ثنا عَطَاءٌ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكْ، وَلَا عَتَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَشَاهِدُهُ الْحَدِيثُ الْمَشْهُورُ فِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2819 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کی طلاق ( موثر) نہیں ہے جو ( طلاق کا ) مالک نہیں ہے ۔ نہ ہی ایسے شخص کا عتاق ( آزاد کرنا موثر) ہے جو ( عتاق کا ) مالک نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس باب میں عمرو بن شعیب کی روایت کردہ ( درج ذیل ) مشہور حدیث ( مذکورہ حدیث کی ) شاہد ہے ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2819

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2820

2820 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ» وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ: «لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا طَلَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا عَتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2820 - صحيح

عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا نکاح سے پہلے طلاق ( موثر) نہیں۔ اور ہشیم کی روایت کردہ حدیث میں یہ الفاظ ہیں ۔ انسان اس چیز کی نذر نہیں مان سکتا جس کا وہ مالک نہیں ہے نہ اس کو طلاق دے سکتا ہے جس کی طلاق کا مالک نہیں ہے اور نہ ایسے غلام کو آزاد کر سکتا ہے جس کا وہ مالک نہیں ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جَدِّهِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2820

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2821

2821 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ جَمِيعًا، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَا قَالَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَإِنْ يَكُنْ قَالَهَا، فَزِلَّةٌ مِنْ عَالِمٍ فِي الرَّجُلِ، يَقُولُ: " إِنْ تَزَوَّجْتُ فُلَانَةً فَهِيَ طَالِقٌ. قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ} [الأحزاب: 49] وَلَمْ يَقُلْ: إِذَا طَلَّقْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ نَكِحْتُمُوهُنَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2821 - صحيح

(حضرت عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ابن مسعود یہ نہیں کہہ سکتے اور اگر انہوں نے کہا بھی ہے تو میں اس کو ایک آدمی کے متعلق عالم کی لغزش قرار دوں گا ۔ ایک آدمی کہتا ہے ۔ اگر میں فلاں خاتون سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ( یاایھا الذین امنو اذا نکحتم المومنات ثم طلقتموھن ( الاحزاب 49)۔" اے ایمان والو! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کر پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو " ( ترجمہ کنز الا یمان امام احمد رضا ) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا جب تم مومن خواتین کو طلاق دو پھر ان سے نکاح کرو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اسے نقل نہیں کیا۔

إن تزوجت فلانة فهي طالق، ← مَا قَالَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ وَإِنْ يَكُنْ قَالَهَا فَزَلَّةٌ مِنْ عَالِمٍ فِي الرَّجُلِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ جَمِيعًا، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 2821

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2822

2822 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقَرْؤُهَا حَيْضَتَانِ» قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ، فَحَدَّثَنِي مُظَاهِرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقَرْؤُهَا حَيْضَتَانِ» مِثْلُ مَا حَدَّثَهُ، مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، لَمْ يَذْكُرْهُ أَحَدٌ مِنْ مُتَقَدِّمِي مَشَايِخِنَا بِجَرْحٍ، فَإِذَا الْحَدِيثُ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدِيثٌ يُعَارِضُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2822 - صحيح

ابو عاصم فرماتے ہیں میں نے مظاہربن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور کہا مجھے بھی اسی طرح حدیث بیان کرو جیسے ابن جریح کو بیان کی تھی ۔ تو مظاہربن اسلم نے قاسم کے واسطے سے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد سنایا لونڈی کی طلاق 2 طلاقیں ہیں اور اس کی عدت 2حیض ۔جیسا کہ مظاہربن اسلم نے اس کو یہ روایت بیان کی تھی ۔ یہ اہل بصرہ کے مشائخ میں سے ہیں اور ہمارے متقدمین مشائخ میں سے کسی نے بھی ان کے متعلق جرح کا ذکر نہیں کیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔ مذکورہ حدیث کی معارض حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ( درج ذیل ) حدیث اس حدیث کے معارض ہے ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكر محمد بن سليمان الواسطي ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2822

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2823

2823 - أَخْبَرَنَاهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ، كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا، بَعْدَ ذَلِكَ هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [ص:224] [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2823 - يعارضه حديث علي

بنی نوفل کے غلام ابو حسن فرماتے ہیں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک غلام کے متعلق فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں ایک لونڈی تھی اور اس نے اس لونڈی کو دو طلاقیں دے دی تھیں پھر اس کے بعد ان دونوں کو آزاد کر دیا گیا تو کیا وہ غلام اس لونڈی کو پیغام نکاح دے سکتا ہے ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں رسول اللہ نے یہی فیصلہ فرمایا ہے ۔

أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Hadith 2823

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2824

2824 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا يَقُولُ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرِكَ بِيَدِكِ، أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ. فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: «بَلَى، وَلَكِنْ قَدْ نَسِيَ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَقَدْ ذَكَرْتُ فِي بَابِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ أَسَامِي جَمَاعَةٍ مِنْ ثِقَاتِ الْمُحَدِّثِينَ، مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالتَّابِعِينَ، وَأَتْبَاعِهِمْ حَدَّثُوا بِالْحَدِيثِ ثُمَّ نَسُوهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2824 - صحيح غريب

حماد بن زید فرماتے ہیں میں نے ایوب سے پوچھا تم کسی ایسے شخص کو جانتے ہو جس نے طلاق کا معاملہ عورت کے سپرد کرنے کے متعلق حسن کے اس موقف کی تائید کی ہو کہ یہ تین طلاقیں ہیں؟ تو ایوب نے کہا نہیں تاہم اس سلسلے میں قتادہ نے عبدالرحمن بن سمرہ کے غلام کثیر کے ذریعے ابو سلمہ کے واسطے سے ابوہریرہ کے حؤالے سے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کا اس جیسا ایک فرمان سنایا ایوب فرماتے ہیں ہمارے پاس کثیر آئے تو ہم نے ان سے اس روایت کے متعلق پوچھا تو وہ بولے میں نے تو حدیث کبھی بیان ہی نہیں کی میں نے یہ قتادہ سے ذکر کی تو وہ بولے کیوں نہیں ( انہوں نے یہ حدیث بیان کی ہے) لیکن وہ بھول چکے ہیں ۔ یہ حدیث ایوب سنخیانی کی سند کے ہمراہ غریب صحیح ہے جبکہ میں نے بغیر ولی کے نکاح کے موضوع پرثقہ صحابہ کرام اور تابعین محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حدیث بیان کی اور بعد میں بھول گئے۔

بِهَذَا قَطُّ. فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ ← مَا ← أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ، فَسَأَلَهُ ← النَّبِيِّ بِنَحْوِهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ← به قتادة ← لاَ إِلاَّ شَىْءٌ ← بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرِكَ بِيَدِكِ، أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ ← قُلْتُ لِأَيُّوبَ هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 2824

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2825

2825 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ، «فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّتَهَا حَيْضَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الرَّزَّاقِ أَرْسَلَهُ، عَنْ مَعْمَرٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2825 - صحيح رواه عبد الرزاق عن معمر مرسلا

(حضرت عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ثابت بن قیس کی بیوی نے ان سے خلع لیا تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض قرار دی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے تاہم عبدالرزاق نے اس میں معمر سے ارسال کیا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ← جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطيالسي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّازُ،

Hadith 2825

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2826

2826 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ، «فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّتَهَا حَيْضَةً»

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نے ان سے خلع لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض قرار دی ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہؤں نے دو غلام ( جو کہ دونوں میاں بیوی تھے) کو آزاد کر نے کا ارادہ کیا تو اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرئےگا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عِكْرِمَةَ: أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ اخْتُلِعَتْ مِنْهُ، «فَجَعَلَ النَّبِيُّ عِدَّتَهَا حَيْضَةً». ← عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ← مَعْمَرٌ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبا عبد الرزاق ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أحمد بن سلمة

Hadith 2826

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2827

2827 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مَمْلُوكِينَ زَوْجًا، فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَهَا أَنْ تَبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ الْمَرْأَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2827 - عبيد الله هذا اختلف في توثيقه ولم يخرجا له

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہوں نے دو غلام میاں بیوی کو آزاد کرنےکا ارادہ کیا تو اس سلسلے میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے پہلے مرد کو آزاد کر ئے گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2827

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section