Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2804

2804 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَفْوَانَ السَّهْمِيُّ بِمِصْرَ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هُوَ الْمُحِلُّ، فَلَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنِ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ ذَكَرَ أَبُو صَالِحٍ كَاتَبُ اللَّيْثِ، عَنْ لَيْثٍ سَمَاعَهُ مِنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2804 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر جھنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ادھار والے بکرے کے بارے میں بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ نے فرمایا حلالہ کرنے والا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور اس کے لیے حلالہ کی اجائے ( اس پر ) لعنت کی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ لعنت فرمائے حلالہ کرنے والے پر اور اس پر جس کے لیے حلالہ کیا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ لیث کے کاتب ابو صالح نے لیث کے حوالے سے ان کا سماع مشرح بن ھاعان سے ذکر کیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ، ← اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، ← أَبِي ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَفْوَانَ السَّهْمِيُّ بِمِصْرَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 2804

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2805

2805 - أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هُوَ الْمُحِلُّ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ادھار والے بکرے کی خبر دوں ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں ! آ پ نے فرمایا وہ " حلالہ کرنے والا " ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کی جائے اس پر لعنت فرمائی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَخْبَرَنِيهِ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ،

Hadith 2805

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2806

2806 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا أَخٌ لَهُ، مِنْ غَيْرِ مُؤَامَرَةٍ مِنْهُ، لِيُحِلَّهَا لِأَخِيهِ، هَلْ تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: «لَا، الْإِنْكَاحُ رَغْبَةٌ، كُنَّا نَعُدُّ هَذَا سِفَاحًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2806 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص ( حضرت عبداللہ) ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ایک ایسے آدمی کے متعلق مسئلہ پوچھا جس نے اپنی بیو کو تین طلاقیں دے دی تھیں اور اس کے بھائی نے اس سے مشورہ کیے بغیر اس خاتون سے نکاح کر لیا تاکہ وہ اس عوت کو اپنےبھائی کے لیے حلال کر دے ۔ کیا وہ ( بھائی ) اس خاتون کو پہلے شوہر کے لیے حلا ل کر دے گا؟ انہوں نے جواب دیا نہیں نکاح تو دلچسپی کے ساتھ ہوتا ہے ہم اس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں " زنا کاری " سمجھتے تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، ← أبو غسان محمد بن مطرف المدني ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2806

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2807

2807 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي عَزْرَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَا أَرَدْتَ بِذَلِكَ؟» قَالَ: أَرَدْتُ بِهِ وَاحِدَةً، قَالَ: «آللَّهِ؟» قَالَ: اللَّهِ، قَالَ: «فَهُوَ مَا أَرَدْتَ» قَدِ انْحَرَفَ الشَّيْخَانِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيِّ فِي الصَّحِيحَيْنِ «، غَيْرَ أَنَّ لِهَذَا الْحَدِيثِ مُتَابِعًا مِنْ بِنْتِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ الْمُطَّلِبِيِّ» فَيَصِحُّ بِهِ الْحَدِيثُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث

حضرت رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں " طلاق بتہ" دی وہ فرماتے ہیں میں نے اس سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا میرا یہ ارادہ نہیں تھا بلکہ میرا ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم دلائی میں نے قسم اٹھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ٹھیک ہے ) جو تو نے ارادہ کای تھا ( وہی ہوا ہے ) اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زیر بن سعید ہاشمی کی روایات صحیحین میں نقل نہیں کی ہیں تاہم رکانہ بن عبدیرید کی بیٹی کے حووالے سے اس حدیث کی متابعت موجود ہے ۔ اس بناء پر اس حدیث کو صحیح قرار دیا جا سکتا ہے ۔

جَدِّهِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزبير بن سعيد ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبِي عَزْرَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2807

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2808

2808 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرِ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، أَنَّ رُكَانَةَ بْنَ عَبْدِ يَزِيدَ، طَلَّقَ امْرَأَتَهُ سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي سُهَيْمَةَ الْبَتَّةَ، وَوَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ إِلَّا وَاحِدَةً، «فَرَدَّهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَطَلَّقَهَا الثَّانِيَةَ، فِي زَمَنِ عُمَرَ، وَالثَّالِثَةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، «قَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ بِهَذِهِ الرِّوَايَةِ، فَإِنَّ الْإِمَامَ الشَّافِعِيَّ قَدْ أَتْقَنَهُ، وَحَفِظَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالسَّائِبُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَبُو الشَّافِعِ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ أَخُو رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ عَمُّ الشَّافِعِيِّ شَيْخُ قُرَيْشٍ فِي عَصْرِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

نافع بن عجیر بن عبدیزید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ بن عبیزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہمیہ کو" طلاق بتہ " دے دی پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی ہے اور خدا کی قسم میرا ارادہ صرف ایک طلاق کا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیو ی کو اسکی طرف لوٹا دیا ۔پھر انہوں نے دوسری طلاق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانت میں اور تیسری طلاق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دو ر خلافت میں دی۔ یہ حدیث اس روایت کے ہمراہ صحیح ہے کیونکہ امام شافعی نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کو اہل بیت کے حوالے سے محفوظ کیا ہے اور سائب بن عبدیزید شافع بن سائب کے والد ہیں اور رکانہ بن عبدیزید کے بھائی ہیں اور محمد بن علی بن شافع شافعی کے چچا ہیں اور اپنے زمانے میں قریش کے شیخ ہیں ۔

عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ،

Hadith 2808

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2809

2809 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهَا أَنْ تُرِيحَ رَائِحَةَ الْجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2809 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اپنے شوہر سے بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرے اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام کر دیتا ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 2809

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2810

2810 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ مَعَهَا، وَعَلِمَتْ بِإِسْلَامِي مَعَهَا، «فَنَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الْآخَرَ، وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَهُوَ مِنَ النَّوْعِ الَّذِي أَقُولُ: إِنَّ الْبُخَارِيَّ احْتَجَّ بِعِكْرِمَةَ، وَمُسْلِمٌ بِسِمَاكٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2810 - صحيح

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہوئی اور اس نے شادی کر لی ۔ پھر اس کا سابقہ شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا میں بھی اس کے ساتھ ہی مسلمان ہو گیا تھا اور اس بات کو اسکی بیوی جانتی بھی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دوسرے شوہر سے علیحدگی کروادی اور اس کو پہلے شوہر کے نکاح میں دے دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔اور اس کا تعلق اس نوع کے ساتھ ہے جس کے متعلق میں کہا کرتا ہوں کہ امام بخآری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک کی روایات نقل کی ہیں ۔

أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 2810

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2811

2811 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ، وَلَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2811 - صحيح

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو اس کے شوہر ابو العاص بن ربیع کے ہیں گزشتہ نکاح کی بناء پر لوٹا دیا نیا کچھ نہیں کیا ۔

شَيْئًا» صحيح ← «رَدَّ النَّبِيُّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى زَوْجِهَا أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Hadith 2811

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2812

2812 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، خَرَجَتِ ابْنَتُهُ زَيْنَبُ مِنْ مَكَّةَ مَعَ كِنَانَةَ - أَوِ ابْنِ كِنَانَةَ - فَخَرَجُوا فِي أَثَرِهَا، فَأَدْرَكَهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ فَلَمْ يَزَلْ يَطْعَنُ بَعِيرَهَا بِرُمْحِهِ، حَتَّى صَرَعَهَا، وَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، وَأُهْرِيقَتْ دَمًا، فَاشْتَجَرَ فِيهَا بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو أُمَيَّةَ، فَقَالَتْ بَنُو أُمَيَّةَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ عَمِّهِمْ أَبِي الْعَاصِ، فَكَانَتْ عِنْدَ هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَكَانَتْ تَقُولُ لَهَا هِنْدٌ: هَذَا بِسَبَبِ أَبِيكِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ: «أَلَا تَنْطَلِقُ تَجِيئَنِي بِزَيْنَبَ؟» قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَخُذْ خَاتَمِي» فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَانْطَلَقَ زَيْدٌ وَبَرَّكَ بَعِيرَهُ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَلَطَّفُ، حَتَّى لَقِيَ رَاعِيًا، فَقَالَ: لِمَنْ تَرْعَى؟ فَقَالَ: لِأَبِي الْعَاصِ، فَقَالَ: فَلِمَنْ هَذِهِ الْأَغْنَامُ؟ قَالَ: لِزَيْنَبَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، فَسَارَ مَعَهُ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ شَيْئًا تُعْطِيَهُ إِيَّاهَا، وَلَا تَذْكُرْهُ لِأَحَدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَعْطَاهُ الْخَاتَمَ، فَانْطَلَقَ الرَّاعِي، فَأَدْخَلَ غَنَمَهُ، وَأَعْطَاهَا الْخَاتَمَ، فَعَرَفَتْهُ، فَقَالَتْ: مَنْ أَعْطَاكَ هَذَا؟ قَالَ: رَجُلٌ، قَالَتْ: فَأَيْنَ تَرَكْتَهُ؟ قَالَ: بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَسَكَتَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ، خَرَجَتْ إِلَيْهِ فَلَمَّا جَاءَتْهُ، قَالَ لَهَا: ارْكَبِي بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَعِيرِهِ. قَالَتْ: لَا، وَلَكِنِ ارْكَبْ أَنْتَ بَيْنَ يَدَيَّ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ وَرَاءَهُ حَتَّى أَتَتْ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هِيَ أَفْضَلُ بَنَاتِي أُصِيبَتْ فِيَّ» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُرْوَةَ فَقَالَ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ تُحَدِّثُهُ تَنْتَقِصُ فِيهِ حَقَّ فَاطِمَةَ؟ فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَإِنِّي أَنْتَقِصُ فَاطِمَةَ حَقًّا هُوَ لَهَا، وَأَمَّا بَعْدُ فَلَكَ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ أَبَدًا» . قَالَ عُرْوَةُ: " وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ نُزُولِ آيَةِ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کر کے ) مدینہ المنورہ تشریف لائے تو آپ کی صاحبزادی حضرت زنیت رضی اللہ عنہا کنانہ کے ہمراہ یا ( شاید) ابن کنانہ کے ہمراہ مکہ سے نکل آئیں جبکہ وہ لوگ ان کے تعاقب میں نکل پڑے اور ہبار بن اسود ان تک آپہنچا وہ مسلسل آپ کے اونٹ کے پیٹ میں نیزہ مارتا رہا حتیٰ کہ اس کو ہلاک کر دیا اور جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا وہ نکال دیا اور اس کا خون بہاد دیا ۔ پھر اس سلسلہ میں بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان اختلاف شروع ہو گیا ۔ بنو امیہ نے کہا ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں وہ ان کے چچا کے بیٹے ابو العاص کے نکاح میں تھیں تو وہ عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ہاں تھی ہند ان سے کہا کرتی تھی یہ تیر ے باپ کے سبب سے ہے (ادھر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ سے فرمایا تم جا کر زینب کو میرے پاس نہیں لا سکتے ؟ انہوں نے جواباً کہا کیوں نہیں یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا میری یہ انگوٹھی لے جاؤ اور اس کو دے دو چنانچہ زید چل دیئے اور ( مدینہ کے نواحی علاقہ میں ایک جگہ پر ) اونٹ بٹھالیا اور حیلے بہانے کے ساتھ لوگوں سے بھید معلوم کرتے رہے حتیٰ کہ انکی ملاقات ایک چروا ہے کے ساتھ ہو گئی ۔ زید نے چرواہے سے پوچھا تم کس کے چرواہے ہو ؟اس نے کہا ابو العاص کے ۔ آپ نے پوچھا یہ بکریاں کس کی ہیں ؟ اس نے کہا زینب بنت محمد کی ۔زید نے اس کے ساتھ کچھ سرگوشی کی اور پھر کہا : اگر میں آپ کو زینب کے لیے کوئی چیز دوں تو کیا تم اس کو زینب تک پہنچا سکتے ہو؟ اور کسی کے ساتھ اس بات کا تذکرہ نہیں کرنا ۔ اس (چرواہے ) نے حامی بھر لی۔ زید نے وہ انگوٹھی اس کے حوالے کر دی چرواہا چلا گیا اس نے بکریاں ریوڑ میں باندھیں اور وہ انگوٹھی حضرت زینب کے حوالے کردی ۔ زینب نے وہ انگوٹھی پہچان لی ۔ انہوں نے چرواہے سے پوچھا تجھے یہ انگوٹھی کس نے دی ہے ؟ اس نے کہا ایک آدمی نے زینب نے پوچھا تم اس کو کہاں چھوڑ کر آئے ہو ؟ اس نے جگہ بتا دی ۔ حضرت زینب نے خاموشی اختیار کر لی اور جب رات ہو گئی تو وہ اس مقام کی طرف نکل پڑیں جب ( حضرت زید تک ) پہنچ گئیں تو زید نے ان سے کہا : آپ اونٹ پر میرے آگے بیٹھ جائیے لیکن آپ نے آگے بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا آگے آپ بیٹھیے چنانچہ حضرت زید آگے بیٹھ گئے اور زینب ان کے پیچھے بیٹھ گئیں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متعلق فرمایا کرتے تھے میری یہ بیٹی سب سے اچھی ہے ۔ ان پر میری وجہ سے بہت سی آزمائشیں آئی ہیں ۔ یہ بات علی بن حسین تک پہنچی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور بولے مجھے پتہ چلا ہے کہ تم کوئی ایسی حدیث بیان کر ہے ہو جس میں فاطمہ کے حق میں کمی کر رہے ہو ۔ تو عروہ بولے اگر مجھے فاطمہ کا حق کم کرنے کے عوض ساری دنیا کے خزانے بھی دیئے جائیں میں تب بھی فاطمہ کا حق کم نہیں کر سکتا علی بن حسین نے کہا : ٹھیک ہے لیکن آئندہ سے یہ حدیث بیان مت کرنا ۔ عروہ فرماتے ہیں یہ واقعہ اس آیت : ادعو گم لا بائھم ھو اقسط عنداللہ ( الاحزاب 5)" انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکا رو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے " ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا) نازل ہونے سے پہلے کا ہے ۔ بصرہ : یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَحْمَدُ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 2812

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2813

2813 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّحَّامُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ، قِيلَ لَهُ: وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً. قَالَ: اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ، أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ جَلْدَةً، وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي رَأَيْتُ حَتَّىَ اسْتَيْقَنْتُ، وَسَمِعْتُ حَتَّىَ اسْتَثْبَتُّ، لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا. فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ، فَدَعَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتِ الْآيَةُ، فَقَالَ: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ» فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ إِنِّي لَصَادِقٌ، فَقَالَ: «احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَصَادِقٌ» يَقُولُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ كُنْتُ كَاذِبًا فَعَلَيَّ لَعْنَةُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قِفُوهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ، فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ» فَحَلَفَتْ ثُمَّ قَالَتْ أَرْبَعًا: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَعَلَيْهَا غَضَبُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قِفُوهَا عِنْدَ الْخَامِسَةِ فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ فَرَدَّدَتْ، وَهَمَّتْ بِالِاعْتِرَافِ» ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ، أَدْعَجَ، سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، أَلَفَّ الْفَخِذَيْنِ، حَدْلَجَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَصْفَرَ، قَصِفًا سَبِطًا، فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ» فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الصِّفَةِ الْبَغِيِّ قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ: «كَانَ الرَّجُلُ الَّذِي بَلَغَهَا هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ شَرِيكَ بْنَ سَحْمَاءَ، وَكَانَ أَخَا الْبَرَاءِ بْنِ مَالِكٍ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لِأُمِّهِ، وَكَانَتْ أُمُّهُ سَوْدَاءَ وَكَانَ شَرِيكٌ يَأْوِي إِلَى مَنْزِلِ هِلَالٍ وَيَكُونُ عِنْدَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا أَخْرَجَا حَدِيثَ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُخْتَصَرًا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2813 - على شرط البخاري

ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ کہ جب ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی تو ان سے کہا گیا : خدا کی قسم ! رسول اللہ تجھے ضرور 80کڑوں کی سزا دیں گے۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ مجھے 80 کوڑے ماریں حالانکہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر اس بات پر یقین کیا ہے ۔ خدا کی قسم ! آپ مجھے کبھی سزا نہیں دیں گے۔ تب " لعان " کے متعلق آیات نازل ہوئیں جب آیت نازل ہوئی تو آپ نے دونوں ( میاں بیوی ) کو بلایا اور فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم میں ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں کوئی توبہ کر ےگا؟ہلال نے کہا خدا کی قسم میں سچا ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم اٹھاؤ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ میں سچا ہوں۔ چار مرتبہ یہ قسم کھاؤ اور اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو ( اس نے چار قسمیں اٹھائیں اور جب پانچویں قسم کھانے لگا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچویں قسم کھانے سے روکو کیونکہ وہ واجب کرنے والی ہے ۔ پھر اس خاتون نے چار قسمیں کھائیں کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے یہ شخص جھوٹا ہے اور یہ سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو اس نے چار قسمیں اٹھائیں اور پانچویں قسم کھانے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو پانچویں قسم واجب کرنے والی ہے ۔ پھر وہ کچھ متردد ہوئی اور اس نے اعتراف کرنے کا ارادہ کر لیا تو کہنے لگی ۔ میری قوم مجھے رسوانہ کرے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس کے ہاں ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں کو سرمہ لگا ہوا ہو ، آنکھیں بڑی بڑی اور بہت سیاہ ہوں ، اس کے چوتر بڑے ہوں ، رانوں پر گوشت بھرا ہوا ہو اور تو وہ اسی کا ہو گا جس کی اس پر تہمت لگائی گئی ہے اور اگر ایسا بچہ پیدا ہوا جو زرد رنگ کا ، کمزور اور لاغر ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہو گا۔ تو جب پیدا ہوا تو وہ زناکاری کی علامت تھا ۔ ایوب فرماتے ہیں محمد بن سیرین کا کہنا ہے جس شخص نے ہلال بن امیہ کو یہ بات بتائی تھی وہ شریک بن سحماء ہے اور وہ انس بن مالک کے اخیافی ( ماں شریک) بھائی براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں اور ان کی والدہ کا نام سودا ء ہے اور شریک عموماً ہلال کے ہاں آکر ٹھہرا کرتے تھے تو وہ ان کے پاس موجود ہوتے تھے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے ا سے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ہشام بن حسان کے حوالے سے عکرمہ کی مختصر حدیث روایت کی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرُّوذِيُّ، ← أحمد بن الوليد النحام ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،

Hadith 2813

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2814

2814 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمَقْبُرِيَّ، يُحَدِّثُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ دَخَّلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ، وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2814 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب " لعان " والی آیت نازل ہوئی تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت ایسی قوم کے پاس جائے جن کی برادری سے یہ نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ کبھی رور عائت کی حقدار نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اللہ اسکو اپنی جنت میں داخل کرے گا اور وہ اول و آخر تمام لوگوں کے سامنے اس کو رسوا کرے گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْمُلاعَنَةِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، أَنَّهُ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ

Hadith 2814

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2815

2815 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأًً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي، مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، وَأَتَتَابَعَ مِنْ ذَلِكَ، وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ حَتَّى يُدْرِكَنِي الصُّبْحُ، فَبَيْنَمَا هِيَ ذَاتَ لَيْلَةٍ تَخْدُمُنِي، إِذَا انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نَذْهَبُ مَعَكَ، نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ، وَيَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، فَاذْهَبْ أَنْتَ، فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، فَقَالَ: «أَنْتَ ذَاكَ؟» فَقُلْتُ: أَنَا ذَاكَ، فَاقْضِ فِي حُكْمِ اللَّهِ، فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ، قَالَ: «أَعْتِقْ رَقَبَةً» فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ عُنُقِ رَقَبَتِي بِيَدِي، فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا. قَالَ: «صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ. قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا مَا نَجِدُ عَشَاءً. قَالَ: «انْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ، صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ، فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَاسْتَعِنْ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ» فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ «،» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: سَلْمَانُ بْنُ صَخْرٍ، [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2815 - على شرط مسلم

حضرت سلمہ بن ضخر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں عام لوگوں کو بہ نسبت کچھ غیر معمولی قوت جماع حاصل تھی اس لیے جب رمضان المبارک آتا تو میں اپنی بیوی سے ظھار کر لیتا تاکہ کہیں رمضان کی رات میں ، میں ہمبستری کا مرتکب نہ ہو جاؤں اور یہ عمل میں مسلسل کیا کرتا تھا کہ اس کے جسم کے ایک حصہ پر میری نظر پڑی ( پھر مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور ) میں نے اس کے ساتھ جماع کر لیا جب دن چڑھا تو میں نے اپنی قوم کو یہ ماجرا سنایا اور کہا کہ میرے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو تو وہ لوگ بولے خدا کی قسم ہم تیرے ساتھ نہیں جائیں گے کیونکہ ہمیں اس بات کاخوف ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے متعلق کوئی ایسی بات کہہ دیں جو ہمارے لیے رہتی دنیا تک شرمندگی کا باعث رہے ۔ اس لیے تو اکیلا چلا جا اور جو تجھے سمجھے میں آئے وہ کر ۔ چنانچہ میں وہاں سے چلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آگیا اور اپنا تمام ماجرا کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا وہ تم ہی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ۔ میں ہی ہوں آپ میرے متعلق اللہ کا فیصلہ صادر فرمائیے میں ثواب کی نیت رکھتا ہوں اور صبر کرنے والا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تم ایک غلام آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے عرض کی یا رسول اللہ آج تو میری ملکیت میں اس کے سوا اورکچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو میں نے عرض کی یارسول اللہ روزہ کی حالت میں ہی تو مجھ سے یہ خطا ہوئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو 60 مسکینوں کو کھانا کھلاؤ میں نے عرض کی یا رسول اللہ اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آج رات ہمارے پاس رات کا کھانا تک نہیں تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں صدقہ کے ذمہ دار کے پاس چلا جا اس کے پاس بنی زریق کا صدقہ ( کا مال ) موجود ہے ( اس کو کہنا کہ ) وہ تجھے دے دے ۔ اس میں ایک وسق 60 مسکینوں کو کھلا دینا اور بقیہ بھی ہووہ اپنے اہل وعیال کے لیے لے جانا ۔ پھر میں اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا مین نے تمہارے اندر تنگ نظری پائی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی درج ذیل شاہد حدیث موجود ہے جو کہ یحیٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ بن عبدا لرحمن سے روایت کی ہے تاہم انہوں نے ان کا نام سلمان بن ضخر کہا ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Hadith 2815

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section