Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2768

2768 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، قَالَ: «قَدْ عَرَفْتُكِ فَمَا حَاجَتُكِ؟» قَالَتْ: حَاجَتِي إِلَى ابْنِ عَمِّي فُلَانٍ الْعَابِدِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ عَرَفْتُهُ» قَالَتْ: يَخْطُبُنِي، فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ، تَزَوَّجْتُهُ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لَا أَتَزَوَّجْ، قَالَ: " مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ: أَنْ لَوْ سَالَتْ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا، وَصَدِيدًا فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ، لَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا، لِمَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا " قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيَتُ فِي الدُّنْيَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اپنا تعارف کروایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تجھے پہنچان لیا ہے ۔ تو کس کام سے آئی ہے ؟ اس نے کہا میں اپنے فلاں چچا زاد بھائی جو کہ عبادت گزار ہے کے سلسلے میں بات کرنے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کو جانتا ہوں اس خاتون نے کہا مجھے اس نے پیغام نکاح بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں ؟ کیونکہ اگر میرے اندران کی استطاعت ہے تو میں شادی کروں ورنہ رہنے دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شوہر کے بیوی پر حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو ۔ پیپ اور پانی بہہ رہا ہو اور وہ اپنی زبان کے ساتھ اسے چاٹے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ اگر کسی انسان کے لیے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اس کو سجدہ کرے کیونکہ خود اللہ نے شوہر کو عورت پر فضیلت دی ہے ( یہ سن کر ) و ہ عورت بولی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں تمام زندگی شادی نہیں کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2768

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2769

2769 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، فَقَالَ: «أَيْ هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟» قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2769 - صحيح

حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری پھوپھی نے مجھے بتایا کہ میں کسی کام سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اری توشادی شدہ ہے ؟ میں نےکہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا اپنے شوہر کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔ میں نے کہا اس کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتی سوائے ایسے کام کے جس سے میں عاجز ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس کی خدمت کا حق ادا کر بھی نہیں سکتی ۔ وہ تیری جنت بھی ہے اور تیری دوزخ بھی۔ اس حدیث کو مالک بن انس اور حماد اور ردی نے یحیٰ بن سعید سے روایت کیا ہے ۔ اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو روایت نہیں کیا۔

يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ صحيح ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، ← «فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ؟ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ» هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ← ما آلوه إلا ما عجزت عنه ← كيف أنت له ← أي هذه أذات بعل أنت قلت نعم ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، ← حدثتني عمتي ← حصين بن مُحْصِن ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Hadith 2769

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2770

2770 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَكيِمِيُّ قَالَا: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تَخْشَنَ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ، وَلَا تَضْرِبَهُ، فَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ، فَلْتَأْتِهِ حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ كَانَ هُوَ قَبِلَ، فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَقَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا، وَأَفْلَحَ حُجَّتَهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَإِنْ هُوَ أَبِي بِرِضَاهَا عَنْهَا، فَقَدْ أَبَلَغَتْ عِنْدَ اللَّهِ عُذْرَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2770 - بل منكر وإسناده منقطع

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے ۔ اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ ۔1۔ شوہر کے گھر میں ایسے کسی آدمی کو داخل ہونے کی اجازت دے ، جس کا گھر میں آنا شوہر کو ناگوار ہے ۔ 2۔ شوہر کی ناراضگی کے عالم میں اس کے گھر سے باہر نکلے۔3۔ شوہر کی مخالفت میں کسی کی بھی بات مانے ۔ 4۔ اپنے دل میں اس کے متعلق نفرت رکھے ۔5۔ اس کے بستر سے الگ ہو ۔6۔اس کو مارے۔7۔ اور اگر زیادتی شوہر کی جانب سے ہو توبھی وہ خود اس کے پاس آکر اس کو راضی کرے۔اگر وہ (شوہر) اس کی معذرت قبول کرے گا تو ٹھیک ہے اور عورت کو انعام ملے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول کرے گا اور اس کی حجت کامیاب ہوگی اور اگر وہ راضی نہیں ہو گا تو اللہ کی بارگاہ میں اس کا عذر بہرحال قابل قبول ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقِ الطَّائِفِيُّ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أبو عبد الله علي بن عبد الله الحكيمي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2770

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2771

2771 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكَرُ لِزَوْجِهَا، وَهِيَ لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2771 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمروفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف نگاہ رحمت نہیں کرتا جو اپنے شوہر کی شکرگزار نہیں ہوتی حالانکہ شوہر کے بغیر اس کا گزارا نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الْمَرْوَزِيُّ،

Hadith 2771

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2772

2772 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ: وَبِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ؟ قَالَ: «إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا وُجِدَ مِنْ نَاقِصِ الدِّينِ وَالرَّأْيِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ، عَلَى أُمُورِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ» قَالُوا: وَمَا نَقْصُ دِينِهِنَّ وَرَأْيِهِنَّ؟ قَالَ: «أَمَّا نَقْصُ رَأْيِهِنَّ فَجُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ، وَأَمَّا نَقْصُ دِينِهِنَّ فَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ تَقْعُدُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2772 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عورتو! تم صدقہ کرو اگر چہ اپنے زیورات سے ہی کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنمی ہے ۔ ایک خاتون جو کہ کسی بڑے خاندان کی بھی نہیں تھی۔ بولی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کیا وجہ ہے کہ ہماری اکثریت جہنمی ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ تم اکثر لعن طعن کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، دین اور رائے کے اعتبار سے مردوں کی بہ نسبت عورتیں زیادہ ناقص ہیں۔(مرد اپنے امور میں حاکم ہے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دین اور عقل کا نقص کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی گئی ہے ۔ اور ان کے دین کا نقص یہ ہے کہ یہ کئی دن ایسے گزارتی ہے کہ ان میں ایک سجدہ نہیں کر پاتی ۔( ماہواری کے ایام میں ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ السَّعْدِيِّ، ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← محمد بن أيوب أنبأ يحيى بن المغيرة السعدي ← ذَرٍّ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2772

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2773

2773 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: «النِّسَاءُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أُمَّهَاتِنَا وَبَنَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2773 - على شرط مسلم

حضرت زید بن سلام رضی اللہ عنہ اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں کہ معاویہ بن عبدالرحمن بن شبل کی طرف ایک مکتوب لکھا کہ لوگوں کو وہ تعلیم دے جو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ عبدالرحمن نے کہا میں نے رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے بے شک فساق جہنمی ہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فساق کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواتین صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ ہماری مائیں اور بہن بیٹیاں نہیں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں لیکن وہ عطیہ ملنے پر شکر ادا نہیں کرتیں اور جب ان پر کوئی آزمائش آتی ہے تو صبر نہیں کرتیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

«إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: إِنِّي ← مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنْ عَلِّمِ النَّاسَ مَا ← جَدِّهِ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة

Hadith 2773

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2774

2774 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَضْرِبُوهُنَّ. قَالَ: فَأَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُونَ امْرَأَةً، كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ أَزْوَاجَهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ أُولَئِكَ خِيَارُكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2774 - صحيح

حضرت ایاس بن عبداللہ بن ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی باندیوں کو مت مارا کرو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں پر دلیر ہو گئی ہیں تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کی اجازت دے دی ایاس فرماتے ہیں ستر عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے پاس آئیں اور سب کی زبان پر اپنے شوہر وں کی شکایات تھیں تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تم سے زیادہ نیک نہیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ حضرت ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Hadith 2774

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2775

2775 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: كَانَ الرِّجَالُ نُهُوا عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ، ثُمَّ شَكَوْهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ضَرْبِهِنَّ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ أَطَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ بَعْدُ: «وَلَنْ يَضْرِبَ خِيَارُكُمْ»

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کیا گیا تھا تو مردوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ممانعت ختم فرما دی پھر تقریبا ً ستر عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے پاس آئیں تمام کی تما م شوہروں کی ستم زدہ تھیں اور میرا گمان یہ ہے کہ قاسم نے کہا پھر اس کے بعد ان کو کہا گیا تمہیں نیک آدمی ہر گز نہیں مارے گا۔

ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ بَعْدُ: «وَلَنْ يَضْرِبَ خِيَارُكُمْ» ← يَحْيَى: وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ ← لَقَدْ أَطَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ، ← ضَرْبِ النِّسَاءِ، ثُمَّ شَكَوْهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ضَرْبِهِنَّ، ثُمَّ ← كَانَ الرِّجَالُ نُهُوا ← أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 2775

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2776

2776 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا الْحَسْنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، قُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: «بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَلَهُ شَوَاهِدُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَنِ الْبَرَاءِ، مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے ماموں سے ملا، اس وقت ان کے پاس جھنڈا تھا ۔ میں نے پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرح بھیجا ہے جس نے اپنے والد کے فوت ہونے کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے قتل کا حکم دیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت میں مذکورہ حدیث کی متعدد شاہد احادیث موجود ہیں ۔ اور عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث کے علاوہ براء سے بھی احادیث مروی ہیں ۔

«بَعَثَنِي النَّبِيُّ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَمَرَنِي ← لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ، قُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← السُّدِّيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← يَحْيَى بْنُ فُضَيْلٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2776

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2777

2777 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ أَبِي الرَّبِيعِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ بِنَا نَاسٌ يَنْطَلِقُونَ، فَقُلْنَا لَهُمْ: أَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ قَالُوا: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى «رَجُلٍ يَأْتِي امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ نَقْتُلَهُ»

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے کچھ لوگ چلتے ہوئے جا رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کہاں جا رہے ہو ؟ انہوں نےجوابا ً کہا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے ہم اس کو قتل کرنے جا رہے ہیں ۔ براء رضی اللہ عنہ سے ابوالجھم کی روایت کردہ حدیث۔

بعثنا رسول الله إلى رجل يأتي امرأة أبيه أن نقتله ← مَرَّ بِنَا نَاسٌ يَنْطَلِقُونَ، فَقُلْنَا لَهُمْ: أَيْنَ تَذْهَبُونَ؟ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي الرَّبِيعِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2777

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2778

2778 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَأَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا أَنَا أَجُولُ فِي أَبْيَاتٍ، فَإِذَا أَنَا بِرَكْبٍ وَفَوَارِسَ، جَاءُوا فَأَطَافُوا، " فَاسْتَخْرَجُوا رَجُلًا، فَمَا سَأَلُوهُ، وَلَا كَلَّمُوهُ، حَتَّى ضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَلَمَّا ذَهَبُوا سَأَلْتُ عَنْهُ، قَالُوا: عَرَّسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2778 - إسناده مليح

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میرا اونٹ گم ہو گیا میں اس کو ڈھونڈ تا پھر رہا تھا اور مختلف گھروں میں چکر لگا رہا تھا میں نے کچھ سواروں کو دیکھا کہ وہ آئے اور گھوم پھر کر انہوں نے ایک شخص کو گرفتار کیا انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی اور اس کو قتل کر ڈالا جب وہ چلے گئے تو میں نے لوگوں سے اس کے متعلق دریافت کیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2778

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2779

2779 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ «فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا» هَكَذَا رَوَاهُ الْمُتَقَدِّمُونَ مِنْ أَصْحَابِ سَعِيدٍ: يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ، وَغُنْدَرٌ، وَالْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَقَدْ حَكَمَ الْإِمَامُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ «أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ مِمَّا وَهَمَ فِيهِ مَعْمَرٌ بِالْبَصْرَةِ» فَإِنْ رَوَاهُ عَنْهُ ثِقَةٌ خَارِجَ الْبَصْرِيِّينَ، حَكَمْنَا لَهُ بِالصِّحَّةِ، فَوَجَدْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيَّ، وَعِيسَى بْنَ يُونُسَ وَثَلَاثَتَهُمْ كُوفِيُّونَ، حَدَّثُوا بِهِ عَنْ مَعْمَرٍ

حضرت سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں غیلان بن سلمہ ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے ۔ اور باقی کو چھوڑ دے ۔ اس حدیث کو اسی طرح سعید بن یزید بن زریع کے شاگردوں ، اسماعیل بن علیہ ، غندر اور اہل بصرہ کے حافظہ ائمہ نے بھی روایت کی ہے ۔ امام مسلم بن حجاج رحمتہ اللہ علیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس حدیث میں معمر کو بصرہ کی وجہ وہم ہے اگر اس حدیث کو بصریوں کے علاوہ کوئی دوسرا ثقہ راوی روایت کرتا تو ہم اس کی صحت کا حکم لگاتے پھر سفیان الثوری ، عبدالرحمن بن محمد المحاربی اور عیسیٰ بن یونس یہ تینوں کوفی ہیں ان سب نے محمد کے ذریعے زہری کے واسطے سے سالم کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب غیلان بن سلمہ مسلمان ہوئے تو اس کے نکاح میں دس نکاح میں دس عورتیں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتحاب کر لے ( اور باقی کو چھوڑ دے ) محاربی کی حدیث ۔

عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ «فَأَمَرَ النَّبِيُّ ← أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2779

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section