المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2768
2768 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ، قَالَ: «قَدْ عَرَفْتُكِ فَمَا حَاجَتُكِ؟» قَالَتْ: حَاجَتِي إِلَى ابْنِ عَمِّي فُلَانٍ الْعَابِدِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ عَرَفْتُهُ» قَالَتْ: يَخْطُبُنِي، فَأَخْبِرْنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ فَإِنْ كَانَ شَيْئًا أُطِيقُهُ، تَزَوَّجْتُهُ، وَإِنْ لَمْ أُطِقْ لَا أَتَزَوَّجْ، قَالَ: " مِنْ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ: أَنْ لَوْ سَالَتْ مَنْخِرَاهُ دَمًا وَقَيْحًا، وَصَدِيدًا فَلَحَسَتْهُ بِلِسَانِهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ، لَوْ كَانَ يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا، لِمَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا " قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ مَا بَقِيَتُ فِي الدُّنْيَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2768 - بل منكر وسليمان واه والقاسم صدوق تكلم فيه
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اپنا تعارف کروایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تجھے پہنچان لیا ہے ۔ تو کس کام سے آئی ہے ؟ اس نے کہا میں اپنے فلاں چچا زاد بھائی جو کہ عبادت گزار ہے کے سلسلے میں بات کرنے آئی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس کو جانتا ہوں اس خاتون نے کہا مجھے اس نے پیغام نکاح بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیے کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں ؟ کیونکہ اگر میرے اندران کی استطاعت ہے تو میں شادی کروں ورنہ رہنے دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شوہر کے بیوی پر حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو ۔ پیپ اور پانی بہہ رہا ہو اور وہ اپنی زبان کے ساتھ اسے چاٹے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا ۔ اگر کسی انسان کے لیے انسان کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ جب اس کا شوہر اس کے پاس آئے تو وہ اس کو سجدہ کرے کیونکہ خود اللہ نے شوہر کو عورت پر فضیلت دی ہے ( یہ سن کر ) و ہ عورت بولی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں تمام زندگی شادی نہیں کروں گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ السُّكَّرِيُّ بِهَمْدَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Hadith 2768
