Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2756

2756 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِيَ لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أُقْبِلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ، حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ وَالرُّطَبَ، فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ، كَأَحْسَنِ السِّمَنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2756 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری والدہ کی خواہش تھی کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصتی کے لیے صحت مند کر دیں ۔ لیکن وہ جو کچھ مجھے کھلانا چاہتی تھی، اسے کھانے کو میرا د ل نہیں نہیں چاہتا تھا تو پھر انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجوریں کھلائیں تو اس سے میں اچھی خاصی صحت مند ہو گئی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← نوح بن يزيد المؤدب ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Hadith 2756

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2757

2757 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفَادَ أَحَدُكُمُ الْجَارِيَةَ أَوِ الْمَرْأَةَ أَوِ الدَّابَّةَ، فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا، وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةَ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ بَعِيرًا، فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ رِوَايَةِ الْأَئِمَّةِ الثِّقَاتِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ عَنْ عَمْرٍو فِي الْكِتَابَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2757 - صحيح

حضرت عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لونڈی ، بیوی یا جانور لے کر آؤ تو اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر برکت کی دعا مانگا کرو اور یوں کہا کرو: (ترجمہ) اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جو کچھ اس میں رکھا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور میں اس سے اور اسکی عادات سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اور اگر اونٹ لاؤ تو اس کی کوہان کو پکڑ کر یہ دعا مانگا کرو۔ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ثقہ ائمہ حدیث نے عمرو بن شعیب کی روایات نقل کی ہیں۔ لیکن شیخین نے دونوں کتابوں میں ہی ان کی روایات نقل نہیں کی ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2757

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2758

2758 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَضَافَ رَجُلًا، وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ فَرَأَى فِرَاشًا، قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَذَهَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2758 - صحيح

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک مہمان آیا ہو اتھا علی رضی اللہ عنہ نے ان ک ےلیے کھانا بنوایا پھر کہنےلگے اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ بھی ہمارے ہمراہ کھانا کھائیں تو کتنا اچھا ہو ۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلالیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کمرے کے ایک کونے میں ( ایک خوبصورت) بچھونا بچھا ہو اتھا( اس کو دیکھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور اس طرح واپس جانے کی وجہ دریافت کرو۔ انہوں نے جا کر پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا نبی ایسے گھر میں نہیں جایا کرتے جس میں نقش و نگار ہوتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2758

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2759

2759 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، الْفَقِيهُ ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ، فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَشِقُّهُ سَاقِطٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2759 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا جس شخص کی دوبیویاں ہوں وہ ان میں اگر عدل نہیں کرے گا تو قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو خشک ہو گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 2759

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2760

2760 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَفْضُلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي مُكْثِهِ عِنْدَنَا، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا، فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ، حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى مَنْ هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتَ عِنْدَهَا» ، وَلَقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ، أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَوْمِي هُوَ لِعَائِشَةَ. فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فِي ذَاكَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا وَفِي أَشْبَاهِهَا: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا} [النساء: 128] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2760 - صحيح

حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا اے میرے بھانجے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ٹھہرنے میں ہم میں سے کسی کو بھی دوسری پر ترجیح نہیں دیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً روزنہ ہم سب کے پاس تشریف لایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ اپنی ہر زوجہ کے بہت قریب ہوتے لیکن ہمبستری نہ کرتے۔ اور جب اس بیوی کے پا س آتے جس کی اس دن باری ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات و ہیں گزارتے ، اور سودہ بنت زمعہ جب بوڑھی ہو گئی اور ان کو یہ خدشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو چھوڑ دیں گے تو انہوں نے عرض کی یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس پیشکش کو قبول کر لیا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں انہی کے متعلق اور ان جیسی دیگر خواتین کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا ( النساء128) ترجمہ۔ اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے " ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا ) ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ الحسن بن علي بن زياد

Hadith 2760

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2761

2761 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ، فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» قَالَ إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي: «يَعْنِي الْقَلْبَ. وَهَذَا فِي الْعَدْلِ بَيْنَ نِسَائِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2761 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کی باری مقرر کرنے میں بھی انصاف کیا کرتے تھے اور دعا مانگا کرتے تھے اےاللہ یہ میری تقسیم ہے اس چیز میں جس کا میں مالک ہوں لہذا تو اس چیز میں مجھے ملامت نہ فرمانا جس کا صرف تو ہی مالک ہے اور جو میرے اختیار نہیں ہے۔ اسماعیل القاضی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد " دل " ہے۔ اور یہ (حدیث) بیویوں کے درمیان عدل کرنے کے متعلق ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ ← کَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْسِمُ فَيَعْدِلُ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 2761

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2762

2762 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبِ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ، إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ، وَتُؤْوِي} [الأحزاب: 51] إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ " قَالَتْ مُعَاذَةُ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ، لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2762 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت معاذہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ اس آیت ۔ ( ترجی من تشاء منھن وتووی الیک من تشاء ( الاحزاب 51)" پیچھے ہٹا ؤ ان میں سے جسے چاہو اور اپنے پاس جگہ دو جسے چاہو " (ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) نازل ہوئی تو اس کے باوجود آ پ ہم میں سے کسی کی باری کے دن (دوسری کے پاس جانا ہوتا تو ) اجازت مانگتے۔حضرت معاذہ فرماتی ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے اجازت مانگتے ) تو تم ان کو کیا جواب دیا کرتی تھی؟ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میں کہہ دیا کرتی تھی یہ میری باری کا دن ہے اور میں اس حوالے سے اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← مُعَاذَةَ ← عَاصِمٍ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبِ الْقَاضِي، ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ

Hadith 2762

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2763

2763 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَهُ. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانٍ لَهُمْ، فَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُسْجَدَ لَكَ. قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ تَسْجُدُ لَهُ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ، لَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَهُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقٍّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2763 - صحيح

حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک علاقے میں گیا میں نے وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں ۔ میں نے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو سجدہ کیا جائے ۔ پھرمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں فلاں علاقے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہار ا کیا خیال ہے ؟ اگر تم میری قبر پر آؤ تو کیا اس کو سجدہ کروگے؟ میں نےکہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کرنا بھی مت ۔ اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا توعورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کوسجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کا حق ہی اتنا زیادہ رکھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← شَرِيکٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2763

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2764

2764 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، الْفَقِيهُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: «أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلَا يَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحْ، وَلَا يَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2764 - صحيح

حضرت معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بیویوں کے ہم پر کیا حقوق ہیں ؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اس کو کھانے کی حاجت ہو تو اس کو کھلائے جب اس کو پہنے کی ضرورت ہو تو پہنائے اور اس کے منہ پر مارنے سے گریز کرے اور اس کو برا بھلا نہ کہے اور گھر کی حد تک ہی اس کے ساتھ ناراضگی اختیار کرے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← حَکِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ ← أبو قزعة سويد بن حجير الباهلي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2764

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2765

2765 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ. فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ، فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ أَزْوَاجَهُنَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ أَزْوَاجَهُنَّ، لَيْسَ أُولَائِكَ بِخِيَارِكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2765 - صحيح

حضرت ایاس بن عبداللہ بن ابی ایاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دے دی ۔ تو بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے اپنے شوہروں کی شکایات پہنچائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت ساری خواتین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے پاس آکر اپنےشوہر کی شکایات کی ہیں و ہ بھی کوئی بہت زیادہ نیکی کرنے والے نہیں ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2765

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2766

2766 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَمْ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ لَهَا: «إِنِّي أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ أَوَاقِيَا مِنْ مِسْكٍ، وَحُلَّةً، وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ، وَلَا أَرَى الْهَدِيَّةَ الَّتِي أُهْدِيَتْ إِلَيْهِ، إِلَّا سَتُرَدُّ، فَإِذَا رُدَّتْ إِلَيَّ فَهُوَ لَكِ أَمْ لَكُمْ؟» فَكَانَ كَمَا قَالَ هَلَكَ النَّجَاشِيُّ، فَلَمَّا رُدَّتْ إِلَيْهِ الْهَدِيَّةُ، أَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَلِكَ الْمِسْكِ، وَأَعْطَى سَائِرَهُ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَعْطَاهَا الْحُلَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف

حضرت ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا میں نے نجاشی کو چند اوقیہ مشک اور ایک جبہ تحفہ بھیجا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ وہ فوت ہو گیا ہے ۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے جو تحفہ اس کی طرف بھیجا ہے وہ واپس آجائے گا ۔ اگر وہ واپس آگیا تو وہ تیرا ہے ۔ تو حقیقت وہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، نجاشی فوت ہو گیا تھا ، جب وہ تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو ایک ایک اوقیہ مشک دے دی اور جو باقی بچی وہ تمام اور حبہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَمْ كُلْثُومِ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أُمِّهِ2، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2766

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2767

2767 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَزَوَّجَ. فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطِيعِي أَبَاكِ» فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ: " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ: أَنْ لَوْ كَانَتْ بِهِ قَرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میری بیٹی ہے اور یہ شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا اپنےباپ کی بات مانو اس لڑکی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں شادی بعد میں کروں گی پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھےبتائیے کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شوہر کا بیوی پر حق یہ ہے کہ اگر شوہر کے جسم پر زخم ہوں اور عورت اس کو زبان کے ساتھ چاٹے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ بِابْنَةٍ لَهُ فَقَالَ: ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← نهار العبدي وكان من أصحاب أبي سعيد الخدري ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أَنْبَأَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 2767

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section