المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2756
2756 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرِّيِّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِيَ لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أُقْبِلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ، حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ وَالرُّطَبَ، فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ، كَأَحْسَنِ السِّمَنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2756 - على شرط مسلم
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میری والدہ کی خواہش تھی کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصتی کے لیے صحت مند کر دیں ۔ لیکن وہ جو کچھ مجھے کھلانا چاہتی تھی، اسے کھانے کو میرا د ل نہیں نہیں چاہتا تھا تو پھر انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجوریں کھلائیں تو اس سے میں اچھی خاصی صحت مند ہو گئی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← نوح بن يزيد المؤدب ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،
Hadith 2756
