Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2744

2744 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] ، {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ، وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا، وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] ، {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا، يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ، وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 71] ثُمَّ يَذْكُرُ حَاجَتَهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2744 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعائے حاجت سیکھائیں ۔(وہ یہ تھی ) ’’ الحمد اللہ نحمدہ، و نستعینہ، و نستغفرہ، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا، من یھدہ اللہ فلا مضل لہ عمن یضلل فلا ھادی لہ، واشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ‘‘ پھر یہ تین آیتیں پڑھیں۔(۱) یا ایھاالذین امنوا اتقو اللہ حق تقاتہ ولا تمو تن الا وانتم مسلمون‘‘ ’’ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو رو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان ‘‘ (۲) یا یھاالناس اتقو ربکم الزی خلکم من نفس و ا حدۃ و خلق منھا زوجھا و بت منھما رجالا کثیرا و نسا ءً و اتقو االلہ الذ ی تسا ء لون بہ و ا لا رحام ان اللہ کان علیکم رقیبا‘‘ ’’اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور دونوں سے بہت مرد اور عورت پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ (۳) یا ایھا الذین امنو اتقو و قولو ا قولا سدیدا یصلح لکم اعمالکم ویغفر لکم ذنوبکم و من یطع اللہ و رسولہ فقد فازفوزاعظیما‘‘ ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو ،تمہارے اعمال تمہارے لیے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی ۔(یہ تینوں آیتیں پڑھنے کے بعد ) پھر اپنی حاجت کا ذکر کرے ۔(یعنی اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرے )

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2744

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2745

2745 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانُ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2745 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو شادی کی مبارک دیتے تو یوں کہتے ’’ بارک اللہ لک، و با رک علیک، وجمع بیناکما فی خیر‘‘ ( اللہ تعالی تمہیں خیر و برکت عطا کرے اور تم دونوں میں اتفاق دے ) ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جعفر بن محمد بن سوار ومحمد بن نعيم ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2745

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2746

2746 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدُوهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2746 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت نضرہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک کنواری لڑکی سے سے شادی کی (تو پہلے ہی )حاملہ تھی ۔میں نے یہ مسئلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی شرمگاہ سے تونے جس قدر فائدہ اٹھایا ہے اس کی مقدار اس کا مہر دے دے ۔اور بچہ تیرا غلام ہے ۔جب یہ بچہ پیدا کردے تو اس کو کوڑے مارو ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ،لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ یحیی بن ابی کثیر سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، ← رجل من أصحاب رسول الله من الأنصار يقال له بصرة ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← عبد الرزاق أنبأ ابن جريج ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2746

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2747

2747 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بَصْرَةَ بْنِ أَكْثَمَ، أَنَّهُ نَكَحَ امْرَأَةً بِكْرًا، وَدَخَلَ بِهَا، فَوَجَدَهَا حُبْلَى، «فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَدَهَا عَبْدًا لَهُ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نضرہ بن ا کثم نے ایک کنواری لڑکی سے شادی کی ،جب اس کے ساتھ ہم بستری کی تو (پتہ چلا کہ )وہ (پہلے سے ہی )حاملہ تھی ۔(جب یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا لڑکا نضرہ بن ا کثم کا غلام ہے اور ان دونوں میں تفریق کرا دی ۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2747

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2748

2748 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَعْلِنُوا النِّكَاحَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2748 - صحيح

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نکاح کی دھوم مچا یا کرو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2748

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2749

2749 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَقَلْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى زَوْجِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ مَعَكُمْ لَهُوٌ؟ فَإِنَّ الْأَنْصَارَ يُحِبُّونَ اللَّهْوَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2749 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک انصاری خاتون کو اس کے شوہر کی طرف رخصت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے ساتھ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے انصاری لوگ تو کھیل تماشوں کو بہت پسند کرتے ہیں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

نَقَلْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى زَوْجِهَا، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2749

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2750

2750 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ وَكِيعُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ مَا كَانَ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا صَوْتٌ - يَعْنِي دُفًّا - فَقَالَ مُحَمَّدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ بِالدُّفِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2750 - صحيح

حضرت ابو بلج یحییٰ بن سلیم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن حاطب رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا: میں نے دو شادیاں کی ہیں اور کسی شادی میں بھی دف نہیں بجایا ۔تو محمد بن حاطب رضی اللہ تعالی عنہ بولے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حلال اور حرام کے درمیان صرف دف کی آواز ہی کا فرق ہے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي بَلْجٍ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ وَكِيعُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2750

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2751

2751 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ وَقَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي عُرْسٍ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا، فَقُلْتُ: أَلَا تَسْمَعَانِ؟ فَقَالَا: إِنَّهُ «رَخَّصَ فِي الْغِنَاءِ فِي الْعُرْسِ، وَالْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ غَيْرِ نِيَاحَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مُفَسَّرًا مُلَخَّصًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2751 - على شرط البخاري ومسلم

۲۷۵۱-حضرت عامر بن سعد فرماتے ہیں کہ میں ثابت بن ودیعہ اور قزظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک شادی میں شریک تھا تو میں نے ( گائے کی ) آواز سنی ۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تم یہ آواز سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا شادی کے موقع پر گانے کی اور فوتگی کے موقع پر بغیر نوحہ کیے رونے کی اجازت ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم مسلم رحمتہ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اس حدیث کو شریک بن عبداللہ نے ابواسحاق کے واسطے سے روایت کیا ہے جو کہ اس کی سند ہے اور اس سے مختصر ہے ۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2751

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2752

2752 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، ثنا عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي عُرْسٍ، وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ، فَقُلْتُ: أَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْلُ بَدْرٍ يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَكُمْ؟ فَقَالَا: إِنْ شِئْتَ فَأَقِمْ مَعَنَا، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ، فَإِنَّهُ " رَخَّصَ لَنَا فِي اللَّهْوِ عِنْدَ الْعُرْسِ، وَفِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ - قَالَ شَرِيكٌ: أُرَاهُ قَالَ - فِي غَيْرِ نَوْحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2752 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت شریک رضی اللہ عنہ نے ابو اسحاق کے واسطے سے عامر بن سعد کا یہ بیانی نقل کیا ہے میں قرظہ بن کعب اور ابو مسعود کے ہمراہ ایک شادی میں گیا ۔ وہاں چھوٹی بچیاں گانے گا رہی تھی میں نے کہا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہوا اور تم اہل بدر ہو اور تمہارے ہاں یہ ( قبیح عمل) ہو رہا ہے تو وہ دونوں بولے آپ یہاں ٹھہرنا چاہتے ہو تو ٹھہر و ورنہ واپس چلے جاؤ( یہ کام تو ہو گا) کیونکہ شادی کے موقع پر " لہو" کی اور مصیبت کے وقت رونے کی اجازت ہے ۔ شریک فرماتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بغیر نوحہ کیے ( رونے کی اجازت ہے )

دَخَلْتُ عَلَی قُرَظَةَ بْنِ کَعْبٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عُمَرُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَنِيُّ، ← أبو بكر بن أبي دارم الحافظ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2752

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2753

2753 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا يَتَغَنَّوْنَ فِي عُرْسٍ لَهُمْ، وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا يُنَحْنَحْنَ فِي مِرْبَدٍ وَحُبُّكِ فِي النَّادِي، وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2753 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو شادی کے موقع پر یہ گاتے ہوئے سنا ۔ اور اس کے لیے ایک مینڈھا ہدیہ کیا جو کہ ریوڑ میں خوف زدہ ہے اور تیرا محبوب مجلس میں موجود ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ آئندہ کل ہونے والا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل جو کچھ ہونے والا ہے ( کسی کے بتائے بغیر ) صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2753

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2754

2754 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئِ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ، فَعَذَرَنِي، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: {إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: 50] الْآيَةُ "، فَقَالَتْ: لَمْ أَكُنْ أَحِلَّ لَهُ لَمْ أُهَاجِرْ مَعَهُ، وَكُنْتُ مَعَ الطُّلَقَاءِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2754 - صحيح

حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام نکاح بھیجا جبکہ میں نے معذرت کر لی آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری معذرت کو قبول کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( انا احللنا لک ازوجک ( الحرحزاب50)" اے غیب بتانے والے ( نبی ) ہم نے تمہارے لیے حلال فرمائیں تمہاری وہ بیبیاں جن کو تم مہر دو ( ترجمہ کنز الا یمان امام احمد رضا ) تو وہ بولیں میں نے ان کے لیے نہ حلال نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہجرت کی بلکہ میں تو طلاق یا فتگان کے ہمراہ تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ} [الأحزاب: الْآيَةُ ← خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ فَاعْتَذَرْتُ إِلَيْهِ، فَعَذَرَنِي، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: ← أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← السُّدِّيِّ ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2754

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2755

2755 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ - قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: أَنْبَأَ، وَقَالَ ابْنُ بَالَوَيْهِ: - ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2755 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ایک چادر مشکیزہ اور ایک تکیہ جہیز دیا ۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← ابن بالويه، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: أَنْبَأَ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو بكر بن بالويه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2755

chevron_left Previous
1…678910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section