Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2732

2732 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْمَدَنِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2732 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے زیادہ با برکت وہ خاتون ہے جس کا مہر سب سے کم ہو ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُمَرُ بْنُ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ الْمَدَنِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 2732

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2733

2733 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو ثَوْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «زَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا امْرَأَةً بِخَاتَمٍ مِنْ حَدِيدٍ فَصُّهُ فِضَّةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2733 - صحيح

حضرت سھل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی ایک عورت کے ساتھ لوہے کی انگوٹھی کے عوض شادی کروائی ، جس کا نگینہ چاندی کا تھا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو ثَوْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ

Hadith 2733

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2734

2734 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَهُ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا " فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ أَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ فِي نَفْسِي: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا لِيَدْخُلَ بِهَا، فَإِذَا رَأَتْهُ أَخَذَتِ ابْنَتَهَا زَيْنَبَ فَجَعَلَتْهَا فِي حِجْرِهَا، فَيَنْقَلِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلِمَ بِذَلِكَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَكَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ، فَجَاءَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: أَيْنَ هَذِهِ الْمَقْبُوحَةُ الْمَنْبُوحَةُ الَّتِي قَدْ آذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَأَخَذَهَا، فَذَهَبَ بِهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَضْرِبُ بِبَصَرِهِ فِي جَوَانِبِ الْبَيْتِ، فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ زُنَابُ؟» قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ فَأَخَذَهَا فَذَهَبَ بِهَا، فَبَنَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ، فُلَانَةً رَحَاتَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ، وَمِرْفَقَةً حَشْوُهَا لِيفٌ» وَقَالَ: «إِنْ سَبَّعْتُ لَكَ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2734 - على شرط النسائي

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو کوئی مصیبت آئے تو وہ کہے : ’’ان للہ وانا الیہ راجعون ، اللھم عندک احتسب مصیبتی فا جرنی فیھا ، وابدلی خیرامنھا ‘‘۔’’ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی جانب ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے ۔اے اللہ ! میں اپنی مصیبت کا تجھ ہی سے ثواب چاہتا ہوں تو مجھے اس میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر عدل عطا فرما ۔(ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں جب ان کے شوہر ) ابو سلمہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے یہ دعا پڑھی ، اور دعا پڑھتے ہوئے جب میں کہ الفاظ پر پہنچتی تو میں اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے لیکن بہرحال میں یہ پڑھتی رہی جب ان کی عدت گزر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ ان کی جانب سے پیغام نکاح بھیجا ، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر ! جاؤ اور اس کا (یعنی میرا ) نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کردو ۔ چنانچہ ان کے بیٹے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا ۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ حوصلم ان کے ساتھ ہمبستری کے لیے تشریف لاتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیتی ، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (بغیر ہمبستری )کے واپس چلے جاتے ۔اس بات کا عمار بن یاسر کو پتہ چلا ، عمار رضی اللہ تعالی عنہ حضرت سلمہ کے رضاعی بھائی تھے ،وہ ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور بولے :کہاں ہے یہ قبیحہ اور گالیوں کی مستحق ؟ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے ۔عمار اس (زینب ) کو اپنے ساتھ لے کر چلے گئے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمرے کی چاروں جانب نظریں گھما کر دیکھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زینب کہیں نظر نہ آئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا زینب کہاں ہے ؟ انہوں نے کہا: عمار آئے تھے وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔ تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمبستری کی اور فرمایا: میں نے جو کچھ دوسری ازواج کو دیا ہے تجھے اس سے کم نہیں دوں گا ، وہ دو چکیاں ، دو مٹکے اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تجھے ساتھ چیزیں دو ں تو پھر تمام بیویوں کو سات سات دوں گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أمه أم سَلمَة ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 2734

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2735

2735 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: «يَا أَبَا طَلْحَةَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِي نَعْبُدُ خَشَبَةٌ نَبَتَتْ مِنَ الْأَرْضِ نَجَرَهَا حَبَشِيُّ بَنِي فُلَانٍ، إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أَرِدْ مِنْكَ مِنَ الصَّدَاقِ غَيْرَهُ» . قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ فِي أَمْرِي. قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَتْ: «يَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2735 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ کو پیغام نکاح بھیجا ۔انہوں نے جواباً کہا: اے ابو طلحہ ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تو جس چیز کی عبادت کرتا ہے وہ صرف ایک لکڑی ہے جو زمین سے اگی ہے اور فلاں قبیلے کے ایک حبشی شخص نے اس کو تراشا ہے ۔اگر تو اسلام قبول کر لے تو میں تجھ سے اس کے علاوہ اور کسی چیز کا مطالبہ نہ کرو گی ۔اس نے کہا: مجھے سوچنے کی مہلت دو اور وہ چلے گئے ۔پھر آئے اور بولے ’’اشھد ان لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ‘‘ (ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ نے ) کہا: کہ انس !ابو طلحہ کے ساتھ نکاح کر دو ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔(وہ حدیث درج ذیل ہے )

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2735

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2736

2736 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ تَزَوَّجَتْ أَبَا طَلْحَةَ عَلَى إِسْلَامِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2736 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں،ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو طلحہ کے ساتھ ان کے اسلام کے عوض نکاح کیا تھا۔

النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو عمرو بن إسماعيل

Hadith 2736

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2737

2737 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ثنا دَاوُدُ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ، فَأْتُوا غَيْرِي. قَالُوا: فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ، وَأَنْتَ آخَيْتَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَلَدِ، وَلَا نَجِدُ غَيْرَكَ، فَقَالَ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا، فَمِنَ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ، «أَرَى أَنْ أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقًا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» قَالَ: وَذَلِكَ يَسْمَعُ أُنَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ قَالَ: فَمَا رُؤِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ مَا فَرِحَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنْكَ وَحْدَكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَمِنَ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ، وَقِيلَ لَهُ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: إِنْ صَحَّ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِهِ قُلْتُ بِهِ. فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: " لَوْ حَضَرْتُ الشَّافِعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقُمْتُ عَلَى رُءُوسِ أَصْحَابِهِ وَقُلْتُ: فَقَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ فَقُلْ بِهِ " قَالَ الْحَاكِمُ: " فَالشَّافِعِيُّ إِنَّمَا قَالَ: لَوْ صَحَّ الْحَدِيثُ، لِأَنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَإِنْ كَانَتْ صَحِيحَةً فَإِنَّ الْفَتْوَى فِيهِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَنَدُ الْحَدِيثِ لِنَفَرٍ مِنْ أَشْجَعَ، وَشَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ رَحِمَهُ اللَّهُ إِنَّمَا حَكَمَ بِصِحَّةِ الْحَدِيثِ لِأَنَّ الثِّقَةَ قَدْ سَمَّى فِيهِ رَجُلًا مِنَ الصَّحَابَةِ، وَهُوَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ وَبِصِحَّةِ مَا ذَكَرْتُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2737 - على شرط مسلم

حضرت علقمہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے لیکن اس نے اس عورت کے کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا ۔اور اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کر پایا تھا کہ اس کا انتقال ہوگیا ۔عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد آج تک اس قدر سنجیدہ مسئلہ مجھ سے دریافت نہیں کیا گیا ۔تم کسی اور سے یہ مسئلہ پوچھ لو ۔وہ لوگ اسی سلسلے میں پورا مہینہ سرگرداں رہےبالآخر وہ دوبارہ ان کے پاس آ کر بولے : اگر ہم مسئلہ آپ سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے ؟ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے بھائی اور دوست ہیں۔ ہماری نظر میں آپ کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو اس مسئلہ کا حل بتائے۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے میں اپنی رائے کے مطابق اس مسئلے کا حل کروں گا ۔ اگر وہ درست ہوا تو اللہ وحدہ لاشریک کی جانب سے ہوگا اور اگر خطا ہوئی تو وہ میری طرف سے ہوگی ۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے۔ میرا یہ خیال ہے کہ اس عورت کامہر اس کے خاندان کی اسی جیسی دوسری عورتوں کے برابر رکھا جائے ، نہ ان سے کم ہو نہ زیادہ ۔ اور اس کے شوہر کی وراثت بھی ہوگی ۔اور یہ چار مہینے دس دن عدت گزارے ۔علقمہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگوں نےآپ کا یہ فیصلہ سنا تو کہنے لگے : ہم گواہی دیتے ہیں : آپ نے بالکل وہی فیصلہ کیا ہے جو فیصلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قبیلے کی ایک برو ع بنت واشق نامی خاتون کے متعلق کیا تھا ۔ علقمہ فرماتے ہیں : اس دن عبداللہ کو جس قدر خوش دیکھا گیا اس سے پہلے وہ اپنے اسلام لانے کے علاوہ کسی موقع پر اتنے خوش نہیں ہوئے ۔پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بولے اے اللہ اگر یہ صواب ہے تو یہ تیری طرف سے ہے تو وحدہ لا شریک ہے ۔اور ہےاور اگر خطا ہے تو یہ میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ہے ۔اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ابو عبد اللہ بن یعقوب الحافظ سے کہاگیا :حسن بن سفیان حرملہ بن یحییٰ کے حوالے سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ہوتی تو میں یہی موقف اپنا لیتا ۔یہ سن کر عبداللہ بولے :اگر میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا : میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث صحیح ہے لہذا آپ یہی موقف اپنا ؤ۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام شافعی نے جو یہ شرط لگائی ہے کہ ’’اگر یہ حدیث صحیح ہو ‘‘ اگرچہ یہ روایت صحیح ہے کیونکہ اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر فتوی ہے ۔لیکن اس کی سند اشجع کی ایک جماعت سے منسوب اور ہمارے استاد ابو عبداللہ نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے ۔(اس کی وجہ یہ ہے کہ )ثقہ راوی نے اس صحابی رسول کا نام ذکر کیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی ہیں۔اور درج ذیل حدیث ہماری حدیث کی صحت کی دلیل ہے ۔

عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2737

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2738

2738 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضِ لَهَا، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ. فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» فَصَارَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2738 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ہمبستری سے پہلے انتقال کر گیا تھا اور اس کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا تو انہوں نے جواباً فرمایا: اس کے لئے پورا مہر ہے اس پر عدت بھی لازم ہے اور وہ وراثت کی حقدار بھی ہے۔ تو معقل بن سنان بولے میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت تو واشق کے متعلق بھی یہی فیصلہ سنایا تھا ۔یہ حدیث بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے ۔

مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2738

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2739

2739 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ أَنْ يَتَيَسَّرَ خِطْبَتُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ صَدَاقُهَا، وَأَنْ يَتَيَسَّرَ رَحِمُهَا» قَالَ عُرْوَةُ: «يَعْنِي يَتَيَسَّرُ رَحِمُهَا لِلْوِلَادَةِ» قَالَ عُرْوَةُ: " وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: مِنْ أَوَّلِ شُؤْمِهَا أَنْ يَكْثُرَ صَدَاقُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2739 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نیک بختی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو آسانی سے پیغام نکاح ملے ، اور اس کا حق مہر بھی آسان ہو ،اور اس کا رحم بھی آسام ہو۔عروہ فرماتے ہیں: یعنی کے لئے اس کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔عروہ فرماتے ہیں: اور (اس مقام پر ) میں اپنی طرف سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ عورت کی سب سے پہلی بدبختی یہ ہے کہ اس کا حق مہر بہت زیادہ ہو ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أسامة بن زيد أن صفوان بن سليم ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2739

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2740

2740 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَدَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ» فَقُلْتُ: مَا نَشٌّ؟ قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2740 - على شرط مسلم

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں ، میں نے ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق مہر کے متعلق پوچھا (کہ کتنا تھا )؟ تو انہوں نے فرمایا: بارہ او قیہ اور ایک ’’نش ‘‘میں نے پوچھا نش کیا ہوتا ہے ؟۔ انہوں نے جواب دیا آدھا اوقیہ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ فَقُلْتُ: مَا نَشٌّ ← صَدَاقِ النَّبِيِّ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو بَكْر محمد بن المؤمل

Hadith 2740

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2741

2741 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، «فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْهَرَهَا عَنْهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2741 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہ ، عبداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں۔ عبداللہ بن جحش سرزمین حبشہ میں انتقال کر گئے ۔تو نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے نجاشی نے چار ہزار (درہم )بطور مہر دیے اور شرجیل بن حسنہ کے ہمراہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 2741

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2742

2742 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبيِبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: «أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةً؟» قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: «أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانًا؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوِّجْ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةً، وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا صَدَاقَهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّدَاقِ أَيْسَرُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2742 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں فلاں عورت کے ہمراہ تیرا نکاح کر دو اس نے کہا: جی ہاں ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ میں فلاں شخص کے ساتھ تیرا نکاح کر دو ں؟ اس نے بھی ہاں کردی ۔تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا اور ان کا کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی چیز اس کو دی ۔یہ شخص صلح حدیبیہ کے شرکاء میں سے تھا ۔اور شرکاء حدیبیہ کے ہر فرد کے لیے فتح خیبر سے ایک سہم مقرر کیا گیا تھا ۔جب اس شخص کی وفات کا وقت قریب آیا تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کے ساتھ میرا نکاح کیا تھا لیکن میں نے نہ تو اس کے لیے کوئی حق مہر کیا ہے اور نہ ہی کوئی دوسری چیز اس کو دی تھی میں تم سب کو گواہ بنا کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر کا حصہ جو بھی میرے حصے میں آئے اس کا مہر کر دیا ہے ۔پھر جب خیبر کا مال غنیمت تقسیم ہوا تو اس خاتون نے وہ حصہ وصول کر کے فروخت کیا تو ایک لاکھ میں فروخت ہوا ۔اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین حق مہر وہ ہے جو تھوڑا ہو ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو الْأصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 2742

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2743

2743 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، طَلَّقَهَا، وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا، وَرَجُلٌ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا، فَذَهَبَ بِأُجْرَتِهِ، وَآخَرُ يَقْتُلُ دَابَّةً عَبَثًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2743 - على شرط البخاري

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کی بارگاہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی کسی عورت سے نکاح کرے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو اس کو طلاق دے دے۔ اور اس کا حق مہر ہڑپ کرلے اور ایسا آدمی جو کسی آدمی سے اجرت پر کام کروائے لیکن اس کی اجرت ہڑپ کر جائے اور ایسا آدمی جو کسی جانور کو بلا وجہ مار ڈالے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أبو بكر محمد بن إسحاق الإمام ← أبو عمرو بن إسماعيل

Hadith 2743

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section