Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2720

2720 - حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ، وَأَيُّمَا رَجُلَيْنِ ابْتَاعَا بَيْعًا، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا» تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَسَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2720 - على شرط البخاري

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس عورت کے دو ولی اس کا نکاح کر دیں تو پہلے کا نکاح نافذ ہے ۔اور کسی چیز کو دو آدمی خریدیں تو وہ پہلے خریدار کے لئے ہے ۔اس حدیث کو قتادہ سے روایت کرنے میں سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن بشیر دمشقی ہے ہشام سے متابعت کی ہے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ،

Hadith 2720

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2721

2721 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلَيْنِ بَيْعًا فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ»

سعید بن ابی عروبہ کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی کوئی چیز دو آدمیوں کو بھیجے تو وہ پہلے خریدار کے لئے ہے ۔اور جس عورت کا نکاح اسکے دو ولی کریں تو وہ پہلے کے لئے ہے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ،

Hadith 2721

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2722

2722 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَكَحَ الْوَلِيَّانِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ، وَإِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ» وَقَدْ تَابَعَ قَتَادَةُ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنِ الْحَسَنِ أَشْعَثَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيَّ

سعید بن بشیر اپنی سند کے ہمراہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب دو ولی نکاح کر دیں تو وہ پہلے کے لئے ہے اور جب دو مجیز( وہ غلام جس کو تجارت کی اجازت دی گئی ہو ) کو چیز بیچ دیں تو وہ پہلے کے لئے ہے ۔اس حدیث کو حسن سے روایت کرنے میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے قتادہ کی متابعت کی ہے ۔(جیسا کہ درج ذیل ہے )

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ، ← فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ،

Hadith 2722

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2723

2723 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نَكَحَ الْمُجِيزَانِ فَالْأَوَّلُ أَحَقُّ» هَذِهِ الطُّرُقُ الْوَاضِحَةُ الَّتِي ذَكَرْتُهَا لِهَذَا الْمَتْنِ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2723 - على شرط البخاري

مذکورہ سنت کے ہمراہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب دو ولی نکاح کر دیں تو وہ پہلے کے لئے ہے ۔مذکورہ متن کے لیے یہ تمام طرق واضح ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہیں، لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2723

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2724

2724 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرُ أَوَاقٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2724 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہم عموما دس او قیہ (ایک اقیہ سات مشقالوں کا ہوتا ہے ) حق مہر مقرر کیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Hadith 2724

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2725

2725 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَزِيدَ الْآدَمِيُّ الْقَارِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا، وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ أُوقِيَّةً» ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغْلِي بِصَدَاقِ امْرَأَتِهِ، حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كُلِّفْتُ إِلَيْكِ عَرَقُ الْقِرْبَةِ وَأُخْرَى تَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ هَذِهِ، وَمَاتَ: قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ قَدْ أَنْقَلَ عَجُزَ دَابَّتِهِ، وَأَرْدَفَ رَاحِلَتَهُ ذَهَبًا وَوَرِقًا، يَبْتَغِي الدُّنْيَا، فَلَا تَقُولُوا ذَلِكَ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ أَوْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَحَبِيبٌ الشَّهِيدُ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَسَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، وَعَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، وَيَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ» كُلُّ هَذِهِ التَّرَاجِمِ مِنْ رِوَايَاتٍ صَحِيحَةٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ وَأَبُو الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ هَرِمُ بْنُ حَيَّانَ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ " سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: «اسْمُ أَبِي الْعَجْفَاءِ هَرِمٌ» وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةٍ مُسْتَقِيمَةٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ

حضرت ابو العجفاسلمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خبردار ! عورتوں کا حق مہر بہت زیادہ مقرر نہ کیا کرو ۔اس لیے کہ اگر یہ دنیا میں کوئی باعث عزت و تکریم یا عند اللہ کی بات ہوتی تو سب سے زیادہ اس بات کے مستحق محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کا حق مہر بارہ او قیہ سے زیادہ نہیں رکھا ۔ تم لوگ عورت کا مہر بہت زیادہ مقرر کرتے ہو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شوہر کے دل میں اس عورت کے متعلق نفرت بیٹھ جاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھے تجھ سے بہت شدید تکلیف اٹھانا پڑی ہے ۔اور ایک بات مزید یہ ہے کہ تم ان جنگوں میں قتل ہونے والے کے بارے میں کہتے ہو کہ وہ شہید مرا ہے ہو سکتا ہے اس کی سواری کی پچھلی جانب خالی ہو اور وہ دنیا کی طلب میں اپنی سواری کو سونے اور چاندی کے پیچھے بھگا رہا ہو، اس لیے ایسے مت بولا کرو ، بلکہ اس طرح کہا: کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاکرتے تھے ’’جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے مر جائے یا قتل کر دیا جائے وہ جنتی ہے ‘‘ ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ ایوب سختیانی،حبیب الشہید ، ہشام بن حسام ، سلمہ بن علقمہ ، منصور بن زاذان ، عوف بن ابی جمیلہ، اور یحیی بن عقیق نے اس عنوان کے تحت محمد بن سیرین کے حوالے سے صحیح روایت نقل کی ہے ۔اور وہ بوالعجفاء سلمی کا نام ہرم بن حیان ہے اور ان کا شمار ثقہ راویوں میں ہوتا ہے ۔ اور یہی حدیث سالم بن عبداللہ اور نافع کے حوالے سے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح سنت کے ہمراہ بھی منقول ہے ۔

خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يزيد بن هارون أنبأ عبد الله بن عون ← عبد الله بن أبي شيبة وزهير بن حرب ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْهَاشِمِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَزِيدَ الْآدَمِيُّ الْقَارِئُ

Hadith 2725

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2726

2726 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ، الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا سَالِمٌ، وَنَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تُغَالُوا مَهْرَ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً، لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَا، وَلَا أَوْلَى مِنَ «النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَمْهَرَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَصْدَقَ أَحَدًا مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشَرَةَ أُوقِيَّةً، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا، فَذَلِكَ ثَمَانُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَذَلِكَ أَغْلَى مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْهَرَ، فَلَا أَعْلَمُ أَحَدًا زَادَ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةٍ دِرْهَمٍ» وَقَدْ رُوِيَ فِي وَجْهٍ صَحِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ

سالم بن عبداللہ ، نافع کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو !عورتوں کے حق مہر بہت زیادہ مت مقرر کیا کرو ، اس لئے کہ یہ بات باعث عزت اور تکریم ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس بات کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر حقدار نہ ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی بھی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا اور اوقیہ کی قیمت چالیس درہم ہوتی ہے ۔ یہ تو چار سو اسی طرح بنتے ہیں ۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حق مہر میں سب سے زیادہ ہے ۔ ورنہ میری معلومات کے مطابق 400 سے زیادہ کسی کا حق مہر نہیں رکھا ۔ ایک صحیح سند کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے واسطے سے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث مروی ہے ۔(جیسا کہ درج ذیل ہے )

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ وَنَافِعٍ ← عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر بن عبد الله بن قريش، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2726

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2727

2727 - حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُظَفَّرٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَا تُغَالُوا بِمُهُورِ النِّسَاءِ» قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: عورتوں کے حق مہر بہت مہنگے مت رکھا کرو ۔ اس کے بعد مفصل حدیث بیان کی ۔یونہی سعید بن مسیب کے واسطے سے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث مروی ہے ۔

عُمَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ ← عُمَرُ «لَا تُغَالُوا بِمُهُورِ النِّسَاءِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ الضَّبِّيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← محمد بن علي بن ميمون الرقي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ← محمد بن مظفر الحافظ،

Hadith 2727

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2728

2728 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو الْحَسَنِ الْقَافْلَانِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَامَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صَدَقَاتِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَا زِيدَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ وَلَا بَنَاتِهِ عَلَى اثْنَتَيْ عَشَرَةَ أُوقِيَّةً، وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا، الْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا» فَقَدْ تَوَاتَرَتِ الْأَسَانِيدُ الصَّحِيحَةُ بِصِحَّةِ خُطْبَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهَذَا الْبَابُ لِي مَجْمُوعٌ فِي جُزْءٍ كَبِيرٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: خبردار عورتوں کے حق مہر بہت مہنگے مقرر مت کرو اس لیے کہ یہ بات اگر دنیاوی طور پر باعث عزت و تکریم ہوتی یاعنداللہ تقوی کا درجہ رکھتی تو تمہارے نبی اس بات کے تم سے زیادہ حقدار تھے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی کسی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر 12 اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا ۔ اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں کیونکہ ایک اوکیا چالیس درہمو ں کا ہوتا ہے ۔حضرت امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے خطبہ کے صحیح ہونے کے متعلق صحیح سندیں حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں اور میرا یہ باب ایک بہت بڑے جز کا مجموعہ ہے ۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← كُرْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو الْحَسَنِ الْقَافْلَانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ

Hadith 2728

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2729

2729 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيُّ، أَنَّ أَبَا حَازِمٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى ثَمَانِي أَوَاقٍ، فَتَفَزَّعَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عَرَضِ هَذَا الْجَبَلِ، هَلْ رَأَيْتُهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا؟» قَالَ: قَدْ رَأَيْتُهَا، قَالَ: «مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ وَلَكِنَّا سَنَبْعَثُكَ فِي بَعْثٍ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تُصِيبَ خَيْرًا» فَبَعَثَهُ فِي نَاسٍ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، وَأَمَرَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاقَةٍ فَحَمَلُوا عَلَيْهَا مَتَاعَهُمْ، فَلَمْ يَرْمِ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى بَرَكَتْ، فَأَعْيَتْهُمْ أَنْ تَنْبَعِثَ فَلَمْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَصْغَرُ مِنَ الَّذِي تَزَوَّجَ، فَجَاءَ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَلْقٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُوقِظَهُ، فَانْتَبَهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ الَّذِي أَعْطَيْتَنَا أَحْبَبْنَا أَنْ تَبْعَثَهَ، فَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَأَخَذَ رِدَاءَهُ بِشِمَالِهِ، فَوَضَعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، وَانْطَلَقَ يَمْشِي حَتَّى أَتَاهَا فَضَرَبَهَا بِبَاطِنِ قَدَمِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَقَدْ كَانَتْ بَعْدَ ذَلِكَ تَسْبِقُ الْقَائِدَ، وَإِنَّهُمْ نَزَلُوا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، وَقَدْ أَوْقَدُوا النِّيرَانَ فَأَحَاطَ بِهِمْ، فَتَفَرَّقُوا عَلَيْهِمْ، وَكَبَّرُوا تَكْبِيرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، وَإِنَّ اللَّهَ هَزَمَهُمْ، وَأَسَرَ مِنْهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَّا نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَقَطْ؟» ، وَأَبُو إِسْمَاعِيلَ هَذَا هُوَ بَشِيرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2729 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں ، ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ آٹھ اوقیہ حق مہر کے بدلے شادی کرلی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ بات سن کر ) گھبرا کر بولے : لگتا ہے پہاڑ کے اس پہلو سے تمہا ری چاندی نکلتی ہے ۔ کیا تو نے اس کو دیکھا ہے کیونکہ (بعض ) انصاری عورتوں کی آنکھ میں کچھ (عیب سا ) ہوتا ہے ۔ اس نے کہا: جی ہاں ۔ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ( تیرے مہر کی ادائیگی کے لیے ) فی الحال تو میرے پاس کچھ نہیں ہے ، البتہ بہت جلد میں تجھے ایک لشکر کے ہمراہ بھیج دوں گا ، مجھے امید ہے کہ وہاں سے آپ کو کچھ مال مل جائے گا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک لشکر کے ہمراہ عبس کی جانب بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک اونٹنی کا حکم دیا ۔ انہوں نے اس پر اپنا سامان لاد دیا ، ابھی یہ قافلہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ اونٹنی بیٹھ گئی اور اس نے ان کو تھکا ڈالا لیکن یہ چلنے کا نام تک نہیں لے رہی تھی اور اس شادی شدہ آدمی سے چھوٹا اس لشکر میں کوئی نہیں تھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاصل ہو گیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آرام کر رہے تھے ۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا ، اس لیے آپ کے سرہانے ( خاموش) کھڑا ہوگیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوئے اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اونٹنی آپ نے ہمیں عطا فرمائی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھ سے روانہ فرمائیں ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اس کو پکڑ ایا اور بائیں ہاتھ سے اپنی چادر اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لی ۔اور چلتے ہوئے اس اونٹنی کے پاس آپہنچے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے قدم کی نچلی جانب سے مارا ، (ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی جان ہے ۔اس کے بعد وہ اس قدر تیز چلنے لگے کہ سب سے آگے اونٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ۔ پھر یہ لوگ دشمن کے مقابلے میں جا کر خیمہ زن ہوئے ۔ دشمن آگ جلا کر بیٹھے ہوئے تھے ان لوگوں نے بکھر کر ان کا گھیراؤ کیا اور ایک شخص کی آواز پر نعرہ تکبیر بلند کیا اور یکبارگی حملہ کر دیا ۔ اللہ تعالی نے ان کے دشمنوں کو شکست دی اور بہت لوگ قیدی بھی ہوئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے ان سے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحازم کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے شادی کرلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھاکیوں نہیں ؟ ( امام کی روایت کردہ حدیث کا متن صرف اتنا ہی ہے ) اور یہ ابو اسماعیل بشیر بن سلیمان ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل کی ہیں ۔

أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيُّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَرَّانِيُّ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2729

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2730

2730 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ فَقَالَ: «كَمْ أَمْهَرْتَهَا؟» فَقَالَ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بُطْحَانَ مَا زِدْتُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2730 - صحيح

حضرت ابو حدرداسلمی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے مہر کی ادائیگی کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو نے کتنا مہر مقرر کیا ہے ؟ اس نے کہا: دو سو درہم ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان وادی سے چلو بھر تے تب بھی تم زیادہ نہ دیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

Hadith 2730

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2731

2731 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدٍ اللَّخْمِيُّ، بِتِنِّيسَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَرَجُلٌ آخَرُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ} [آل عمران: 14] قَالَ: «الْقِنْطَارُ أَلْفَا أُوقِيَّةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2731 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی کے قول ’’وا لقناطیرالمنقطرۃ‘‘کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قنطار‘‘ سو او قیہ ہوتا ہے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ [آل عمران: ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ وَرَجُلٌ آخَرُ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ زَيْدٍ اللَّخْمِيُّ، بِتِنِّيسَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2731

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section